اصلاح
Tuesday, October 18th, 2005حال کی اصلاح کے لئے خیال کی اصلاح ضروری ہے اور اگر ہم حال کی اصلاح ہی نہ کر سکے تو پھر مستقبل کا سوچنا بے معنی ٹھرتا ہے پردیسی
حال کی اصلاح کے لئے خیال کی اصلاح ضروری ہے اور اگر ہم حال کی اصلاح ہی نہ کر سکے تو پھر مستقبل کا سوچنا بے معنی ٹھرتا ہے پردیسی
کبھی چاند کی روشنی کو دیکھا کیسا اجالا بکھیرتی ہے تب اندھیر ی رات بھی حسین دکھائی دیتی ہے اور روشنی تبھی دکھائی دیتی ہے جب اسےدیکھنےکی تمنا دل میں ہو پردیسی
سوچتا ہوں خواب دیکھنا اور پھر اس میں گم رہنا کیا یہی زند گی کا حاصل ہے سوچتا ہوں خواب تو ختم ہونےوالی چیز ہے تو پھر گم کیوں رہوں میں ان میں کیوں نہ لوٹوں میں اپنےاصل کی طرف پردیسی
سب جانتےہیں سب باتوں کو باتیں جو سچی ہیں دل پر اثر بھی کرتی ہیں لرزتےہیں جب دل ان سے عمل تب ہی کرتےہیں جاتےہیں جب شہر خموشاں بس اک لمحےکو بدلتےہیں مگر غور کون کر ےان پر سوچوں پر تو پہرےہیں پردیسی
صحرا ئوں میں بھی کبھی شادابی ہوئی ہی دریا میں بھی کبھی آگ لگی ہی اندھیروں نےبھی کبھی کسی کا ساتھ دیا ہی سکون کےمتلاشی لوگ سچائی کو ڈھونڈتےہیں سچائی کہاں ہی سچی محبت میں نا تو پھر محبت کیوں نہیں کرتےہم اس سے جس نےمحبت کو پیدا کیا پردیسی
کبھی سوچا خوبصورتی کیا ہے ذرا سوچنا یہی کہ جس نے سب کچھ بنایا وہ کیسا ہے پردیسی
اپنا پن اخلاص سے پیدا ہوتا ہے اور اخلاص نیت سے مشروط ہے اور جب نیت اچھی ہو گی تو اپنا پن پیدا ہو گا پردیسی