Google
Home | Blogistan | pardese blog | sheikho blog | Urdu News

سورہ الاعرَاف ۔ ١٣١ تا ١٤٠

February 6th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

جب ان پر خوشحالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہیئے اور اگر انہیں کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے یاد رکھو ان کی نحوست اللہ کے علم میں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔١٣١

اور کہا جوکوئی نشانی تو ہمارے پاس لائے گا ہم پر اس کے ذریعہ سے جادو کرے سو ہم تجھ پر ہر گز ایمان نہ لائیں گے ۔١٣٢

پھر ہم نے ان پر طوفان اور ٹدی اور جوئیں اورمینڈک اور خون یہ سب کھلے کھلےمعجزے بھیجے پھر بھی انہوں نے تکبر ہی کیا اور لوگ گناہگار تھے ۔١٣٣

اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے اگر تو نے ہم سے یہ عذاب دور کر دیا تو بے شک ہم تجھ پر ایمان لے آئيں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے ۔١٣٤

پھر جب ہم نےان سے ایک مدت تک عذاب اٹھا لیا کہ انہیں اس مدت تک پہنچنا تھا اس وقت وہ عہد توڑ ڈالتے ۔١٣٥

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا پھر ہم نے انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے ۔١٣٦

اور ہم نے ان لوگوں کو وارث کر دیا جو اس زمین کے مشرق و مغرب میں کمزور سمجھے جاتے تھے کہ جس میں ہم نے برکت رکھی ہے او رتیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کے باعث پورا ہو گیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا ہم نے اسے تباہ کر دیا اور جو وہ اونچی عمارتیں بناتے تھے ۔١٣٧

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتارا تو ایک ایسی قوم پر پہنچے جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگے ہوئے تھے کہا اے موسیٰ ہمیں بھی ایک ایسا معبود بنا دے جیسے ان کے معبود ہیں فرمایا بے شک تم لوگ جاہل ہو ۔١٣٨

یہ لوگ جس چیز میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ ہونے والی ہے اور جو وہ کر رہے ہیں وہ غلط ہے ۔١٣٩

کہا کیا اللہ کے سوا تمہارے لیے اور معبود بنا دوں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہاں پر فضیلت دی ہے ۔١٤٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٢١ تا ١٣٠

January 31st, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کہاہم رب العالمین پر ایمان لائے ۔١٢١

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے ۔١٢٢

فرعون نے کہا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے یہ تو مکر ہے جو تم سب نے اس شہر میں بنایا ہے تاکہ اس شہر کے رہنے والوں کو نکال دو سو اب تمہیں معلوم ہو جائے گا ۔١٢٣

میں ضرور تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف سے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھا دوں گا ۔١٢٤

انہوں نے کہا ہمیں تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہی ہے ۔١٢٥

اور تمہیں ہم سے یہی دشمنی ہے کہ ہم نے اپنے رب کی نشانیوں کو مان لیا جب وہ ہمارے پاس آئیں اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر ڈال اورہمیں مسلمان کر کے موت دے ۔١٢٦

اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑتا ہے تاکہ وہ ملک میں فساد کریں اور تجھے اورتیرے معبودوں کو چھوڑ دے کہا ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتو ں کو زندہ رکھیں گے اور بے شک ہم ان پر غالب ہیں ۔١٢٧

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو بے شک زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے جسےچاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام بخیر پرہیزگاروں کا ہی ہوتا ہے ۔١٢٨

انہوں نے کہا تیرے آنے سےپہلے بھی ہمیں تکلیفیں دی گئیں اور تیرے آنے کے بعد بھی فرمایا تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور اس کی بجائے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنا دے گا پھر دیکھے گاتم کیا کرتے ہو ۔١٢٩

اور ہم نے فرعون والوں کو قحطوں میں اور میوں کی کمی میں پکڑ لیا تاکہ وہ نصیحت مانیں ۔١٣٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١١١ تا ١٢٠

January 22nd, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے ۔١١١

تاکہ تیرے پاس ماہر جادوگر کو لے آئيں ۔١١٢

اور جادوگر فرعون کے پاس آئے کہا اگر ہم غالب آئے تو ہمیں کچھ صلہ بھی ملے گا ۔١١٣

کہا ہاں اور بے شک تم مقرب ہو جاؤ گے ۔١١٤

کہا اے موسیٰ یا تو تو ڈال یا ہم ڈالتے ہیں ۔١١٥

کہا تم ڈالو پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگو ں کی نظر بندی کر دی اور انہیں ڈرایا اور اک طرح کا بڑا جادو دکھایا ۔١١٦

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا اپنا عصا ڈال دے سو وہ اسی وقت نگلنے لگا جو کھیل انہو ں نے بنا رکھا تھا ۔١١٧

پھر حق ظاہر ہو گیا اور جو انہوں نے بنایا تھا وہ غلط ہو گیا ۔١١٨

پھر اس جگہ ہار گئے اور ذلیل ہو کر لوٹے ۔١١٩

اور جادوگر سجدہ میں گر پڑے ۔١٢٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سال نو کا آغاز اور امت اسلامیہ سے خطاب

January 22nd, 2007

فضیلۃ الشیخ / عبد الرحمن السدیس

حمد و ثناء کے بعد

سال نو کا آغاز :
اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کے بعد اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس سال نو کو امت اسلامیہ کیلۓ امن و امان ، سلامتی و اسلام اور ان امور کی توفیق کا سال بنا دے جو اسے محبوب و پسندیدہ ہیں اور اس ذات با برکات سے جب مدد طلب کی جاۓ تو وہ مدد کرتا ہے ـ اس سے یہ بھی دعاء ہے کہ وہ اس نۓ سال کو اسلام اور تمام دنیا کے مسلمانوں کیلۓ فتح و نصرت کا سال بنا دے اور تمام انسانوں کو خیر و بھلائ ، عدل و انصاف اور سلامتی کی نعمتوں سے مالا مال کرے ، ھمارے موجودہ ایام کو ھمارے ماضی سے بہتر کر دے اور ھمارے موجودہ ایام سے ھمارے مستقبل کو بہتر و تابناک کر دے اور امت اسلامیہ کو مصائب و مشکلات اورہر طرح کے فتنوں اور بلاؤں سے محفوظ رکھے ـ وہ ذات گرامی بڑی ہی صاحب جود وکرم اور فضل و احسان والی ہے ـ

لمحہ فکریہ

مسلمانو ! زمانے کا پہیہ اپنی گردش کو پورا کر لیتا ہے لیکن اس کے حوادث سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا کوئ نہیں ھوتا سواۓ ان لوگوں کے جنکی بصیرت کو اللہ نے روشن کر رکھا ہے اور اپنی عمر کی ایک ایک گھڑی اور لمحہ لمحہ کو غنیمت سمجھتے ھوۓ اسے اعمال صالحہ اور بر و نیکی کے میدان میں صرف کرتا ہے اور افراط و تفریط یا تقصیر و کوتاہی اور گناہ کے راستوں سے دور رہتا ہے ـ
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

شرک بتاں اور مجسموں سے اجتناب

January 16th, 2007

فضیلہ الشیخ / سعود الشریم

حمد و ثناء کے بعد
پتھروں سے صنم تراشی و پرستی

لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روۓ زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں کا تعلق روحانی دنیا اور نورالہی سے منقطع ھو چکا تھا یہی وجہ تھی کہ ان پر عقائد و قوانین اور نفس پرستی کے اندھیرے چھاۓ ھوۓ تھے ایسے ظلمات اور اندھیرے کہ جن میں کوئ عقلمند بھی اتنی سی روشنی بھی نہیں پا رہا تھا کہ جس کی مدد سے وہ راہ ھدایت پر چل سکے یا ضلالت و گمراہی سے نجات پا سکے ، بلکہ وہ سخت گھٹاٹوپ اندھیرے تھے کہ تہ بہ تہ ایک دوسرے پر چڑھے ھوۓ تھے ۔ ایسے اندھیرے کہ جن میں اس وقت کے لوگ زندگی کی راھوں پر ایک شتر بے مہار کی طرح چلے جا رہے تھے ۔ ایسے ظلمات و اندھیرے کہ انھوں نے ان لوگوں کی عقول کو اس حد تک پہونچا رکھا تھا کہ وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لۓ معبود تراشتے اور پھر انکی عبادت کرنے کے لۓ انکے سامنے سجدہ ریز ھو جاتے تھے حالانکہ انھیں اور ان ہاتھوں کے بناۓ ھوۓ معبودان باطلہ کا خالق صرف اللہ تعالی ہے جو کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے مگر وہ اندھے بہرے ، گمراہ اور بدراہ ھو گۓ ۔
پھر انکی یہ گمراہی و ضلالت اس حد تک گر گئ کہ انھوں نے پتھروں ، درختوں اور طرح طرح کے گھڑے ھوۓ اور کھڑے یا پڑھے بتوں کو پوجنا شروع کردیا اور انکے سامنے جھکنے لگے ۔ انھیں اس روش پر لگانے والی چیز ان میں انسانیت کا فقدان و نایابی ، ان میں عقل و فکر کا قحط و افلاس اور ساتھ ہی انکی فطرت کی خود کشی تھی ۔ اب وہ انسان نہیں محض انسانی جسم و شکل کی ایک چیز بن کر رہ گۓ تھے ۔
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٠١ تا ١١٠

January 16th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

یہ بستیاں ہیں جن کے حالات ہم تمہیں سناتے ہیں بے شک ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے تھے پھر اس بات پر ہرگز ایمان نہ لائے جسے پہلے جھٹلا چلے تھے کافروں کے دلوں پر اللہ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے ۔١٠١

اور ہم نے ان کے اکثر لوگو ں میں عہد کا نباہ نہیں پایا اور ان میں سے اکثر نافرمان پایا ۔١٠٢

اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا پھر انہوں نے نشانیوں سے بے انصافی کی پھر دیکھ مفسدوں کا انجام کیا ہوا ۔١٠٣

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون بے شک میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں ۔١٠٤

میرے لیے یہی مناسب ہے کہ سوائے سچ کے کوئی بات اللہ کی طرف منسوب نہ کروں میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک بڑی دلیل لایا ہوں پس بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے ۔١٠٥

کہا اگرتو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ لا اگر تو سچا ہے ۔١٠٦

پھر اس نے اپنا عصا ڈال دیا وہ اس وقت صریح اژدھا ہو گیا ۔١٠٧

اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کے لیے سفید نظر آنے لگا ۔١٠٨

فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا بے شک یہ بڑا ماہر جادو گر ہے ۔١٠٩

تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے پس تم کیا مشورہ دیتے ہو ۔١١٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

نوجوان نسل اور انحراف ۔اسباب و علاج

January 8th, 2007

فضیلۃ الشیخ / عبد الباری الثبیتي ۔ حفظہ اللہ

حمد و ثناء کے بعد
میں آپ لوگوں کو اور اپنے آپ کو اللہ کا ڈر (تقوی ) اختیار کرنے کی وصیت و نصحیت کرتا ھوں۔ ارشاد الہی ھے ۔
” اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ایسے ڈرتے رھو ۔ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ھے ۔ اور تمہیں موت آۓ تو صرف اسلام پر ہی آۓ ۔ ” ( آل عمران ۔١٠٢ )

نوجوان نسل قوم کا سرمایہ :
نوجوان طبقہ امت و قوم کا ایک قیمتی سرمایہ اور گراں مایہ دولت و ثروت شمار ھوتا ھے ، اور جب اسے خیر و بھلائی کے کاموں ، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی کے امور میں صرف کیا جاۓ تو پھر یہ طبقہ ایک نعمت اورخیروبرکت بن جاتا ھے اور اگر اسے شرو فساد اپنے رنگ میں رنگ لے تو یہی طبقہ ایک خطرناک شر اور انتہائی نقصاندہ چیز بن کر سامنے آجاتا ھے ۔
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٩١ تا ١٠٠

January 8th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

پھر انہیں زلزلہ نے آ پکڑا پھر وہ صبح تک اپنے گھرو ں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے ۔٩١

جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا گو وہ وہاں کبھی بسے ہی نہیں تھے جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے ۔٩٢

پھر ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم تحقیق میں نے تمہیں اپنے رب کے احکام پہنچا دیے اور میں نے تمہارے لیے خیر خواہی کی پھر کافروں کی قوم پر میں کیوں کر غم کھاؤں ۔٩٣

او رہم نے کسی بستی میں کوئی پیغمبرنہیں بھیجا مگر وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ وہ عاجزی کریں ۔٩٤

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی یہاں تک کہ وہ زیادہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ داداؤں کو بھی تکلیف اور خوشی کا وقت آیا تھا پھر ہم نے انہیں اچانک پکڑا اور ان کو خبر نہ ہوئی ۔٩٥

اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے نعمتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پھر ہم نے ان کے اعمال کے سبب سے گرفت کی ۔٩٦

کیا بستی والے نڈر ہو چکے ہیں کہ ہماری طرف سے ان پر رات کو عذاب آئے جب وہ سو رہے ہوں ۔٩٧

یا بستیوں والے اس بات سے نڈر ہو چکے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں ۔٩٨

کیا وہ اللہ کی اچانک پکڑ سے بے فکر ہوئے ہیں پس اللہ کی اچانک پکڑ سے بے فکر نہیں ہوتے مگر نقصان اٹھانے والے ۔٩٩

کیا ان لوگو ں پر جو زمین کے وارث ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد یہ ظاہر نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لیں اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے پس وہ نہیں سنتے ۔١٠٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٨١ تا ٩٠

January 5th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم حد سے بڑھنے والے ہو ۔٨١

اور اس کی قوم نے کوئی جواب نہیں دیا مگر یہی کہا کہ انہیں اپنےشہر سے نکال دو یہ لوگ بہت ہی پاک بننا چاہتے ہیں ۔٨٢

پھر ہم نے اسےاور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے بچا لیا کہ وہ وہاں رہنے والو ں میں رہ گئی ۔٨٣

اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پھر دیکھیئے گناہگاروں کا کیا انجام ہوا ۔٨٤

اورمدین کی طرف اس کے بھائی شعیب کو بھیجا فرمایااے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہار کوئی معبود نہیں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل پہنچ چکی ہے سو ناپ اور تول کو پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان دار ہو ۔٨٥

اور سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اوراس میں ٹیڑھا پن تلاش کرو اور اس حلات کو یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا ہے ۔٨٦

اور اگر تم میں سے ایک جماعت اس پر ایمان لے آئی ہے جو میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی پس صبر کرو جب تک اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔٨٧

اس کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ہم تجھے اور انہیں جو تجھ پر ایمان لائے ہیں اپنے شہر سے ضرور نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں واپس آ جاؤ فرمایا کیا اگرچہ ہم اس دین کو ناپسند کرنے والے ہوں ۔٨٨

ہم تو اللہ پر بہتان باندھنے والے ہو جائیں اگر تمہارے مذہب میں واپس آئيں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی ہے اور ہمیں یہ حق نہیں کہ تمہارے دین میں لوٹ کر آئيں مگر یہ کہ اللہ چاہے جو ہمارا رب ہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔٨٩

اس کی قوم میں جو کافر سردار تھے انہوں نے کہا اگر تم شعیب کی تابعداری کرو گے تو بے شک نقصان اٹھاؤ گے ۔٩٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

شادی بیاہ ۔ تقریبات ، احکام ، آداب

January 3rd, 2007

فضیلۃ الشیخ / عبدالمحسن القاسم

حمد و ثناء کے بعد

اللہ کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اس کا خوف و تقوی ہی راہ ھدایت ہے اور اس کی مخالفت راہ متفاوت و بدبختی ہے ۔
مسلمانو ! خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اسی سے امتیاز اور اقوام و قبائل نکلتے ہیں اور اس کی بیناد میاں بیوی ہیں ۔ ارشاد الہی ہے :
[ اے لوگو ! ھم نے تمھیں ایک مرد و زن سے پیدا کیا اور ھم نے تمھیں قبائل و اقوام بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو باھم پہچانو ]۔ ( الحجرات ۔١٣)

دعوت شریعت :
شریعت بندوں کی مصلحتوں ، حکمتوں اور ان کے دنیا و آخرت کے مفادات پر مبنی ہے ۔ اس نے نوجوانوں کو شادی کے ذریعے اپنے آپ کو عفیف و پاکدامن رکھنے کی دعوت دی ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے :
[ اے نوجوانو ! تم میں سے جس میں ( مادی و جسمانی ) طاقت ھو اسے چاہیۓ کہ شادی کرے یہ اس کی نگاہ کو نیچے رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کے لۓ مفید ہے اور جس میں ( مالی ) طاقت نہ ھو ، وہ روزہ رکھے ۔ یہ اس کی شہوت کشی کرے گا ]۔ ( متفق علیہ )

شادی سے قبل ۔ ۔ ۔
دین اسلام نے اعلی اخلاق و کردار والی ایسی نیک بیوی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ اپنے شوھر کو اذیت نہ پنچاۓ اور نہ ہی اس کے سامنے اپنی آواز بلند کرے ۔ اور لڑکی لڑکے دونوں کے بارے میں چھان بین کر لینا لازمی ہے تا کہ اس کے مخفی اخلاق و کردار اور صفات کا پتہ چل جاۓ جو کہ اسلامی اخلاق کے منافی ھوں اور جس سے پوچھ پاچھ کے لۓ رابطہ کیا جاۓ اس پر واجب ہے کہ پورے صدق و صفائی سے جواب دے ، اور امانت داری و وضاحت سے ان کے محاسن اور برائیاں بیان کر دے کیونکہ کسی کے پوچھنے پر کسی کے عیوب و نقائص کو چھپانا مسلمان کو دھوکہ دینے کی ایک قسم ہے ، اور جب لڑکا کسی کو پیام نکاح دینے کا عزم کر لے تو اس کے لۓ مباح ہے کہ وہ حرام خلوت کے بغر ، لڑکی کے کسی محرم کی موجودگی میں لڑکی پر ایک نظر ڈال لے اور لڑکی جسمانی عیوب کو چھپانے والا میک اپ کر کے اسے دھوکہ میں نہ رکھے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
[ تم میں سے جب کوئی شخص کسی لٹرکی کو پیغام نکاح دے تو اسے چاہیۓ کہ ( نکاح سے پہلے ) ایک نظر دیکھ لے یہ ( دیکھ لینا ) انکے مابین تعلقات کے دوام کے لۓ مفید ہے ] ۔ ( مسلم )

مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page