<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	>

<channel>
	<title>Pardese's blog</title>
	<atom:link href="http://pardese.urduhome.net/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://pardese.urduhome.net</link>
	<description>Read Quraan in Urdu</description>
	<pubDate>Fri, 18 Jan 2008 20:09:43 +0000</pubDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.5.1</generator>
	<language>en</language>
			<item>
		<title>سورہ الانفال ۔ ١ تا ١٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2008/01/18/al-anfal/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2008/01/18/al-anfal/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 18 Jan 2008 20:09:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<category><![CDATA[Quran]]></category>

		<category><![CDATA[Quran in urdu]]></category>

		<category><![CDATA[Sorah Al-Anfal]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2008/01/18/al-anfal/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</center></p>
<p>اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو  ۔١</p>
<p>مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔٢</p>
<p>اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں ۔٣</p>
<p>یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے ۔٤</p>
<p>ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی ۔٥</p>
<p>وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں ۔٦</p>
<p>اور (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے ۔٧</p>
<p>تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں ۔٨</p>
<p>جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے ۔٩</p>
<p>اور اس مدد کو اللہ نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے ۔١٠</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2008/01/18/al-anfal/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ٢٠١ تا ٢٠٦</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2008/01/14/al-aaraf-2/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2008/01/14/al-aaraf-2/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 Jan 2008 20:08:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<category><![CDATA[Quran]]></category>

		<category><![CDATA[Quran in urdu]]></category>

		<category><![CDATA[Sorah Al-Aaraf]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2008/01/14/al-aaraf-2/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں ۔٢٠١
اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</center></p>
<p>جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں ۔٢٠١</p>
<p>اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے ۔٢٠٢</p>
<p>اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔٢٠٣</p>
<p>اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔٢٠٤</p>
<p>اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا ۔٢٠٥</p>
<p>جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں ۔٢٠٦</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2008/01/14/al-aaraf-2/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ١٩١ تا ٢٠٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2008/01/13/al-aaraf/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2008/01/13/al-aaraf/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 13 Jan 2008 21:34:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<category><![CDATA[Quran]]></category>

		<category><![CDATA[Quran in urdu]]></category>

		<category><![CDATA[Sorah Al-Aaraf]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2008/01/13/al-aaraf/</guid>
		<description><![CDATA[
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے


أَيُشْرِكُونَ مَا لاَ يَخْلُقُ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ ‌[7-191]
کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں ۔١٩١

وَلاَ يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلاَ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ‌[7-192]
اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div align="center"><font face="tahoma" color="blue" size="4"><br />
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ<br />
اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے<br />
</font></div>
<p><font face="tahoma"><br />
أَيُشْرِكُونَ مَا لاَ يَخْلُقُ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ ‌[7-191]</font><br />
کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں ۔١٩١</p>
<p><font face="tahoma"><br />
وَلاَ يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلاَ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ‌[7-192]</font><br />
اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں ۔١٩٢</p>
<p><font face="tahoma"><br />
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لاَ يَتَّبِعُوكُمْ سَوَاء عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ ‌[7-193]</font><br />
اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو ۔١٩٣</p>
<p><font face="tahoma"><br />
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ‌[7-194]</font><br />
(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں ۔١٩٤</p>
<p><font face="tahoma"><br />
أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا قُلِ ادْعُواْ شُرَكَاءكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلاَ تُنظِرُونِ ‌[7-195] </font><br />
بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں) ۔١٩٥</p>
<p><font face="tahoma"><br />
إِنَّ وَلِيِّيَ اللّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ‌[7-196]</font><br />
میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے ۔١٩٦</p>
<p><font face="tahoma"><br />
وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلآ أَنفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ ‌[7-197] </font><br />
اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔١٩٧</p>
<p><font face="tahoma"><br />
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لاَ يَسْمَعُواْ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لاَ يُبْصِرُونَ ‌[7-198]</font><br />
اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے ۔١٩٨</p>
<p><font face="tahoma"><br />
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ ‌[7-199]</font><br />
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو ۔١٩٩</p>
<p><font face="tahoma"><br />
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ‌[7-200]</font><br />
اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔٢٠٠ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2008/01/13/al-aaraf/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ١٨١ تا ١٩٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/05/22/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a8%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a9%d9%a0/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/05/22/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a8%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a9%d9%a0/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 22 May 2007 22:16:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/05/22/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a8%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a9%d9%a0/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اور ان لوگوں میں سےجنہیں ہم نے پیدا کیا ایک جماعت ہے جو سچی راہ بتاتی ہے اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ۔١٨١
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں انہیں خبر بھی نہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</p>
<p>اور ان لوگوں میں سےجنہیں ہم نے پیدا کیا ایک جماعت ہے جو سچی راہ بتاتی ہے اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ۔١٨١</p>
<p>اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں انہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔١٨٢</p>
<p>اور میں انہیں مہلت دوں گا بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔١٨٣</p>
<p> کیا انہوں نے غور نہیں کیاکہ ان کے ساتھی کو جنوں تو نہیں ہے وہ تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہے ۔١٨٤</p>
<p>اور کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی سلطنت کو نہیں دیکھا اور دوسری چیزوں کو جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور یہ کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل  قریب ہی ہو  پھرقرآن کے بعد کس بات پر یہ لوگ ایمان لائيں گے ۔١٨٥</p>
<p>جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں  اللہ  چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں حیران پھیر یں ۔١٨٦</p>
<p>قیامت کے متعلق تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس کی آمد کا کونسا وقت ہے کہہ دو اس کی خبر تو میرے رب ہی کے ہاں  ہے وہی اس کے وقت پر ظاہر کر دکھائے گا وہ آسمانو ں اور زمین میں بھاری بات ہے وہ تم پر محض اچانک آجائے گی تجھ سے پوچھتے ہیں گویا کہ تو اس کی تلاش میں لگا ہوا ہے کہہ دو اس کی خبر خاص اللہ  ہی کے ہاں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔١٨٧</p>
<p><font color="red"> کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو اللہ  چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا  تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں ۔١٨٨</font></p>
<p>وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ اس سے آرام پائے پھر جب میاں نے بیوی سے ہم بستری کی تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا پھر اسے لیے پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تب دونوں میاں بیوی نے اللہ  سے جو ان کا مالک ہے دعا کی اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم اولاد دے دی تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔١٨٩</p>
<p> پھر جب اللہ  نے انکو صحیح سالم اولاد دی تو اللہ  کی دی ہوئی چیزوں میں وہ دونوں اللہ  کا شریک بنانے لگے سو اللہ  ان کے شرک سے پاک ہے ۔١٩٠</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/05/22/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a8%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a9%d9%a0/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ١٧١ تا ١٨٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/04/10/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a7%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a8%d9%a0/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/04/10/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a7%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a8%d9%a0/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 10 Apr 2007 10:32:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/04/10/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a7%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a8%d9%a0/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اورجب ہم نے ان پر پہاڑ اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ ڈرے کہ ان پر گرے گا ہم نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد  رکھو تاکہ تم پرہیزگار [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</p>
<p>اورجب ہم نے ان پر پہاڑ اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ ڈرے کہ ان پر گرے گا ہم نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد  رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ ۔١٧١</p>
<p>اور جب تیرے رب نے  بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان کی جانوں پر اقرار کرایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں کبھی قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہیں تھی ۔١٧٢</p>
<p>یا کہنے لگو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے شرک کیاتھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد تھے کیاتو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا ۔١٧٣</p>
<p> اور اسی طرح ہم کھول کر آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوٹ آئيں ۔١٧٤</p>
<p> اور انہیں اس شخص کا حال سنا دے جسے ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں پھر وہ ان سے نکل گیا پھر اس کے پیچھے شیطان لگا تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا ۔١٧٥</p>
<p> اور اگر ہم چاہتےتو ان کی آیتو ں کی برکت سے اس کا رتبہ بلند کرتے  لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا اس کا تو ایسا حال ہے جیسے کتا اس پر تو سختی کرے تو بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تو بھی ہانپے یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو یہ حالات بیان کر دے شاید کہ وہ فکر کریں ۔١٧٦</p>
<p> جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی بری مثال ہے اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے ۔١٧٧</p>
<p> جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے  وہی راہ پاتا ہے اور جسے گمراہ کر دے پس وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔١٧٨</p>
<p> اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی گمراہی  میں زیادہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں ۔١٧٩</p>
<p> اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں نامو ں سے پکارو  اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے نامو ں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے ۔١٨٠</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/04/10/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a7%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a8%d9%a0/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>رعنائی یا حسن و زیبائی اور فن</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Feb 2007 11:30:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>

		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>

		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ  /  صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ
حمد و ثناء کے بعد
لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔
فریب دنیا اور کامیابی :
تعجب ھے اس شخص پر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  /  صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد<br />
لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔</p>
<p>فریب دنیا اور کامیابی :</p>
<p>تعجب ھے اس شخص پر جو اس دنیا اور اسکے انقلابات کو دیکھ سمجھ لے اور پھر بھی اس سے فریب کھا جاۓ ۔ کیا وہ خي و شر اور نافع و خسارہ میں فرق نہیں کر سکتا ؟ لوگوں کے دل انہیں گھمانے والی ذات باری تعالی کی طرف رجوع کیوں  نہیں کرتے اور وقت کو نیک اعمال میں صرف کرنے کو غنیمت کیوں نہیں سمجھتے اور دلوں کی بیماریوں سے صحت و عافیت کیوں نہیں پاتے اور امانت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے ۔ اپنی ہمتوں کو خیر و بھلائی کے کاموں کی طرف حرکت دیں اور اپنے عزائم کو جدوجہد پر آمادہ کریں اور فقراء و ناداروں اور مساکین و محتاجوں کی ضروریات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں کیونکہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; تم اس وقت تک نیکی و ثواب ہر گز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی محبوب و پسندیدہ چيز سےخرچ نہ کرو گے ۔&#8221; (آل عمران ۔٩٢ )</p>
<p>دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ھے :</p>
<p>&#8221; جو اپنے نفس کے بخل سے بچ گۓ وہی فلاح و کامیابی پانے والے ہیں ۔&#8221; ( الحشر ۔٩ )</p>
<p>اسلام = دین فطرت و بشریت :</p>
<p>مسلمانو ! اسلام دین فطرت ھے ۔ اس سے ہر زمانے میں اصلاح اور ہر جگہ تعمیر ممکن ھے ۔ یہ دین عقیدہ و شریعت ، دین تہذیب و تربیت ، دین سلوک و کردار ، دین حق و جمال اور دین وراثت و معاصرت ہے ۔ یہ زندگی کے تمام معاملات کو سلجھاتا ہے ۔ یہ کسی بھی زمانے میں توقف نہیں کرتا بلکہ اس میں جدت پیدا ھوتی رہتی ہے تاکہ یہ ہر زمانے کے حالات کو سدھار ے اور ہر معاملہ میں فتوی و فیصلہ دے ۔ یہی وجہ ہے اسلام ایسا دین نہیں کہ وہ بشری نفوس کی خواہشات و جذبات سے چشم پوشی کر ے  یا اس کی جبلت و فطرت کے مختلف حالات مثلا اہتمام و اقبال ، ادبار و فرار ، جد و جہد ، سستی و کاہلی ، کد و کاوش کے لۓ نشاط و تازگی ، پژمردگی ، انشراح صدر اور تنگدلی کو مدنظر نہ رکھے ۔<br />
<span id="more-289"></span><br />
نیت صحیح ۔ ۔ ۔ تو ہر کام عبادت :</p>
<p>اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اور ان کے خصائص و طبیعتیں بنائيں اور زندگی و کائنات میں جو چاہا بنا کر پھیلا دیا اور اس کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لۓ مسخر و زیردست کر دیا ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کو معلوم ہے کہ یہ بشر ہیں ان کے دلوں میں کچھ شوق ہیں ، ان کے نفوس کے کچھ حظوظ و مطالبات ہیں اور ان کی انسانی طبیعتیں ہیں ۔ لھذا اسلامی احکام و اوامر ایسے نہیں کہ وہ ان کے سارے کلام کو ہی ذکر الہی بنا دینے ، ان کی تمام تر خاموش گھڑیوں کو فکر و تدبر کر دینے ، اس کی سوچ بچار کو عبرت بنا دینے اور ان کی تمام تر فراغت و فرصت کو عبادت بنا دینے کا مطالبہ کرتے ھوں لیکن اللہ نے انہیں اس بات کی قدرت بخشی ہے کہ اگر وہ قرب الہی کی نیت اور خلوص دل سے یہ کام سر انجام دیں اور کام بھی صحیح ھوں تو ان کے وہ تمام اعمال ہی ذکر الہی ، فکر و تدبر ، عبادت اور عبرت بن جائيں ۔</p>
<p>مطالبات فطرت اور اسلامی آداب :</p>
<p>دین اسلام نے ان تمام اشیاء کو برقرار رکھا ہے جنھیں فطرت انسانی چاہتی اور جن کا مطالبہ کرتی ہے مثلا سرور و فرحت ، کھیل کود ، ہنسی مذاق اور شوق و جمال وغیرہ لیکن ان تمام چیزوں کو ان بلند اسلامی آداب کی باڑ کا پابند کر دیا ہے کہ اگر ان آداب کا خیال رکھا جاۓ تو ان مطالبات سے کمام درجہ استفادہ اور غایت درجہ تفریح طبع کی جا سکتی ہے جبکہ ان آداب کی بدولت ہی بدگوئی و حرام کاری ، ظلم و زیادتی ، بغض و نفرت اور مبادیات و اخلاق کی تباہی سے دور رہ کر بھی مذکورہ فطری امور سے لطف اندوز ھوا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>جمال فطرت سے استفادہ و لطف اندوزی :</p>
<p>اللہ نے ھمارے  لۓ کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں اور ھمیں کن کن عطاؤں سے نواز رکھا ، ھمارے لۓ کیا کیا کچھ مسخر و زیردست کر رکھا ہے اور ھمارے لۓ اپنے نفوس میں ، اپنی زمین میں اور اپنے آسمان میں کیا کیا قوانین و شرائع مقرر فرماۓ ہیں اور ھمارے گرد و پیش کی ہر چيز ہی ھماری دسترس میں کر دی ہے اور اللہ نے فائدہ مند چیزوں ارو مناظر قدرت سے استفادہ کرنے اور لطف اندوز ھونے کے دونوں پہلوؤں کو جمع کرتے ھوۓ ھمیں ان کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لیں ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور چارپایوں کو بھی اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ، ان میں تمھارے لۓ ( سردیوں میں ) گرمی کا سامان ( اون ) اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ھو اور جب شام کو انہیں ( جنگل سے ) لاتے ھو اور جب صبح کو ( جنگل کی طرف چرانے ) لے جاتے ھو تو ان سے تمھاری عزت و شان  ( جمال ) ہے اور ( دور دراز ) شہروں میں جہاں تم زحمت و مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے وہ تمھارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں بیشک تمھارا رب نہایت شفقت والا  مہربان ہے اور اسی نے گھوڑے ، خچر اور گدھے پیدا کۓ تاکہ تم ان پر سوار ھو اور ( وہ تمھارے لۓ ) زینت و رونق ( بھی ہیں ) اور وہ ( دیگر چیزوں بھی ) پیدا کرتا ہے جن کی تمھیں خبر نہیں ہے &#8220;۔ ( النحل ۔٥ ۔ ٧ ) ۔</p>
<p>دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ( کس نے ) تمھارے لۓ آسمان سے پانی برسایا ۔(ھم نے )<br />
پھر ھم ہی نے اس سے سرسبز و خوبصورت باغ اگاۓ &#8220;۔   ( النمل ۔٦٠ )</p>
<p>  ایک تیسرے مقام پر فرمایا :</p>
<p>اور ھم ہی نے آسمان میں برج بناۓ اور دیکھنے والوں کے لۓ اسے سجا دیا &#8220;۔ ( الحجر ۔١٦) ۔</p>
<p>بلکہ ھمیں حکم دیا گیا کہ ھم ہر جمال مناظر قدرت اور پکے ھوۓ پھلوں کو دیکھیں اور فکر و تامل اور غور و تدبر کریں ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ ھم نے اسے کس طرح بنایا اور اسے کیسے مزین کیا اور اس میں کہیں شگاف نہیں &#8220;۔ ( ق ۔٦ ) ۔</p>
<p>ایک جگہ اللہ تعالی نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; ( ان چیزوں کے پھل لانے کے وقت ) ان کے پھلوں پر اور ( پکتے وقت ) ان کے پکنے پر نظر ڈالو &#8220;۔ ( الانعام ۔٩٩) ۔</p>
<p>دوسرے مقام پر ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ھوتے ہیں &#8220;۔ ( ق ۔١٠ ) ۔</p>
<p>ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے ( عجیب ) پیدا کۓ گۓ ہیں اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گيا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کۓ گۓ ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے ؟ &#8220;۔ ( الغاشیہ ۔١٧ ۔ ٢٠ ) ۔</p>
<p>اختیار زینت و جمال کا حکم :</p>
<p>یہ نظر اور تفکر و تدبر ایمان و فائدہ ، اور جمال و زینت کے جامع ہیں بلکہ بنی آدم کو زینت کے اختیار کرنے کا اور خصوصا اوقات عبادت کے لۓ خوب بننے سنوارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : &#8221; اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو خوب مزین کیا کرو &#8220;۔ ( الاعراف ۔٣١ ) ۔</p>
<p>١ ۔ ستر و پوشی میں حسن و جمال اور رعنائی :</p>
<p>اللہ کے بندو ! اس باب میں مزید فکر و تامل اور تفصیل جاننے کے لۓ دیکھیں کہ بنی آدم کی دو چیزیں<br />
 شرمگاہ ہیں اور وہ دونوں ہی ستر و پردہ کی ضرورتمند ہیں بلکہ  ان کے ستر میں بھی انتہائی جمال اور خوبصورتی پائی جاتی ہے ۔ اور دونوں مقامات ستر میں سے ایک تو جسمانی شرمگاہ ہے اور اس کا ستر دو لباسوں سے ھوتا ہے ۔ ایک لباس پردہ سے اور دوسرے لبا‎س زینت سے ۔ اور دونوں کو بیان کرتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اے بنی آدم ! ھم نے تمھارے لۓ لباس نازل کیا جس سے تم اپنی شرمگاھوں کو چھپاتے ھو اور ( اپنے بدن کو ) زینت و رعنائی دیتے ھو اور ( جو ) پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے &#8220;۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔</p>
<p>پہلا لباس شرمگاہ کو چھپاتا اور ستر و پردہ کا باعث بنتا ہے اور دوسرا زیب و زینت اور حسن و رعنائی کا موجب ہے ۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ حسن و رعنائی کی تعبیر کے لۓ ریش ( پرندے کے پر ) کو اختیار کیا گیا کیونکہ تمام مخلوقات کی پوشاکوں میں سے حسین و جمیل پوشاک پرندوں کے پر ہیں جو کہ اپنے دیدہ زیب و دلکش رنگوں ، نرمی و باریکی اور جاذبیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ اور انھوں نے لکھا ہے کہ پرندوں کا پر انسانوں کے بالوں ، بھیڑ بکریوں کی اون اور اونٹ کے بالوں سے بھی نرم و نازک ھوتا ہے ، اگر چہ ان چیزوں میں بھی جمال و زیبائش موجود ہے جو کہ کسی پر مخفی نہیں ہے ۔</p>
<p>٢ ۔ نفس کا ستر :</p>
<p>انسان دوسری شرمگاہ یا مقام ستر ، نفس کا ستر ہے جسے اخلاق جمیلہ ، حسن عبادت اور اطاعت الہی کے پردے سے ڈھانپا جاتا ہے اور اسی پردہ و پوشاک یا ستر و لباس کا ذکر کرتے ھوۓ ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور ( جو ) تقوی و پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے &#8220;۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔</p>
<p>جمال صرف مادی اشیاء اور اجساد و اجسام میں ہی نہیں ھوتا بلکہ اخلاق میں بھی جمال پایا جاتا ہے اسی طرح صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی ) اور ہجر جمیل ( فراق ) جیسے اخلاقی امور وصفات میں جمال کا وجود معروف ہے ۔</p>
<p>جمال اور اسلام :</p>
<p>١ ۔ جمال تعبیر :</p>
<p>برادران و احباب کرام ! اگر دور حاضر کی اصطلاح میں ذوق جمال اور صفت جمال کو فن کا نام دیا گیا ہے تو یہ جمال دین اسلام اور اس کی اسلامی تھذیب میں صرف ذوق کے لۓ نہیں بلکہ یہ عظیم مقاصد کے لۓ مستعمل ہے ۔ جمال تعبیر  یا حسن تعبیر ہر طرح کے فنون کے وسیع ترین قسم اور لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر انداز ھونے والی چیز ہے ۔ اسی طرح ان کے باھمی معاملات ، خطاب و اسلوب ، امر و نہی ، دعوت و راہنمائی اور تعلیم و تربیت کے سب میدانوں میں حسن تعبیر ایک پر اثر چیز ہے ۔ اور ھم وہ امت ہیں جن کی راہنما ان کی کتاب قرآن کریم ہے اور یہ کتاب جمال و حسن تعبیر کے اعتبار سے ھمارے لۓ نادر و بیمثال نمونہ ہے اور اس امت کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جوامع الکلم دیۓ گۓ تھے کہ چند کلمات میں آپ معانی و مضامین کے دریا بہا دیا کرتے تھے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا کرتے    تھے ۔ عرض قول حسن ، وعظ حسن ، باحسن طریق جدال و مناظرہ اور احسن القصص یہ سب کلمات اہل علم اہل دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے میدانوں میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے ایک تنبیہ اور رہنمائی ھے کہ وہ اپنے اسلوب و انداز میں جاذبیت و کشش پیدا کریں اور مافی الضمیر کی تعبیر کے لیے وہ خوبصورت انداز اختیار کریں کہ جسے جمال تعبیر کہا جا سکتا ھے اور یہ کیوں نہ ھو جبکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس طرح راہنمائی کرتے ھوۓ فرمایا :</p>
<p>&#8221; آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لۓ نرم دل ھو گۓ اور اگر آپ سخت گفتگو و سخت دل ھوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ھوتے &#8220;۔  ( آل عمران ۔١٥٩ ) ۔ اللہ اکبر ! سبحان اللہ !</p>
<p>٢۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور جمال کلام :</p>
<p>اللہ والو ! یہ کتنا واضح اور کتنا حسن و جمال والا حکم ہے ۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سخت کلام اور سنگدل و سخت گیر افتاد طبع پاتے ۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے قطعی پاک تھے ۔ لیکن اگر آپ ایسے ھوتے تو آپ کی بات کوئی نہ مانتا بلکہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ نکلتے ۔ کیوں ؟ اس لۓ کہ لوگ رفق و نرم مزاجی ، خندہ روئی ، مسکراتے ھوۓ استقبال کۓ جانے ، اعلی اخلاق و حسن گفتگو ، حسن استماع ، جاذبیت و کشش کی فطرت پر پیدا ھوۓ ہیں اور انہی صفات کو قبول کرتے انہیں ہی چاہتے اور انہی کا احترام کرتے ہیں ۔</p>
<p>٣ ۔ جمال قول ، صبر جمیل اور ۔ ۔ ۔ :</p>
<p>معلم و مدرس ، رہبر و رھنما ، ناصح و خیر خواہ ، محتسب ، داعی و مبلغ ، قلم کار و مضمون نگار اور پڑھے لکھے تمام لوگ اس بات کے اہل ہیں اور انہیں چاہیۓ کہ وہ قول جمیل ( عمدہ بات ) ، صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی تلافی کا اعلی انداز ) اور ہجر جمیل ( فراق و علیحدہ کے عمدہ انداز ) کو اپنائیں ۔</p>
<p>فسق و فجور کوئی فن نہیں :</p>
<p>مسلمانو ! یہ خوبصورت جمال اور دلفریب و دلکش فن ، حق سے بالا تو ھو ہی نہیں سکتا ، نہ ہی فسق و فجور کے کاموں کو  فن کا نام دیا جا سکتا بلکہ یہ ممکن و جائز ہی نہیں کہ فن اور فنی عمل ( اداکاری و فنکاری ) کے نام سے کفر و فسق اور ظلم و جور پر پردہ ڈالا جاۓ بلکہ بعض لوگ تو انتہاء پسندی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان میں سے بعض یہ تک کہنے لگے کہ : فنکار کے خلاف ان قواعد اور معیاروں کے مطابق فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا جن کے تحت دوسرے لوگوں کے بارے میں کیا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ فنکاریوں کے جمال کو دروغ گوئی و جھوٹ اخلاقیات کی تخریب و تباہی اور عمدہ عادات و اطوار کو چھوڑ کر بداخلاقی اپنانے کا ذریعہ بنایا جاۓ ۔ اور نہ ہی یہ ہرگز جائز ہے کہ جمال تعبیر کے ذریعے باطل امور کو جنم دیا جاۓ بدگوئی کھلے عام کی جاۓ اور جعل سازی کا ارتکاب کیا جاۓ ۔</p>
<p>وسیلۂ ممنوع بھی ممنوع ہے :</p>
<p>جب یہ حسن جمال  اور زینت و رعنائی حق کی عمارت کو مسمار کرنے ، اخلاق اقدار کو نیست و نابود کرنے اور اخلاقیات پر دست درازی کرنے کا ذریعہ و سبب بننے لگیں تو ایسے حسن و رعنائی کو روکنا اور اس کی راہیں بند کرنا واجب ھو جاتا ہے کیونکہ ممنوع فعل تک پہنچانے والا ذریعہ و وسیلہ بھی ممنوع ہی ھوتا ہے ۔ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جو کہ پوری دنیا کی عورتوں سے زیادہ معزز و مکرم ، زیادہ اہل شرف و عظمت ، زیادہ عفت مآب اور زیادہ پاکباز تھیں ۔ انہیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اپنی آواز میں نرمی پیدا کرکے لوگوں سے باتیں نہ کریں کیونکہ یہ فعل بیمار دل والے مریض القلب لوگوں میں شر کو ابھارتا اور انہیں ممنوع امور تک پہچاتا ہے  چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; ( تم کسی اجنبی شخص سے ) نرم نرم باتیں نہ کرو  تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض و بیماری ھو اس میں کوئی امید ( نہ ) پیدا کرے اور دستور و معروف طریقہ کے مطابق بات کیا کرو &#8221; ۔ ( الاحزاب ۔٣٢) ۔</p>
<p>ستر اور شیطان :</p>
<p>اللہ کے بندو ! غور و تامل کا لطیف سا اشارہ اس بات میں موجود ھے جو کہ قرآن کریم نے ہمیں بتائی اور اس پر متنبہ و خبردار کیا ھے کہ شرمگاہ کو ننگا کرنے اور شیطان اور اسکے چیلوں میں ایک تعلق پایا جاتا ھے ۔ آپ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھ کر دیکھ لیں :</p>
<p>&#8221; اے ابن آدم ! (دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر ) جنت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیۓ تاکہ ان کے ستر انہیں کھول کر دکھلا دے ۔ وہ اور اس کے چیلے تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ سکتے ۔&#8221; (الاعراف۔٢٧)</p>
<p>شیطان ، اسکے چیلے اور اسی کی راہ چلنے والے دوسروں کو دونوں شرمگاھوں کو ننگا کر دینے کا حکم ترغیب دیتے رہتے ہیں ۔ جسم کے ستر کو ننگا ھونے ، کپڑے اتار پھینکنے اور بدن کو کھول دینے کے ذریعے عریاں کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور نفس کے ستر کو برے اخلاق و افعال کے ارتکاب سے کھلوا دیتے ہیں ۔</p>
<p>جمال رخ نہیں جمال عمل :</p>
<p>مسلمانو ! یہ ھے حسن و جمال اور یہ ھے زیبائی و رعنائی اور یہ ھے فن و فنکاری کا ظاہر و باطن اور اسکا حسن اور قبح و مذمت ۔ اے صاحب بصیرت مسلمان ان دونوں جمالوں اور رعنائیوں میں سے جو زیادہ حسن و خوبی والا ھے اسے اختیار کر لیں اور ان دونوں صورتوں میں سے جو سب سے زیادہ اچھی ھے اسے اپنا لیں ۔ اور شیطان اور اسکے چیلے آپ کو بہکا نہ دیں ۔ چہرے کا حسن کسی کو بلندی تک نہیں پہنچاتا اگر ان لوگوں کے اخلاق میں حسن و خوبی نہ ھو ۔ اور انسان کی عزت و شرف اسکی تربیت میں ھوتا ھے نہ کے شکل و صورت میں ۔ اگر آپ نے خوبصورت کپڑے پہن لیے اور عمدہ لباس سے مزین ھو گۓ تو یہ آپ کا جائز شرعی حق ھے لیکن اسکے ساتھ ہی اپنے آپ کو حسن اخلاق اور اعلی و عمدہ اعمال کی زینت و زیبائی میں بھی کوئی کمی کوتاہی نہ کریں ۔ یہ بڑے ہی احمق لوگ ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے خوش شکل ھوتے ہیں وہ اپنے ظاہری حسن و جمال کو بناۓ رکھنے کے لیے بھی بڑا کچھ کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے الفاظ و گفتگو میں قبیح اور انداز و کردار میں بدترین لوگ ھوتے ہیں ۔ بدذوقی انکا شیوہ بدزبانی انکی عادت اور سخت گيری انکا شعار ھوتی ھے یہ رنگ سراسر حماقت ھے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; پوچھیں تو ان سے ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم !) کہ جو زینت (و آرائش ) اور کھانے (پینے ) کی پاکیزہ چيزيں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں انہیں حرام کس  نے کیا ھے ؟ کہدیں کہ یہ چيزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن (بھی) خاص انہی کا حصہ ھوں گی ۔ ہم اسی طرح اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ کہہ دیں کہ میرے رب نے تو بےحیائی کی باتوں کو وہ ظاہر ھوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ھے اور اسکو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ جسکی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ اور اسکو بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں ۔&#8221; ( الاعراف ۔٣٢ ۔ ٣٣ )</p>
<p>عبرت انگيز موازنہ :</p>
<p>اللہ آپ کو توفیق خير سے نوازے ! اس مقارنہ و موازنہ کو بھی (پڑھ ) سن لیں جو کہ علامہ امام ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ عليہ نے ذکر کیا ھے اور انتہائی فکر و نظر کے لائق اور باعث تفکروتدبر ھے  چنانچہ انہوں نے لکھا ھے :</p>
<p>&#8221; خیر و بھلائی اور آخرت میں حسن انجام کا طلبگار فرشتوں کے مشابہ ھوتا ھے اور شر و برائی کرنے والا شیطانوں سے مشابہت رکھتا ھے ۔ شکار مارنے اور غلبہ و تسلط پانے کا خواہاں درندوں سے ملتا جلتا ھے اور لذتوں کے پیجھے دیوانہ وار پھرنے والا جانوروں کی مانند ھوتا ھے ۔ وہ شخص جو کسی مفاد و مصلحت کے بغیر ہی مال جمع کرنے کے پیچھے لگا رہتا ھے اس میں حیوانوں کی شباہت پاۓ جانے سے بھی نچلا درجہ پایا جاتا ھے بلکہ اسکے مال کا تو وہی حال ھے جو کہ لق و دق غاروں میں پاۓ جانے والے پانی کا ھوتا ھے جس سے کوئی حیوان بھی استفادہ نہیں کر سکتا ۔&#8221;</p>
<p>آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :</p>
<p> عقلمند وہ ھے جسکا تعلق کسی ایسے وصف سے نہ ھو کہ اس میں اس سے فوقیت صرف کسی درندے ، حیوان یا جمادات کو ہی حاصل ھو ۔ جو اپنی شجاعت و بہادری پر بڑا نازاں ھے اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ بھیڑیا اور چیتا اس سے بھی زیادہ بہادر ھوتے ہیں ۔ جسے اپی قوت پر گمنڈ ھو اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ اونٹ اس سے بھی زیادہ قوی ھوتا ھے ۔ جسے بوجھ زیادہ اٹھانے کا زعم ھو اسے اس بات کا پتہ رہنا چاہیۓ کہ ہاتھ اس سے بھی زیادہ بوجھ اٹھاتا ھے ۔ جسے یہ بات اچھی لگ رہی ھو کہ وہ بڑا تیز دوڑتا ھے ۔ اسے یہ بات نہیں بھولی چاہیۓ کہ اس گھوڑا زیادہ ھوڑتا ھے ۔ جسے اپنی خوش آوازی پر بڑا فخر ھو اسے یہ نہیں بھلانا چاہیۓ کہ بکثرت پرندوں اور بانسریوں کی لکڑیوں کی آوازیں زیادہ طرب آگيں اور لذت آمیز ھوتی ہیں ۔ جو باتیں ان حیوانات و جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں وہی اگر کسی شخص میں پائی جائيں تو اس میں فخر و سرور والی کونسی بات ھے ۔ البتہ اگر کسی میں شعور و تمیز قوی ھو ، اسکا علم وسیع ھو اور عمل اچھا ھو تو اسے اپنے آپ پر رشک کرنا اور خوش ھونا چاہیے ۔ اس سے آگے صرف وہی شخص ھو سکتا ھے جو اس سے بھی زیادہ ہمت والا اور اس سے بھی اکثر عمل والا ھو اور نیک و صالح شخص ھو ۔</p>
<p>اللہ والو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو ، آپ کے رب نے آپ کو بنایا ھے اور روۓ زمین پر پائی جانے والی تمام اشیاء کو اس زمین کی زینت و جمال بنایا تاکہ وہ آپ سب کو آزما کر دیکھے کہ آپ میں سے زیادہ اچھا عمل کون کرتا ھے ۔</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ١٦١ تا ١٧٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a6%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a7%d9%a0/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a6%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a7%d9%a0/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Feb 2007 11:16:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a6%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a7%d9%a0/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اور جب انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی میں جا کر رہو اور وہاں جہاں سے تم چاہو کھاؤ اور زباں سے یہ کہتے جاؤ توبہ ہے اور دروازہ میں جھک کر داخل ہو ہم تمہاری غلطیاں معاف کر دیں گے اور نیکو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</p>
<p>اور جب انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی میں جا کر رہو اور وہاں جہاں سے تم چاہو کھاؤ اور زباں سے یہ کہتے جاؤ توبہ ہے اور دروازہ میں جھک کر داخل ہو ہم تمہاری غلطیاں معاف کر دیں گے اور نیکو کاروں کو اور زیادہ اجر دیں گے ۔١٦١</p>
<p> سو ان میں سے ظالموں نے دوسرا لفظ اس کے سوا بدل دیا جو ان سے کہا گیا تھا پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ وہ ظلم کرتے تھے ۔١٦٢</p>
<p>اور ان سے اس بستی کا حال پوچھ جو دریا کے کنارے پر تھی جب ہفتہ کے معاملہ میں حد سے بڑھنے لگے جب ان کے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر آنے لگیں اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں ہم نے انہیں اس طرح آزمایا اس لیے کہ وہ نافرمان تھے ۔١٦٣</p>
<p> اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے انہیں سخت عذاب دینے والا ہے انہوں نے کہا تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور شاید کہ یہ ڈر جائیں ۔١٦٤</p>
<p> پھر جب وہ بھول گئے اس چیز کو جو انہیں سمجھائی گئی تھی توہم نے انہیں نجات دی جو برے کام سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کے باعث برے عذاب میں پکڑا ۔١٦٥</p>
<p> پھر جب وہ اس کام میں حد سے آگے بڑھ گئے جس سے روکے گئے تھے تو ہم نے حکم دیا کہ ذلیل ہونے والے بندر ہو جاؤ ۔١٦٦</p>
<p> اور یاد کر  جب تیرے رب نے خبر دی تھی کہ یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو ضرور بھیجتا رہے گا جو انہیں براعذاب دیتا رہے بے شک تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور تحقیق وہ بحشنے والا مہربان ہے ۔١٦٧</p>
<p> اورہم نے انہیں  ملک میں مختلف جماعتوں میں متفرق کر دیا بعضے ان میں سے نیک ہیں اور بعضے اور طرح کے اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایاتاکہ وہ لوٹ آئيں ۔١٦٨</p>
<p> پھر ان کے بعد ان کے ایسے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے اس ادنیٰ زندگی کا مال و متاع لےلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر ایسا ہی مال ان کے سامنے پھر آئے تو اسے لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لے لیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا سچ کے اور کچھ نہ کہیں اور انہوں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے پڑھا ہے اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں ۔١٦٩</p>
<p> اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں بے شک ہم نیکی کرنے والوں کا ثواب ضائع نہیں کریں گے ۔١٧٠</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a6%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a7%d9%a0/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ١٥١ تا ١٦٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/15/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a5%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a6%d9%a0/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/15/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a5%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a6%d9%a0/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 15 Feb 2007 15:07:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/15/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a5%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a6%d9%a0/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر اور تو سب سے زيادہ رحم کرنے والا ہے ۔١٥١
بے شک جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا انہیں ان کے رب کی طرف سے غضب اور دنیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</p>
<p>کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر اور تو سب سے زيادہ رحم کرنے والا ہے ۔١٥١</p>
<p>بے شک جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا انہیں ان کے رب کی طرف سے غضب اور دنیا کی زندگی میں ذلت پہنچے گی او رہم بہتان باندھنے والوں کو یہی سزا دیتے ہیں ۔١٥٢</p>
<p> اور جنہوں نے برے کام کیے پھراس کے بعد توبہ کی اور ایمان لے آئے تو بے شک  تیرا رب توبہ کے بعد البتہ بخشنے والا مہربان ہے ۔١٥٣</p>
<p> اور جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے تختیوں کو اٹھایا اور جو ان میں لکھا ہو ا تھا اس میں ان کے واسطے ہدایت اور رحمت تھی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔١٥٤</p>
<p> اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے  وعدہ گاہ پر لانے کے لیے چن لیے پھر جب انہیں زلزلہ نے پکڑ ا  تو کہا اے میرے رب اگر تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں ہلاک کر دیتا کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو ہماری قوموں کے بیوقوفوں  نے کیا یہ سب تیری آزمائش ہے جسے تو چاہے اس سے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھا رکھے تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے ۔١٥٥</p>
<p> او رہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ ہم نے  تیری طرف رجوع کیا فرمایا میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں کرتا ہوں اور میری رحمت سب چیزوں سے وسیع ہے پس وہ رحمت ان کے لیے لکھوں گا جو ڈرتے ہیں اور جو زکواہ دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔١٥٦</p>
<p> وہ لوگ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں اور جو نبی امی ہے جسے اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے اوران کے لیے سب پاک چیزیں حلا ل کرتا ہے  اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اسے مدد دی اور اس کے نور کے تابع ہو ئے  جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے یہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔١٥٧</p>
<p>کہہ دو اے لوگو تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے  پس اللہ پر ایمان لاؤ اوراس کے رسول  نبی امی پر جو کہ اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ ۔١٥٨</p>
<p> اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو حق کی راہ بتاتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ۔١٥٩</p>
<p> اور ہم نے انہیں جدا جدا کر دیا بارہ دادوں کی اولاد جو بڑی بڑی جماعتیں تھیں اور موسیٰ کو ہم نے حکم بھیجا جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر قبیلہ نے اپنے گھاٹ پہچان لیا اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا اور ہم نے من و سلویٰ اتارا ہم نے جو ستھری چیزیں تمہیں دی ہیں وہ کھاؤ  اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے ١٦٠</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/15/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a5%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a6%d9%a0/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>سورہ الاعرَاف ۔ ١٤١ تا ١٥٠</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a4%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a5%d9%a0/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a4%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a5%d9%a0/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 07 Feb 2007 12:27:10 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a4%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a5%d9%a0/</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
 اور یا د کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو مار ڈال دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا احسان تھا ۔١٤١
اور موسیٰ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے</p>
<p> اور یا د کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو مار ڈال دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا احسان تھا ۔١٤١</p>
<p>اور موسیٰ سے ہم نے تیس رات کا وعدہ کیا اور انہیں اور دس سے پورا کیا  پھر تیرے رب کی مدت چالیس راتیں پوری ہو گئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میرا جانشین رہ اور اصلاح کرتے رہو اور  مفسدوں کی راہ پر مت چل ۔١٤٢</p>
<p> اور جب موسیٰ ہمارے  مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا کہ تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا لیکن تو پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کی کہ تیری ذات پاک ہے میں تیری جانب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا یقین لانے والا ہوں ۔١٤٣</p>
<p> فرمایا اے موسیٰ میں نے پیغمبری اور ہم کلامی سے دوسرے لوگوں پر تجھے امتیاز دیا ہے جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا ہے اسے لے لو اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ ۔١٤٤</p>
<p> اور ہم نے اسے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی سو انہیں مضبوطی سے پکڑ لے او ر اپنی قوم کو حکم کر کہ اس کی بہتر باتوں پر عمل کریں عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا ٹھکانہ دکھاؤں گا ۔١٤٥</p>
<p> پھر میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں نا حق تکبر  کرتے ہیں اور اگر وہ ساری نشانیاں بھی دیکھ لیں تو بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا راہ نہیں بنائیں گے یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اور ان سے بے خبر رہے ۔١٤٦</p>
<p> اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان  کے اعمال ضائع ہو گئے انہیں وہی سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ۔١٤٧</p>
<p>اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے بچھڑا بنا لیا ایک جسم تھا جس میں گائے کی آواز تھی کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں راہ بتاتا ہے اسے معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے ۔١٤٨</p>
<p> اور جب نادم ہوئے اور معلوم کیا کہ بیشک وہ گمراہ ہوگئے تھےتو کہنے لگے اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو بے شک ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوں گے ۔١٤٩</p>
<p> اور جب موسیٰ اپنی قو م کےی طرف غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے واپس آئے تو فرمایا تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کر لی اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ ا اسے اپنی طرف کھینچنے لگا اس نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھے مار ڈالیں سو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے گناہگار لوگو ں میں نہ ملا ۔١٥٠</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d8%b3%d9%88%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b9%d8%b1%d9%8e%d8%a7%d9%81-%db%94-%d9%a1%d9%a4%d9%a1-%d8%aa%d8%a7-%d9%a1%d9%a5%d9%a0/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>فلسفۂ عطاء و انکار اور زینت دنیا</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 07 Feb 2007 12:17:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>

		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>

		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ
حمد و ٹناء کے بعد
اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی  ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا ہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ٹناء کے بعد</p>
<p>اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی  ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا ہے ۔</p>
<p>[ آپ کو یہ دنیا کی زندگی کہیں فریفتہ نہ کر دے اور نہ ہی فریب دینے والا ( شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح فریب دے ] ۔ ( فاطر ۔٥ و لقمان ۔٣٣)</p>
<p>انسان کی بلاوجہ پریشانی :</p>
<p>مسلمانو! اپنی من پسند کی چیزوں کو پا لینے ۔ امیدوں تک پہنچ جانے اور مرغوب چیزوں کو حاصل کر لینے کی کوششوں کے دوران بندوں کا ایک گروہ تو بھول جاتا ہے یا پھر عمدا بھلا دیتا ہے کہ ان کی ان کوششوں کا انجام ھمیشہ ان کی خواہش و امید کے مطابق ہی رونما نہیں ھو گا ، لھذا جب کبھی انھیں انکی بعض محبوب چیزوں سے محرومی ھوتی ہے اور ان کے اور انکی من چاہی اشیاء کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ھو جاۓ تو تمام تر وسعتوں کے باوجود یہ زمین اس پر تنگ ھو جاتی ہے حتی کہ خود وہ اپنے آپ سے تنگ آیا ھوا ھوتا ہے اور اس کی عقل اس کا ساتھ نہیں دے رہی ھوتی حتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کے انکار پر اتر آتا ہے اور اس کے سابقہ تمام احسانات کو بھلا بیٹھتا ہے اوردن رات غمزدہ و پریشان رہنے لگتا ہے ، اس کا دل شدید قلق و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے نہ اسے جینے میں کوئی مزہ آتا ہے اور نہ اپنی حالت میں اسے کوئی سکون نصیب ھوتا ہے ۔</p>
<p>فلسفۂ عطاء و انکار :</p>
<p>برادران گرامی ! اس کا سبب در اصل صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عطاؤں کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی وہ اللہ کے کوئی نعمت دینے کے انکار کے فلسفے کی معرفت حاصل کر سکا ہے ۔ اور وہ یہ تصور کر بیٹھا ہے کہ عطاء اور انکار دو ضدیں ہیں جو کہ یکجا نہیں ھو سکتیں یا پھر وہ ندی کے  دو کناروں کی طرح انھیں ایسی چيزیں سمجھ بیٹھا ہے کہ جو کبھی باھم مل نہیں سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعص سلف صالحین امت نے بیان حق اور صحیح و صواب کی طرف ھدایت و راہنمائی کے لۓ بڑے مضبوط موقف اختیار کۓ ہیں ۔ چنانچہ امام سفیان ثوری نے بعض سلف امت کا یہ قول نقل کیا ہے :</p>
<p>&#8221; اللہ کا بندے کو اس کی بعض محبوب چیزوں سے منع و محروم کر دینا بھی در اصل اس کی ایک عطاء و نوازش ہی ہے کیونکہ اللہ نے اس سے وہ چیز کسی بخل کی وجہ سے نہیں روکی بلکہ اس پر لطف و کرم کرتے ھوۓ روکی ہے &#8221; ۔<br />
<span id="more-355"></span><br />
اس سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کہ اللہ کی عطاؤں اور نواشوں کا ھمیشہ ایک ہی سا انداز و رنگ نہیں ھوتا بلکہ اس کی عطاؤں کا رنگ کبھی یہ ھوتاہے کہ وہ بندے کو اسکی محبوب و مرغوب چیزیں دے دیتا ہے جن کی طلب میں وہ بھاگتا پھرتا ہے اور کبھی اس کی عطا کا انداز یہ بھی ھوتا ہے کہ وہ اس کی محبوب و مرغوب اشیاء کو اس سے روک دیتا ہے اور اسے منع کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اتنا صاحب جود و کرم ہے کہ جس کے کرم کی کوئی انتہاء نہیں اور نہ ہی اس کے احسان کی کوئی حد ہے اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس کے سامنے یہ ساری دنیا بھر مچھر کے ایک پر کے برابر بھی حثییت نہیں رکھتی ۔ جیسا کہ جامع ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[  اگر اللہ کے نزدیک اس دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ھوتی تو اللہ کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ] ( جامع ترمذی )</p>
<p>اللہ اگر کسی دنیوی چیز سے کسی بندے کو محروم کرتا ہے تو اس میں اس کی ایک انتہائی  گہری حکمت اور باریک فلسفہ کار فرما ھوتا ہے اور اس عظیم و قدیر کی قدرت و اندازے پنہاں ھوتے  ہیں  اس کے ساتھ ساتھ اس منع و انکار یا محرومی میں بندے کے لۓ بہت ساری مصلحتیں اور مفادات پوشیدہ ھوتے ہیں جو اکثر لوگوں کی نظروں سے مخفی ھوتے ہیں ۔  اس بات کا پتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد سے  چلتا ہے جو کہ جامع ترمذی اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ اللہ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو اسے اس دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ] ( ترمذی و ابن حبان )</p>
<p>اور مستدرک امام حاکم میں ایک روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[اللہ تعالی اپنے مومن بندے کو پیار کرتا ہے اور اسے ( اس دنیا سے ) ایسے بچاتا ہے جس طرح اپنے کسی بیمار کے فائدے کی خاطر تم میں سے کوئی شخص اسے کھانے پینے سے بچاتا ہے ] ۔</p>
<p>فسلفۂ تحریم اشیاء :</p>
<p>اسی طرح امام ابن رجب رحمۃ اللہ عليہ کے بقول یہ بات بھی اسی کی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر شہوت دنیا ، اسکی زینتوں اور رونقوں میں سے بعض چیزیں حرام کر دی ہیں کیونکہ انھیں ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی اور ان چیزوں کو اللہ نے ان کے لۓ آخرت میں ذخیرہ کر دیا اور اسی بات  کی  طرف اس ارشاد  باری  تعالی میں  ارشارہ پایا جاتا ہے جس میں اس نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ اور اگر یہ خیال نہ ھوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت  ھو جائيں گے تو جو لوگ اللہ کا انکار کرتے ہیں ھم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی کہ جن پر وہ چڑھتے ہیں ۔ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ  لگاتے ہیں ۔اور خوب تجمل و آرائش کر دیتے اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمھارے رب کے یہاں صرف پرہیز گاروں کے لۓ ہے ] ( الزخرف ٣٢، ٣٥)</p>
<p>ادھرایک صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جس نے اس دنیا میں ریشمی لباس زیب  تن کیا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ] ۔ ( بخاری و مسلم )</p>
<p>اور صحیح بخاری و مسلم میں ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[ ریشم اور دیباج ( موٹا ریشمی کپڑا ، استبرق ) نہ پہنو ، نہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاؤ اور نہ ہی پیو ، یہ کفار کے لۓ اس دنیا میں ہیں اور تمھارے لۓ آخرت کی زندگی میں ہیں ] ( بخاری و مسلم )</p>
<p>اور صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جس نے اس دنیا میں شراب پی ، اسے آخرت میں شراب ( طہور ) پینے کو نہیں ملے گی ] ( بخاری و مسلم )</p>
<p>جبکہ آخرت کی وہ شراب طہور تو پینے والوں کے لۓ ایک  پاکیزہ و لذت دار چیز ھو گی ۔<br />
[ جس سے نہ تو ان کے سر درد بوجھل ھونگے اور نہ ہی ان کی عقلیں زائل ھونگی ] ( الواقعہ ۔١٩)</p>
<p>یہ آخرت کی شراب ھو گی کہاں وہ پاکیزہ شراب اور کہاں یہ دنیا والی شراب جو ایک نجس و پلید ، شیطانی فعل ہے اور وہ اس سے مومن لوگوں کے مابین عداوت و دشمنی اور رنجشیں پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے انھیں ذکر الہی اور نمازوں سے روکتا ہے ۔ یہ ساری قباحتیں اسی دنیوی شراب میں پائی جاتی ہیں ۔</p>
<p>زینت دنیا : کتاب الزھد امام احمد میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  انھوں نے فرمایا :</p>
<p>[ اگر مجھے نیکیوں کے کم ھو جانے کا ڈر  نہ ھوتا تو میں بھی تمھارے  ساتھ  عیش و آرام کی زندگی میں شریک ھو جاتا لیکن میں نے  ارشاد خداوندی  سنا ہے کہ اس نے ایک قوم کو عار دلاتے ھوۓ فرمایا ہے</p>
<p>[ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کر چکے اور ان سے متمتع و مستفید ھو چکے ھو آج تمھارے لۓ ذلت و رسوائی کا عذاب ہے ۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور اور فسق و فجور کیا کرتے تھے ] ۔ ( الاحقاف ۔٢٠ )</p>
<p>امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ عليہ نے  بعض سلف صالحین امت کا جو قول نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے جو فلسلفۂ عطاء و انکار بیان کیا ہے اس کی صحت و سچائی پر ھماری آج کی موجودہ حالت میں واضح دلائل اور روشن براھین موجود ہیں ۔ کتنے ہی ایسے لوگ کئی امیدیں لگاۓ بیٹھے ہیں کہ اگر ان کی وہ سب امیدیں برآئیں تو ان کا نتیجہ سواۓ نقصان کے کچھ نہ ھو ۔  اور ان کی کوششوں کے بدلے میں انھیں حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگے ۔ اور کتنے ہی ایسے لوگ وہ ہیں جو اگر اپنے ارادوں میں کامیاب ھو جائیں تو انکی وہ ظاھری کامیابی ان کی شکست و ناکامی کا سبب بن جاۓ اور وہ اس کی تلخی کے گھونٹ بھرتے رہ جائيں ۔</p>
<p>پسندیدہ و ناپسندیدہ :</p>
<p>اسی لۓ اللہ تعالی نے لوگوں کی نظریں اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہیں کہ بندہ دنیا کی بعض چیزوں کو دل و جان سے چاہتا ہے مگر وہ اس کے لۓ وبال جان ھوتی ہیں اور بعض چیزوں کو وہ دل سے ناپسند کرتا ہے مگر وہ اس کے لۓ بہت ہی بہتر اور اھم ھوتی ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ ( مسلمانو ! ) تم پر ( اللہ کی راہ میں ) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمھیں ناگوار تو ھو گا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بری لگے مگر وہ تمھارے حق میں بھلی ھو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بھلی لگے اور وہ تمھارے لۓ مضر ھو ، اور ( ان باتوں کو ) اللہ تعالی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ] ۔ ( البقرہ ۔٢١٦)</p>
<p>ایک امتحان :</p>
<p>اللہ تعالی نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو مالدار لوگوں کے پاس پائي جانے والی دنیا کی زیب و زینت کی حقیقت کو بطور مثال بیان فرمایا ہے :</p>
<p>[بیشک فخر و ستائش اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب و خواہش ہے ( اس کی مثال ایسی ہے ) جیسے بارش کہ ( اس سے کھیتی اگتی ہے اور ) کسانوں کو بھلی لگتی ہے ، پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر ( اسے دیکھنے والے ! ) تو اسے دیکھتا ہی کہ وہ ( پک کر ) زرد ھو  جاتی ہے ، پھر چورا چورا ھو جاتی ہے ۔ اور آخرت میں ( کافروں کے لۓ ) عذاب شدید اور ( مومنوں کے لۓ ) اللہ کی طرف سے بخشش و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے ] ۔ ( الحدید ۔٢٠)</p>
<p>مذمت دنیا سے مراد ؟</p>
<p>اللہ والو ! اھل علم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کتاب و سنت میں جو دنیا کی مذمت وارد ھوئی ہے ، اس سے مراد اس دنیا کا زمانہ و وقت نہیں جو کہ شب و روز کی شکل میں قیامت تک یکے بعد دیگرے مسلسل آتے  جاتے رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے پیچھے اس لۓ لگا رکھا ہے کہ لوگ انھیں دیکھ کر نصیحت حاصل کریں اور پھر اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا :</p>
<p>[ یہ شب و روز دو خزانے ( سیف ) ہیں ، اب دیکھو کہ تم ان میں کیا جمع کرتے ھو ]</p>
<p>اسی طرح دنیا کی مذمت سے اس کی جگہ کی مذمت بھی مقصود نہیں جو کہ یہ زمین ہے جسے اللہ نے بنی آدم کے لۓ گہوارہ و رہائش بنایا ہے ۔</p>
<p>ایسے ہی اس زمین میں اللہ تعالی نے جو چیزیں ودیعت کی ہیں وہ بھی اس مذمت سے مراد نہیں ہیں جیسے پہاڑ ، سمندر ، دریا  نہریں اور معدنیات ( سونا و چاندی وغیرہ ) ہیں ۔</p>
<p>وہ چیزیں بھی اس مذمت میں نہیں آتیں جو اللہ نے اس زمین سے  اگائی  ہیں  جیسے فصلیں ہیں اور درخت ہیں ۔</p>
<p>نہ ہی وہ چیزیں بھی اس مذمت کے تحت آتی ہیں جو اللہ نے اس زمین میں پھیلائی ہیں جیسے حیوانات وغیرہ ہیں۔</p>
<p>یہ سب چیزیں تو بندوں پر  اللہ کی نعمتیں ہیں اور ان  میں اس نے ان کے لۓ بڑے فوائد و منافع رکھے ھوۓ ہیں اور ان کی تو اس کائنات کے خالق و مالک کے وجود  و وحدانیت اور اس کی قدرت و عظمت کے   دلائل و براھین ھونے کے اعتبار سے ایک بہت بڑی حیثیت ہے ۔</p>
<p>مذمت دنیا سے مراد دنیا میں بنی آدم کے افعال قبیحہ کی مذمت ہے کیونکہ ان کے اکثر افعال ایسے واقع ھوتے ہیں کہ جن کے انجام قابل تعریف نہیں ھوتے اور نہ ہی ان سے کوئی مفادات واقع ھوتے ہیں ۔</p>
<p>اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعے دار آخرت طلب کرو اور دنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو ۔</p>
<p>و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
	</channel>
</rss>
