Google
Home | Blogistan | pardese blog | sheikho blog | Urdu News

سورہ الاعرَاف ۔ ٧١ تا ٨٠

January 3rd, 2007

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

فرمایا تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غصہ واقع ہو چکا مجھ سے ان ناموں پر کیوں جھگڑتے ہو جوتم نے اور تمہارے باپ دادؤں نے مقرر کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل نہیں اتاری سو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں ۔٧١

پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ مومن نہیں تھے ۔٧٢

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا فرمایا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہیں تمہارے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح سے ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑے گا ۔٧٣

اور یاد کرو جب کہ تمہیں عاد کے بعد جانشین بنایا اور تمہیں زمین میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو اور پہاڑو ں میں گھر تراشتے ہو سو اللہ کے احسان کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت مچاتے پھرو ۔٧٤

اس قوم کے متکبر سرداروں نے غریبوں سے کہا جو ایمان لاچکے تھے کیا تمہیں یقن ہے کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے انہوں نے کہا جو وہ لے کر آیا ہے ہم اس پرایمان لانے والے ہیں ۔٧٥

متکبروں نے کہا جس پر تمہیں یقین ہے ہم اسے نہیں مانتے ۔٧٦

پھر اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہا اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہمیں ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے ۔٧٧

پس انہیں زلزلہ نے آ پکڑا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے ۔٧٨

پھر صالح ان سے منہ موڑ کر چلے اور فرمایا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا چکا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے ۔٧٩

اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم کو کہا کیا تم ایسی بے حیائی کرتے ہو کہ تم سے پہلے اسے جہان میں کسی نے نہیں کیا ۔٨٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

ایام کے تناظر میں ۔ ذکر الہی اور اس کے فضائل و ثمرات ، فوائد و برکات

December 26th, 2006

فضیلتہ الشیخ / سامہ الخیاط ۔ حفظہ اللہ

حمد و ثنا کے بعد

اللہ کی بیشمار نعمتیں
اللہ کے بندو ! اس اللہ سے ڈرتے رہا کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور عمدہ و پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی ۔ ارشاد الہی ہے ،
” اور اس ( اللہ ) نے تم پر ظاھری و پوشیدہ نعمتیں بھرپور و عام کر دیں “۔ ( لقمان ۔٢٠ ) ۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :
” اور اس نے تمھیں ہر وہ چیز دی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اس کی نعمتوں کو گننا چاھو تو شمار نہیں کر سکو گے بیشک انسان بڑا ظالم و ناشکرا ہے “۔ ( ابراھیم ۔٣٤ ) ۔

ذکر و یاد محبوب : باعث ازدیاد و دوام حب :
محبوب کا ذکر اور اسکی یاد اس کی محبت کے دوام کا سبب اور اس کی مودت کی ھمیشگی کی راہ ہے ، اس کی رضاء و خوشنودی کے حصول کا طریق اور اس کی کریمانہ معیت و ساتھ کو پانے کا باعث ہے اور اللہ تعالی ہے سب سے زیادہ حقدار و اولی ہے کہ اسی سے کمال درجہ کی محبت کی جاۓ اسی کی عبادت و بندگی بجا لائی جاۓ جو کہ اس کی تعظیم اور جلالت کی بناء پر ھو ، اس کی زیارت و دیدار کے شوق اور اسی سے امیدیں وابستہ کرنے کےلۓ ھو اور اسی پر توکل و اعتماد کے ساتھ ھو تو اللہ تعالی کا ذکر دلوں اور زبانوں کےلۓ وہ عظیم عمل بن جاتا ہے جس سے بندہ نفع حاصل کرتا ہے جس کی نیکی کی امید لگاتا ، اسے آخرت کے لۓ خزانہ بناتا ، اس کے اجر و ثواب کا امیدوار بنتا ہے اور اس کے اچھے انجام پر نگاہیں لگاتا ہے ۔
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٦١ تا ٧٠

December 26th, 2006

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

فرمایا اے میری قوم میں ہرگز گمراہ نہیں ہوں لیکن میں جہان کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں ۔٦١

تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔٦٢

کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کی زبانی تمہارے پاس نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اورتاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ اور تاکہ تم پرحم کیے جاؤ ۔٦٣

پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا پھر ہم نے اسے اور ا سکے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے انہیں غرق کر دیا بے شک وہ لوگ اندھے تھے ۔٦٤

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا فرمایا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں ۔٦٥

اس کی قوم کےکافر سردار بولےہم تو تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں اور ہم تجھے جھوٹا خیال کرتے ہیں ۔٦٦

فرمایا اے میری قوم میں بے وقوف نہیں ہوں لیکن میں پروردگار عالم کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں ۔٦٧

تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیر خواہ ہوں ۔٦٨

کیا تمہیں تعجب ہوا کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کی زبانی تمہارے پاس نصیحت آئی ہے تاکہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب کہ تمہیں قوم نوح کے بعد جانشین بنا یا اورڈیل ڈول میں تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔٦٩

انہوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم ایک اللہ کی بندگی کریں اور ہمارے باپ دادا جنہیں پوجتے رہے انہیں چھوڑ دیں پس جس چیز سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ اگرتو سچا ہے ۔٧٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٥١ تا ٦٠

December 19th, 2006

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

جنہوں نے اپنا دین تماشا اور کھیل بنایا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے سو آج ہم انہیں بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے ۔٥١

اور ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جسے ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کر کے بیان کر دیا ہے وہ ہدایت ہے اوررحمت ہے ۔٥٢

ان لوگو ں کے لیے ہے جو ایمان لے آئے ہیں انہیں اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف آخری نتیجہ کا انتظار ہے جس دن اس کا آخری نتیجہ سامنے آئے گا اس دن جو اسے پہلے بھولے ہوئے تھے کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے رسول کی سچی باتیں لائے تھے سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے جو ہماری سفارش کر ے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جا سکتے ہیں تاکہ ہم ان کے اعمال کے خلاف جنہیں کیا کرتے تھے دوسرے اعمال کریں بے شک انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈا ل دیا اور جو باتیں بناتے تھے وہ سب گم ہو گئیں ۔٥٣

بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھرعرش پر قرار پکڑا رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے وہ اس کے پیچھے دوڑتا ہوا آتا ہے اور سورج اورچاند اور ستارے اپنے حکم کے تابعدار بنا کر پیدا کیے اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا اللہ بڑی برکت والا ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔٥٤

اپنے رب کو عاجزی اور چپکے سے پکارو اسے حد سے بڑھنے والے پسند نہیں آتے ۔٥٥

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو اور اسے ڈر اور طمع سے پکارو بے شک اللہ کی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہے ۔٥٦

اور وہی ہے جو مینہ سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بادلو ں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ا س بادل کو مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم ا س بادل سے پانی اتارتے ہیں پھر اس سے سب طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔٥٧

اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کا سبزہ اس کے رب کے حکم سے نکلتا ہے اور جو اس میں خراب ہے جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے ناقص ہی ہوتا ہے اسی طرح ہم شکر گزاروں کے لیے مختلف طریقوں سے آیتیں بیان کرتے ہیں ۔٥٨

بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔٥٩

اس کی قو م کے سرداروں نے کہا ہم تجھے صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں ۔٦٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

ورڈ پریس اردو تھیم ڈاؤنلوڈ کے لئے دستیاب

December 19th, 2006

السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ
تمام محترم اردو بلاگرز کو اطلاع دی جاتی ہے کہ اردو میں ڈھالے گئے ورڈ پریس کے خوبصورت تھیم اب ہماری ویب سائٹ اردو ہوم ڈاٹ کوم پر دستیاب ہیں۔اس سلسلہ کا پہلا تھیم آپ اردو ہوم سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

جزاک اللہ خیر

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

فرضیت و فضیلت حج و عمرہ در و دریوار مکہ مکرمہ و بطحا اور مشاعر مقدسہ

December 7th, 2006

فضیلتہ الشیخ / صالح بن محمد آل طالب حفظہ اللہ

حمد و ثنا کے بعد

اخلاص عمل اور فضلیت ایام :

مسلمانو ! اپنے اوقات کی خوب حفاظت کرو یہ انتہائی انمول چيز ہے اور حلال و پاکیزہ غذاء کھاؤ اور صرف حلال طریقے سے ہی کماؤ اور اپنے اعمال کو میزان شریعت پر تول کر سرانجام دیا کرو اور اپنے مقاصد اور نیتوں کو صحیح کر لو اور خوب اخلاص للہ سے کام لیا کرو اور اپنے ظاھر و پوشیدہ ہر عمل میں اس ذات باری تعالی کو نگران و دیکھنے والا مانو جو کہ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کو بھی جانتا ہے اور اسے اپنے ہر فعل کا نگران ماننا بہت ہی عمدہ و جلیل القدر بات ہے اور موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اپنے موجودہ ایام ( شب و روز ) کو غنمیت سمجھو کیونکہ اللہ تعالی نے ان ایام کو بڑا شرف و مقام اور درجۂ فضلیت عطا کیا ہے ۔

مکہ مکرمہ کا استقبال حجاج :

مسلمانو ! ان مبارک دنوں میں مکہ مکرمہ حجاج کرام کے وفود کا استقبال کر رہا ہے اور مسجد حرام انہیں ( اللہ کے مہانوں کو ) اپنی گود میں لینے کے لۓ خوشی سے اپنے بازو پھیلاۓ ھوۓ ہے ۔ حجاج کرام اس طرح شان و شوکت سے چلے آ رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالی کی خاص عنایت و کرم ہے اور وہ دنیا کے کونے کونے سے کچھے چلے آ رہے ہیں ۔ وہ اپنے رب تعالی کی نداء پر لبیک کہتے ھوۓ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراھیم علیہ السلام کے اعلان پر سرتسلیم خم کۓ پہنچ رہے ہیں ۔ اللہ تعالی نے انھیں حکم دیتے ھوۓ فرمایا تھا :
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٤١ تا ٥٠

December 1st, 2006

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ان کے لیے دوزخ کا بچھونا اور اوپر سے اوڑھنا ہے اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۔٤١

اور جو ایمان لانے اور نیکیاں کیں ہم کسی پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت کےموافق وہی بہشتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔٤٢

اور جوکچھ ان کے دلو ں میں خفگی ہو گی ہم اسے دور کردیں گے ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گےکہ اللہ کاشکر ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ فرماتا بے شک ہمارے رب کے رسول سچی بات لائے تھے جور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث ہو گئے ہو ۔٤٣

اور بہشت والے دوزخیوں کو پکاریں گے کہ ہم نے وعدہ سچا پایا جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا آیاتم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا وہ کہیں گے ہاں پھر ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ان ظالمو ں پر اللہ کی لعنت ہے ۔٤٤

جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے ۔٤٥

اور ان دونوں کے درمیان ایک دیوار ہو گی اور اعراف کے اوپر ایسے مرد ہوں گے کہ ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچان لیں گے اور جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور امیدوار ہیں ۔٤٦

اورجب ان کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف پھرے گی تو کہیں گے اے رب ہمارے ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ ملا ۔٤٧

اور اعراف والے پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے کہیں گے تمہاری جماعت تمہارے کسی کام نہ آئی اور نہ وہ جو تم تکبر کیا کرتے تھے ۔٤٨

یہ وہی ہیں جن کے متعلق تم قسم کھاتے تھے کہ انہیں اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی (انہیں کہا گیا ہے) جنت میں چلے جاؤ تم پر نہ ڈر ہے اور نہ تم غمگین ہو گے ۔٣٩

اور دوزخ والے بہشت والوں کو پکاریں گے کہ ہم پر تھوڑا سا پانی بہا دو یا کچھ اس چیز میں سے دو جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے کہیں گے بے شک اللہ نے انہیں دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کیا ہے ۔٥٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٣١ تا ٤٠

November 22nd, 2006

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور حد سے نہ نکلو بے شک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔٣١

کہہ دو اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اورکس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں) کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں ۔٣٢

کہہ دو میرے رب نے صرف بے حیائی کی باتو ں کو حرام کیا ہے خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ اور ہر گناہ کواور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی اور یہ کہ اللہ پر وہ باتیں کہو جو تم نہیں جانتے ۔٣٣

اور ہر ایک گروہ کے لیے ایک معیاد معین ہے پھر جب وہ معیاد ختم ہو گی اور وقت نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں گے اور نہ آگے بڑھیں گے ۔٣٤

اے ادم کی اولاد اگر تم میں سے تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میری آیتیں سنائیں پھر جو شخص ڈرے گا اور اصلاح کرے گا ایسوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے ۔٣٥

اور جنہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اوران سے تکبر کیا وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ۔٣٦

پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا اللہ پر بہتان باندھے یا اس کے حکموں کو جھٹلائے ان لوگوں کا جو کچھ نصیب ہے وہ ان کو مل جائے گا یہاں تک کہ جب ان کے ہاں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئيں گے تو کہیں گے کہ وہ کہاں گئے اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے تھے کہیں گے ہم سے سب غائب ہو گئے اور اپنے کافر ہونے کااقرار کرنے لگیں گے ۔٣٧

فرمائے گا جنوں اور آدمیوں میں سے جو امتیں تم سے پہلے ہو چکی ہیں ان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہو جاؤ جب ایک امت داخل ہو گی تو دوسری پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب گر جائیں گے تو ان کے پچھلے پہلوں سے کہیں گے اے رب ہمارے ہمیں انہوں نے گمراہ کیا سو تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے فرمائے گا کہ دونوں کو دگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے ۔٣٨

اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے پس تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں پس بسب اپنی کمائی کے عذاب چکھو ۔٣٩

بے شک جنہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اوران کے مقابلہ میں تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اورنہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے اور ہم گناہگاروں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ۔٤٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سفر حج سے متعلق چند ھدایات

November 21st, 2006

فضیلتہ الشیخ / عبد المسن القاسم ۔حفظہ اللہ

حمد و ثنا کے بعد

اللہ والو ! اللہ تعالی سے اتنا ڈور جتنا کہ اس کا حق ہے اور اسے اعلانیہ و پوشیدہ ہر معاملہ میں اپنا نگران مانو ۔
دعوت ابراھیم علیہ السلام پر لبیک کہنے والے

مسلمانو ! خیر و برکت لانے والے موسم یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے لۓ چلے آتے ہیں ۔ ایک ختم ھونے پاتا ہے تو کوئی دوسرا اسلامی شعار و عمل اور موقع آ جاتا ہے ۔ حجاج کرام فوج در فوج بیت اللہ العتیق کی زیارت کے ارادے سے چلے آ رہے ہیں اور انھوں نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی اس دعوت پر لبیک کہی ہے جس کا انھیں حکم دیتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا تھا :

” اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں وہ تیرے پاس پاپیادہ چلے آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار ھو کر بھی دنیا کے ہر کونے ( دور دراز ) سے چلے آئیں گے “۔ ( الحج ۔٢٧ ) ۔
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٢١ تا ٣٠

November 21st, 2006

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اور ان کے روبرو قسم کھائی کہ البتہ میں تمہارا خیرا خواہ ہوں ۔٢١

پھر انہیں دھوکہ سے مائل کر لیا پھرجب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور اپنے اوپر بہشت کے پتے جوڑنے لگے اورانہیں ان کے رب نے پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں کہ نہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔٢٢

ان دونوں نے کہا اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے ۔٢٣

فرمایا یہاں سے اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے ۔٢٤

فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے ۔٢٥

اے آدم کی اولاد ہم نے تم پر پوشاک اتاری جو تمہاری شرم گاہیں ڈھانکتی ہیں اور آرائش کے کپڑے بھی اتارے اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔٢٦

اے آدم کی اولاد تمہیں شیطان نہ بہکائے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکال دیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے تاکہ تمہیں ان کی شرمگاہیں دکھائے وہ اور اس کی قوم تمہیں دیکھتی ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنادیا ہے جوایمان نہیں لاتے ۔٢٧

اور جب کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح اپنے باپ دادا کو کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے بھی ہمیں یہ حکم دیا ہے کہہ دو بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں کرتا اللہ کے ذمہ وہ باتیں کیوں لگاتے ہو جو تمہیں معلوم نہیں ۔٢٨

کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور ہر نماز کےوقت اپنے منہ سیدھے کرو اور اس کے خالص فرمانبردار ہو کر اسے پکارو جس طرح تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا ہو گے ۔٢٩

ایک جماعت کو ہدایت دی اور ایک جماعت پر گمراہی ثابت ہو چکی انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنایا ہے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔٣٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page