<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Pardese's blog &#187; دعوت و تبلیغ</title>
	<atom:link href="http://pardese.urduhome.net/category/%d8%af%d8%b9%d9%88%d8%aa-%d9%88-%d8%aa%d8%a8%d9%84%db%8c%d8%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://pardese.urduhome.net</link>
	<description>Read Quraan in Urdu</description>
	<lastBuildDate>Fri, 18 Jan 2008 20:09:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>رعنائی یا حسن و زیبائی اور فن</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Feb 2007 11:30:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ / صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ حمد و ثناء کے بعد لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔ فریب دنیا اور کامیابی : تعجب ھے اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  /  صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد<br />
لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔</p>
<p>فریب دنیا اور کامیابی :</p>
<p>تعجب ھے اس شخص پر جو اس دنیا اور اسکے انقلابات کو دیکھ سمجھ لے اور پھر بھی اس سے فریب کھا جاۓ ۔ کیا وہ خي و شر اور نافع و خسارہ میں فرق نہیں کر سکتا ؟ لوگوں کے دل انہیں گھمانے والی ذات باری تعالی کی طرف رجوع کیوں  نہیں کرتے اور وقت کو نیک اعمال میں صرف کرنے کو غنیمت کیوں نہیں سمجھتے اور دلوں کی بیماریوں سے صحت و عافیت کیوں نہیں پاتے اور امانت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے ۔ اپنی ہمتوں کو خیر و بھلائی کے کاموں کی طرف حرکت دیں اور اپنے عزائم کو جدوجہد پر آمادہ کریں اور فقراء و ناداروں اور مساکین و محتاجوں کی ضروریات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں کیونکہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; تم اس وقت تک نیکی و ثواب ہر گز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی محبوب و پسندیدہ چيز سےخرچ نہ کرو گے ۔&#8221; (آل عمران ۔٩٢ )</p>
<p>دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ھے :</p>
<p>&#8221; جو اپنے نفس کے بخل سے بچ گۓ وہی فلاح و کامیابی پانے والے ہیں ۔&#8221; ( الحشر ۔٩ )</p>
<p>اسلام = دین فطرت و بشریت :</p>
<p>مسلمانو ! اسلام دین فطرت ھے ۔ اس سے ہر زمانے میں اصلاح اور ہر جگہ تعمیر ممکن ھے ۔ یہ دین عقیدہ و شریعت ، دین تہذیب و تربیت ، دین سلوک و کردار ، دین حق و جمال اور دین وراثت و معاصرت ہے ۔ یہ زندگی کے تمام معاملات کو سلجھاتا ہے ۔ یہ کسی بھی زمانے میں توقف نہیں کرتا بلکہ اس میں جدت پیدا ھوتی رہتی ہے تاکہ یہ ہر زمانے کے حالات کو سدھار ے اور ہر معاملہ میں فتوی و فیصلہ دے ۔ یہی وجہ ہے اسلام ایسا دین نہیں کہ وہ بشری نفوس کی خواہشات و جذبات سے چشم پوشی کر ے  یا اس کی جبلت و فطرت کے مختلف حالات مثلا اہتمام و اقبال ، ادبار و فرار ، جد و جہد ، سستی و کاہلی ، کد و کاوش کے لۓ نشاط و تازگی ، پژمردگی ، انشراح صدر اور تنگدلی کو مدنظر نہ رکھے ۔<br />
<span id="more-289"></span><br />
نیت صحیح ۔ ۔ ۔ تو ہر کام عبادت :</p>
<p>اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اور ان کے خصائص و طبیعتیں بنائيں اور زندگی و کائنات میں جو چاہا بنا کر پھیلا دیا اور اس کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لۓ مسخر و زیردست کر دیا ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کو معلوم ہے کہ یہ بشر ہیں ان کے دلوں میں کچھ شوق ہیں ، ان کے نفوس کے کچھ حظوظ و مطالبات ہیں اور ان کی انسانی طبیعتیں ہیں ۔ لھذا اسلامی احکام و اوامر ایسے نہیں کہ وہ ان کے سارے کلام کو ہی ذکر الہی بنا دینے ، ان کی تمام تر خاموش گھڑیوں کو فکر و تدبر کر دینے ، اس کی سوچ بچار کو عبرت بنا دینے اور ان کی تمام تر فراغت و فرصت کو عبادت بنا دینے کا مطالبہ کرتے ھوں لیکن اللہ نے انہیں اس بات کی قدرت بخشی ہے کہ اگر وہ قرب الہی کی نیت اور خلوص دل سے یہ کام سر انجام دیں اور کام بھی صحیح ھوں تو ان کے وہ تمام اعمال ہی ذکر الہی ، فکر و تدبر ، عبادت اور عبرت بن جائيں ۔</p>
<p>مطالبات فطرت اور اسلامی آداب :</p>
<p>دین اسلام نے ان تمام اشیاء کو برقرار رکھا ہے جنھیں فطرت انسانی چاہتی اور جن کا مطالبہ کرتی ہے مثلا سرور و فرحت ، کھیل کود ، ہنسی مذاق اور شوق و جمال وغیرہ لیکن ان تمام چیزوں کو ان بلند اسلامی آداب کی باڑ کا پابند کر دیا ہے کہ اگر ان آداب کا خیال رکھا جاۓ تو ان مطالبات سے کمام درجہ استفادہ اور غایت درجہ تفریح طبع کی جا سکتی ہے جبکہ ان آداب کی بدولت ہی بدگوئی و حرام کاری ، ظلم و زیادتی ، بغض و نفرت اور مبادیات و اخلاق کی تباہی سے دور رہ کر بھی مذکورہ فطری امور سے لطف اندوز ھوا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>جمال فطرت سے استفادہ و لطف اندوزی :</p>
<p>اللہ نے ھمارے  لۓ کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں اور ھمیں کن کن عطاؤں سے نواز رکھا ، ھمارے لۓ کیا کیا کچھ مسخر و زیردست کر رکھا ہے اور ھمارے لۓ اپنے نفوس میں ، اپنی زمین میں اور اپنے آسمان میں کیا کیا قوانین و شرائع مقرر فرماۓ ہیں اور ھمارے گرد و پیش کی ہر چيز ہی ھماری دسترس میں کر دی ہے اور اللہ نے فائدہ مند چیزوں ارو مناظر قدرت سے استفادہ کرنے اور لطف اندوز ھونے کے دونوں پہلوؤں کو جمع کرتے ھوۓ ھمیں ان کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لیں ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور چارپایوں کو بھی اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ، ان میں تمھارے لۓ ( سردیوں میں ) گرمی کا سامان ( اون ) اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ھو اور جب شام کو انہیں ( جنگل سے ) لاتے ھو اور جب صبح کو ( جنگل کی طرف چرانے ) لے جاتے ھو تو ان سے تمھاری عزت و شان  ( جمال ) ہے اور ( دور دراز ) شہروں میں جہاں تم زحمت و مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے وہ تمھارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں بیشک تمھارا رب نہایت شفقت والا  مہربان ہے اور اسی نے گھوڑے ، خچر اور گدھے پیدا کۓ تاکہ تم ان پر سوار ھو اور ( وہ تمھارے لۓ ) زینت و رونق ( بھی ہیں ) اور وہ ( دیگر چیزوں بھی ) پیدا کرتا ہے جن کی تمھیں خبر نہیں ہے &#8220;۔ ( النحل ۔٥ ۔ ٧ ) ۔</p>
<p>دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ( کس نے ) تمھارے لۓ آسمان سے پانی برسایا ۔(ھم نے )<br />
پھر ھم ہی نے اس سے سرسبز و خوبصورت باغ اگاۓ &#8220;۔   ( النمل ۔٦٠ )</p>
<p>  ایک تیسرے مقام پر فرمایا :</p>
<p>اور ھم ہی نے آسمان میں برج بناۓ اور دیکھنے والوں کے لۓ اسے سجا دیا &#8220;۔ ( الحجر ۔١٦) ۔</p>
<p>بلکہ ھمیں حکم دیا گیا کہ ھم ہر جمال مناظر قدرت اور پکے ھوۓ پھلوں کو دیکھیں اور فکر و تامل اور غور و تدبر کریں ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ ھم نے اسے کس طرح بنایا اور اسے کیسے مزین کیا اور اس میں کہیں شگاف نہیں &#8220;۔ ( ق ۔٦ ) ۔</p>
<p>ایک جگہ اللہ تعالی نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; ( ان چیزوں کے پھل لانے کے وقت ) ان کے پھلوں پر اور ( پکتے وقت ) ان کے پکنے پر نظر ڈالو &#8220;۔ ( الانعام ۔٩٩) ۔</p>
<p>دوسرے مقام پر ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ھوتے ہیں &#8220;۔ ( ق ۔١٠ ) ۔</p>
<p>ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے ( عجیب ) پیدا کۓ گۓ ہیں اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گيا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کۓ گۓ ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے ؟ &#8220;۔ ( الغاشیہ ۔١٧ ۔ ٢٠ ) ۔</p>
<p>اختیار زینت و جمال کا حکم :</p>
<p>یہ نظر اور تفکر و تدبر ایمان و فائدہ ، اور جمال و زینت کے جامع ہیں بلکہ بنی آدم کو زینت کے اختیار کرنے کا اور خصوصا اوقات عبادت کے لۓ خوب بننے سنوارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : &#8221; اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو خوب مزین کیا کرو &#8220;۔ ( الاعراف ۔٣١ ) ۔</p>
<p>١ ۔ ستر و پوشی میں حسن و جمال اور رعنائی :</p>
<p>اللہ کے بندو ! اس باب میں مزید فکر و تامل اور تفصیل جاننے کے لۓ دیکھیں کہ بنی آدم کی دو چیزیں<br />
 شرمگاہ ہیں اور وہ دونوں ہی ستر و پردہ کی ضرورتمند ہیں بلکہ  ان کے ستر میں بھی انتہائی جمال اور خوبصورتی پائی جاتی ہے ۔ اور دونوں مقامات ستر میں سے ایک تو جسمانی شرمگاہ ہے اور اس کا ستر دو لباسوں سے ھوتا ہے ۔ ایک لباس پردہ سے اور دوسرے لبا‎س زینت سے ۔ اور دونوں کو بیان کرتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اے بنی آدم ! ھم نے تمھارے لۓ لباس نازل کیا جس سے تم اپنی شرمگاھوں کو چھپاتے ھو اور ( اپنے بدن کو ) زینت و رعنائی دیتے ھو اور ( جو ) پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے &#8220;۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔</p>
<p>پہلا لباس شرمگاہ کو چھپاتا اور ستر و پردہ کا باعث بنتا ہے اور دوسرا زیب و زینت اور حسن و رعنائی کا موجب ہے ۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ حسن و رعنائی کی تعبیر کے لۓ ریش ( پرندے کے پر ) کو اختیار کیا گیا کیونکہ تمام مخلوقات کی پوشاکوں میں سے حسین و جمیل پوشاک پرندوں کے پر ہیں جو کہ اپنے دیدہ زیب و دلکش رنگوں ، نرمی و باریکی اور جاذبیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ اور انھوں نے لکھا ہے کہ پرندوں کا پر انسانوں کے بالوں ، بھیڑ بکریوں کی اون اور اونٹ کے بالوں سے بھی نرم و نازک ھوتا ہے ، اگر چہ ان چیزوں میں بھی جمال و زیبائش موجود ہے جو کہ کسی پر مخفی نہیں ہے ۔</p>
<p>٢ ۔ نفس کا ستر :</p>
<p>انسان دوسری شرمگاہ یا مقام ستر ، نفس کا ستر ہے جسے اخلاق جمیلہ ، حسن عبادت اور اطاعت الہی کے پردے سے ڈھانپا جاتا ہے اور اسی پردہ و پوشاک یا ستر و لباس کا ذکر کرتے ھوۓ ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور ( جو ) تقوی و پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے &#8220;۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔</p>
<p>جمال صرف مادی اشیاء اور اجساد و اجسام میں ہی نہیں ھوتا بلکہ اخلاق میں بھی جمال پایا جاتا ہے اسی طرح صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی ) اور ہجر جمیل ( فراق ) جیسے اخلاقی امور وصفات میں جمال کا وجود معروف ہے ۔</p>
<p>جمال اور اسلام :</p>
<p>١ ۔ جمال تعبیر :</p>
<p>برادران و احباب کرام ! اگر دور حاضر کی اصطلاح میں ذوق جمال اور صفت جمال کو فن کا نام دیا گیا ہے تو یہ جمال دین اسلام اور اس کی اسلامی تھذیب میں صرف ذوق کے لۓ نہیں بلکہ یہ عظیم مقاصد کے لۓ مستعمل ہے ۔ جمال تعبیر  یا حسن تعبیر ہر طرح کے فنون کے وسیع ترین قسم اور لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر انداز ھونے والی چیز ہے ۔ اسی طرح ان کے باھمی معاملات ، خطاب و اسلوب ، امر و نہی ، دعوت و راہنمائی اور تعلیم و تربیت کے سب میدانوں میں حسن تعبیر ایک پر اثر چیز ہے ۔ اور ھم وہ امت ہیں جن کی راہنما ان کی کتاب قرآن کریم ہے اور یہ کتاب جمال و حسن تعبیر کے اعتبار سے ھمارے لۓ نادر و بیمثال نمونہ ہے اور اس امت کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جوامع الکلم دیۓ گۓ تھے کہ چند کلمات میں آپ معانی و مضامین کے دریا بہا دیا کرتے تھے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا کرتے    تھے ۔ عرض قول حسن ، وعظ حسن ، باحسن طریق جدال و مناظرہ اور احسن القصص یہ سب کلمات اہل علم اہل دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے میدانوں میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے ایک تنبیہ اور رہنمائی ھے کہ وہ اپنے اسلوب و انداز میں جاذبیت و کشش پیدا کریں اور مافی الضمیر کی تعبیر کے لیے وہ خوبصورت انداز اختیار کریں کہ جسے جمال تعبیر کہا جا سکتا ھے اور یہ کیوں نہ ھو جبکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس طرح راہنمائی کرتے ھوۓ فرمایا :</p>
<p>&#8221; آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لۓ نرم دل ھو گۓ اور اگر آپ سخت گفتگو و سخت دل ھوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ھوتے &#8220;۔  ( آل عمران ۔١٥٩ ) ۔ اللہ اکبر ! سبحان اللہ !</p>
<p>٢۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور جمال کلام :</p>
<p>اللہ والو ! یہ کتنا واضح اور کتنا حسن و جمال والا حکم ہے ۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سخت کلام اور سنگدل و سخت گیر افتاد طبع پاتے ۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے قطعی پاک تھے ۔ لیکن اگر آپ ایسے ھوتے تو آپ کی بات کوئی نہ مانتا بلکہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ نکلتے ۔ کیوں ؟ اس لۓ کہ لوگ رفق و نرم مزاجی ، خندہ روئی ، مسکراتے ھوۓ استقبال کۓ جانے ، اعلی اخلاق و حسن گفتگو ، حسن استماع ، جاذبیت و کشش کی فطرت پر پیدا ھوۓ ہیں اور انہی صفات کو قبول کرتے انہیں ہی چاہتے اور انہی کا احترام کرتے ہیں ۔</p>
<p>٣ ۔ جمال قول ، صبر جمیل اور ۔ ۔ ۔ :</p>
<p>معلم و مدرس ، رہبر و رھنما ، ناصح و خیر خواہ ، محتسب ، داعی و مبلغ ، قلم کار و مضمون نگار اور پڑھے لکھے تمام لوگ اس بات کے اہل ہیں اور انہیں چاہیۓ کہ وہ قول جمیل ( عمدہ بات ) ، صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی تلافی کا اعلی انداز ) اور ہجر جمیل ( فراق و علیحدہ کے عمدہ انداز ) کو اپنائیں ۔</p>
<p>فسق و فجور کوئی فن نہیں :</p>
<p>مسلمانو ! یہ خوبصورت جمال اور دلفریب و دلکش فن ، حق سے بالا تو ھو ہی نہیں سکتا ، نہ ہی فسق و فجور کے کاموں کو  فن کا نام دیا جا سکتا بلکہ یہ ممکن و جائز ہی نہیں کہ فن اور فنی عمل ( اداکاری و فنکاری ) کے نام سے کفر و فسق اور ظلم و جور پر پردہ ڈالا جاۓ بلکہ بعض لوگ تو انتہاء پسندی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان میں سے بعض یہ تک کہنے لگے کہ : فنکار کے خلاف ان قواعد اور معیاروں کے مطابق فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا جن کے تحت دوسرے لوگوں کے بارے میں کیا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ فنکاریوں کے جمال کو دروغ گوئی و جھوٹ اخلاقیات کی تخریب و تباہی اور عمدہ عادات و اطوار کو چھوڑ کر بداخلاقی اپنانے کا ذریعہ بنایا جاۓ ۔ اور نہ ہی یہ ہرگز جائز ہے کہ جمال تعبیر کے ذریعے باطل امور کو جنم دیا جاۓ بدگوئی کھلے عام کی جاۓ اور جعل سازی کا ارتکاب کیا جاۓ ۔</p>
<p>وسیلۂ ممنوع بھی ممنوع ہے :</p>
<p>جب یہ حسن جمال  اور زینت و رعنائی حق کی عمارت کو مسمار کرنے ، اخلاق اقدار کو نیست و نابود کرنے اور اخلاقیات پر دست درازی کرنے کا ذریعہ و سبب بننے لگیں تو ایسے حسن و رعنائی کو روکنا اور اس کی راہیں بند کرنا واجب ھو جاتا ہے کیونکہ ممنوع فعل تک پہنچانے والا ذریعہ و وسیلہ بھی ممنوع ہی ھوتا ہے ۔ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جو کہ پوری دنیا کی عورتوں سے زیادہ معزز و مکرم ، زیادہ اہل شرف و عظمت ، زیادہ عفت مآب اور زیادہ پاکباز تھیں ۔ انہیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اپنی آواز میں نرمی پیدا کرکے لوگوں سے باتیں نہ کریں کیونکہ یہ فعل بیمار دل والے مریض القلب لوگوں میں شر کو ابھارتا اور انہیں ممنوع امور تک پہچاتا ہے  چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; ( تم کسی اجنبی شخص سے ) نرم نرم باتیں نہ کرو  تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض و بیماری ھو اس میں کوئی امید ( نہ ) پیدا کرے اور دستور و معروف طریقہ کے مطابق بات کیا کرو &#8221; ۔ ( الاحزاب ۔٣٢) ۔</p>
<p>ستر اور شیطان :</p>
<p>اللہ کے بندو ! غور و تامل کا لطیف سا اشارہ اس بات میں موجود ھے جو کہ قرآن کریم نے ہمیں بتائی اور اس پر متنبہ و خبردار کیا ھے کہ شرمگاہ کو ننگا کرنے اور شیطان اور اسکے چیلوں میں ایک تعلق پایا جاتا ھے ۔ آپ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھ کر دیکھ لیں :</p>
<p>&#8221; اے ابن آدم ! (دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر ) جنت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیۓ تاکہ ان کے ستر انہیں کھول کر دکھلا دے ۔ وہ اور اس کے چیلے تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ سکتے ۔&#8221; (الاعراف۔٢٧)</p>
<p>شیطان ، اسکے چیلے اور اسی کی راہ چلنے والے دوسروں کو دونوں شرمگاھوں کو ننگا کر دینے کا حکم ترغیب دیتے رہتے ہیں ۔ جسم کے ستر کو ننگا ھونے ، کپڑے اتار پھینکنے اور بدن کو کھول دینے کے ذریعے عریاں کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور نفس کے ستر کو برے اخلاق و افعال کے ارتکاب سے کھلوا دیتے ہیں ۔</p>
<p>جمال رخ نہیں جمال عمل :</p>
<p>مسلمانو ! یہ ھے حسن و جمال اور یہ ھے زیبائی و رعنائی اور یہ ھے فن و فنکاری کا ظاہر و باطن اور اسکا حسن اور قبح و مذمت ۔ اے صاحب بصیرت مسلمان ان دونوں جمالوں اور رعنائیوں میں سے جو زیادہ حسن و خوبی والا ھے اسے اختیار کر لیں اور ان دونوں صورتوں میں سے جو سب سے زیادہ اچھی ھے اسے اپنا لیں ۔ اور شیطان اور اسکے چیلے آپ کو بہکا نہ دیں ۔ چہرے کا حسن کسی کو بلندی تک نہیں پہنچاتا اگر ان لوگوں کے اخلاق میں حسن و خوبی نہ ھو ۔ اور انسان کی عزت و شرف اسکی تربیت میں ھوتا ھے نہ کے شکل و صورت میں ۔ اگر آپ نے خوبصورت کپڑے پہن لیے اور عمدہ لباس سے مزین ھو گۓ تو یہ آپ کا جائز شرعی حق ھے لیکن اسکے ساتھ ہی اپنے آپ کو حسن اخلاق اور اعلی و عمدہ اعمال کی زینت و زیبائی میں بھی کوئی کمی کوتاہی نہ کریں ۔ یہ بڑے ہی احمق لوگ ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے خوش شکل ھوتے ہیں وہ اپنے ظاہری حسن و جمال کو بناۓ رکھنے کے لیے بھی بڑا کچھ کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے الفاظ و گفتگو میں قبیح اور انداز و کردار میں بدترین لوگ ھوتے ہیں ۔ بدذوقی انکا شیوہ بدزبانی انکی عادت اور سخت گيری انکا شعار ھوتی ھے یہ رنگ سراسر حماقت ھے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; پوچھیں تو ان سے ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم !) کہ جو زینت (و آرائش ) اور کھانے (پینے ) کی پاکیزہ چيزيں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں انہیں حرام کس  نے کیا ھے ؟ کہدیں کہ یہ چيزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن (بھی) خاص انہی کا حصہ ھوں گی ۔ ہم اسی طرح اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ کہہ دیں کہ میرے رب نے تو بےحیائی کی باتوں کو وہ ظاہر ھوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ھے اور اسکو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ جسکی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ اور اسکو بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں ۔&#8221; ( الاعراف ۔٣٢ ۔ ٣٣ )</p>
<p>عبرت انگيز موازنہ :</p>
<p>اللہ آپ کو توفیق خير سے نوازے ! اس مقارنہ و موازنہ کو بھی (پڑھ ) سن لیں جو کہ علامہ امام ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ عليہ نے ذکر کیا ھے اور انتہائی فکر و نظر کے لائق اور باعث تفکروتدبر ھے  چنانچہ انہوں نے لکھا ھے :</p>
<p>&#8221; خیر و بھلائی اور آخرت میں حسن انجام کا طلبگار فرشتوں کے مشابہ ھوتا ھے اور شر و برائی کرنے والا شیطانوں سے مشابہت رکھتا ھے ۔ شکار مارنے اور غلبہ و تسلط پانے کا خواہاں درندوں سے ملتا جلتا ھے اور لذتوں کے پیجھے دیوانہ وار پھرنے والا جانوروں کی مانند ھوتا ھے ۔ وہ شخص جو کسی مفاد و مصلحت کے بغیر ہی مال جمع کرنے کے پیچھے لگا رہتا ھے اس میں حیوانوں کی شباہت پاۓ جانے سے بھی نچلا درجہ پایا جاتا ھے بلکہ اسکے مال کا تو وہی حال ھے جو کہ لق و دق غاروں میں پاۓ جانے والے پانی کا ھوتا ھے جس سے کوئی حیوان بھی استفادہ نہیں کر سکتا ۔&#8221;</p>
<p>آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :</p>
<p> عقلمند وہ ھے جسکا تعلق کسی ایسے وصف سے نہ ھو کہ اس میں اس سے فوقیت صرف کسی درندے ، حیوان یا جمادات کو ہی حاصل ھو ۔ جو اپنی شجاعت و بہادری پر بڑا نازاں ھے اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ بھیڑیا اور چیتا اس سے بھی زیادہ بہادر ھوتے ہیں ۔ جسے اپی قوت پر گمنڈ ھو اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ اونٹ اس سے بھی زیادہ قوی ھوتا ھے ۔ جسے بوجھ زیادہ اٹھانے کا زعم ھو اسے اس بات کا پتہ رہنا چاہیۓ کہ ہاتھ اس سے بھی زیادہ بوجھ اٹھاتا ھے ۔ جسے یہ بات اچھی لگ رہی ھو کہ وہ بڑا تیز دوڑتا ھے ۔ اسے یہ بات نہیں بھولی چاہیۓ کہ اس گھوڑا زیادہ ھوڑتا ھے ۔ جسے اپنی خوش آوازی پر بڑا فخر ھو اسے یہ نہیں بھلانا چاہیۓ کہ بکثرت پرندوں اور بانسریوں کی لکڑیوں کی آوازیں زیادہ طرب آگيں اور لذت آمیز ھوتی ہیں ۔ جو باتیں ان حیوانات و جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں وہی اگر کسی شخص میں پائی جائيں تو اس میں فخر و سرور والی کونسی بات ھے ۔ البتہ اگر کسی میں شعور و تمیز قوی ھو ، اسکا علم وسیع ھو اور عمل اچھا ھو تو اسے اپنے آپ پر رشک کرنا اور خوش ھونا چاہیے ۔ اس سے آگے صرف وہی شخص ھو سکتا ھے جو اس سے بھی زیادہ ہمت والا اور اس سے بھی اکثر عمل والا ھو اور نیک و صالح شخص ھو ۔</p>
<p>اللہ والو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو ، آپ کے رب نے آپ کو بنایا ھے اور روۓ زمین پر پائی جانے والی تمام اشیاء کو اس زمین کی زینت و جمال بنایا تاکہ وہ آپ سب کو آزما کر دیکھے کہ آپ میں سے زیادہ اچھا عمل کون کرتا ھے ۔</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فلسفۂ عطاء و انکار اور زینت دنیا</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 07 Feb 2007 12:17:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ حمد و ٹناء کے بعد اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ٹناء کے بعد</p>
<p>اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی  ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا ہے ۔</p>
<p>[ آپ کو یہ دنیا کی زندگی کہیں فریفتہ نہ کر دے اور نہ ہی فریب دینے والا ( شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح فریب دے ] ۔ ( فاطر ۔٥ و لقمان ۔٣٣)</p>
<p>انسان کی بلاوجہ پریشانی :</p>
<p>مسلمانو! اپنی من پسند کی چیزوں کو پا لینے ۔ امیدوں تک پہنچ جانے اور مرغوب چیزوں کو حاصل کر لینے کی کوششوں کے دوران بندوں کا ایک گروہ تو بھول جاتا ہے یا پھر عمدا بھلا دیتا ہے کہ ان کی ان کوششوں کا انجام ھمیشہ ان کی خواہش و امید کے مطابق ہی رونما نہیں ھو گا ، لھذا جب کبھی انھیں انکی بعض محبوب چیزوں سے محرومی ھوتی ہے اور ان کے اور انکی من چاہی اشیاء کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ھو جاۓ تو تمام تر وسعتوں کے باوجود یہ زمین اس پر تنگ ھو جاتی ہے حتی کہ خود وہ اپنے آپ سے تنگ آیا ھوا ھوتا ہے اور اس کی عقل اس کا ساتھ نہیں دے رہی ھوتی حتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کے انکار پر اتر آتا ہے اور اس کے سابقہ تمام احسانات کو بھلا بیٹھتا ہے اوردن رات غمزدہ و پریشان رہنے لگتا ہے ، اس کا دل شدید قلق و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے نہ اسے جینے میں کوئی مزہ آتا ہے اور نہ اپنی حالت میں اسے کوئی سکون نصیب ھوتا ہے ۔</p>
<p>فلسفۂ عطاء و انکار :</p>
<p>برادران گرامی ! اس کا سبب در اصل صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عطاؤں کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی وہ اللہ کے کوئی نعمت دینے کے انکار کے فلسفے کی معرفت حاصل کر سکا ہے ۔ اور وہ یہ تصور کر بیٹھا ہے کہ عطاء اور انکار دو ضدیں ہیں جو کہ یکجا نہیں ھو سکتیں یا پھر وہ ندی کے  دو کناروں کی طرح انھیں ایسی چيزیں سمجھ بیٹھا ہے کہ جو کبھی باھم مل نہیں سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعص سلف صالحین امت نے بیان حق اور صحیح و صواب کی طرف ھدایت و راہنمائی کے لۓ بڑے مضبوط موقف اختیار کۓ ہیں ۔ چنانچہ امام سفیان ثوری نے بعض سلف امت کا یہ قول نقل کیا ہے :</p>
<p>&#8221; اللہ کا بندے کو اس کی بعض محبوب چیزوں سے منع و محروم کر دینا بھی در اصل اس کی ایک عطاء و نوازش ہی ہے کیونکہ اللہ نے اس سے وہ چیز کسی بخل کی وجہ سے نہیں روکی بلکہ اس پر لطف و کرم کرتے ھوۓ روکی ہے &#8221; ۔<br />
<span id="more-355"></span><br />
اس سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کہ اللہ کی عطاؤں اور نواشوں کا ھمیشہ ایک ہی سا انداز و رنگ نہیں ھوتا بلکہ اس کی عطاؤں کا رنگ کبھی یہ ھوتاہے کہ وہ بندے کو اسکی محبوب و مرغوب چیزیں دے دیتا ہے جن کی طلب میں وہ بھاگتا پھرتا ہے اور کبھی اس کی عطا کا انداز یہ بھی ھوتا ہے کہ وہ اس کی محبوب و مرغوب اشیاء کو اس سے روک دیتا ہے اور اسے منع کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اتنا صاحب جود و کرم ہے کہ جس کے کرم کی کوئی انتہاء نہیں اور نہ ہی اس کے احسان کی کوئی حد ہے اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس کے سامنے یہ ساری دنیا بھر مچھر کے ایک پر کے برابر بھی حثییت نہیں رکھتی ۔ جیسا کہ جامع ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[  اگر اللہ کے نزدیک اس دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ھوتی تو اللہ کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ] ( جامع ترمذی )</p>
<p>اللہ اگر کسی دنیوی چیز سے کسی بندے کو محروم کرتا ہے تو اس میں اس کی ایک انتہائی  گہری حکمت اور باریک فلسفہ کار فرما ھوتا ہے اور اس عظیم و قدیر کی قدرت و اندازے پنہاں ھوتے  ہیں  اس کے ساتھ ساتھ اس منع و انکار یا محرومی میں بندے کے لۓ بہت ساری مصلحتیں اور مفادات پوشیدہ ھوتے ہیں جو اکثر لوگوں کی نظروں سے مخفی ھوتے ہیں ۔  اس بات کا پتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد سے  چلتا ہے جو کہ جامع ترمذی اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ اللہ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو اسے اس دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ] ( ترمذی و ابن حبان )</p>
<p>اور مستدرک امام حاکم میں ایک روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[اللہ تعالی اپنے مومن بندے کو پیار کرتا ہے اور اسے ( اس دنیا سے ) ایسے بچاتا ہے جس طرح اپنے کسی بیمار کے فائدے کی خاطر تم میں سے کوئی شخص اسے کھانے پینے سے بچاتا ہے ] ۔</p>
<p>فسلفۂ تحریم اشیاء :</p>
<p>اسی طرح امام ابن رجب رحمۃ اللہ عليہ کے بقول یہ بات بھی اسی کی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر شہوت دنیا ، اسکی زینتوں اور رونقوں میں سے بعض چیزیں حرام کر دی ہیں کیونکہ انھیں ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی اور ان چیزوں کو اللہ نے ان کے لۓ آخرت میں ذخیرہ کر دیا اور اسی بات  کی  طرف اس ارشاد  باری  تعالی میں  ارشارہ پایا جاتا ہے جس میں اس نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ اور اگر یہ خیال نہ ھوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت  ھو جائيں گے تو جو لوگ اللہ کا انکار کرتے ہیں ھم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی کہ جن پر وہ چڑھتے ہیں ۔ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ  لگاتے ہیں ۔اور خوب تجمل و آرائش کر دیتے اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمھارے رب کے یہاں صرف پرہیز گاروں کے لۓ ہے ] ( الزخرف ٣٢، ٣٥)</p>
<p>ادھرایک صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جس نے اس دنیا میں ریشمی لباس زیب  تن کیا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ] ۔ ( بخاری و مسلم )</p>
<p>اور صحیح بخاری و مسلم میں ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[ ریشم اور دیباج ( موٹا ریشمی کپڑا ، استبرق ) نہ پہنو ، نہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاؤ اور نہ ہی پیو ، یہ کفار کے لۓ اس دنیا میں ہیں اور تمھارے لۓ آخرت کی زندگی میں ہیں ] ( بخاری و مسلم )</p>
<p>اور صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جس نے اس دنیا میں شراب پی ، اسے آخرت میں شراب ( طہور ) پینے کو نہیں ملے گی ] ( بخاری و مسلم )</p>
<p>جبکہ آخرت کی وہ شراب طہور تو پینے والوں کے لۓ ایک  پاکیزہ و لذت دار چیز ھو گی ۔<br />
[ جس سے نہ تو ان کے سر درد بوجھل ھونگے اور نہ ہی ان کی عقلیں زائل ھونگی ] ( الواقعہ ۔١٩)</p>
<p>یہ آخرت کی شراب ھو گی کہاں وہ پاکیزہ شراب اور کہاں یہ دنیا والی شراب جو ایک نجس و پلید ، شیطانی فعل ہے اور وہ اس سے مومن لوگوں کے مابین عداوت و دشمنی اور رنجشیں پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے انھیں ذکر الہی اور نمازوں سے روکتا ہے ۔ یہ ساری قباحتیں اسی دنیوی شراب میں پائی جاتی ہیں ۔</p>
<p>زینت دنیا : کتاب الزھد امام احمد میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  انھوں نے فرمایا :</p>
<p>[ اگر مجھے نیکیوں کے کم ھو جانے کا ڈر  نہ ھوتا تو میں بھی تمھارے  ساتھ  عیش و آرام کی زندگی میں شریک ھو جاتا لیکن میں نے  ارشاد خداوندی  سنا ہے کہ اس نے ایک قوم کو عار دلاتے ھوۓ فرمایا ہے</p>
<p>[ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کر چکے اور ان سے متمتع و مستفید ھو چکے ھو آج تمھارے لۓ ذلت و رسوائی کا عذاب ہے ۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور اور فسق و فجور کیا کرتے تھے ] ۔ ( الاحقاف ۔٢٠ )</p>
<p>امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ عليہ نے  بعض سلف صالحین امت کا جو قول نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے جو فلسلفۂ عطاء و انکار بیان کیا ہے اس کی صحت و سچائی پر ھماری آج کی موجودہ حالت میں واضح دلائل اور روشن براھین موجود ہیں ۔ کتنے ہی ایسے لوگ کئی امیدیں لگاۓ بیٹھے ہیں کہ اگر ان کی وہ سب امیدیں برآئیں تو ان کا نتیجہ سواۓ نقصان کے کچھ نہ ھو ۔  اور ان کی کوششوں کے بدلے میں انھیں حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگے ۔ اور کتنے ہی ایسے لوگ وہ ہیں جو اگر اپنے ارادوں میں کامیاب ھو جائیں تو انکی وہ ظاھری کامیابی ان کی شکست و ناکامی کا سبب بن جاۓ اور وہ اس کی تلخی کے گھونٹ بھرتے رہ جائيں ۔</p>
<p>پسندیدہ و ناپسندیدہ :</p>
<p>اسی لۓ اللہ تعالی نے لوگوں کی نظریں اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہیں کہ بندہ دنیا کی بعض چیزوں کو دل و جان سے چاہتا ہے مگر وہ اس کے لۓ وبال جان ھوتی ہیں اور بعض چیزوں کو وہ دل سے ناپسند کرتا ہے مگر وہ اس کے لۓ بہت ہی بہتر اور اھم ھوتی ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ ( مسلمانو ! ) تم پر ( اللہ کی راہ میں ) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمھیں ناگوار تو ھو گا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بری لگے مگر وہ تمھارے حق میں بھلی ھو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بھلی لگے اور وہ تمھارے لۓ مضر ھو ، اور ( ان باتوں کو ) اللہ تعالی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ] ۔ ( البقرہ ۔٢١٦)</p>
<p>ایک امتحان :</p>
<p>اللہ تعالی نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو مالدار لوگوں کے پاس پائي جانے والی دنیا کی زیب و زینت کی حقیقت کو بطور مثال بیان فرمایا ہے :</p>
<p>[بیشک فخر و ستائش اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب و خواہش ہے ( اس کی مثال ایسی ہے ) جیسے بارش کہ ( اس سے کھیتی اگتی ہے اور ) کسانوں کو بھلی لگتی ہے ، پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر ( اسے دیکھنے والے ! ) تو اسے دیکھتا ہی کہ وہ ( پک کر ) زرد ھو  جاتی ہے ، پھر چورا چورا ھو جاتی ہے ۔ اور آخرت میں ( کافروں کے لۓ ) عذاب شدید اور ( مومنوں کے لۓ ) اللہ کی طرف سے بخشش و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے ] ۔ ( الحدید ۔٢٠)</p>
<p>مذمت دنیا سے مراد ؟</p>
<p>اللہ والو ! اھل علم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کتاب و سنت میں جو دنیا کی مذمت وارد ھوئی ہے ، اس سے مراد اس دنیا کا زمانہ و وقت نہیں جو کہ شب و روز کی شکل میں قیامت تک یکے بعد دیگرے مسلسل آتے  جاتے رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے پیچھے اس لۓ لگا رکھا ہے کہ لوگ انھیں دیکھ کر نصیحت حاصل کریں اور پھر اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا :</p>
<p>[ یہ شب و روز دو خزانے ( سیف ) ہیں ، اب دیکھو کہ تم ان میں کیا جمع کرتے ھو ]</p>
<p>اسی طرح دنیا کی مذمت سے اس کی جگہ کی مذمت بھی مقصود نہیں جو کہ یہ زمین ہے جسے اللہ نے بنی آدم کے لۓ گہوارہ و رہائش بنایا ہے ۔</p>
<p>ایسے ہی اس زمین میں اللہ تعالی نے جو چیزیں ودیعت کی ہیں وہ بھی اس مذمت سے مراد نہیں ہیں جیسے پہاڑ ، سمندر ، دریا  نہریں اور معدنیات ( سونا و چاندی وغیرہ ) ہیں ۔</p>
<p>وہ چیزیں بھی اس مذمت میں نہیں آتیں جو اللہ نے اس زمین سے  اگائی  ہیں  جیسے فصلیں ہیں اور درخت ہیں ۔</p>
<p>نہ ہی وہ چیزیں بھی اس مذمت کے تحت آتی ہیں جو اللہ نے اس زمین میں پھیلائی ہیں جیسے حیوانات وغیرہ ہیں۔</p>
<p>یہ سب چیزیں تو بندوں پر  اللہ کی نعمتیں ہیں اور ان  میں اس نے ان کے لۓ بڑے فوائد و منافع رکھے ھوۓ ہیں اور ان کی تو اس کائنات کے خالق و مالک کے وجود  و وحدانیت اور اس کی قدرت و عظمت کے   دلائل و براھین ھونے کے اعتبار سے ایک بہت بڑی حیثیت ہے ۔</p>
<p>مذمت دنیا سے مراد دنیا میں بنی آدم کے افعال قبیحہ کی مذمت ہے کیونکہ ان کے اکثر افعال ایسے واقع ھوتے ہیں کہ جن کے انجام قابل تعریف نہیں ھوتے اور نہ ہی ان سے کوئی مفادات واقع ھوتے ہیں ۔</p>
<p>اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعے دار آخرت طلب کرو اور دنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو ۔</p>
<p>و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سال نو کا آغاز اور امت اسلامیہ سے خطاب</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 22 Jan 2007 12:25:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / عبد الرحمن السدیس حمد و ثناء کے بعد سال نو کا آغاز : اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کے بعد اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس سال نو کو امت اسلامیہ کیلۓ امن و امان ، سلامتی و اسلام اور ان امور کی توفیق کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / عبد الرحمن السدیس</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد</p>
<p>سال نو کا آغاز :<br />
 اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کے بعد اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس سال نو کو امت اسلامیہ کیلۓ امن و امان ، سلامتی و اسلام اور ان امور کی توفیق کا سال بنا دے جو اسے محبوب و پسندیدہ ہیں اور اس ذات با برکات سے جب مدد طلب کی جاۓ تو وہ مدد کرتا ہے ـ اس سے یہ بھی دعاء ہے کہ وہ اس نۓ سال کو اسلام اور تمام دنیا کے مسلمانوں کیلۓ فتح و نصرت کا سال بنا دے اور تمام انسانوں کو خیر و بھلائ ، عدل و انصاف اور سلامتی کی نعمتوں سے مالا مال کرے ، ھمارے موجودہ ایام کو ھمارے ماضی سے بہتر کر دے اور ھمارے موجودہ ایام سے ھمارے مستقبل کو بہتر و تابناک کر دے اور امت اسلامیہ کو مصائب و مشکلات اورہر طرح کے فتنوں اور بلاؤں سے محفوظ رکھے ـ وہ ذات گرامی بڑی ہی صاحب جود وکرم اور فضل و احسان والی ہے ـ</p>
<p>لمحہ فکریہ</p>
<p>مسلمانو ! زمانے کا پہیہ اپنی گردش کو پورا کر لیتا ہے لیکن اس کے حوادث سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا کوئ نہیں ھوتا سواۓ ان لوگوں کے جنکی بصیرت کو اللہ نے روشن کر رکھا ہے اور اپنی عمر کی ایک ایک گھڑی اور لمحہ لمحہ کو غنیمت سمجھتے ھوۓ اسے اعمال صالحہ اور بر و نیکی کے میدان میں صرف کرتا ہے اور افراط و تفریط یا تقصیر و کوتاہی اور گناہ کے راستوں سے دور رہتا ہے ـ<br />
<span id="more-354"></span><br />
الوداع اے سال ماضی :</p>
<p>امت اسلامیہ نے ایک سال کو الوداع کر دیا ہے ، اب اسکی صرف یادیں رہ گئ ہیں ـ ھم نے سال کو یوں الوداع کیا ہے جیسے کوئ ایک دن کو رخصت کرتا ہے اور وہ اس دن کی صبح و شام میں حاصل ھونے والے ہر خوشی و غم کو جانتا ہے ، حزن و سرور اسے یاد ھوتا ہے سعادت و مصیبت اور سختی و تنگ حالی سب ذرہ ذرہ ازبر ھوتا ہے ـ بشارت و خوشخبری اس شخص کیلۓ جس نے اپنے سال ماضی کو تقرب الی اللہ اور اطاعت الہی کے کاموں میں صرف کیا ، اور خوش نصیب ہے وہ جس نے اس سال کے خزانوں میں نیکیوں کو جمع کر دیا اور جو گناھوں سے بچتا رہا ـ</p>
<p>سال نو اور امت اسلامیہ</p>
<p>مسلمانو ! یہ نیا ہجری سال ایک محبوب و صاحب لطف مہمان ہے ، یہ شہروں اوردیہاتوں کے تمام لوگوں کیلۓ باعث غناء و تونگری ہے اس میں تلخ و شرین ہے اور راحت و آرام ہے لیکن انتہائ افسوس کی بات ہے کہ یہ نیا سال ایسے حال میں آیا ہےکہ امت اسلامیہ ابھی تک اپنی عظمت رفتہ کو واپس لانے میں کوئ طریقہ تلاش نہ کرسکی اور نہ ہی غیرت کی سربلندی اور فلاح و نجاح کی راہ پا سکی ہے اور ابھی تک اسے وہ مقام حاصل نہیں ھو سکا اسے بری نظر سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نوچ سکے ـ لیکن ان المناک حالات اور مہلک طوفانوں کے تھپیٹروں کے باوجود ھم پر امید ہیں اور ایک تابناک امید ھمارا سرمایہ ہے ، امت کی لگام توحید الہی کے ہاتھ میں ہے اور اسکے دل ایمان و یقین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>{ اور اللہ اپنے نور کو پورا ( اسلام کو غالب ) کر کے رہے گا خواہ کافروں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے ـ( الصف ۔٨)</p>
<p>تلافیء مافات</p>
<p>ھمیں امید ہے کہ اس نۓ ہجری سال کے آغاز کی مناسب و موقع وہ بہترین وقت ثابت ھو گا ـ جس میں ھم دیکھ بھال اور مراجعہ و پڑتال کرکے اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کر سکیں گے اور یہ ھمارے لۓ کلیرنس اور محابسے کا وقت ثابت ھو گا اور امت کو اس بات کا ادراک ھو جاۓ گا کہ امور کی تاءسیس و استحکام اور قواعد و ضوابط کی وحدت و سلامتی اس بات کی مرھون منت ہے کہ ھم اللہ کی کتاب سے اعتصام و ربط رکھیں اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے تمسک و تعلق استوار کریں اور یہی دونوں ایسے سرچشمے ہیں جو سعادت و شقاوت اور نعمت و نقمت میں فرق کا پتہ دیتے ہیں اور انہی سے صحح عقائد اور درست منھج میسر آتا ہے ـ ان دونوں میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئ گنجائش ہی نہیں ہے اور جس نے ان دونوں کو چھوڑ کر کسی دوسری کتاب و ازم کے ذریعے دنیا میں عزت و برزگی اور عروج و کمال حاصل کرنا چاہا اس نے ایک محال کام میں ہاتھ ڈالا اور اسکا وبال اسے دیکھنا ہی ھو گا اور اسے اللہ سے بچانے والا کوئ دوست و مددگار نہیں ھو گا ـ</p>
<p>اسباب سعادت</p>
<p>برادران ایمان ! یہ امت اپنا ضعف و کمزوری قوت و طاقت میں نہیں بدل سکتی ، اپنی ذلت و رسوائ کو عزت و آبرو کا رنگ نہیں دے سکتی الا یہ کہ یہ پھیر سے انہی چراغوں کو نہ جلاۓ جن سے ھمارے سلف صالحین سے روشنی حاصل کی تھی ـ</p>
<p>ع ( ناکارہ سمجھ بجھا دیا جنھیں تم نے ٭ وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ھو گی ـ ) مترجم</p>
<p>ھماری مراد اس دین کے ان حقائق کو سامنے لانا ہے جنکی بدولت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے سعادت و خوشی پائ اور پھر انہی کی بدولت انھوں نے کئ صدیوں تک پوری دنیا کو سعادتوں سے مالا مال کیۓ رکھا ـ اگر ھم نے اپنی حالت کو شریعت کے آئینے میں دیکھ کر اسکی اصلاح کی نیت کر لی تو اللہ تعالی ھمارے حالات کو سدھار دے گا ـ</p>
<p>صدق و سچائی</p>
<p>اس سلسلہ میں ھماری مدد کرنے والی اھم ترین چیز یہ ہے کہ ھم اپنے نفس ، معاشرے اور امت کے ساتھ قول و عمل میں صادق ھوں ـ<br />
چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ تاکہ اللہ صادقین اور سچوں کو انکے صدق و سچائ کا بدلہ دے ـ }  ( الاحزاب ۔٢٤ )</p>
<p>امتوں کی عظمت و رفعت ان مخلصانہ اور سچے دل سے پیش کی گئ خدمات کا نتیجہ و ثمرہ ہے جو انکے مخلص و خیر و خواہ لوگ پیش کرتے ہیں اور عھد ماضی میں ان عظمتوں اور بلندیوں کو ان لوگوں نے بنایا تھا جو کہ باوفاء پرخلوص تھے ـ</p>
<p>یہاں اھل فکر و قلم ، ارباب ثقافت اور ذرائع ابلاغ سے متعلقہ لوگوں کیلۓ لمحۂ فکریہ ہے کہ انھیں امت کے بارے میں ہر طرح کے طوفان بپا کرنے کے باوجود کوئ مبنی پر حکمت و سنجیدگی چیز پیش کرنے کے لۓ نہیں ملی ، جبکہ حکمت صرف یہ  ہے کہ مذاکرات میں صدق و سچائ کے پہلو کو لازم پکڑا جاۓ حق کے ساتھ حق کی طرف دعوت دی جاۓ ، اصلاح و تعمیر کی راہ پر دلیل و ثبوت اور رفق و نرمی سے چلا جاۓ تاکہ  امت کا داخلی محاذ مضبوط رہے اور اسکا امن و امان پوری طرح محفوظ رہے اور اس بات کا یقین کہ تمام وسائل و قضایا میں اور امت کے تمام حالات و حوادث کو پوری گہرائ و باریکی سے لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیۓ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امت بیماریوں کے اسباب کو تلاش کرنے کے میدانوں کی طرف پوری مستعدی سے متوجہ ھو چکی ہے اور امت اپنے تشخص کی تمام واضح علامتوں کا تحفظ کرنے اور اپنے قواعد و ضوابط پر قائم رہنے میں سختی کے ساتھ سنجیدہ ہے ـ اور اپنی تاریخ و تھذیب کو اپنے لۓ باعث فخر سمجھتی ہے اور بیرونی کلچر نے ھماری تاریخ و تھذیب میں جو عیوب پیدا کر دیۓ ہیں انھیں برداشت کرنے کیلۓ ہرگز تیار نہیں ہے ـ</p>
<p>صبر و تقوی :</p>
<p>جب کسی امت کی تاریخ اور اسکے قواعد و ضوابط عظمت کے آسمانوں کو چھونے لگتے ہیں تو وہ امت بھی سرداری و کرامت کے درجے پر فائز ھو جاتی ہے اور گھات میں کھڑے دشمن کے ہاتھ سے موقع ضایع کر دیتی ہے جو اسے طرح طرح کی فکری دہشت گردی میں مبتلا کرنے کے درپے ھو تا ہے اور ایسے دشمن کی تھذیب کے سرچشمۂ قوت کا خاتمہ کردیتی ہے ـ اور اللہ نے سچ ہی فرمایا ہے :</p>
<p>{ اگر تم تکلیفوں پر صبر و برداشت اور ( ان سے ) کنارہ کشی ( اور اللہ کا تقوی اختیار ) کرتے رھو گے تو ان ( کفار ) کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ـ } (آل عمران ۔١٢٠ )</p>
<p>عقائد و اعمال :</p>
<p>برادران عقیدہ ! امت کیلۓ نجات کی سیڑھی اور ترقی کی معراج اس بات میں ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کا تحفظ کرے ـ فضائل اعمال کا اہتمام کرے اور نئ نسلوں کی اسلامی خطوط پر صحیح تربیت کرے اور ذلت آمیز افعال اور منشیات کے استعمال سے انھیں دور رکھے تاکہ وہ دور حاضر کے تمام فکری چیلنجوں سے محفوظ رہ سکیں ـ</p>
<p>سٹلائیٹ کی تباہ کاریاں :</p>
<p>پتہ نہیں کہ امت اسلامیہ اپنی ٹیکنالوجی اور دور حاضر کے پیش نظر قدرتی وسائل سے صحیح طور پر استفادہ کر سکے گی یا نہیں ؟ اور کیا وہ پورے حزم و احتیاط کے ساتھ ان تباہ کن اور دین و فضیلت کا ستیاناس کر دینے والے سیٹلائیٹ چینلزکے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ھو سکے گی ؟ وہ چینلز جو کہ شب و روز زھر پھیلا رہے ہیں ـ جن کا شر و فساد آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور انھوں نے کتنے نوجوان لڑکوں اور دوشیزاؤں کو اپنے ضیاع و فنا کے تیروں کا شکار کر لیا ہے ، اگر ھم بکثرت خاندانوں اور معاشروں کے فنا ھونے کا منظر دیکھتے رہے اور اس بلاء و وباء کا مداوا کرنے اور اس پر گہری نظر ڈالنے کو ٹالے رکھا تو بکثرت افراد معاشرہ ذلت و رسوائ کی گہرے کھڈوں میں جا گریں گے ، ان سے یہ رشد و ھدایت اور صحت و صواب کی تمیز کا مادہ بھی چھین لیں گے اور انھیں ضیاع اور قلق و اضطراب کے صحراء میں پھینک دیں گے ـ افسوس تو اس بات پر ہے کہ ان چینلوں کے ناظرین میں سے بعض لوگ تو وہ ہیں جنھیں کلچر کی حقیقت کا بھی علم نہیں ہے وہ سمجھ رہے ہیں کہ شائد یہ غازہ و پاڈر اور زیب و زینت یا میک اپ یہی مطلوبہ تمدن اور وہ تھذیب ہے جس کی امیدیں کی جا رہی ہیں ـ اگر امت ان جذباتی امور میں بٹ گئ تو غیرت مند دیکھیں گے کہ یہ اپنی ہی جلائ ھوئ آگ میں جل جاۓ گی ـ</p>
<p>فتنوں کے بادل :</p>
<p>اے امت اسلامیہ : فتنوں کے وہ بادل جن کا دھواں اس امت  کے آسمان پر چھایا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس نۓ سال کے آغاز کے ساتھ ہی وہ چھٹنا شروع ھو جائيں گے ، فتنوں کے وہ بادل ان قوموں کے وہ ظالمانہ حملے ہیں جو اسلام اور اھل اسلام پر وہ قومیں کر رہی ہیں جن کے دل مکرو فریب سے یوں ابل رہے ہیں جیسے ہنڈیا ابلتی ہے  ، انکے قلم حسد و بغض کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں ـ اور وہ اپنے ذرائع ابلاغ کو اسلام دشمنی کی چوٹی تک پہنچا چکے ہیں ،  انھیں اسلام کے حقوق و معانی کا مطالعہ کرنے کی توفیق نہیں سکی بس انھیں اسلام کے حقائق و معانی کا مطالعہ کرنے کی تو توفیق نہیں ھو سکی بس انھوں نے اسلام پر حملے اور طرح طرح کے ہفوات بکنے کو ہی اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور انکے ذلیل و کمینہ ھونے کے نشانات و آثار انکے چہروں پر چھا گۓ اور انتہائ افسوس تو اس بات پر ہے کہ وہ تو محض طوطے کی طرح صرف رٹ لگا رہے ہیں انھیں سبق دینے والے لوگ ھماری اپنی ہی قوم کے ہیں ـ ھمارے طوطوں اور منافقوں نے امت اسلامیہ میں مغربی تھذیب و تمدن کے سلبی پہلو‎ؤں کو پھیلانا شروع کر رکھا ہے اور ساتھ ہی یہ بدزبانیان بھی کر رہے ہیں کہ اس وقت جتنی مشکلات پائ جاتی ہیں یہ سب اسلام کی وجہ سے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ اس کے مناھج اور نظام کو بدلنے کے مطالبے بھی کر رہے ہیں ـ ایسے لوگوں سے کہا جاۓ کہ جلدی بازی نہ کرو بلکہ ذرا صبر سے کام لو اور اس بات کو اپنے دل و دماغ کے پردوں پر نقش کر لو کہ اسلام کمال و جمال اور جلال کی اعلی بلندیوں پر فائز ہے لیکن ان کیلۓ جو اپنے آپ میں خود سپردگی کی خو پائيں اور فطرت سلیم کے مالک ھوں  اور شکست خوردی و غلامانہ ذھنیت کی زندگی نہ جی رہے ھوں جنھوں نے انکی بصیرت کو اندھا کر رکھا ھو ـ اب شائد تمھارے لۓ ایک موقع ہے اسے غنیمت سمجھو اور اپنے آپ کو دین حق کے رنگ میں رنگ لو اور اسی سے اپنی پیار کی پینگیں بڑھا لو تو پھر سبھی اصلاح و تعمیر اور ترقی کے میدانوں میں کود پڑیں گے ـ اگر اسلام کو اسکے تمام تر محاسن و امتیازات اور عالمگیریت کے ساتھ پیش کیا جاۓ تو دور حاضر کے گلوبلائیزیشن کی رو سے امت بآسانی نجات پا سکتی ہے ـ</p>
<p>مسلم ممالک کا بلاک اور مضبوط اتحاد :</p>
<p>اے امت اسلامیہ ! ھم انپے نۓ ھجری و اسلامی سال کے آغاز پر ایک چيز اھمیت و ضرورت کی طرف نہ صرف آواز و اشارہ بلکہ نصیحت و تاکید کرنا چاہتے ہیں جسے اپنانا واجب بھی ہے اور وہ چیز ہے : ایک مضبوط اسلامی اتحاد یا اسلامی ممالک کا ایک قوی گروپ کا قیام ـ اور اللہ تعالی کا حکم بھی یہی ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ اور سب مل کر اللہ کی ( ھدایت کی ) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور باھم متفرق نہ ھونا ـ } (آل عمران ۔١٠٣ )</p>
<p>{ اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ ( ایسا کرو گے تو ) تم بزدل ھو جاؤ گے اور تمھارا اقبال ( شوکت و رعب ) جاتا رہے گا ـ } ( الانفال ۔٤٦ )</p>
<p>اسی طرح ان کھوکھلے نعروں اور مجرمانہ و محدود جذباتی تعلقات سے بھی بچ کر اس میں جو ھمیشہ کی طرح آج بھی شقاوتوں کا سرچشمہ اور مصائب و مشکلات کا مصدر ہیں اور بردران گرامی ! امت اسلامیہ کی موجودہ حالت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ باھم دیگر نفرتیں ، تفریق و تشتت اور اگر کوئ اتحاد ہے تو اس بات پر کہ ھم ہر مسئلہ میں ٹانگ اڑائیں گے اور ہر موقع پر سبھی ایک دوسرے کے مخالف چلیں گے ـ باھمی پیار و محبت کا رشتہ و ربط ختم ھو چکا ہے سب نے اگر اتفاق کیا ھوا ہے تو اس بات پر کہ کسی مسئلہ پر ھم متفق نہیں ھونگے ـــ حتی کہ اگر کہیں کوئ اللہ کا بندہ امت میں اتحاد و اتفاق کا نظریہ لے کر اٹھتا ہے تو کئ دوسرے اسکے خلاف اٹھ کھڑے ھوت ہیں اور وہ اختلاف کرتے وقت یہ بھی پیش نظر نہیں رکھتے کہ اس وقت امت اسلامیہ کن مصائب و مشکلات سے گزر رہی ہے اور اس روز افزوں و گرگوں عالم میں کن کن تلخیوں سے دوچار ہے اور تاریخ کے ایسے مشکل دورسے گزر رہی ہے کہ جسکے انجام کو اللہ کے سوا کوئ نہیں جانتا ـ</p>
<p>استعمار کے دست و بازو :</p>
<p>جب ہر طرف سے ھذیان بکنے ،کذب بیان کرنے اور بہتان طرازی کو اپنی ایک عادت ثانیہ بنانے کا دور دورہ ھو جاتا ہے  تو ایسے میں اللہ تعالی اپنے کسی بندے کو اشارہ دے دیتا ہے جو اٹھے اور حق و صداقت کے دین کی مدد و نصرت کا فریضہ ادا کرے اور اللہ کی مخلوق کے سامنے پوری جرات و حق پسندی کے ساتھ واضح کرے کہ یہ اسلام پر طعن و تشنیع کرنے والے ھمارے ھم زبان دراصل مغرب کے ٹاؤٹ اور استعماری قوتوں کے ہی دست و بازو ہیں اور یہی اللہ کا نظام آ رہا ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p> { بلکہ ھم حق و سچ کو باطل و جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ھو جاتا ہے ـ }  ( الانبیاء ۔١٨ )</p>
<p>قائدین بلاد سے خطاب :</p>
<p>اے امت اسلامیہ کے قائدین و حکام اور لیڈران !</p>
<p>نیا ہجری سال شروع ھو چکا ہے اور دنیا خوف و ہراس میں مبتلا ہے اور ھمارے کئ علاقے جل رہے ہیں اورانکے امن و استقرار  کی رسی میں سخت قلق و اضطراب پایا جاتا ہے ـ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرت سے عبرت حاصل کرو ، اس سے اتحاد و اتفاق باھمی مدد و نصرت اور عقلمندانہ منصوبہ بندی کا سبق حاصل کرو ، تاکہ امت اس پستی سے اٹھ کر ترقی و عظمت حاصل کرے اور صہیونی حکومت کی ظلمات و دہشت گردی سے اپنے مقامات مقدسہ کا دفاع کرنے کے قابل ھو سکے اور مصائب سے گلوخلاصی کرے جن سے آفاق بھرے پڑے ہیں اور یہ بات آپ لوگوں کے ذھن سے ہرگز غائب نہ ھو کہ دشمن تو دشمن ہی ہیں بلکہ بڑے بدترین دشمن ہیں اور انکے چیلنج بھی اب عام سے نہیں بلکہ وہ بڑے شد و مد سے کر رہے ہیں ـ</p>
<p>اے بشریت کے اھل عقل و دانش ! اے انسانیت کے اھل شرف و شرافت اس بات کا یقین کۓ بغیر کوئ چارہ ہی نہیں کہ رسالتوں اور شریعتوں کی اتباع اور دنیا کے اھل عقل و دانش سب یہی چاہتے ہیں کہ دائمی امن و استقرار اور سلامتی کا راج ھو اور وہ ضبط نفس کی دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ بلاد شرق کے ممالک جنگوں کے خطرات اور حوادث و مصائب کے نتائج بد سے بچ رہیں ــ بقول شاعر ـ</p>
<p>جنگ تو وہی ہے جو تم اپنی آنکھ سے دیکھ چکے اور اسکے اثرات بد کا مزہ چکھ چکے ھو لھذا بہادروں کی بہادری دکھلانے کے موقع سے پہلے پہلے راۓ مشورہ کرکے مذاکرات سے مسائل کو حل کر لو ـ</p>
<p>علماء امت سے خطاب :</p>
<p>اے علماء کرام ! آپ لوگ آسمانی وحی کے امین ہیں اپنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں اس مرکزی نقطہ پر بھرپور محنت کرو کہ اتحاد و اتفاق کو اپنانا اور تفرقہ و اختلاف کو اپنے ذھنوں سے نکال پھینکنا واجب ہے اور امت کو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنانے کی ترغیب دلاؤ اور امت کو نصوص قرآن و سنت ، شرعی قواعد اور آداب اسلامیہ و مقاصد عامہ کی روشنی میں سہولت و آسانی کی راہیں مہیا کریں ـ اپنے دین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف کی جانے والی گستاخیوں کا زبان و بیان سے دفاع کرنے میں خوب محنت کرو نئ نسل کے نوجوانوں کو رفق و نرمی اور میانہ روی کے میدانوں کی طرف توجہ دلائیں اور انھیں اصل علم ( کتاب و سنت ) سیکھنے کی طرف ترغیب دلائیں ـ آج امت کے افراد کی کثیر تعداد کے دلوں میں خوف و ہراس ، قلق و اضطراب اور مایوسی و ناامیدی چھائ ھوئ ہے ـ انھیں اپنے رب کی ذات سے امیدیں وابستہ کرنے کی تعلیم  دیں اور بتائيں کہ دنیا میں کوئ طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ھو ـ اللہ کی طاقت اور اسکا ہاتھ اسکے بھی اوپر ہے ـ</p>
<p>دعاۃ و مبلغین سے خطاب :</p>
<p>اے دعاۃ و مبلغین اسلام ! وہ اخلاق و آداب ، وہ فضائل اعمال اور اعلی مثالیں جو مٹ چکی ہیں ، انھیں تازہ کریں ، اور معاشرے کے افراد کو ربط و تعلق ، تعاون و تفاھیم اور باھمی رحم و کرم سکھلائيں اور اپنے دلوں کو کتاب و سنت سے تمسک و تعلق پر جمع کریں ، دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی اور ہر دو جہان میں توفیق خیر پاؤ گۓ ـ اے داعیان اسلام ! کیا ابھی تک وہمی و خیالی معرکوں کیلۓ اٹھائ گئ تلواروں کو واپس نیاموں میں ڈالنے کا وقت نہیں آیا جو کہ اپنے ہی پیاروں اور بھائ لوگوں کے سینوں پر تانی گئ ہیں ـ</p>
<p>اے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے شعبے میں کام کرنے والو ! اللہ نے تمھاری محنتوں میں بڑی برکت فرمائ ہے ـ آپ لوگ امت کیلۓ بہترین آہنی لباس ہیں ـ اپنے  کام اور ذمہ داری و فرائض منصبی کی ادائیگی میں شرعی طریقوں اور صحیح و معقول آداب کا خیال رکھیں تاکہ آپ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی صحیح روپ ، روشن تصویر لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں ـ</p>
<p>مربی حضرات سے خطاب :</p>
<p>اے تعلیم و تربیت کے میدان میں کام کرنے والی مربی حضرات !</p>
<p>خاتون مسلم کی پاکدامنی اور طہارت و پاکیزی کی بلندیوں تک پہنچانے میں خلوص کے ساتھ کام کریں اور خاص طور پر نوجوان نسل پر بھرپور توجہ دو ـ انکے دلوں میں دین کی حقیقت اور امید کی کرن پیدا کرو اور انکے سینوں میں عزم و ھمت اور عروج و ترقیوں کی جوت جگاؤ اور تڑپ پیدا کرو ـ اپنی تربیتی گفتگووں میں انھیں اپنے خالق و مالک کی مرضی کے اعمال کی طرف ترغیب دلاؤ اور میانہ روی کے منھج کا التزام کرو ،غلو اور افراط و تفریط کا رویہ نہ اپناؤ اور اسلام کی وسعت و نرمی ، فراخی و کشائش اور تمام اخلاق و اقدار اور اچھے کردار و عادات کی تعلیم و تربیت دو جن کی طرف نے دعوت دی ہے ، اللہ سے دعاء ہے کہ وہ حالات کی اصلاح کرے اور حال و مستقبل کی بھلائیوں کے کام کرنے کی توفیق سے نوازے ، وہ صاحب جود و کرم اورعطا و نوازشات ہے ـ</p>
<p>اللہ والو ! اللہ کا خوف و تقوی اختیار کرو اور یہ بات ذھن میں رکھو کہ یہ عمر بڑی تیزی سے گزر رہی ہے یہ ھمیشہ باقی رہنے والی چیز نہیں ہے ـ تقوی کو اپنا زاد راہ بناؤ ـ آپ کے حالات درست ھو جائیں گے اور قبولیت کی بلندیوں پر پہنچ کر باعث خوشنودی ھو جائيں گے ـ</p>
<p>توبہ اور عمل صالح :</p>
<p> برادران اسلام ! آپ کا سال نو شروع ھو گیا ہے ـ اس میں جلیل القدر نیک اعمال سر انجام دینے کیلۓ کمر بستہ ھو جائيں ـ اللہ اس شخص پر رحم فرماۓ جو اپنے آپ کا محاسبہ کرے اور ان تمام افعال سے توبہ کر لے جو قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا باعث بننے والے ہیں ـ</p>
<p> عظمت و قت :</p>
<p>برادران ایمان ! اسلام وقت اور زمانے کی عظمت بیان کرتا اور اسے ایمان و تقوی کی صفات کے ساتھ جوڑتا ہے ـ جناچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں اور اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بنایا ہے ان سب میں ان لوگوں کیلۓ دلائل ہیں جو اللہ کا خوف و تقوی رکھتے ہیں ـ } ( یونس ۔٦ )</p>
<p>دنیوی زندگي :</p>
<p> جن لوگوں نے اس دنیوی زندگی کو رفعتوں اور ترقیوں کی طرف جاۓ عبور اور اپنی درستگی و استقامت کا ہل بنایا اس کے لۓ نیکیاں کمائیں اور گناہ و نافرمانیوں سے دور رہا اور امت کی ترقی و عظمت اور قیادت و سیادت کے دن دیکھنا چاہیں انکے لۓ ضروری ہے کہ وہ اس کے خلاف اٹھنے والے طوفانوں کا رخ موڑیں ، شکوک و شبہات کا رد کریں ، اور ہر طرح کے حملوں سے امت اسلامیہ کا دفاع کریں ـ</p>
<p> مجنون دنیا :</p>
<p> البتہ وہ لوگ جو دنیوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے اور اسی میں مگن و گم ھو کر رہ گۓ ہیں ـ انھیں عروج و ترقی ، علو  ھمتی اور حصول کمال سے نفرت ہے وہ  ـ اللہ کی پناہ ــ ذلت و رسوائ سے دوچار ھو چکے ہیں ـ ایسے لوگ  خسران و نقصان کے گھپ اندھیروں میں ڈالے جا چکے ہیں ـ انھیں جب قیامت کے دن پوچھا جاۓ گا تو اپنی اس حرکت پر جواب دینے سے بھی وہ گھبرائیں گے ، ایسے ہی ظالموں کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>{ جنھوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے پلٹتے ہیں } ( الشعراء ۔٢٢٧ )</p>
<p> سعودی عرب اور دفاع حق :</p>
<p> وہ نعمتیں جن پر انسان اللہ کے شکر کا صحیح معنوں میں حق ہی ادا نہیں کر سکتا ان میں سے ہی یہ بھی ہے کہ دنیا ان حرمین شریفین والے ملک کے حکام و عوام کو اللہ کے فضل و کرم سے سالہا سال گزرنے پر کبھی بھی بالکل ہرگز اور ہرگز ایسا نہیں پائيں گے کہ وہ حق ، عدل و انصاف ، اسلام اور امن و سلامتی کے دفاع کے میدانوں سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائيں ـ</p>
<p> عظمت محرم اور صوم عاشوراء :</p>
<p> برادران دین ! اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ  اس نے ھمیں اس نۓ سال کے آغاز تک پہنچایا ہے ـ شائد یہ ھمارے اعمال صالحہ کیلۓ جد و جہد کا نقظہ آغاز ھو جاۓ ـ اور اس بات پر بھی اللہ کا احسان مانو کہ اس نے ھمیں سال کا آغاز کرنے والا یہ ماہ دیکھنا نصیب فرمایا ہے جو کہ اللہ کا حرمت والا مہینہ محرم الحرام ہے ـ اس ماہ کی تمام مہینوں کے مابین بڑی عظمت ہے ، اور اس ماہ کے دنوں میں سے بھی سب سے افضل دن یوم عاشوراء ( ١٠ محرم ) ہے جس میں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون اور اس  کی فوج پر فتح و نصرت عطا فرمائ تھی ــ انھوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ھوۓ اس دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دلائ تھی چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>{ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس ایک روزے کے عوض گزشتہ ایک سال کے گناھوں کو مٹا دے گا ـ } ( صحیح مسلم )</p>
<p> عنیمت موقع :</p>
<p>  اے اللہ کے بندو ! اس اجر عظیم کو پانے کیلۓ اس موقع کو غنیمت سمجھو کہ اس میں انبیاء کرام علہیم الصلوۃ و السلام کی اقتداء و پیروی ہے ـ اسکے ساتھ ہی یوم عاشوراء سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھ لیں ـ بشارتیں ہیں ان لوگوں کیلۓ جنھوں اس سال نو میں جد و جہد کرنے کیلۓ کمر کس لی اور قرب الہی حاصل کرنے کیلۓ نیکیاں کمانے کے میدان میں اتر آۓ ـ ان کمر بستہ لوگوں کی فوز و فلاح کے کیا کہنے ـ</p>
<p> اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے ھمیں بھی ان لوگوں میں  سے بناۓ ـ</p>
<p> ( سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین  والحمد للہ رب العالمین )</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شرک بتاں اور مجسموں سے اجتناب</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Jan 2007 12:14:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلہ الشیخ / سعود الشریم حمد و ثناء کے بعد پتھروں سے صنم تراشی و پرستی لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روۓ زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلہ الشیخ /  سعود الشریم</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد<br />
پتھروں سے صنم تراشی و پرستی</p>
<p>لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روۓ زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں کا تعلق روحانی دنیا اور نورالہی سے منقطع ھو چکا تھا یہی وجہ تھی کہ ان پر عقائد و قوانین اور نفس پرستی کے اندھیرے چھاۓ ھوۓ تھے ایسے ظلمات اور اندھیرے کہ جن میں کوئ عقلمند بھی اتنی سی روشنی بھی نہیں پا رہا تھا کہ جس کی مدد سے وہ راہ ھدایت پر چل سکے یا ضلالت و گمراہی سے نجات پا سکے ، بلکہ وہ سخت گھٹاٹوپ اندھیرے تھے کہ تہ بہ تہ ایک دوسرے پر چڑھے ھوۓ تھے ۔ ایسے اندھیرے کہ جن میں اس وقت کے لوگ زندگی کی راھوں پر ایک شتر بے مہار کی طرح چلے جا رہے تھے ۔ ایسے ظلمات و اندھیرے کہ انھوں نے ان لوگوں کی عقول کو اس حد تک پہونچا رکھا تھا کہ وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لۓ معبود تراشتے اور پھر انکی عبادت کرنے کے لۓ انکے سامنے سجدہ ریز ھو جاتے تھے حالانکہ انھیں اور ان ہاتھوں کے بناۓ ھوۓ معبودان باطلہ کا خالق صرف اللہ تعالی ہے جو کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے مگر وہ اندھے بہرے ، گمراہ اور بدراہ ھو گۓ ۔<br />
پھر انکی یہ گمراہی و ضلالت اس حد تک گر گئ کہ انھوں نے پتھروں ، درختوں اور طرح طرح کے گھڑے ھوۓ اور کھڑے یا پڑھے بتوں کو پوجنا شروع کردیا اور انکے سامنے جھکنے لگے ۔ انھیں اس روش پر لگانے والی چیز ان میں انسانیت کا فقدان و نایابی ، ان میں عقل و فکر کا قحط و افلاس اور ساتھ ہی انکی فطرت کی خود کشی تھی ۔ اب وہ انسان نہیں  محض انسانی جسم و شکل کی ایک چیز بن کر رہ گۓ تھے ۔<br />
<span id="more-353"></span><br />
صالحین قوم نوح کی  پرستش</p>
<p>اس زمانے کے عقلی قحط اور صنم پرستی وغیرہ کے سلسلہ میں ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ھوۓ ۔ حبر امت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :<br />
{ وہ بت جنھیں قوم نوح علیہ السلام نے پوجا کرتی تھی اب وہ عربوں میں پوجے جا رہے تھے ۔ ود نام کا بت دومۃ الجندل کے لوگوں بنی کلب کے پاس تھا اور وہ اسکی پوجا کرتے تھے ،  [سواع ] کو قبیلۂ ھذیل کے لوگ پوجتے تھے ۔ [ یغوث ] بنی مراد سے پرستش کر وارہا تھا ، سباء کے قریب واقع بالجرف کے قبائل بنی قطیف بھی یغوث ہی کے پجاری تھے ۔<br />
[ یعوق ] کی پوجا بنی ھمدان میں ھو رھی تھی جبکہ [ نسر ] کی عبادت و پوجا حمیری قبائل آل ذی کلاع نے اختیار کر رکھی تھی ۔ یہ در اصل حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کچھ نیک و صالح لوگوں کے نام تھے ۔ جب عقائد و عقول کے لحاظ سے وہ ھلاک ھو گۓ تو شیطان نے انکے دماغ میں ڈال دیا کہ انھیں اپنی مجلسوں میں معبود بنا کر نصب کر لو اور ا ن بتوں کو صالحین قوم نوح کے نام دے دو تو انھوں نے ایسا ہی کیا ۔ اور جب وہ  لوگ ھلاک ھو گۓ اور علم اٹھ گیا تو ان بتوں کی پوجا پاٹ شروع ھو گئ ۔  ( صحیح بخاری )<br />
اللہ کے بندو ! صالحین قوم نوح علیہ السلام کی عبادت و پوجا شروع ھونے سے قبل اھل عرب حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کی ملت و دین پر تھے ۔ وقت گزرتا گیا ، علم کم ھوتا گیا ، علماء فوت ھو گۓ اور عربوں میں پھرسے ازسرنو بت پرستی نے قوم گاڑ لۓ اور ملت ابراھیمی منسوخ ھو گئ اسے بدل ڈالاگیا  ۔</p>
<p>اس بت پرستی کی شقاوت و بد بختی کا موجد ( مکہ کا ایک شخص ) ابو خزاعہ عمرو بن لحی تھا ۔ وہ ہی تھا جس نے بتوں کی پوجا شروع کی ، بتوں کے نام نذر کرکےجانوروں کو کھلا چھوڑنا شروع کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ سورج گرھن لگنے پر نماز کسوف پڑھانے کے دوران اسے جہنم میں دیکھا کہ وہ جھنم کی آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچتا ھوا چل رہا ہے ۔ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام جانوروں کو چھوڑنا اور انکی نذریں ماننا (اور عبادت کرنا ) شروع کیا تھا اور اسی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے دین حنیف کو بدلا تھا } ( صحیح مسلم )</p>
<p>امام ابن کثیر لکھتے ہیں :</p>
<p>{ عمروبن لحی وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کے دین کو بدلا ، حجاز میں بتوں کو داخل کیا اور بھیڑ بکریوں کے چرواھوں کو انکی عبادت اور ان سے تقرب حاصل کرنے پر لگایا تھا ۔</p>
<p>تخلیق جن و انس کا مقصد</p>
<p>مسلمانو ! اللہ تعالی نے جن و انس دونوں کو پیدا کیا تاکہ وہ زمین پر صرف اکیلے اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔ اللہ تعالی نے ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو روشن شریعت دے کر مبعوث فرمایا ۔ وہ شریعت جس میں وہ تمام قواعد و ضوابط موجود ہیں جو شارع حکیم نے مقرر فرماۓ ہیں اور انہی میں سے ہی وہ پانچ ضروری اموربھی ہیں جن کے تحفظ اور نگرانی و نگہبانی کے حکم پرانبیاء و رسل علیھم السلام کا اجماع و اتفاق ہے اور وہ پانچ چیزیں یہ ہیں ۔<br />
دین ، جان ، مال ، آبرو ، عقل ، اور ہر وہ فساد و بگاڑ جو ان پانچ چیزوں میں سے کسی بھی چيز کی طرف سے در آنے لگے تو اسکا دفع دور کرنا واجب ہے ، کہ وہ برائ جیسے جیسے پھیلتی جاۓ گی اس کے موجد کو زندگی میں اور موت کے بعد بھی دوسروں کی برائ و گناہ کا حصہ پہونچتا رہے گا ، جیسا کہ عمروبن لحی کا معاملہ ہے جس نے حجاز مقدس میں بت داخل کۓ اور دین و ملت ابراھیم کو بدل ڈالا ۔</p>
<p>اور مذکور پانچ ضروری امور میں سے سب سے پہلے نمبر پر آنے والی چیز دین و عقیدہ اور توحید باری تعالی کی ضرورت ہے ۔</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بت شکنی</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستے کو واضح و روشن کر دیا ہے اور ایک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہی اللہ تعالی نے جزیرہء عرب کو وثنیت پرستی ، تماثیل پرستی اور صنم و بت پرستی جیسی تمام غلاظتوں سے پاک کر دیا ہے ۔ عربوں کے سب سے بڑے بت کا نام [ ھبل ] تھا اور وہ مکہ مکرمہ کی سب سے بالائ جگہ پر رکھا ھوا تھا اور اسکے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ھوۓ تھے جوکہ سب کے سب ہی پتھر سے تراشے ھوۓ تھے ۔ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دخول کعبہ کے وقت اپنے دست مبارک سے ان بتوں کو توڑا اور انکی جھوٹی شان و شوکت پر کاری ضرب لگاتے ھوۓ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کریم میں نازل شدہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھتے جارہے تھے ۔<br />
[ اور کہہ ( اعلان کر ) دیجیۓ کہ حق آ گیا اور باطل نابود ھو گیا ، یقینا باطل تھا بھی نیست و نابود ھونے والا ] ( بنی اسرائیل ۔١٨ )</p>
<p>امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:</p>
<p>[ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب غلبہ حاصل ھو جاۓ تو مشرکین کے نصب کردہ تمام اوثان و اصنام اور بتوں کو توڑ دینا چاہیۓ ۔ ]</p>
<p>امام ابن منذر کہتے ہیں :</p>
<p>[ اصنام اور بتوں کے حکم میں ہی وہ مجسمے ( اسٹیچوز)بھی داخل ہیں جو قیمتی پتھروں ، لکڑی یا ایسی ہی کسی دوسری چیز سے بنا کر سجاۓ گۓ ھوں ۔ ]<br />
اللہ کے بندو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کعبہ کے گرد مشرکوں کے رکھے ھوۓ بت توڑے جبکہ اس وقت بعض صحابہ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے :<br />
[ اے عزی ! ھم تیری عبادت کا انکار کرتے ہیں ، تجھ سے کسی قسم کی بخشش و مدد ہرگز طلب نہیں کرتے کیونکہ میں دیکھ رہا ھوں کہ اللہ تعالی نے تجھے ذلیل و رسوا کر دیا ہے ۔ ]</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ مکرمہ کے ارگرد مختلف علاقوں میں نصب کردہ بتوں کو توڑنے کیلۓ اپنے صحابہ کرام کے دستے بھیجے اور مکہ مکرمہ میں ایک منادی نے یہ اعلان کر دیا :<br />
{ جو شخص اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے گھر میں پڑے بت کو توڑ دے ۔ }</p>
<p>عزی کی سرکوبی</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ عزی نامی بت مسمار کریں۔ انھوں نے اسے مسمار کیا اور واپس آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےان سے پوچھا ؟ { کیا تم نے کچھ دیکھا : } [ تو انھوں نے عرض کیا : نہیں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : { تب پھر تم نے اسے صحیح طور پر مسمار ہی  نہیں کیا ، دوبارہ جاؤ اور اسے خوب مسمار کر کے آ‎ؤ ۔ }<br />
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ واپس گے انکا رنگ اور تیور بدلے ھوۓ تھے ، انھوں نے اپنی تلوار سونت رکھی تھی ۔ ایک کالے رنگ کی ننگے بدن اور بکھرے ھوۓ بالوں والی عورت حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی راہ میں آڑے آئ ۔ عزی کے دربار کے خادم و گدی نشین نے اس بڑھیا کو  بچانے کے لۓ چلانا شروع کیا مـگر خالد رضی اللہ عنہ نے اتنے زور سے اس بڑھیا پر تلوار کا وار کیا کہ اسے دولخت کر دیا ۔ اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ھو کر اس بڑھیا کا قصہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :<br />
{ ہاں ! یہی عزی تھی ۔ اور اب وہ تمھارے ملک میں پوجے جانے سے مکمل طور پر مایوس ھو گئ ہے ۔ } ( سنن نسائ )</p>
<p>١۔ سواع کی تباہی :</p>
<p>اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلۂ بنی ھذیل کے بت [ سواع ] کی تباہی کیلۓ بھیجا ۔ جب وہ سواع کے دربار پر پہونچے تو گدی نشین آڑے آیا ۔ اس نے کہا : تم ھمارے بت کو تباہ و برباد نہیں کر سکتے ۔ تمھاری مزاحمت اور اسکا دفاع کیا جاۓ گا ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سوا‏ع کے قریب گۓ اور اسے پاش پاش کر دیا اور بعد میں وہ سجادہ نشین خود بھی مسلمان ھو گیا ۔</p>
<p>٢۔  منات کی بربادی :</p>
<p>پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ منات کو ٹھکانے لگائیں ۔ وہ گۓ اور اسے ریزہ ریزہ کر کے آۓ ۔</p>
<p>٣۔  ذوالکفین کا گھیرا‌ؤ جلا‌‎ؤ :</p>
<p>جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف جانے کا ارادہ فرمایا تو پہلے وہاں حضرت طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہاں کے بت ( مزار ) ذوالکفین کو مٹائیں ، وہ گۓ اور انھوں نے جا کر اس دربار و مزار کو تہس نہس کر دیا ، انھوں نے مشرکین کے اس باطل معبود کے منہ میں آگ بھرتے ھوۓ یہ اشعار پڑھے<br />
[ اے ذوالکفین ! ھم تیرے پجاری نہیں ہیں ، ھماری ( حق کی ) میلاد تو تیری میلاد سے بھی پہلے کی ہے ۔ یہ دیکھو ! میں نے تیرے منہ میں آگ بھر دی ہے اور تیرے دل کو جلا دیا ہے ۔</p>
<p>٤۔  فلس کو مسمار کروانا :</p>
<p>پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فلس نامی بت کے دربار کی طرف بھیجا ۔ یہ قبیلہ بنی طیء کا بت تھا ۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس فلس کے دربار کا ستیاناس کیا ۔</p>
<p>٥۔ ذوالخلصہ کا ستیاناس کروانا :</p>
<p>اس طرح یمن میں بھی ایک دربار بڑا مشہور و معروف تھا جہاں ذوالخلصہ نامی بت رکھا ھوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبداللہ بن جریر البجلی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر اسکا ستیاناس کروا دیا ۔</p>
<p>تجدید ملت ابراھیمی اور ضرب کلیم</p>
<p>اسی طرح تمام بتوں کو پاش پاش کر وا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ملت ابراھیمی اور دین انبیاء کی تجدید کی اور پھر سے توحید کا پرچم لہرانے لگا ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا مانگتے ھوۓ کہا تھا :<br />
{اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا ۔ }  ( ابراھیم ۔٣٥ )</p>
<p>اور اپنی قوم سے مخاطب ھو کر انھوں نے فرمایا :<br />
{ اور اللہ کی قسم ! میں تمھارے ان معبودان باطلہ کے ساتھ ، جب تم چلے جاؤ گے ، تو ایک چال چلوں گا }( انبیاء ۔٥٧ )<br />
پورے عرب میں جگہ جگہ پوجے جانے والے بتوں کے درباروں مزاروں کو تہہ و بالا  کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت موسی علیہ السلام والی ضرب کلیم کی یاد بھی تازہ کر دی کیونکہ موسی علیہ السلام نے سامری کے بناۓ ھو ۓ بت ( بچھڑے ) کا فسوں توڑنے کیلۓ اس سے مخاطب ھو کر فرمایا تھا :<br />
{ اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جسکا تو اعتکاف کۓ ھوۓ تھا کہ ھم اسے جلا کر ریزہ ریزہ کرکے دریابرد کر دیں گے ۔ } ( طہ ۔٩٧ )</p>
<p>عام مجسموں ( شوپیس ) کا حکم</p>
<p> مسلمانو ! اصنام و تماثیل اور بتوں کے بارے میں قولا و فعلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو جو موقف اختیار فرمایا وہ بڑا ہی نمایاں تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ان بتوں کے بارے میں ہی یہ موقف اپنانے پر بس نہیں کیا کہ جنکی اللہ کے سوا عبادت و پوجا کی جاتی تھی اور جنکی اسی طرح ہی تعظیم کی جایا کرتی تھی جو کہ صرف اللہ تعالی کا حق ہے بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے  گھروں میں رکھے اور سنبھالے جانے والے مجسموں یا تماثیل کے بارے میں بھی واضح ھدایات دے رکھی ہیں  جنکی اگر چہ پوجا نہیں کی جاتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے بارے میں بھی فرمایا ہے :<br />
{میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آۓ اور انھوں نے فرمایا :<br />
{ میں کل آپ کے پاس آیا تھا مگر میں آپ کے گھر میں اس لۓ داخل نہ ھوا کہ گھر کے باھر دروازے پر پڑی تماثیل ( مجسموں ) نے مجھے روک دیا تھا  }( ابو داؤد ، ترمذی ، عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ )</p>
<p>اسی حدیث میں یہ بھی ہے مذکور ہے  کہ جبرائیل علیہ السلام  نے مجھے حکم دیا کہ ان مجسموں کے سر کاٹ دیں تاکہ یہ کٹے ھوۓ درخت کے تنے کی طرح رہ جائیں ۔<br />
اللہ کے بندو ! کوئ عقلمند یہ تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ تماثیل و مجسمیں عبادت یا تعظیم کے لۓ رکھے ھوۓ ھوں ۔ ہرگز نہیں بات محض اتنی سی تھی کہ وہ دروازے کے باھر پڑے ھوۓ تھے ۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو وہ شخصیت ہیں کہ حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا :</p>
<p>{ اللہ تعالی نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے ؟ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا :<br />
اللہ تعالی نے مجھے صلہ رحمی کرنے اور اس کا حکم دینے ، بتوں کو توڑنے ، اللہ کی توحید کا علم بلند کرنے  اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی تعلیمات دے کر مبعوث فرمایا ہے ۔ } ( صحیح مسلم )</p>
<p>صحابہ کرام اور آئمۂ دین کا طرز عمل</p>
<p>١۔  اللہ والو !اس طرز عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیز آئمۂ دین رحمھم اللہ نے بھی اپنایا تھا ۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا :<br />
[ کیا میں تمھیں بھی اس کام کیلۓ نہ بھیجوں جس کام کیلۓ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھیجا تھا۔</p>
<p>( پھر فرمایا: ) کوئ تمثال و بت نہ چھوڑو سب کو مسمار کر دو ، جو کوئ بلند و بالا قبر ( مزار و دربار ) دیکھو اسے گراکر برابر کر دو ۔ ]  ( صحیح مسلم )<br />
اھل علم کے یہاں یہ بات طے ہے کہ اس جگہ کلمۂ تمثال نکرہ اور نہی کے سیاق میں آیا ہے ۔ لھذا یہ ہر تمثال کو شامل ہے وہ چاہے کسی بھی قسم کی کیوں نہ ھو  ، چاہے وہ عبادت کیلۓ بت بنا کر رکھی گئ ھو ۔ یا چاہے وہ محض زینت و ڈیکوریشن کیلۓ بطور شوپیس رکھی ھوئ ھو ۔</p>
<p>٢۔  امام محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب المغازی میں حضرت ابوالعالیہ سے روایت بیان کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں : [ جب ھم نے تستر کو فتح کیا تو ھم نے دیکھا کہ ہرمزان کے گھر میں چارپائ پر ایک مردہ آدمی پڑا ھے جسکے پاس ہی اسکا مصحف بھی رکھا ہے ۔ ھم اس آدمی کو اٹھاکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لۓ گۓ آگے چل کر وہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : تم نے اس آدمی کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ انھوں نے کہا : ھم نے اسکے لۓ دن کے وقت تیرہ مختلف قبریں کھودیں جب رات ھوئ تو ھم نے اسے کسی ایک قبر میں دفن کر دیا اور تمام قبروں پر مٹی برابر  کر دی تاکہ لوگوں کو اسکے بارے میں اندھیرے میں رکھا جا سکے تاکہ وہ اسکی قبر نہ کھود سکیں ۔ ایک آدمی نے کہا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ لکھتے ہیں : اس شخص کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جب کبھی قحط سالی ھوتی اور بارش نہ برستی تو لوگ اس شخص کی چار پائ باھر نکالتے تھے جسکے نتیجہ میں بارش ھو جاتی تھی ۔</p>
<p>٣۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اس قصہ پر حاشیہ و تعلیق چڑھاتے ھوۓ لکھتے ہیں : اس قصہ میں وہی رویہ مذکور ھوا ہے جو انصار و مھاجرین صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر کو لوگوں سے اندھیرے میں رکھنے کیلۓ ان کی تدفین پر کیا تھا ۔ تا کہ لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ھوں اور دعائیں کرنے کیلۓ یا ان سے تبرک حاصل کرنے کیلۓ انکی قبر کو زیارت گاہ ( مزار ) نہ بنا لیں ، اور اگر متاخرین کو انکی قبر کا پتہ چل جاۓ تو وہ انکی قبر کی زیارت میں سبقت لے جانے کیلۓ باھم شمشیرزنی بھی کرتے ۔</p>
<p>٤۔  حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ابن سعد نے (طبقات میں ) صحیح سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ لوگ اس درخت کے پاس آتے ہیں جس کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےاپنے ( چودہ سو ) صحابہ کرام سے بیعت ( رضوان ) لی تھی اور اسکے پاس آکر نمازیں پڑھتے ہیں ۔ اس پر پہلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس فعل سے ڈرایا دھمکایا اور پھر بالآخر اسے کاٹ دینے کا حکم صادر فرما دیا اور انکے حکم سے اس درخت کو واقعی کاٹ دیا گیا ۔<br />
توحید باری تعالی کے تحفظ اور شرک کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کرنےکیلۓ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور پھر آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس طرح کے انسدادی مواقف اور حفاظتی تدابیر اختیار کیں کیونکہ کوئ بدعت جب وجود میں آ جاۓ اور وہ لوگوں کو قرآن و سنت کے احکام و تقاضوں سے پھیرنے والی بھی بن جاۓ اور اس کے لۓ دلائل نما شبہات و اعتراضات بھی گھڑلۓ گۓ ھوں اور کئ باتیں جوڑ کر اسے ثابت کرنے کی کوشش کر لی گئ ھو تو پھر وہ بدعت بھی ایسی شکل اختیار کرنے لگتی ہے جیسے کہ وہ کوئ واقعی چیز اور مسلمات میں سے کچھ ھو جسکا تدارک و دفیعہ بڑی مشکلات کے بعد ہی ممکن ھو سکے ۔</p>
<p>بت سازی و بت پرستی کا آغاز</p>
<p>اور اس بات کی دلیل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا فاکہی وغیرہ کے حوالے سے نقل کردہ کلام ہے جس میں عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے بت سازی اور ان کی پرستش کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے عھد میں ھوا ۔ اس طرح بچے اپنے والدین سے نیکی و حسن سلوک کیا کرتے تھے کہ انکے بت بنا بنا کر رکھتے ۔ اور اسکا آغاز انکے یہاں بھی یوں ھوا کہ ایک شخص مر گیا ۔ اسکے بیٹے نے اس کی وفات پر بہت جزع و فزع اور غم کیا اور اسے صبر نہ آیا ۔ بالآخراس نے  والد کی شکل کی ایک تمثیل یا مورتی بنا کر رکھ لی ۔ جب کبھی اسے دیکھنے کا شوق آتا، اسکی مورتی یا مجسمے کو دیکھ کر دل بھلا لیا کرتا تھا ۔ پھر جب وہ مرا تو اسکے ساتھ اسکے بیٹے نے ویسے ہی کیا جیسے اس نے اپنے باپ کے ساتھ کیا تھا پھر یہ ایک رسم ہی چل نکلی ۔ بالآخر جب ان میں سے بڑے ایک ایک کرکے مر گۓ تو انکی اولاد نے کہا کہ ھمارے آباء و اجداد نے انھیں اسی لۓ بنایا تھا کہ یہ انکے معبود تھے لھذا انھوں نے انکی عبادت شروع کر دی ۔</p>
<p>دورثقافت اور شرف ؟</p>
<p>مسلمانو !  آج کوئ شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس مادی تھذیبی دور گلوبلا‌‌ئزیشن کے کلچر اور ثقافتی زمانے اور سیال قلم کے مالک لوگوں کی زندگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ بتوں کی پرستش کی غلاظت اور انکی تعظیم کرنے کانظریہ انکے معاشروں میں پھیل سکے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ اب بھی ممکن ہے اور اس میں تعجب والی بھی کوئ بات نہیں کیونکہ جب علم حقیقی کا فقدان ھو اور دلوں میں دین کی اھمیت کم ھو جاۓ تو یہ سب کچھ اب بھی ممکن ہے اور اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی اللہ تعالی کے سوا کتنے ہی معبودان باطلہ موجود ہیں کوئ بت کی شکل میں ہے کوئ نصب کیا ھوا ہے کوئ چلتے پھرتے جاندار کی شکل میں ہے ، اور یہ بات کسی صاحب عقل و دانش اور اھل بصیرت و نظر سے پوشیدہ ہے ، اور پھر اس سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ پہلے مشرکین عھد جاھلیت میں بھی ھماری طرح ہی عقل تھی ، انکے بھی ھماری طرح ہی جسم تھے ۔ وہ بھی منہ میں زبان بلکہ فصیح رکھتے تھے اور عربوں کے مابین انھیں قیادت و سیادت حاصل تھی ، اور سارے اس بات کا بھی اعتراف و اقرار کرتے تھے کہ خالق و را‌زق اور اس کارخانۂ دنیا کو چلانے والا صرف اللہ تعالی ہی ہے ۔ اسکے باوجود انھوں نے بتوں کی پوجا کی ، انکی تعظیم کی ورنہ پھر ابراھیم علیہ السلام کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اللہ سے دعائیں کرتے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا ۔</p>
<p>شرک کا پھر دور دورہ</p>
<p>اللہ کے بندو ! اس بات کی تاکید اس چیز سے بھی ھو جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت پر اس شرک کی غلاظت کے در آنے سے ڈرے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں بعض لوگوں پر یہ غلاظت آ گرے گی ۔ چنانچہ سنن ابوداؤد میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :<br />
{ اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی جب تک کہ میری امت میں سے بعض قبائل بتوں کی پوجا نہ شروع کر دیں ۔}<br />
بلکہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے :<br />
{ اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی جب تک کہ قبیلۂ دوس کی عورتیں ، ذوالخلصہ نامی بت کے مزار طواف نہ کرنے لگیں گی ۔ }<br />
اور یہ ذوالخلصہ ایک معروف بت ہے جسے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اس وقت پاش پاش کیا تھا جب انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسی حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ یہ بت پرستی جیسے کبھی پہلے رہی یہ ویسے ایک مرتبہ پھر لوٹ آۓ گی ۔ گویا یہ دن وہی ہیں کہ جنھیں اللہ تعالی لوگوں کے درمیاں پھیرتا رہتا ہے ۔ لوگوں میں سے کوئ موحد ہے اور کوئ مشرک ، ان میں سے کوئ تو اللہ تعالی کی تدبیر سے ڈرتا ہے اور کوئ بے خوف پڑا ہے اور {  اللہ کی تدبیر سے صرف وہی لوگ بے خوف رہ سکتے ہیں جو کہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ }<br />
اگر شرک کے دوبارہ لوٹ آنے والی بات نہ ھوتی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس سے ڈرانے کا راز کیا تھا ؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے حکومت توحید کی بنیاد رکھی اور اپنے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شرک کا سر کچل کر رکھ دیا اور اسے بالکل مٹا دیا حتی کہ اپنی وفات کے قریب آخری لمحات حیات میں سکرات الموت کے دوران بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرما گۓ ہیں :</p>
<p>{ اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرماۓ ۔ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ }</p>
<p>اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو خدشہ ھوا کہ یہ مرض شرک کہیں میرے بعد میری امت میں بھی نہ آجاۓ لھذا اس سے ڈراتے ھوۓ فرمایا :</p>
<p>{ میری قبر کو بت نہ بنا دینا کہ اس کی عبادت ھونے لگ جاۓ ۔ } ( مؤطا امام مالک )</p>
<p>امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ اور ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے روایت بیان کی ہے کہ ابراھیم تیمي نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بارے میں جو ارشاد الہی ہے کہ انھوں نے دعا کی :</p>
<p>{ اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچانا کہ ھم بتوں کی پوجا کریں ۔ } ( ابراھیم ۔٣٥)</p>
<p>[ ابراھیم علیہ السلام جیسے موحد و حنیف انسان کے بعد پھر دوسرا کون ہے جو اس آزمائش و بلاء سے بچ سکے ۔ ]</p>
<p>بتوں کی پوجا میں واقع ھونے سے وہی بے خوف ھو سکتا ہے جو انکی حقیقت سے ہی واقف نہ ھو ، نہ کچھ علم شرعی کا مالک ھو اور نہ ہی اس توحید خالص اور شرک سے ممانعت کی ان تعلیمات کو جانتا ھو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آۓ تھے ۔</p>
<p>شیطان اور ترغیب شرک</p>
<p>اس شرک کے میدان میں شیطان کے کردار کا تذکرہ کرتے ھوۓ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :</p>
<p>[ شیطان ھمیشہ قبرپرستوں کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ ان پر مزارات تعمیر کرو اور پھر انھیں ان پر مجاور بن کر بیٹھ جانے کی ترغیب دلاتا ہے ۔ پھر انھیں آہستہ آہستہ اھل قبور کو پکارنے اور انکی عبادت کرنے پر لگا دیتا ہے اور پھر انھیں مکمل بت کی شکل بنا دینے پر اکساتا ہے اور وہ پردے اور قندیلیں لٹکا دیتے ہیں اورجب یہ بات انکے دلوں میں جائز ہی ھو جاتی ہے تو پھر انھیں اس اعتقاد پر مضبوط کرنا شروع کر دیتا ہے کہ جو شخص تمھیں ان کاموں سے روکے وہ ان عالی مرتبہ لوگوں کی شان میں گستاخی کرنے والا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ ان کے کوئ مقام و مرتبہ اور حرمت و قدر نہیں ۔ اب ظاھر ہے کہ ایسے شخص پر تو مشرکین کو بڑا غصہ آتا ہے اور وہ آستین چڑھاکر اس کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ جب اکیلے اللہ تعالی کا ذکر کیا جاۓ تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اورجب اسکے سوا (غیراللہ) کا ذکر کیا جاۓ تو انکے دل کھل اٹھتے اور وہ خوش ھو جاتے ہیں ۔}<br />
(الزمر۔٤٥)</p>
<p>یہ بیماری بہت سارے جاھل اور کتنے ہی ایسے لوگوں کے دلوں تک سرایت کرچکی ہے جو علم دین کی طرف منسوب کۓ جاتے ہیں حتی کہ وہ اھل توحید سے عداوت و دشمنی رکھتے ہیں ۔ انھیں بڑے بڑے بے بنیاد الزام دیتے ہیں اور لوگوں کو ان سے متنفر کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔</p>
<p>صنم و وثن ؟</p>
<p>اللہ کے بندو ! یہ بات بھی ذھن میں رکھیں کہ بعض اھل علم نے اس بات کو طے کیا ہے کہ کبھی صنم و بت کا اطلاق  وثن پر بھی ھوتا ہے اور وثن سے مراد ہر وہ چیز ہے جسکی پوجا و عبادت کی جاۓ وہ چاہے کس شکل میں ھو ۔ اللہ تعالی نے اس سے منع کیا اور فرمایا ہے :</p>
<p>{پس تمھیں اللہ کے سوا پوجی جانے والی چیزوں سے دور رہنا چاہیۓ اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہیۓ ۔}( الحج ۔٣٠ )</p>
<p>بعض لوگوں نے غیراللہ کی عبادت کے مفہوم کو بڑا محدود کردیا ہے اور اس سے مراد صرف پتھروں کی اور بتوں کی عبادت ہی لی ہے ۔ جبکہ یہ انکے اس مسئلہ کے بارے میں سخت جہالت و بے علمی کی علامت ہے، کیونکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا صرف اسی بات میں منحصر نہیں ہے کہ صرف پتھر کے بت کو رکوع و سجدہ کیا جاۓ  بلکہ اس کے محدود فہم کی وضاحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائ ہے : چنانچہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کو یہ ارشاد الہی پڑھتے سنا :</p>
<p>{انھوں نے اپنے پیشواؤں کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا تھا۔} ( التوبہ ۔٣١ )</p>
<p>تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :<br />
[ ھم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔ ] اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>{ کیا تمھارے وہ پیشوا اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار نہ دیتے تھے اور تم انکی اس بات کو مان کر ان چیزوں کو حرام سمجھتے تھے ؟ اور وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دیتے اور تم انھیں حرام مانتے تھے ؟ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟<br />
[ ایسا تو ھم کرتے تھے ۔ ] نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :<br />
{ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ۔ }<br />
( مسنداحمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔ )</p>
<p>اے اللہ ھم ظاھر و باطن تمام فتنوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ھم تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں جبکہ ھم اس جانتے ھوں ، اے اللہ ! ھم اگرکسی چیز کو ان جانے میں تیرے ساتھ شریک بنا لیں تو ھمیں بخش دے تو بڑا بخشنے والا ہے ۔</p>
<p>اسلامیان عالم ! اللہ کا خوف کھاؤ اور یہ بات ذھن نشین کر لو کہ اللہ کے لۓ صرف دین خالص ہی ہے اور ہر مسلمان مرد و زن کیلۓ ضروری ہے کہ وہ اپنے ظاھر و باطن کی خوب تطہیر و صفائ کر لے اور ان امور سے بچ جاۓ جو اسے اکیلے اللہ تعالی کی عبادت کرنے سے پھیر کر شرک پر لگانے والے ہیں ، اسی طرح ھم تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ھم اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کی اطاعت و پیروی کریں ۔ اور انھیں اپنی ذات ، اپنے والدین اور تمام رشتہ داروں پر ترجیح دیں ۔ ایسے ہی تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں کو حسب مقدور بتوں کی پوجا اور انکی عبادت کی غلاظت سے پاک کریں ۔ خصوصا ان چیزوں سے اپنے گھروں کو پاک کریں جو محض زینت کیلۓ شوپیس کے طور پر رکھی گئ ہیں ۔ کیونکہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ھوتے جس میں کوئ مجسمہ یا تصویر ھو ۔</p>
<p>حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اگر کسی دعوت و ولیمہ میں مدعو کیا جاتا تو دعوت دینے والے سے پوچھتے کہ تمھارے گھر میں کوئ مجسمے یا تصویریں تو نہیں ہیں ؟ اگر وہ کہتا کہ نہیں ہیں تو اسکی دعوت کو قبول فرما لیتے ۔</p>
<p>خبردار ! مفاسد و بگاڑ کے راستوں کو بند کرنا اور شرک کی طرف لے جانے والے ذرائع کا سد باب کرنا بہت ضروری امر ہے جس سے عام مسلمانوں کو کبھی بھی غافل نہیں ھونا چاہیۓ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان والا درخت صرف اسی غرض سے اکھڑوا دیا تھا ۔</p>
<p>بت اور مجسمے رکھنا ، انکی تعظیم کرنا اور مزاروں و درباروں کی تعظیم کرنا اسلام میں ایک نیاپیداکردہ امر ہے اور اسکے پیدا کرنے والے بھی کوئ اھل علم و تقوی لوگ نہیں تھے بلکہ یہ چیزیں پیدا کرنے والے لوگ خواہشات نفس کے پیروکار ، جاھل و بے علم اور اقتدار و غلبہ والے لوگ تھے کیونکہ قرآن کریم میں اصحاب کہف کے تذکرہ میں اللہ تعالی نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے ھم تو انکے آس پاس مسجد بنا لیں گے ۔ } ( الکہف ۔٣١)</p>
<p>دور حاضر کا شرک</p>
<p>موجودہ دور میں یہ معاملہ بہت بڑھ چکا ہے ۔ بعض لوگوں تو ربوبیت اور  الوھیت باری تعالی میں شرک کرنے لگے ہیں ، انھوں نے بعض اھل قبور سے طرح طرح کے اعتقاد قائم کر رکھے ہیں اور انھیں اصنام و تماثیل کی شکل دے رکھی ہے ، اور انکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ غیب جانتے ہیں اور جو شخص ان کا تصور کرے اور انکی طرف متوجہ ھو وہ اس کی بات و حاجت پوری کرتے ہین ۔ وہ مشکلات کو دور کرنے اور حاجات پوری کرنے کی قدرت و طاقت رکھتے ہیں بلکہ نوبت یہاں تک پہونچ گئ ہے کہ لوگوں نے بعض قبروں کو اسی طرح انصاب و بت بنا لیا ہے جس طرح کہ پہلے عربوں نے کیا تھا ۔ ان کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں ۔ انکی شفاعت و سفارش طلب کرتے ہیں بلکہ ان کے نام نذر کے جانور چھوڑے جاتے ہیں ۔ ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانے کیلۓ جانور لے جاۓ جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اور کہیں کہیں ایسا بھی ہے کہ صاحب قبر کی یادگاریں بنائ گئ ہیں اور انکی بھی تعظیم کی جا رہی ہے ، انکی حرمت و عظمت باور کرائ گئ ہے اور اس یادگار پر زیادتی کرنے والوں کی ‎سزا وہ رکھی گئ ہے جو اللہ کے دین پر زیادتی کرنے اور اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو گالی دینے والے کی بھی نہیں رکھتے ۔</p>
<p>افادات ابن قیم رحمہ اللہ</p>
<p>علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کے غزوہء طائف اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لات نامی بت کو ریزہ ریزہ کرنے کا تذکرہ کرتے ھوۓ لکھا ہے : [ اس واقعہ میں کئ فوا‏‏‏ئد پنہاں ہیں ۔</p>
<p>١۔  پہلا یہ کہ ایسے مقامات شرک کو بحال رکھنا جا‏ئز نہی ہے بلکہ جب غلبہ و اقتدار حاصل ھو جاۓ تو ایک ہی دن میں انھیں ختم کرنا ضروری ہے</p>
<p>٢۔  اسی طرح ان قبروں اور مزاروں کا حکم بھی ہے جنھیں عبادتگاہیں بنا لیا گیا ہے اور جہاں اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نوجوان نسل اور انحراف ۔اسباب و علاج</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 08 Jan 2007 11:45:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[Tag]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / عبد الباری الثبیتي ۔ حفظہ اللہ حمد و ثناء کے بعد میں آپ لوگوں کو اور اپنے آپ کو اللہ کا ڈر (تقوی ) اختیار کرنے کی وصیت و نصحیت کرتا ھوں۔ ارشاد الہی ھے ۔ &#8221; اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ایسے ڈرتے رھو ۔ جیسے اس سے ڈرنے کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ  /  عبد الباری  الثبیتي ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثناء کے  بعد<br />
میں آپ لوگوں کو اور اپنے آپ کو اللہ  کا ڈر (تقوی ) اختیار کرنے کی وصیت و نصحیت کرتا ھوں۔ ارشاد الہی ھے ۔<br />
&#8221; اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ایسے ڈرتے رھو ۔ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ھے ۔ اور تمہیں موت آۓ تو صرف اسلام پر ہی آۓ ۔ &#8221; ( آل عمران ۔١٠٢ )</p>
<p>نوجوان نسل قوم کا سرمایہ :<br />
نوجوان طبقہ امت و قوم کا ایک قیمتی سرمایہ اور گراں مایہ دولت و ثروت شمار ھوتا ھے ، اور جب اسے خیر و بھلائی کے کاموں ، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی کے امور میں صرف کیا جاۓ تو پھر یہ طبقہ ایک نعمت اورخیروبرکت بن جاتا ھے اور اگر اسے شرو فساد اپنے رنگ میں رنگ لے تو یہی طبقہ ایک خطرناک شر اور انتہائی نقصاندہ چیز بن کر سامنے آجاتا ھے ۔<br />
<span id="more-352"></span><br />
آج کا منحرف کل کا مجرم :<br />
اس شباب و جوانی میں اخلاق و کردار کا انحراف انتہائی خطرناک اور خوفناک ھے ۔ حتی کے آج کا منحرف کل کا مجرم ھوتا ھے ، اگر اسے اللہ تعالی کی رحمت وعنایت اپنے ساۓ میں نہ لے لے اور جس قدر نوجوان طبقے کا اہتمام اور ان کے مسائل میں دلچسپی لی جاۓ گی اسی قدر امت اور معاشرے کا انجام بہتر ھو گا ۔</p>
<p>آج کا اہم مسلہ انحراف شباب :<br />
آج کل کا اہم ترین مسلہ نوجوان نسل کا انحراف ہی ھے اور وہ امور جو والدین اور تعلیم و تربیت سے متعلقہ لوگوں کو پریشان کیے ھوۓ ہیں ان میں سے یہ ایک اہم ترین موضوع ھے ۔ انحراف کے بارے میں ہم پر جذبات غالب آجاتے ہیں اور ہم انتہائی سطح انداز اختیار کر لیتے ہیں اور کسی مسئلہ کو اسی طرح نرمی سے دیکھے چلے جاتے ہیں اور بلآخر وہ زخم بہت بڑا ھو کر پھٹ جاتا ھے اور پھر ہم بیکار کئ کئ مرتبہ اس پر آہیں بھرتے ہیں۔</p>
<p>تلاش اسباب و علاج :<br />
اس مسئلہ کا مفید و کامیاب علاج یہ ھے کہ عقل کو کام میں لایا جاۓ گہری فکر و نظر سے کام لیا جاۓ اور اس مسئلے کا تجزیہ کرتے ھوۓ ، اس کے اسباب کو پڑھا جاۓ ، مستقبل پر غور کیا جاۓ اور دین و شریعت کی بنیادوں پر پورے منظم انداز سے اس مسئلہ کی روک تھام اور بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جائیں ،<br />
 یہ کوئی باعث تعجب بات نہیں ھے کہ بعض ماہرین نوجوانوں کے انحراف کا مسئلہ حل کرنے کےلیے کوشاں ھوں ، وہ اس کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ انحراف کے تمام سوتے بند کردیے جائیں اور اس کی بیخ کنی کی جاسکے کیونکہ نوجوان نسل ہی تو امت کی امید ،مستقبل کا سہارا ، معاشرے کا سرمایہ اور امتوں کی زندگی کا ایک فعال حصہ یا ریڑھ کی ہڈی ھوتی ھے ۔</p>
<p>ہرملک میں مرض انحراف :<br />
نوجوان نسل کا انحراف آج ہر ملک کے افق پر منڈلانے والا قطرہ اور ہر معاشرے کو درپیش مسئلہ ھے اور انحراف کا دائرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ھے جب لوگ اپنے آپ کو غیرمحفوظ پاتے ہیں ،فکر و نظر پر کوئی پہرہ نہیں ھوتا اور ان کی شخصیت بلاتربیت و اطاعت ھوتی  ھے ۔ نوجوان بھی تو دوسرے لوگوں کی طرح ھوتے ہیں وہ غلطی بھی کرتے ہیں اور صحیح بھی ھوتے ہیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ھے ۔<br />
&#8220;تمام بنی آدم خطا کار ہیں  اور بہترین خطاکار وہ ھے جو (خطاکر بیھٹیں تو) توبہ کر لیں&#8221; (سنن ترمذی )</p>
<p>خیر امت کے نوجوان :<br />
یہ امت مسلمہ جسے اللہ تعالی نے تمام امتوں سے بہترین امت قرار دیا ھے یہ ہر گز نہیں چاہتی کہ اس کا نوجوان طبقہ محض عام سے لوگوں پر مشتمل ھو بلکہ وہ صرف یہی چاہتی ھے کہ اس کی نوجوان نسل زمین کے سردار اور اخلاقی میدان کے قائدین ھوں ۔ اسلام کا نور پھیلنے سے لیکر آج تک ہماری امت کی تاریخ میں اس امت کی نوجوان نسل نے بڑے بڑے کارنامے اور اعلی نمونے رقم کیے ہیں لیکن وہ نسل نو جو صحیح طور پر ایمان لاۓ ، عمدہ و اعلی اعمال صالحہ سرانجام دیۓ اور انھوں نے اللہ تعالی کے نازل کردہ منہج و شریعت کو اپنایا ۔ ان نوجوانوں نے اپنی قوم کو اپنے اقوال سے سعادت و خوشی کے ساتھ مالا مال کیا اور اپنے عمدہ اخلاق و اعلی کردار و عمل سے معاشرے کے ارمان کو تقویت دی اور اس کے نتیجہ میں عام خیر و بھلائی کی بشارتیں ملیں اور حقیقت یہ ھے کہ یہ نوجوان تو دوسروں پر اللہ تعالی کی نعمت ھے ۔</p>
<p>غلو اور تکفیری ٹولہ :<br />
ہمارے موجودہ دور میں شکوک و شہبات کے راستے بہت زیادہ ھو گۓ ہیں اور خواہشات نفس کی تسکین کا سامان بہت عام و بے لگام ھوگیا ھے اور ہماری نوجوان نسل ان زہریلے تیروں اور بدبودار منافقانہ اور غدارانہ نیزوں کا نشانہ بنی ھوئی ھے جس کی تلخی کا گھونٹ معاشرے کو غلو و مبالغہ آمیزی ، تکفیری فکر اور باعث غضب الہی اخلاقی انحلال و گراوٹ کی شکل میں پینا پڑ رہا ھے ۔</p>
<p>ہراول دستہ اسلام :<br />
مسلمانوں کی پہلی نسل اور ہراول دستہ اسلام کا معاشرہ ان باطل فرقوں ،گمراہ ٹولوں اور منافقانہ وکفر  ملک و اقوام سے ملوث نہیں ھوا تھا اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان گندگیوں سے دوچار ھوۓ تھے ۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اس نسل کو نہایت قوی تحفظ حاصل تھا ۔ چنانچہ حدیث میں آتا ھے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم باہر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لاۓ تو دیکھا کہ وہ لوگ تقدیر کے مسئلہ پر لے دے کر رہے ہیں ۔کوئی یہ آیت پیش کر رہ ھے اور کوئی اس آیت سے استدلال کر رہا ھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس پر سخت ناراض ھوۓ اور آپ کا رخ انور خصے سے یوں لال سرخ ھو گیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرے پر انار پھوٹ گیا ھو ،۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ۔</p>
<p>&#8221; کیا تم اس بات کا حکم دیا گیا ھے یا تمہیں یہ کام سونپا گیا ھے کہ تم قرآن کریم کی بعض آیات کو بعض دوسری آیات سے ٹکرتے پھرو ۔ تم سے پہلے کچھ قومیں اسی قسم کے افعال کی پاداش میں گمراہ ھو گئیں ۔ یہاں جو کچھ چل رہا ھے تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ۔ دیکھو! جس کا تمہیں حکم دیا گیا ھے اس پر عمل کرو اور جس کام سے تمہیں روکا گیا ھے اس سے باز آجاؤ ۔ &#8221; ( مسند احمد )</p>
<p>تکفیری خارجیوں کا تعارف :<br />
نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت سخت ناراض و غضبناک ھوۓ جب اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھنے والا ایک جاہل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے غنمتوں کو تقسیم کرنے پر اعتراض کرنے کے لیے کھڑا ھوگیا اور کہنے لگا : اے محمد ! عدل کرو ۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے فرمایا ، تیرا ستیاناس ھو اگر میں بھی عدل نہیں کروں گا تو پھر اور کون کرے گا ؟ جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اسے چھوڑو۔ اس کے ساتھی ایسے ھونگے کہ تم انکی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے ، انکے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو معمولی خیال کرو گے ، وہ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے جو ( ان کے حلق تک ہی رہے گا ) ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں جاۓ گا ۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ھے ۔ &#8221; (صحیح مسلم )</p>
<p>صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیدار مغزی :<br />
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیدار مغزی سے کام لیا اور تمام خوفناک فتنوں کے راستے بند کر دیۓ اور ایک منہج کے تحت ان کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرتے ھوۓ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ خلیفہ راشد امیر المومینین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لیں کہ انھوں نے جب صبیغ کو دیکھا کہ وہ کتاب و سنت کے مشکل مسائل کی کھوج میں لگا ھوا ھے تو اس کے سر پر کھجور کی ٹیڑھی لکڑی دے ماری ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت حدیث کے سلسلہ میں بڑی سخت احتیاط سے کام لیا اور انھوں نے مسائل مشکلہ اور تنگ و عاجز کر دینے والے امور اور سوال میں تکلیف سے  کام لینے جیسے سب کاموں سے لوگوں کو روک دیا اور ایسے ہی دوسرے قواعد اپناۓ جنھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےلیے ان کا دین محفوظ رکھا ۔</p>
<p>مخرب اخلاق و امن انحراف :<br />
انحراف کی ایک قسم وہ ھے جو اخلاق کو خراب کرتی اور قدروں کو تباہ کرکے رکھ دیتی ھے اور ایک بدترین جرم اور جان بوجھ کر کی جانے والی خطا کی شکل اختیار کر جاتی ھے اور اس سے معاشرے کی سلامتی ،امن و امان اور اس کے نظام کو سخت نقصان پہنچاتی ھے خصوصا جب وہ انحراف لاپرواہی اور اس پر اصرار کو بھی شامل ھو یا پھر وہ کسی گناہ کے ارتکاب اور ایسے کبیر گناھوں سے اپنے ہاتھوں کو رنگنے کی صورت میں ھو جن پر اللہ تعالی نے دردناک عذاب کی وعید سنائی ھے ۔</p>
<p>ہلاکت کے دھانے پر :<br />
اخلاقی قاعدے کی سلامتی امت کی زندگی میں امن و استقرار کی راہ اور اس کی قوت کا ذریعہ ھے جب کسی امت کے  افراد کا سلوک و کردار انحراف کا شکار ھو جاۓ ،خواہشات نفس کا آتش فشاں پھٹ پڑے اور تسکین جذبات کا داعیہ غالب آجاۓ تو ایسی امت ہلاکت کے دھانے پر کھڑی ھوتی ھے اور وہ تباہی و زودل کو آوازیں دے رہی ھوتی ھے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ھو تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں کو (فورحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے پھر اس پر عذاب کا حکم ثابت ھو گیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا ۔ &#8221; ( بنی اسرائیل ۔١٦ )</p>
<p>تعمیر شخصیت و کردار میں خاندان کا کردار :<br />
نوجوان نسل کی تربیت و تیاری اور اس کی شخصیت کو تعمیر کرنے کا پہلا مرحلہ اور واضح ادارہ اس کا خاندان ھوتا ھے ۔ اس سے خیروبھلائی یاشروبرائی کا صدور ھوتا ھے اور اسی سے بچے کے انحراف یا صلاح و سدھار کی راہ متعین ھوتی ھے ۔ اگر والدین خصوصا باپ اپنے خاندانوں یا گھرانوں کی تربیت سے اپنی توجہ ہٹا لیں اور صرف اسے ہی اپنی توجہ کا مرکز بنا لیں کہ ان کےلیے مال و دولت کا ذخیرہ مہیا کرنا ھے ۔ لڑکوں لڑکیوں کی لگامیں ڈھیلی چھوڑ دی جائیں ۔ان کی باگیں انہی کے  کندھوں پر ڈال دی جاہیں   ان کی تربیت میں کوتاہی برتی جاۓ اور ان کی راہنمائی و ہدایت کےلیے کوئی وقت ہی نہ دیا جاۓ تو ایسا خاندان اپنا رول ادا کرنے سے عاری ھوتا ھے اور وہ اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے نبھانے سے قاصر شمار ھوگا ۔</p>
<p>صرف دولت ہی نہیں تربیت بھی :<br />
بکثرت باپ ایسے ہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کا تعلق اور اپنے خاندان کے سلسلے میں وہ اپنی ذمہ داری صرف مالی حساب کتاب سے زیادہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کے کھانے پینے ، پہننےاور سیروتقریح کےلیے وافر اخراجات مہیا کر دینا ہی ان کی ڈیوٹی ھے ۔ جہاں تک ان کی اخلاقی تربیت ،کردار کی تہذیب و اصلاح اور ان کی شخصت کی تعمیر و بناء کا معاملہ ھے تو یہ امور ان کی ذمہ داریوں کی فہرست کے سب سے آخر میں آتے ہیں جب کے کسی بھی صاحب عقل و فہم شخص کو اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں کہ جب والدین اپنے بچوں کی صحیح تریبت کريں اور اسے اپنی زندگی کی اہم ترین ذمہ داری بنا لیں تو وہ اپنے بچوں کو انحراف سے تحفظ دے سکتے ہیں اور انہیں دردناک انجام تک پہنچنے سے بچاسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے معاشرے کے امن و استقرار کو قائم کرنے میں بھی  ایک فعال کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ھے ۔</p>
<p>&#8221; اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پھتر ہیں اس پر تند خو اور سخت گیرو سخت مزاج فرشے (مقرر ) ہیں اور اللہ تعالی انہيں جو حکم دیتا ھے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں ملتا ھے وہ اسے بجا لاتے ہیں ۔ &#8221; ( التحریم ۔٦ )<br />
 جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ارشاد فرمایا ھے ۔<br />
&#8221; (تم میں سے ) مرد اپنے گھر والوں کا نگران ھے اور وہ اپنی زیردست رعایا کے بارے میں جوابدہ ھے اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ھے اور وہ اپنی زیردست رعایا (بچوں ) کے بارے میں جوابدہ ھے ۔&#8221;(صحیح بخاری)</p>
<p>والدین کا احساس ذمہ داری :</p>
<p>اسلام میں نوجوان نسل کو انحراف سے بچا نے کا ذمہ دار خاندان ھے اور اگر بچوں ميں دینی غلو و تشدد اور مبالغہ آمیزی کی خو اور اخلاقی انتہاء پسندی آجاۓ تو اس کے زیادہ تر ذمہ دار ان کے والدین ہی ھوتے ہیں اور اسی غلو و انتہاپسندی کے تلخ و ترش پھل کا حظ وافر بھی انہیں ہی ملتا ھے ۔ کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ھے ۔<br />
&#8221; ہر بچہ فطرت (اسلام ) پر پیدا ھوتا ھے ۔ پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی ، نصرانی (عیسائی ) یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے چوپاۓ تو چوپاۓ کو ہی جنم دیتے ہیں یا آپ ان میں سے ( بوقت ولادت ) کسی کو نکٹا و کنکٹا دیکھتے ہیں ۔&#8221; ( صحیح  بخاری )</p>
<p>گھریلو ناچاقیاں اور انحراف :<br />
وہ خاندان جسکی فضائیں ابرآلود اور جسکا مطلع گردآلود و خراب ھو وہ انحراف کو جنم دینے کا باعث بنتا ھے ۔ وہ گھر جس میں ہر  وقت میاں بیوی کے باہمی جھگڑے اور نوک جھونک کی فضا بنی رہے ۔ اس گھر کی چاردیواری میں اہل خانہ ایک دوسرے سے باہم آویزاں اور اور دست و گریبان رہیں ، اختلافات سر اٹھاۓ رکھیں وہ گھر تربیت اور امن و استقرار نفس کا مقام نہیں ھو سکتا بلکہ ایسے گھر سے متعلقہ لوگ اس فضاء اور اس جگہ سے  بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں جہاں انہیں یہ گھٹن محسوس نہ ھو اور اب ممکن ھے کہ انہیں بری صحبت اور شریر ساتھیوں کی رفاقت مل جاۓ اور اسے وہ راستے آسانی سے ہاتھ لگ جائیں کہ جن پر چل کر وہ مجرم بن جاۓ ۔ کیوں نہیں ؟ اس کے ماں باپ نے اس کی صحیح نگرانی ، خیرخواہی ، اور راہنمائی نہیں کی اور اسے ہدایت و نور کاراستہ بتانے والا ہی کوئی نہیں تو پھر اس کا منحرف ھو جانا اور مجرم بن جانا  کوئی انہونی بات تو نہیں ھے۔</p>
<p>طلاق اور انحراف :<br />
طلاق بھی ایک خطرناک چیز ھے ۔ جو کہ معاشروں کے ڈھانچے کو توڑ کر رکھ دیتی ھے اور یہ بچوں میں انحراف پیدا کرنے کے بڑے اور بنیادی اسباب میں سے ھے خصوصا جب کہ دینی طور پر کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا بھی نہ ھو اور ہر طلاق کے نتیجے میں بہت واضح نقصانات اور اس کے گہرے اثرات سامنے آتے ہیں ۔ بلکہ یہ طلاق تو معاشرے کے سینے میں چھرا گونپ دینے کے برابر ھے جس سے معاشرے کے ڈھانچے سے مسلسل خون رستا رہتا ھے ۔<br />
جو بچہ طلاق کی جہنم سے گھبرا کر گھر سے نکلتا ھے اور ھو سکتا ھے کہ باہر اسے کوئی خیرخواہ نہ ملے اور نہ کوئی ایسا ساتھی میسر آۓ جو غلط کام سے اسے روکے اور برے ساتھی تو برے کام کو بھی سنوار کر ہی پیش کریں گے اور اہل فساد تو کمین گاہ لگاۓ بیٹھے ھوتے ہیں ۔<br />
معاشرہ اور خصوصا اس کے اہل و دانش افراد سے مطالبہ ھے کہ وہ طلاق کے اس بڑھتے ھوۓ رجحان کو روکیں جو کہ انتہائی المناک ھے تاکہ اس کے تباہ کن اثرات سے معاشرے کو محفوظ کیا جاسکے ۔</p>
<p>فقر و تنگدستی اور انحراف :<br />
اس انحراف و  بے راہ روی  کے اسباب میں سے بعض خاندانوں کا فقر و تنگدستی میں مبتلا ھوتا بھی ھے ۔ ایسے میں بعض لڑکے گھر سے تو اس لیے باہر نکلتے ہیں کہ وہ کہیں سے رزق کو تلاش کریں لیکن ان کی جہالت و لاعلمی اور ادراک کی کمی کے نتیجہ میں وہ برے ساتھیوں اور اہل شر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ انہیں انحراف کی راہ پر چڑھادیتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم فقر و تنگدستی سے اللہ تعالی کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسنون دعاؤں میں سے ہی یہ دعاء بھی ھے ۔</p>
<p>&#8221; اللھم انی اعوذبک من الکفر و الفقر &#8221;<br />
&#8221; اے اللہ ! میں کفر و فقر سے تیری پناہ مانگتا ھوں &#8221;</p>
<p>اسلامی نظام زکوۃ  و صدقات :<br />
اس فقر اور اس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے زکوۃ فرض کی اور مالدار لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی اور اجتماعی و معاشرتی خودکفالت کے مفہوم کو اجاگر کیا اور لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ یتیموں ، فقیروں اور مسکینوں کے حالات کی خبر گیری کرتے رہیں اور اس پر بہت بڑے اجروثواب کا وعدہ دیا گیا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ھے ۔<br />
&#8221; میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں اکٹھے ھوں گے اور (اس قرب کو واضح کرنے کےلیے ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی درمیانی اور اس کے ساتھ والی انگلیوں سے اشارہ کرتے ھوۓ انہیں ملایا اور الگ الگ ہٹایا ۔&#8221; ( صحیح بخاری) ۔</p>
<p>خیراتی اداروں کا کردار :<br />
اس باھمی تکافل و تعاون اور خود کفالت کے لۓ ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ خیراتی ادارے جو یتیموں فقیروں اور مسکینوں کی خبرگیری کرتے ہیں ان کے ساتھ بھرپور مالی تعاون کیا جاۓ ۔ بلاد حرمین شریفین نے اس مبارک پروگرام کو منظم کرنے کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں ۔ اور آج اس اجتماعی تعاون و تکافل میں بھر پور کردار ادا کرنے والی خیراتی انجمنیں اور ادارے پورے ملک کے کونے کونے میں پھیلے  ھوۓ ہیں اور ملک سے غربت و افلاس کے خاتمہ اور بشری و اقتصادی ترقی میں حقیقی شراکت کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ان اداروں نے امیروں اور فقیروں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا رول بھی ادا کیا ہے ، معاشرے کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ھے ، اور اسے  رحم و کرم اور شفقت و محبت کے مناظر و جذبات سے بھر دیا ہے ۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کتنے بھوکوں کو کھانا کھلایا گیا ، کتنے بے لباس لوگوں کو کپڑا مہیا کیا گيا ۔ کتنے مصیبت زدہ لوگوں کی مشکلات دور کی گئیں اور کتنے تنگدستی میں مبتلا لوگوں کی مدد کر کے ان کا بوجھ ہلکا کیا گيا ۔</p>
<p>بد نیتوں کے اعتراضات :<br />
ان خیراتی اداروں اور بابرکت جمیعتوں کے خلاف صرف وہی شخص بدزبانی کر سکتا ہے جو بدنیتی میں مبتلا ہے ۔ جس کی فکر مغربی نجاستوں کے ساتھ ملوث ھو چکی ہے ۔ جو شکست خوردہ ہے اور جس کے دل و دماغ اور جذبات سے خیر کے سوتے خشک ھو چکے ہیں اور بھلائی چشمے پھوٹنا بند ھو گۓ ہیں ورنہ یہ ادارے اور خیراتی انجمنیں انتہائی بابرکت ہیں ، ان کے ذریعے خیر و بھلائی عام کی جا رہی ہے ۔ ان کے فوائد بیشمار ہیں اور اس کے پودے انتہائی پاکیزہ ہیں جن کی شادابی و سیرابی کی ذمہ داری ھمارے سربراھوں نے اپنے سر لے رکھی ہے ۔</p>
<p>انحراف کے خاتمہ میں مدارس کا رول :<br />
گھر کے بعد مدرسہ وہ ادارہ ہے جس کا رول بہت ہی مؤثر و گہرا ہے اور نوجوان نسل کو سنوارنے یا بگاڑنے میں زبردست کردار ادا کرتا  ہے اور یہ مدرسہ ہی تعمیر یا تخریب کا ہتھیار اٹھاۓ ھوۓ ھے ۔ مدرسے کی اساس اور اس کی سرکردہ چیز اس کے تعلیمی و تربیتی مناھج و کورسسز اور نصاب ہیں اور اس سے کوئی صاحب عقل و خیرد انکار نہیں کر سکتا کہ نوجوان نسل کی عمر کا یہ مرحلہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ انھیں بھرپور شرعی نصاب سے مزین کیا جاۓ خصوصا جبکہ آجکل دنیا کے اطراف و اکناف سمٹ کر اسے ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل میں لے آۓ ہیں اور اس گلوبلائيزیشن کے ساتھ ساتھ ہی گمراہ کن افکار بھی بہت پھیلے ھوۓ اور شہوت پرستی کا دیو ننگا ناچ رہا ہے ۔ ایسے میں بھر پور شرعی نصاب سے نوجوان نسل کے دلوں کا تحفط کیا جانا ضروری ہے اور ان کے افکار کو گمراہ کن غلو و مبالغہ ، تشدد و انتہاء پسندی اور تباہ کن فسق و گناھوں سے بچایا جاۓ ۔</p>
<p>اسلامی تعلیمات اور خاتمہ انحراف :<br />
دین اسلام کی تعلیمات نوجوان نسل کو انحراف و بے راہ روی سے بچانے کی سب سے بڑی ضمانت ہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ اس بات کو روز روشن کی طرح واضح کر دیتا ہے کہ فرقوں کا ظہور اور انحراف و جرائم کا پھیلاؤ اسلامی معاشرے میں راہ نہ پا سکا اور نہ ہی اسے قلوب و عقول میں جگہ ملی سواۓ اس دور کے جب دعوت و تبلیغ کا کام رک گیا اور شریعت پر عمل چھوٹ گیا اور میرے خیال میں کوئی عقل و دانش کا مالک اس کا انکار نہیں کر سکتا اور تاریخ خود بیشمار واقعات و سنن اور عبرتوں کو اپنے اندر سموۓ ھوۓ ہے ۔</p>
<p>اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ھوا ، یہ ( قرآن ) عام لوگوں کے لۓ بیان صریح اور اہل تقوی کے لۓ ھدایت و نصیحت ہے &#8220;۔ ( آل عمران ۔١٣٧ ، ١٣٨ ) ۔<br />
جبکہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے:<br />
&#8221; یہ قرآن وہ راستہ دکھلاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے &#8220;۔ ( بنی اسرائیل ۔٩ ) ۔</p>
<p>فقدان دین و منھج :<br />
جب دین صحیح اور معتدلانہ منھج غائب ھو جاۓ تو نوجوان نسل انحراف بے راہ روی کا نشانہ بن جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نوجوان نسل کے افراد جرائم پیشہ ، دھشت گرد ، انتہاء پسندی ، اندھی تقلید فرنگ کے رسیا اور دشمنان دین کی گود میں سکون محسوس کرنے والے بن جائيں یا منحرفانہ افکار و نظریات کا شکار بن جائيں ۔ یا پھر وہ ایسے ضایع ھوں کہ امت کے جسم میں زھر بن جائيں یا پھر اس کے ڈھانچے کو توڑنے والا ہتھیار بن کر سامنے آ جائيں ۔ وہ اپنا بھی مستقبل برباد کریں اور امت کا بھی اور اپنے آپ کو بھی برباد کر لیں اور امت کو بھی لے ڈوبیں ۔</p>
<p>خاتمۂ انحراف میں مدارس کا کردار :<br />
مدارس کی لڑی اور تعلیم و تربیت کے میدان کا امام و محور معلم و مدرس ھوتا ہے ۔ اسی کی بدولت انحراف و بدراہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ اور اسی کے ذریعے نسل نو کا تحفظ ممکن ھوتا ہے لیکن یہ سب اس وقت ھو گا جب وہ اپنے سلوک و کردار میں استقامت کا مالک ، اخلاق و عادات میں نیک خو ، ایمان میں قوی و مضبوط اور اپنے کام میں ماھر ھو اور وہ اپنی امت اور اپنے معاشرے کے مسائل میں گہری دلچسپی رکھتا ھو ۔ کسی مسلمان معاشرے میں معلم و مدرس کی یہ اھم ترین صفات ہیں ۔ اور معلم و استاذ کا بلندترین پیغام ہے ایمان کو غذاء مہیا کر کے اسے تقویت دینا ، اخلاقی نگران اور پاسبان اور پہردار بٹھانا اور نسل نو کے دلوں میں اللہ کے نگران و نگہبان اور ہر قول و فعل کو دیکھنے والا ھونے کا یقین پیدا کرنا ۔</p>
<p>صحبت صالح کا اثر :<br />
اخلاق و کردار کی اصلاح اور اعلی قدروں کے اکتساب میں اچھے دوستوں کی سوسائٹی و صحبت بھی بڑا رنگ دکھاتی ہے حتی کہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :<br />
&#8221; انسان اپنے دوست کے دین پر ھوتا ہے ، لھذا اسے چاہیۓ کہ دیکھ بھال کر کسی کو اپنا دوست بناۓ &#8220;۔ ( مسند احمد وغیرہ ) ۔<br />
برے ساتھیوں کی صحبت آدمی کو تباہی و بربادی اور انحراف و جرائم کی طرف گھسیٹ لے جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے ھلاکتوں سے ھمکنار کر دے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحبت صالح بندے کی استقامت اور عمدہ اخلاق کے اسباب میں سے ہے بلکہ یہ انحراف سے بچنے کے عوامل میں سے ایک فعال ذریعہ ہے ۔</p>
<p>بے کاری اور انحراف :<br />
فرصت و بے کاری بھی انحراف و بدراہی کا ایک سبب ہے بلکہ ان دونوں کا تو جولی دامن کا ساتھ ہے ۔ فرصت کے اوقات کو اگر صحیح مصرف میں نہ لایا جاۓ تو اس کے برے اثرات خود اس شخص کی ذات پر مرتب ھونے لگتے ہیں اور فرصت و بےکاری کا زمانہ تو نو عمر انسان کے انحراف کا ایک موقع ھوتا ہے ۔ لھذا والدین پر واجب ہے کہ وہ اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ ان کا لاڈلہ اپنے فارغ اوقات کہاں اور کیسے گزارتا ہے ۔<br />
فرصت و بیکاری کے اوقات میں ممکن ہے کہ بچے کے ذھن میں کوئی منحرفانہ فکر جگہ پکڑ لے یا وہ کسی شہوت پرستی میں مبتلا ھو جاۓ یا کسی دوسری بری عادت میں پھنس جاۓ اور وہ قیامت ہی ڈھا دے ۔</p>
<p>فرصت کے اوقات کی صحیح سرمایہ کاری ؟<br />
تعلیم و تربیت کے اداروں ، دینی و شرعی کورسسز اور قرآن کریم کو حفظ کروانے والے حلقوں نے نسل نو کی ایک بہت بڑی تعداد کے دلوں اور عقول کو اپنے سايۂ تربیت و تحفظ میں لے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ایسے پر امن تربیتی اداروں کی تعداد کو مزید بڑھایا جاۓ تاکہ ان نوجوانوں کو بھی اپنی گود میں لے کر ان کی تربیت کر سکیں جنھوں نے غلو و مبالغہ آمیزی کو اپنی راہ بنا لیا ہے اور تکفیر کی شمشیر چلانے کو اپنے منھج کا درجہ دے لیا ہے اور ان نوجوانوں کو بھی اپنے دامن تربیت میں لے سکیں جنھوں نے زندگی کے محض حاشیہ و کنارہ پر جینے کو ہی اپنی روش قرار دے لیا ہے ۔ وہ گلی کوچوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے پھرتے ہیں اور جہاں چاہیں فٹ پاتھوں پر ڈیرہ لگا لیتے ہیں ۔ اسی طرح ان نوخیز کونپلوں کو بھی گوشۂ رحمت و شفقت میں جگہ دیں جو شراب و منشیات کا شکار ھو گۓ ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ھے ۔<br />
&#8221; جس نے اپنی عمر کا ایک دن بھی اس انداز سے بے کار گزار دیا کہ اس میں نہ کسی کا کوئی حق ادا کیا ، نہ کسی فرض کی ادائیگی سے سبکدوش ھوا ،نہ ہی عظمت و بزرگی پانے کی طرف کوئی قدم اٹھایا یا کوئی ایسا کام کیا جو اس کے لیے باعث ستائش و شاباش ھو یا کوئی کلمہ خیر سنایا یا کوئی علم سیکھا اس نے اس  دن کی نافرمانی کی اور اپنی ذات پر ظلم کیا ۔ &#8221;<br />
میں آپ سب کو اور خود اپنے آپ کو اللہ کے تقوی کی تاکید کرتا ھوں کیونکہ تقوی ہی نجات کی راہ اورفوزو فلاح کا ذریعہ ھے اور اسی سے دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی کا حصول ممکن ھے ۔</p>
<p>سیٹلائيٹ اور انحراف :</p>
<p>آج کا دور شہوتوں کو بھڑکانے والا عریانی بردوش دور ھے جو نسل نو کے جذبات کو رنگیخت کرتا اور انسان نما شیطانوں کا سب سے بڑا جال یہ سیٹلائيٹ چینلز ہیں جن میں سے اکثر کا کام ہی یہ ھوگیا ھے کہ وہ انحراف و بےراہ روی کو نہایت بنا سنوار کر پیش کر رہے ہیں اور لوگوں کو بدراہ کرنے پر تلے ھوۓ ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئ ھے کہ جب سے ان سیٹلائیٹ چینلوں نے اپنے شر کا بگل بجایا ھے تب سے ان کے مقابلے میں تربیتی اداروں نے ہتھیار ڈال دیۓ ہیں اب صرف وہی چینلز ہیں جو اپنی تمام تر قوتوں اور وسائل کے ذریعے عقلوں کو بگاڑنے ، دلوں میں فساد پیدا کرنے ، آنکھوں سے حیاء کا پردہ ہٹانے اور دینی پاسبان کو کمزور کرنے کےلیے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں اور شر کے دروازے کھولے بیٹھے ہیں ۔ ان ذرائع ابلاغ کے موثر اداروں نے مسلمانوں کے خلاف کفار کی فکری یلغار کی راہیں آسان کر دی ہیں اور وہ ان ممالک کا اخلاق و کلچر نقل کرتے چلے آرہے ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ھے ان ذرائع نے لوگوں کو فسق و فجور کا ارتکاب کرنے پر دلیر کر دیا ھے اور انہیں انحراف و جرائم کی جرات دے دی ھے ۔</p>
<p>اس درد کا درماں :<br />
اگر ہم اس بےراہ روی و انحراف کا حلقہ تنگ اور اس کا ناطقہ سربگریباں کرنا چاہیں تو ہمیں اس خطرناک ڈراؤنے خواب کا کوئی موثر حل تلاش کرنا چاہیے جوکہ ہمارے دل و دماغ اور قلوب و صدور پر مونگ دل رہا ھے ۔ اس کی زہر ناکیوں کا مقابلہ و علاج ڈھونڈنا چاہیے جو تریاق کاکام کرے اور اس زہر کا اثر ختم کر دے ۔</p>
<p>دعوت و تبلیغ کی ضرورت :<br />
اس انحراف کے علاج کےلیے جو طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں ان میں سے ہی ایک یہ بھی ھے کہ حکمت و دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دی جاۓ اور تبلیغ دین کا فریضہ صحیح طور پر ادا کیا جاۓ ۔ مسجد اپنا رول ادا کرے اپنا پیغام عام کرے اور لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے سلسلہ میں بھر پور انداز سے اپنا کردار ادا کرے ۔ اس طرح انحراف کا خاتمہ کرنے کے وسائل میں سے ہی ایک یہ بھی ھے کہ نوجوان نسل کی تربیت کے ذمہ دار اور دعاہ و مبلغین اپنی اپنی ڈیوٹی نبھائیں اور ذمہ داری کی ادائیگی کا حق ادا کریں ۔</p>
<p>اہل فکرو قلم کا فرض :<br />
ایسے ہی اہل فکر و قلم حضرات کو بھی ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اس انحراف و بےراہ روی کے مقابلہ میں اپنا حصہ ڈالیں ، اس کی کھلی سٹڈی کریں اور اس کےلیے موثر حل تجویز کریں اور وہ جو کچھ لکھتے ہیں اور نشر کرتے ہیں ان مضامین و مقالات اور آراء و افکار کو پیش کرتے وقت اللہ تعالی سے ڈریں ۔ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; اور (اے بندے ) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑو کہ کان آنکھ اور دل ان سے (اعضاء و جوارح) سے ضرور باز پرس ( جوابدہی ) ھو گی ۔ &#8221; ( بنی اسرائیل ۔٣٦ )</p>
<p>ہر فرد کی ذمہ داری :<br />
صرف مفکرین اسلام اور قلم ہی نہیں بلکہ ہم میں سے ہر فرد ایک امانتدار پہرے دار اور امت کی حمایت و نگرانی کا ذمہ دار ھے تاکہ اپنے فسادو بگاڑ اور انحراف و بےراہ روی سے بچایا جاسکے اور ہر شخص اپنے معاشرے کی بقاء اور اس کی صفائی و پاکیزگی کا محافظ ھے۔ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ازراہ ظلم تباہ کر دے جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ھوں ۔&#8221; (ھود ۔١١٧ )</p>
<p>محکمہ احتساب کا ادارہ :<br />
معاشرے کی بقاء و پاکیزگی کا ہدف پانے کےلیے ہی یہ بھی ضروری ھے کہ ہم سب ایک دوسرے کو راہ حق پر چلنے کی تاکید کرتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کے مقابلے میں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتے رہیں اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں کہ یہی تو تمام معاشروں کے امن و امان اور سکون و استقرار کا ضامن ھے ۔ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; عصر کی قسم ! بے شک انسان نقصان میں ھے سواۓ ان لوگوں کے جو ایمان لاۓ اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔( سورہ العصر )</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین<br />
سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شادی بیاہ ۔ تقریبات ، احکام ، آداب</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 03 Jan 2007 11:48:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دین اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / عبدالمحسن القاسم حمد و ثناء کے بعد اللہ کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اس کا خوف و تقوی ہی راہ ھدایت ہے اور اس کی مخالفت راہ متفاوت و بدبختی ہے ۔ مسلمانو ! خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اسی سے امتیاز اور اقوام و قبائل نکلتے ہیں اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / عبدالمحسن القاسم</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد</p>
<p>اللہ  کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اس  کا خوف و تقوی ہی راہ ھدایت ہے اور اس کی مخالفت راہ متفاوت و بدبختی ہے ۔<br />
مسلمانو ! خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اسی سے   امتیاز اور اقوام و قبائل نکلتے ہیں اور اس کی بیناد میاں  بیوی  ہیں ۔ ارشاد الہی ہے :<br />
[ اے لوگو ! ھم نے تمھیں ایک مرد و زن سے پیدا کیا اور ھم نے تمھیں قبائل و اقوام بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو باھم پہچانو ]۔ ( الحجرات ۔١٣)</p>
<p>دعوت شریعت :<br />
شریعت بندوں کی مصلحتوں ، حکمتوں اور ان کے دنیا و آخرت کے مفادات پر مبنی ہے ۔ اس نے نوجوانوں کو شادی کے ذریعے اپنے آپ کو عفیف و پاکدامن رکھنے کی دعوت دی ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے :<br />
[ اے نوجوانو  ! تم میں سے جس میں ( مادی و جسمانی ) طاقت ھو اسے چاہیۓ کہ شادی کرے یہ اس کی نگاہ کو نیچے رکھنے  اور شرمگاہ کی حفاظت کے لۓ مفید ہے اور جس میں ( مالی ) طاقت نہ ھو ، وہ روزہ رکھے ۔ یہ اس کی شہوت کشی کرے گا ]۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>شادی سے قبل ۔ ۔ ۔<br />
دین اسلام نے اعلی اخلاق و کردار والی ایسی نیک بیوی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ اپنے شوھر کو اذیت نہ پنچاۓ اور  نہ ہی اس کے سامنے اپنی آواز بلند کرے ۔ اور لڑکی لڑکے دونوں کے بارے میں چھان بین کر لینا لازمی ہے تا کہ اس کے مخفی اخلاق و کردار اور صفات کا پتہ چل جاۓ جو کہ اسلامی اخلاق کے منافی ھوں اور جس سے پوچھ پاچھ کے لۓ رابطہ کیا جاۓ اس پر واجب ہے کہ پورے صدق و صفائی سے جواب دے   ، اور امانت داری و وضاحت سے ان کے محاسن اور برائیاں بیان کر دے کیونکہ کسی کے پوچھنے پر کسی کے  عیوب و نقائص کو چھپانا مسلمان کو دھوکہ دینے کی ایک قسم ہے ، اور جب لڑکا کسی کو پیام نکاح دینے کا عزم کر لے تو اس کے لۓ مباح ہے کہ وہ حرام خلوت کے بغر ، لڑکی کے کسی محرم کی موجودگی میں لڑکی پر ایک نظر ڈال لے اور لڑکی جسمانی عیوب کو چھپانے والا میک اپ کر کے اسے دھوکہ میں نہ رکھے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ تم میں سے جب کوئی شخص کسی لٹرکی کو پیغام نکاح دے تو اسے چاہیۓ کہ ( نکاح سے پہلے ) ایک نظر دیکھ لے یہ ( دیکھ لینا ) انکے مابین تعلقات کے دوام کے لۓ مفید ہے ] ۔ ( مسلم )</p>
<p><span id="more-351"></span><br />
منگیتروں کے لۓ احکام :<br />
منگیتر کو اس بات سے ڈرنا چاہیۓ کہ وہ اپنی منگیتر لڑکی سے حرام خلوت اختیار نہ کرے ، نہ ہی اس سے ( نکاح سے قبل ) ٹیلیفون پر گفتگو کرے نہ اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہناۓ یا اس کے جسم کو چھوۓ اور نہ ہی اسے اس کے گھر سے باھر لے کر جاۓ ، یہ سب نافرمانی کے قبیل سے ہے ۔ شیطان کا چوکہ ہے اور اسی طریقے سے وہ لڑکوں کو بہکاتا و گمراہ کرتا ہے اور اکثر  انہی گناھوں کے نتیجہ میں ان دونوں منگیتروں کے خواب چکنا چور ھو جاتے ہیں ۔</p>
<p>کم مہر زیادہ برکت :<br />
اسلام دین عدل  و اعتدال ہے اس نے نوجوانوں کو شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور کم مہر طلب کرنے کی ترغیب دلائی ہے ، اگر مہر کم ھو گا تو عورت کی عزت و قیمت شوھر کی نظروں میں بڑھ جاۓ گی اور اس کی برکت میں بھی اضافہ ھو جاۓ گا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ عورتوں میں سے سب سے زیادہ بابرکت وہ ہے ، جسے بیاہ کر لانے پر کم از کم خرچہ آۓ ] ۔<br />
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے مالدار صحابہ بھی مہر زیادہ دینے میں مبالغہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :<br />
&#8221; میں نے کجھور کی گٹھلی کے برابر سونے ( حق مہر ) پر شادی کی &#8221; اور جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کے اس حق مہر کا پتہ چلا تو انھیں  یہ دعا دی : ۔۔۔۔  بارك اللہ لك ۔۔۔ ( اللہ تمھیں برکت عطا فرماۓ ۔ )<br />
مہر عورت کا حق ہے ۔ والدین یا سرپرستوں کو حق نہیں کہ وہ اسے اپنے کھاتے میں ڈال لیں ۔ ارشاد باری  تعالی ہے :<br />
[ اور عورتوں کو رضاء و خوشی سے انکا حق مہر دے دیں ] ۔ ( النساء۔٤)</p>
<p>عورت کا اصل حسن و جمال :<br />
عورت کا حسن و جمال اس کی پردہ داری میں ہے اور اس کا اصل رعب اس کی حیاء میں ہے اور اس کے چہرے کی رونق اس کی عفت و پاکدامنی میں ہے ۔ اسلام عورت کو چہرے کے پردے کا حکم دیتا ہے جبکہ بعض عورتیں شادی بیاہ کی تقریبات اور خوشی کے ایسے دیگر مواقع پر حرام امور میں واقع ھو جاتی ہیں ایسے لباس پسند کر لیتی ہیں جو بہت تنگ ھوتے ہیں ، کچھ وہ ہیں جو اتنا پتلا کپڑا پہن لیتی ہیں جو ان کے بدن کو پردہ مہیا نہیں کرتا ، بعض وہ ہیں  جو کہ ( سکرٹ پہن کر ) اپنی پنڈلیوں اور رانوں کو ننگا رکھتی ہیں اور کئی ایسی ہیں جو جسم کا اوپر کا حصہ ننگا رکھتی ہیں اور شیطان ان کے لۓ اس بے پردگی کو مزین کر کے پیش کرتا ہے ۔</p>
<p>احکام پردہ کی بعض قبیح خلاف ورزیاں<br />
کسی عورت کے لۓ یہ حلال نہیں کہ وہ دوسری عورتوں کے سامنے ان اعضاء کے علاوہ کو ظاھر کرے جن کا اس کے لۓ اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے ظاھر کرنا روا ہے ۔ جنھیں کہ وہ اپنے گھر میں اپنے محرم رشتہ داروں کے ننگا کر لیتی ہے مثلا سر ، دونوں ہاتھ ، گردن دونوں پاؤں ۔ عورت اس سے زیادہ اعضاء جسم کو عورتوں کے سامنے بھی ننگا کرنے کی مجاز نہیں ہے ۔<br />
عورتوں میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے جسم کے زائد بال اتروانے کے لۓ دوسری عورتوں کے سامنے اپنی شرمگاہ تک ننگی کر دیتی ہیں جبکہ یہ انتہائی بڑا گناہ ہے اور سخت ناجائز فعل ۔ اس کے ایسا کرنے میں ایک تو دوسروں کو شرمگاہیں دکھلانے کی قباحت پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح وہ عورت اپنے شوھر کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارتکاب بھی کرتی ہے کیونکہ وہ شوھر کی عدم موجودگی میں اپنے شوھر کا حق دوسری کے لۓ ضائع کر رہی ہے ۔ اس کے اس فعل پر اللہ تعالی کی طرف سے سخت وعید آئی ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :<br />
[ جس عورت نے اپنے شوھر کے گھر کے سوا کہیں اپنےکپڑے اتارے ۔ اس نے اپنے اور اللہ تعالی کے مابین پاۓ جانے والے پردے کو ھٹا دیا ] ۔ ( مستدرک حاکم )</p>
<p>تقریبات کے انعقاد میں راہ اعتدال :<br />
دین اسلام بخل اور فضول کے درمیان اوسط درجے کا خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے ، نکاح کا اعلان ( تقریب شادی کے ذریعے ) کیا جاۓ لیکن ممنوع حد تک نہ جایا جاۓ ۔</p>
<p>فاخرانہ لباس پر تکبر کاانجام :<br />
بعض عورتیں زیب و زینت کے معاملہ کے ساتھ ساتھ ہی تبرج و بے پردگی اور تزیین و تجمل پر اتراتی پھرتی<br />
اور فخر ومباھات کرتی ہیں ، اموال برباد کرتی اور اوقات ضا‏ئع کرتی ہیں اور یہ سب صرف بے بنیاد شہرت حاصل کرنے اور ناپسندیدہ ریاءکاری کے لۓ ھوتا ہے ۔<br />
اے خواتین ! لباس میں تکبر کرنے سے بچیں ۔ لباس پر فخر و تکبر کرنے والوں کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :<br />
[ ایک آدمی اپنا پسندیدہ لباس پہنے ھوۓ  تھا ، بالوں کو کنگھی سے سنوارا ھوا تھا اور چلنے میں بڑا متکبرانہ انداز آ چکا تھا ۔ اچانک اللہ نے اسے زمین میں ہی دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں ہی دھنستا جاۓ گا ] ۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>مردوں اور غیر مسلم عورتوں کی مشابہت :<br />
مسلمان عورت اپنی زینت و سنگھار ، اپنے لباس و پوشاک اور اپنے بالوں کے انداز میں ممتاز ھوتی ہے وہ مردوں یا غیر مسلم عررتوں سے مشابہت کرنے سے کوسوں دور  ھوتی ہے اور ان لوگوں ( مردوں اور غیر مسلم عورتوں ) سے مشابہت کرنا باعث وعید ہے ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں سے مشابہت پیدا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔</p>
<p>خصائص مرد و زن :<br />
مرد و زن کے بعض خصائص ہیں ، ان کے اپنے اپنے احوال ، لباس اور زینت کی اشیاء ہیں ۔ عورت اپنی نسوانیت پر فخر کرتی ہے اور مرد اپنی مردانگی و جوانمردمی کو باعث اعزاز سمجھتا ہے ۔ غیروں کی تقلید کرنے میں اپنی نفسیاتی کمزوری و احساس کمتری کا اظہار ھوتا ہے اور اپنے خصائص پر عدم رضامندی کا پتہ چلتا ہے ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ایسا کرنے سے بندہ اپنے خالق کی حکمتوں کے ادراک میں نقص والا بنتا ہے ۔</p>
<p>باعث لعنت افعال :<br />
آنکھوں کے ابرو اللہ تعالی نے زینت کے لۓ بناۓ ہیں جبکہ بعض عورتیں اپنی آنکھوں کے جمال اور چہرے کے رعب کو ابروں کے بال نکال کر ضا‏‏ئع کر دیتی ہیں حالانکہ ابروں کے بال زائل کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے :<br />
[ اللہ تعالی نے بال نکالنے والی اور بال نکلوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ] ۔</p>
<p>غیروں کی تقلید و نقالی کے اصل محرکات :<br />
بعض لوگ نفسیاتی کمزوری اور احساس کمتری میں مبتلا ھونے کی وجہ سے غیروں کی تقلید کے بڑے دلدادہ ھوتے ہیں حتی کہ شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات میں بھی نقالی کرتے ہیں۔</p>
<p>شب زفاف پر شرعی خلاف ورزیاں :<br />
مرد پر نکاح یا کسی بھی دوسرے موقع پر غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام ہے ۔ شب زفاف میں دولھے کا غیر محرم عورتوں میں جا گھسنا اور اپنی بیوی کے ساتھ سیٹیج پر بیٹھنا جبکہ وہ مسلمانوں کی بنی سنوری مکمل زیب و زینت والی عورتوں کو دیکھتا ہے ، یہ انتہائی ذلیل برائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ عورتوں ( غیر محرم خواتین  ) پرداخل ھونے سے بچو ] ۔ ( متفق علیہ )<br />
دولھے کا اپنی  دلھن کے ساتھ عورتوں کے سامنے سٹیج پر بیٹھنا تقلید اغیار کا شاخسانہ ہے ، اس کا باعث خواہشات کی پیروی ہے ، اس فعل کا ظاھری پہلو فخر و مباھات اور تکبر ہے اور اس کا ثمرہ شقاوت کی شکل میں  ھو سکتا ہے ، عورتوں کے سامنے بیٹھے دولھا دلھن کا حال یہ ھوتا ہے کہ وہ عورتیں انھیں دیکھ رہی ھوتی ہیں اور انھیں دیکھنے والوں میں سے کوئی تو اس کے جسمانی ساخت پر تنقید کر رہی اور کیڑے نکال رہی ھوتی ہے اور کوئی ان کے یہاں پائی جانے والی نعمتوں ( مال و جمال ) پر حسد کر رہی ھوتی ہے ۔<br />
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :<br />
[ عورت کے لۓ بہتر یہ ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھے اور غیر محرم مرد اسے نہ دیکھیں ] ۔</p>
<p>شادی پر دلہن کا لباس شہرت :<br />
دلھن کے شادی کے جوڑے کے پیچھے انتی لمبی دم بنا دینا جسے اس کے پیچھے کئی عورتیں اٹھاۓ چل رہی ھوتی ہیں ، یہ غیر مسلم لوگوں کی مشابہت ہے اور ایسا کرنا حرام فعل ہے ، اسی طرح شادی  بیاہ کے موقع پر ( اور عام حالات میں بھی ) گانا و موسیقی اللہ کی ناراضگی کا باعث اور قسوت قلبی سنگدلی کا سبب ہیں ۔ اور یہ گانا و موسیقی بندے اور اللہ تعالی کے مابین موٹا پردہ حائل کر دینے کا باعث بنتے ہیں ، شب نکاح و زفاف پر بعض لوگوں کا گانا و موسقی کا اھتمام کرنا اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے اور اللہ تعالی کی نافرمانی بھی ، اور انتہائی اسراف و فضول یہ ہے کہ گانے بجاۓ والی سنگر ( اور رقص کرنے والی ڈانسر ) منگوائی جاۓ اور گانا سنا  (اور رقص دیکھا ) جاۓ اور سحری کے ان اوقات میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی جاۓ جبکہ انہی گھڑیوں میں اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ اور اللہ والے اپنی عبادت گاھوں میں مصروف مناجات ھوتے ہیں۔</p>
<p>منکرات پر مشتمل تقریبات میں عدم شمولیت :<br />
مسلمان کے لۓ کسی بھی ایسی تقریب میں شرکت کرنا حرام ہے جس میں کسی منکر و برائی کا ارتکاب  کیا جا رہا ھو ، امام اوزاعی فرماتے ہیں :<br />
&#8220;کسی ایسی تقریب شادی میں شرکت نہ کریں جس میں طبلہ ساز بج رہے ھوں &#8221; ۔</p>
<p>تقریب شادی پر جائز امور :<br />
اسلام کے احکام میں حرام امور سے بچنے کے لۓ متبادل ایسے امور موجود ہیں کہ بندہ حرام کا محتاج ہی نہیں<br />
 رہ جاتا ، اسلام نے رات کے وقت ممنوع الفاظ سے  پاک کلام کے ساتھ خاص طور پر عورتوں کو دف بجا کر خوشی کا اظہار کر لینے کی اجازت دی ہے ۔</p>
<p>تصویر کشی اور مصور کا انجام :<br />
تصویر کشی کبیرہ گناھوں میں سے ہے اور یہ فعل اللہ کے غضب اور لعنت کا موجب بھی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ تصویر کشی کرنے والے مردوں اور عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے ]۔<br />
مصور یا تصویر ساز کو ساری انسانی مخلوق سے زیادہ عذاب ھو گا ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :<br />
[ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب مصوروں کو ھو گا ]۔ ( متفق علیہ )<br />
عورتوں  کی تصویروں اتارنا تو بہت ہی برے نتائج لاتا ہے ، ھو سکتا ہے وہ تصویریں غیر محرم مردوں تک پہنچیں اور اسی کے نتیجہ میں گھروں کے گھر تباہ و برباد جاتے ہیں ، سمجھدار باپ وہ ہے جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کو ایسی جگہوں پر جانے سے ہی روک دے جہاں تصویرں بن رہی ھوں ۔</p>
<p>اشیاء خورد  و نوش میں اعتدال :<br />
کھانے پینے کے سامان میں اعتدال و میانہ روی اور فخر و مباھات سے بچنا چاہیۓ اھل فضیلت لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو اپنا راھنما بناتے ہیں اور وہی طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔<br />
ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر ولیمہ کرنے کی تفصیل بیان کرتے ھوۓ فرماتی ہیں:<br />
[نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بعض بیویوں سے شادی پر دو مد جو سے ولیمہ کیا ] ۔<br />
یہ انتہائی غلط روش ہے کہ خیرات میں آدمی بخیل ھو جاۓ اور شادی بیاہ کے موقع پر انتہائی فضول خرچیاں کرتا جاۓ ، نکاح کے موقع پر بار بار تقریبات کا انعقاد کرنا بظاھر تو خوشی و فرحت ہی ہے جبکہ درحقیقت یہ شادی پر انجام کار غم کا باعث بننے والا ہے ، منگنی پر تقریب کا انعقاد ، منگیتر کے اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہنانے کے دن پھر ایک پرتکلف دستر خوان سجانا دونوں فعل ہی حرام ہیں ، عقد نکاح کی رات دعوت کا اھتمام اور شب زفاف کو رنگا رنگ کھانوں کا انتظام دولھےکے اخراجات میں بلاوجہ اضافے اور اس کے لے بوجھ بنتے ہیں ۔</p>
<p>کیا کوئی ہے ؟<br />
کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو اس بات کی کوشش کرے جو اپنی بیوی کے ساتھ سر ڈھانپنے کے لۓ گھر بناۓ جو ستر و عفت اور پاکدامنی کا ذریعہ بنے اور شادی کے اخراجات کم از کم کر کے اور فضول خرچی سے  بچ کر معاشرے میں ایک مثالی نیک کام کی بنیاد رکھے اور شب زفاف پر وہ صرف ایک ہی ولیمہ کرے جو کہ دولھا دلھن کے لۓ بھی زیادہ محبوب عمل ہے ، یہی تمام فضولیات سے بچنے کا طریقہ اور گناھوں سے سلامتی والا ، کامل ترین ولیمہ اور توفیق خیر کو پانے والا فعل ہے ۔</p>
<p>حکمت الہی اور اسو‏ہ ء نبوی :<br />
اللہ تعالی نے رات کو لباس و پردہ بنایا ہے اور نیند کو راحت بنایا ہے جبکہ [نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نماز عشاء سے پہلے سونا ناپسند فرماتے تھے اور نماز عشاء کے بعد ( بلاضرورت شرعی ) باتیں کرنا مکروہ جانتے تھے ] ۔ ( متفق علیہ )<br />
فرحت و خوشی کے لمحات کا اظہار فحش قسم کی رتجگے کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے اور نکاح کے اعلان و تقریب کے لۓ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ اسے سحری تک لمبا کر دیا جاۓ حالانکہ آغاز شب کی چند گھڑیاں ہی اس غرض کے لۓ کافی ہیں ۔</p>
<p>تقوی پر بنیاد :<br />
مسلمانو ! جس نے اپنی عمارت کی بنیاد تقوی پر رکھی وہی سب سے زیادہ مضبوط و خوبصورت اور دیرپا و مفید ھو گی اور جس نے اپنی عمارت کو محرمات سے بھر دیا اس نے گویا شقاوت و بدبختی کو آواز دے دی ، نوبیاہتا جوڑا شادی کی پہلی رات ( شب زفاف ) میں گوناگوں گناھوں کی تیپش سینکتا ہے ، حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ عليہ فرماتے ہیں :<br />
&#8221; میں گناہ کرتا ھوں تو اس کا اثر اپنی بیوی کے اخلاق و کردار میں پاتا ھوں یا پھر اپنی سواری کی سرکشی کی شکل میں دیکھ لیتا ھوں &#8221; ۔</p>
<p>عاقل عورت کا انداز :<br />
عاقل و حاذق عورت پہلی رات میں گناھوں کے ارتکاب سے اور اللہ کی نافرمانی سے اپنے گھر کی بنیادوں کو نہیں ھلاتی ، گناہ معاشرت کو مشکل بنا دیتے ہیں اور دونوں میاں بیوی کے دلوں کو مبتلا وحشت کر دیتے ہیں اور کوئی شادی جتنی بھی صحیح تر طریقے سے ھو گی اتنی ہی زیادہ توفیق یافتہ نکلے گی ، اور شادی بیاہ میں یہ جتنی بھی اسلامی خلاف ورزیاں ھوتی ہیں ان سب کا سبب احساس کمتری اور احساس درماندگی و نقص ہے ۔</p>
<p>تقریب نکاح کی اصل حقیقت :<br />
بعض لوگ نکاح کی حقیقت کو ہی شائد نہیں سمجھتے وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ فخر و مباھات اور کھانے<br />
پینے کی رنگا رنگ چیزوں کا اھتمام اور قیمتی کپڑوں کی خریداری شائد نکاح کے لوازمات میں سے ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ نکاح تو دو میاں بیوی کے مابین قائم ھونے والا ایک مضبوط بندھن ہے جسے کسی خطاکاری سے اور کسی گناہ و نافرمانی سے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیۓ ۔</p>
<p>والدین کی ذمہ داری :<br />
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح کے مواقع پر گناھوں کے ارتکاب کے لۓ عورتوں کی باگیں ڈھیلی نہ چھوڑ دیں ۔ عورت ذات کمزور ہے اگر وہ سرپرست کا ہاتھ نہ پکڑے رہے گی تو خواہشات کی رو میں بہہ کر بھٹک جاۓ گی ۔</p>
<p>خواتین کا فرض :<br />
خواتین پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی اطاعت کریں حرام امور و اشیاء کے ارتکاب سے بچیں ۔ عورت کو چاہیۓ کہ وہ اخلاق عالیہ سے مزین ھو اور اپنے دل کو اطاعت الہی کی ذریعہ اصلاح کرے ۔ وہ ماں ہے ، ایک خاندان کے بارے میں جوابدہ اور افراد خاندان کی راہنمائی کرنے والی ہے ، اسے عالی فکر اور بلند نگاہ ھونا چاہیۓ ۔ آج عمل کا وقت ہے اور کوئی حساب نہیں کیا جا رہا ہے اور کل ( قیامت کو ) حساب کتاب لیا جاۓ گا مگر عمل کا کوئی موقع نہیں رہے گا ۔</p>
<p>اللہ تعالی کا ارشاد ہے :<br />
[ جو نیک کام کرے گا تو اپنے لۓ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو پہنچے گا ، اور تمھارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے  ] ۔ ( حم السجدہ ۔٤٦)</p>
<p>باعث عروج و سعادت :<br />
مسلمانو ! اسلام تھذیب و تمدن اور سیادت و قیادت کا منبع ہے اس سے تعلق و تمسک عروج و ترقی کا ذریعہ ، امتوں کی تشکیل کا باعث اور نسلوں کی تعمیر کا سبب ہے  اور یہ سب کام باحسن طریق سرانجام پاتے ہیں ۔</p>
<p>دولھا اور اس کے والدین کے لۓ ھدایات :<br />
نکاح کے طریقوں میں آسانی اور سعادت بخش شادی کے ذریعے محبت و مودت کی راہیں پانا میاں بیوی دونوں اور ان کے سب گھر والوں کے لۓ باعث ابتہاج و مسرت ھوتا ہے اور یہی معاشرے کے لۓ بھی خوشی کا باعث بنتا ہے ۔ شوھر کو چاہیۓ کہ وہ دیندار ، بلند اخلاق اور باادب عورت کو بیوی بنانے کے لۓ اختیار کرے ۔ اور اگر کوئی اخلاق و دین میں برابری کا رشتہ آۓ تو اسے رد نہ کریں ، اھل عقل و تجربہ سے مشورہ کرنے ، اللہ سے استخارہ کرنے اور اس عورت کو بیوی بنانے کا عزم بالجزم کر لینے کے بعد کسی محرم کی موجودگی میں اپنی ھونے والی بیوی کو ایک نظر دیکھ لیں اور پھر پورے انشراح صدر اور توکل علی اللہ نکاح کریں ۔ شب زفاف پر اعتدال و میانہ روی سے فرحت و خوشی کی تقریب منعقد کریں جس میں لاابالی پن ، فخر و مباھات او کبر و نخوت نہ ھو ، اس سادہ سی تقریب کے ذریعے شرعی اعلان نکاح کریں ، اس میں اپنے دوست و احباب اور اعز و اقارب کو دعوت دیں اور مہمان کے بقدر مناسب کھانے پینے کا انتظام کریں جس میں اسراف و تبذیر ( فضول خرچی ) کا عنصر ہرگز شامل نہ ھو اور تقریب کے اختتام پر دلھن کو دلھا کے ساتھ روانہ کر دیں ۔</p>
<p>گناھوں کا اثر ازواجی زندگی پر :<br />
سمجھدار ، عقلمند اور اعلی اخلاقی و روحانی قوت کی مالکہ عورت اپنی شادی کے موقع پر حرام امور و اشیاء کے وقوع سے روکتی ہے ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ گناھوں کا اس کی ازواجی زندگی پر برا اثر مرتب ھو گا ۔</p>
<p>اسلام کی نکاح میں آسانیاں :<br />
اسلام نے نوجوانوں کے لۓ نکاح میں آسانیاں اور اس کے رشتوں میں بڑی سہولتیں مہیا کیں ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور شادی کی جبکہ آپ سفر میں تھے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ &#8221; راستے میں ہی تھے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دلھن بنایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو رات کے وقت ہی یہ بیوی ھدیہ کر دی ، او صبح ھوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم شب زفاف گزارے ھوۓ دلھا تھے ۔</p>
<p>ایک انتہائی قبیح فعل :<br />
شادی بیاہ کی برائیوں اور قبیح امور میں سے ایک یہ بھی ہے کہ والد اپنی بیٹی کی شادی کو مؤخر کر دے اگر چہ دینی ھم پلہ اور اخلاقی برابری کے رشتے آ رہے ہیں ، یا پھر بعض والدین لڑکی کے چچا زاد کے لۓ اسے روکے رکھتے ہیں ۔ ( کہ وہ شادی کے لائق ھو گا تو اسے اپنے اس بھتیجے سے بیا ھوں گا )<br />
اے باپ ! یہ بات ذھن نشین کر لیں کہ آپ کی بیٹی آپ کے گھر میں ایک کمزور سی مخلوق ہے ، اس کی حیاء  داری نے دل کی بات زبان پر لانے سے اس پر تالے لگا رکھے ہیں وہ صبح اٹھتی ہے تو دل میں رنج لیۓ اٹھتی ہے اور دن کو چلتی پھرتی ہے کہ اس کا دل حزین و غمگین ھوتا ہے ۔ وہ اس فکر میں رنج و الم محسوس کرتی رہتی ہے کہ کہیں بے بیا ہی نہ رہ جاۓ اور شادی کی گاڑی ہی نہ نکل جاۓ ۔</p>
<p>عورت : ایک پھول :<br />
عورت ایک پھول ہے ، جس کی بہار و جوبن کا زمانہ بہت ہی مختصر سا ھوتا ہے ۔ اور پھر یہ پھول مر جھا جاتا ہے اور دین اسلام و شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی ھدایت بھی یہی ہے کہ لڑکی کی شادی اس کے بالغ ھونے پر جلد از جلد کر دی جاۓ ۔ اور اس میں بھی کوئي قباحت نہیں کہ کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ کسی نیک شخص کے سامنے خود پیش کر دے بلکہ یہ سرپرستی و نگرانی کی انتہائی اعلی مثال ھو گی ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، انھوں نے رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا مگر وہ ناراض نہیں ھوۓ بلکہ یہی رشتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ انھوں نے بھی یہ رشتہ نہ لیا تو وہ پھر بھی مایوس نہیں ھوۓ بلکہ ام المؤ منین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا  کا رشتہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت عالیہ میں پیش کر دیا ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے شادی کر لی ۔ ( بخاری )</p>
<p>دین و اخلاق میں برابری کے رشتہ کو رد کرنے کا انجام :<br />
والدین کے لۓ دین و اخلاق کے مالک شخص یا نوجوان کا رشتہ قبول نہ کرنا شریعت اسلامیہ کے منافی فعل ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جب تم سے کوئی ایسا شخص رشتہ طلب کرے جس کے دین و اخلاق سے آپ مطمئن ھوں ،  اسے رشتہ دے دو ، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور وسیع بگاڑ پیدا ھو جاۓ گا ] ( ترمذی )<br />
عقل و رشد یہی ہے کہ شریعت مصطفی کی پیروی کی جاۓ اور صاحب عقل و دانش وہی ہے جو اطاعت و پیروی کی راھوں سے سعادت و خوشی کا طلبگار ھو ۔</p>
<p>و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعن</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>حب دنیا و ترک دنیا صحیح مفہوم ، غلط فہمی ، مذمت</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2006/10/09/%d8%ad%d8%a8-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%88-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%db%8c%d8%ad-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85-%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d9%81%db%81%d9%85%db%8c-%d8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2006/10/09/%d8%ad%d8%a8-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%88-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%db%8c%d8%ad-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85-%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d9%81%db%81%d9%85%db%8c-%d8/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 09 Oct 2006 10:09:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2006/10/09/%d8%ad%d8%a8-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%88-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%db%8c%d8%ad-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85-%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d9%81%db%81%d9%85%db%8c-%d8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلہ الشیخ / عبد الباری الثبیتی حفظہ اللہ حمد و ثناء کے بعد دنیا : دار ابتلاء و امتحان : یہ دنیا امتحان گاہ اور آزمائش کی جگہ ہے ، لھذا یہ آخرت کی کھیتی ہے اس میں لوگ آج بوتے ہیں تاکہ کل روز آخرت میں اپنی بوئی فصل کاٹیں چنانچہ ارشاد باری تعالی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Urdu Naskh Asiatype"><font size =4><span>فضیلہ الشیخ / عبد الباری الثبیتی   حفظہ اللہ</span></font> </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype"><font size =3><span>حمد و ثناء کے بعد</p>
<p>دنیا : دار ابتلاء و امتحان :</p>
<p> یہ دنیا امتحان گاہ اور آزمائش کی جگہ ہے ، لھذا یہ آخرت کی کھیتی ہے اس میں لوگ آج بوتے ہیں تاکہ کل روز آخرت میں اپنی بوئی فصل کاٹیں چنانچہ ارشاد  باری  تعالی ہے :</p>
<p>[ وہ ( اللہ ہی ) ہے جس نے موت و حیات کی تخلیق فرمائی تا کہ وہ تمھیں آزماۓ کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون بنتا ہے اور وہ غالب مغفرت کرنے والا ہے ] ۔ ( الملک ۔٢)</p>
<p>اور یہ دنیا مسلسل فناء و زوال کی طرف رواں دواں ہے ، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جو کوئی اس ( زمین ) پر ہے سب کو فنا ھونا ہے اور آپ کے رب کی ذات ( بابرکات ) جو صاحب جلال و عظمت ہے ، وہ باقی رہے گا ] ۔ ( الرحمن ۔٢٦ ،٢٧ )</p>
<p>دنیا کی بے وقعتی :</p>
<p>آخرت کے  مقابلے میں اس دنیا کی عمر بہت ہی تھوڑی ہے ۔</p>
<p>چنانچہ ارشاد ربانی ہے :</p>
<p>[ وہ  ( کافر ) اس دنیا کی زندگی پر خوش ھو رہے ہیں اور دنیا کی یہ زندگی آخرت ( کے مقابلے ) میں معمولی سی متاع ہے ] ۔ ( الرعد ۔٢٦)</p>
<p>حضرت مستورد بن شداد بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>[ اس دنیا کی قیمت و قدر آخرت کے مقابلے میں صرف اتنی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوۓ تو وہ کیا لاۓ (اور سمندر سے کیا کم کرے ) ] ۔ ( ترمذی )</p>
<p>اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک چٹائی پر لیٹے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ( پہلو ) جسم اطہر پر نشان بنا گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ ھم آپ کے لۓ کوئی ایسی چیز ( بستر ) نہ بنا دیں جو آپ کے لۓ ( آرام دہ اور ) اس تکلیف سے بچانے کا ذریعہ بنے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : میرا اس دنیا سے کیا ناطۂ ؟ میری اور اس دنیا کی مثال تو ایسے ہے جیسے کوئی مسافر ( راستے کے ) کسی درخت کے نیچے سايہ کے لۓ بیٹھا اور پھر اٹھا اور اس درخت کی چھاؤں کو چھوڑ کر چل دیا ] ( بخاری )</p>
<p>یہ دنیا جاۓ قرار نہیں بلکہ یہ تو ایک راھداری ( راستہ ) ہے ۔ جب سے بندے کے پاؤں اس راہ ( دنیا ) پر پڑتے ہیں تب سے لیکر یہ اپنے رب کی طرف سفر میں رواں دواں ھوتا ہے اور اس کے سفر کی مدت اس کی عمر ہے جو کہ اس کے مقدر میں لکھی ھوئي ہے تو گویا انسان کی عمر اس کے اس سفر کی مدت کا دوسرا نام ہے اور پھر یہ شب و روز ( دن رات ) اس کے اس سفر کے مرحلے ہیں ۔ ہر دن اور رات اس کے مراحل حیات میں سے ایک مرحلہ ھوتے ہیں ۔ اور ایک ایک کر کے یہ مرحلے طے ھوتے جاتے ہیں حتی کہ سفر ختم ھو جاتا ہے ۔ عاقل و صاحب بصیرت شخص وہ ہے جو ان تمام مراحل میں سے ایک ایک مرحلہ کو اپنا نصب العین بناۓ رکھے اور ہر مرحلے کو صحیح و سالم پاتا کماتا ھوا کاٹتا جاۓ جب ایک مرحلے کو طے کر لے تو دوسرے کو اپنا نصب العین بنا لے ۔</p>
<p>خوش ذالقہ و خوش منظر سفر :</p>
<p>دنیا کے بارے میں یہ حقائق اسے یہ درجۂ دیتے ہیں کہ زمین کی جاذبیت اور  دنیا کی رونق دل کو اس کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرنے سے ہی روک دیتے ہیں ۔ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ بیشک یہ دنیا بڑی میٹھی اور سر سبز و شاداب ( خوش منظر ہے ) ] ۔ یعنی اس کا ذائقہ بڑا مزے دار اور اس کی شکل بڑی خوش منظر و جاذب نظر ہے اور کوئی چیز جتنی میٹھی اور خوش منظر ھو وہ اتنا ہی انسان کو فتنے میں مبتلا کرنے والی ھوتی ہے ۔ اسی طرح یہ دنیا بھی بڑی ہی میٹھی اور شاداب و خوش رو ہے ، اسی حدیث میں آگے ارشاد نبوی ہے :</p>
<p>[ اور اللہ تعالی اس دنیا میں تمھیں حکومت و اقتدار دینے والا ہے تا کہ اس طرح وہ دیکھے کہ تم کیا عمل کرتے ھو  ] ۔ ( صحیح مسلم )</p>
<p>یعنی اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کہ تم دنیا کو اولیت دیتے ھو یا آخرت کو مقدم رکھتے ھو  ۔</p>
<p>یہ دنیا : ایک پر فریب پھول :</p>
<p>قرآن کریم نے اس دنیا کو ایک پھول قرار دیا ہے جو کہ حسن و جمال دکھاتا ہے ، عقلوں پر جادو جگاتا ہے اور اپنے حسن منظر کے ساتھ دلوں کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور پھر چند لمحوں کے بعد وہ مر جھا جاتا ہے اس کا وہ حسن و جمال مٹ جاتا ہے اور  ھوا کا تیز جھونکا اس کی ہستی کو مٹا کر رکھ دیتا ہے ۔ دنیا کی بھی یہی مثال ہے ۔ یہ بھی ایک فتنہ انگیز پھول ہے  دھوکے میں ڈالتی ہے اور فریب میں مبتلا کرتی ہے ۔ جب دل اس سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں اور عقلیں  راہ و رسم استوار کر لیتی ہیں اور اس کے دن گزر جاتے ہیں ۔ اس کا حسن و جمال اور چمک دمک سب مٹ جاتی ہے ۔ اور یہ دنیا محض دھوکے کی گندگی بن کر رہ جا جاتی ہے ۔ سامان فریب کے سوا کچھ اس کی قدر نہیں ھوتی ۔ اللہ تعالی نے سچ ہی فرمایا ہے :</p>
<p>[ اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر دیں ( وہ ایسی ہے ) جیسے پانی جسے ھم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کو روئیدگی و شادابی مل گئی اور پھر وہ چورا چورا ھو گئی جسے کہ ھوائیں اڑاتی پھرتی ہیں   اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ مال اور بیٹے تو دنیا کی زینت ( و رونق ) ہیں اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمھارے رب کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں ] ۔ ( الکہف ۔٤٥ ، ٤٦ )</p>
<p>دینا کی یہ بلیغ تصویر میزان اسلام میں دنیا کی حقیقت کو آشکارا کر دیتی ہے تا کہ لوگ اس کے غلام بن کر نہ بیٹھ جائيں کہ اس کی خوبصورتی و جمال کی کشش انھیں اپنے اندر جذب کر لے اور وہ آخرت کی نعمتوں پر کہیں دنیا کو ترجیح نہ دینے لگیں اور یہ کہاں کی عقلمندی اور محکم راۓ و فیصلہ ہے کہ   بندہ اپنی دنیا کے بدلے  دین کو بیچ دے تا کہ حرام کی کثرت جمع کر لے  اور اس دنیا کا مال و اسباب اکٹھا کر لے ۔</p>
<p>دنیا جمع کرنے کی دوڑ :</p>
<p>لوگ دنیا کی تلاش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لۓ سرپٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں اور انھیں ڈر لگا رہتا ہے کہ دنیا کہیں ھمارے ہاتھوں سے چھوٹ نہ جاۓ اور اپنے پاس موجود متاع  دنیا میں مزید اضافے کی لالچ میں تلے ھوۓ ہیں اور اس سلسلہ میں اپنے قیمتی اوقات کو صرف کرتے چلے جاتے ہیں ، اور مشقتیں اٹھاتے ہیں اور اس راہ میں  نمازوں میں کوتا بیان کرتے ہیں اور جماعت کے ساتھ ادائیگی سے پیچھے رہ جاتے ہیں  ۔ اطاعت و عبادت میں تساہل و سستی کرتے اور تلاوت قرآن میں کمی کوتاہی کرتے ہیں ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بات آۓ تو کچھ دینے کے لۓ خیرات  کرنے کی بجاۓ ڈھیر ھو جانے ہیں ۔</p>
<p>اس دنیوی زندگی میں چاہے کتنی بھی نعمتیں اور آسائشیں مہیا ھو جائيں ، یہ سب مل کر بھی جنت کی نعمتوں کے  مقابلے  میں ریت کے  ایک ذرے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ آخرت کے نقمتوں کے مقابلے میں دنیا کی بڑی بڑی مصیبتیں  اور مشکلات بے حیثیت ھو جاتی ہیں اور یہ جہنم کے عذاب کے ایک شرارے کے برابر بھی سختی نہیں رکھتیں ۔</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا خوف :</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امتی کے متعلق اس چیز سے ڈرتے تھے کہ ان پر دنیا کے دروازے نہ کھل جائيں اور وہ کہیں اس کے فتنے میں نہ مبتلا کر دیۓ جائيں ۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بحرین کا مال آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار سے مخاطب ھو کر فرمایا :</p>
<p>[ خوش ھو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تمھیں خوش کر دے گی ، اللہ کی قسم ! میں تمھارے بارے میں فقر و غربت سے نہیں ڈرتا ھوں بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ھوں کہ تم پر کہیں دنیا کے دروازے اس طرح نہ کھول دیۓ جائیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں کے لۓ کھولے گۓ تھے اور تم بھی کہیں اسی طرح اسے جمع کرنے کی دوڑ میں نہ لگ جاؤ جیسے وہ لگ گۓ تھے اور تم بھی کہیں اس کے ہاتھوں انھیں کی طرح ھلاک نہ کر دیۓ جاؤ ] ۔ ( صحیح بخاری )</p>
<p>صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن  عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[ جب تمھارے سامنے روم و فارس کے دروازے کھول دیۓ گۓ تو تم لوگ کس قسم کا رویہ اپناؤ گۓ ؟  حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں : ھم وہی کریں گے جس کا حکم ھمیں اللہ تعالی نے دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>[ کہیں دوسری راہ نہ اپنا لینا کہ تم دنیا جمع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی دوڑ میں لگ جاؤ ۔ پھر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو ، پھر ایک دوسرے سے رخ پھیر لو اور پھر ایک دوسرے سے  بغض و نفرت کرنے لگو ] ۔</p>
<p>حب دنیا کے بعض آثار :</p>
<p>یہ دنیا جمع ھو جانے کے بعض آثار ہیں کہ پہلے اسے جمع کرنے کی دوڑ لگتی ہے پھر  باھم حسد شروع ھو جاتا ہے ، پھر لڑائیاں در آتی ہيں اور خون ریزیاں شروع ھو جاتی ہیں ۔</p>
<p>دنیا جمع ھو جانے کے آثار میں سے ہی یہ بھی ہے کہ بندہ ناز و نعمت میں ڈوب جاتا ہے ، اللہ اور روز آخرت کو بھول جاتا ہے اور وہ گناھوں میں گھر جاتا ہے ، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں :</p>
<p>[ اللہ ان بندوں پر رحم فرماۓ جنھوں نے متاع دنیا کو اپنے پاس امانت سمجھا اور پھر وہ امانت انھیں لوٹا دی جنھوں نے انھیں اس کا امین بنایا تھا اور اس دنیا سے سکبدوش ھو کر پاکباز  روانہ ھو گۓ ]</p>
<p>حضرت مالک بن دینا رحمہ اللہ عليہ فرماتے ہیں :</p>
<p>[ جس قدر تم دنیا کے غم میں پگھلو گے اتنا ہی آخرت کا خوف تمھارے دل سے نکل جاۓ گا اور جس قدد تم آخرت کا غم  کھاؤ گے اسی قدر تمھارے  دل سے اس دنیا کی فکر ختم ھو جاۓ گی]</p>
<p>بعض لوگوں کے دلوں پر حب دنیا نے حملہ کر دیا اور انھیں اس کی چکا چوند نے مغلوب کر لیا ۔  ان کی فکر اسی میں لگی رہی ہے اور ان کی ساری قوتیں اسے ہی جمع کرنے میں صرف ھو جاتی ہیں ۔ انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اس دنیا کی عبادت  و پرستش شروع کر دی اور آخرت کی نعمتوں پر انھوں نے اس دنیا کی عیش و عشرت کو ترجیح دی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[درھم و دینا کا پجاری ھلاک ھو گیا اور رنگیں دھاری دار چادر و کپڑے کی پرستش کرنے والا بھی تباہ ھو گیا ۔ اسے اگر دیا جاۓ تو راضی ھوتا ہے اور اگر اسے کچھ نہ دیا جاۓ تو وہ ناراض ھوتا ہے ] ۔ ( بخاری )</p>
<p>ترک دنیا کی تفریط و کوتاہی :</p>
<p>کچھ لوگ وہ بھی ہیں جنھوں نے فقر و مسکینی کی چادر اوڑھ لی ہے وہ ہر وقت بڑی ذلیل سی حالت میں رہتے ہیں اور اس دنیا کی طیب و پاکیزہ نعمتوں کو استعمال کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ ان کی خواہش یہ ھوتی ہے کہ وہ عبادت گاھوں کے کونوں میں گستے رہیں اور بزعم خود عبادت میں مصروف رہنا چاہتے ہیں اور اس دنیا کی بجاۓ وہ آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ، پھر اچانک ان پر سستی کا حملہ ھوتا ہے اور وہ راحت پسند ھو جاتے ہیں اور انھیں لوگوں کے عطیات و نذرانوں اور کھانے پینے ھدیوں کے لالچ کی بیماری لگ جاتی ہے اور یوں اس دنیا کی تعمیر کے فریضے کو ادا کرنے سے رہ جاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ  ارباب شر اس زمین پر اپنی من مانی کرتے پھرتے ہیں اور گمراہی پھیلانے والے جو جی میں آۓ کرتے ہیں اور دین و دنیا کے امور میں توازن کے فقدان نے امت کو کمزور کر رکھا ہے اور اسی وجہ سے یہ امت دوسری امتوں کی قیادت کرنے سے پیچھے رہ گئی ہے ۔</p>
<p>دنیا و آخرت کی نعمتیں : اہل ایمان کے لۓ :</p>
<p>اسلام حلال  و پاکیزہ چیزوں کو حرام نہیں کرتا اور نہ ہی فوائد و منافع ، کھانے پینے کی چیزوں اور مال و دولت کی مذمت کرتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>[ پوچھیں تو کہہ جو زینت ( و آرائش ) اور کھانے ( پینے ) کی پاکیزہ چیزیں اللہ نے اپنے بندوں کے لۓ پیدا کی ہیں ، انھیں حرام کس نے کیا ہے ؟ کہہ دیں کہ یہ چیزیں اپنے بندوں کے لۓ پیدا کی ہیں ، انھیں حرام کس نے کیا ہے ؟ کہہ دیں کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لۓ ہیں اور قیامت کے دن خاص انہی کا حصہ ھونگی ، اسی طرح اللہ اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لۓ کھول کھول کر بیان فرماتا ہے ] ۔ ( الاعراف ۔٣٢)</p>
<p>غلط فہمی کا ازالہ :</p>
<p>ھماری ذکر کردہ سابقہ تفصیل جس میں حب دنیا اور درھم و دینار کی غلامی کی مذمت کی گئی ہے اس سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہیۓ کہ شائد دنیا  کی تعمیر و ترقی اور تھذیبی آبادکاری کی کوششیں ترک کر دینی چاہییں اور اس دنیا کی خیرات و برکات سے استفادہ نہیں کرنا چاہیۓ ۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اس دنیا سے صرف اسی قدر حاصل  کرے جو کہ اللہ کی مقرر کردہ  حدود کے اندر اندر ( اور جائز طریقوں سے ) ھو اور یہ بھی نہ ھو کہ دنیا اس کے لۓ  غرور و فریب کا سامان بن جاۓ اور وہ دنیا کے مال و متاع کو تمام دینی و اخلاقی قدروں سے بھی بالا تر قرار دے لے اور نہ یہ ھو کہ انسان ھوش ہی کھو بیٹھے اور اپنے دین و اخلاق کو برباد کر بیٹھے ۔</p>
<p>اسلام جس دنیا کی مذمت کرتا ہے وہ شہوتوں اور غافل کن لذتوں کی دنیا ہے جس کے نتیجہ میں حقوق و واجبات ضایع ھوں حرام اشیاء و امور میں وقوع کا تساہل و سستی پیدا ھو ۔ وہ دنیا مذموم ہے ، جو غفلت کا سبب بنے ۔ وہ دنیا اسلام میں ناپسندیدہ ہے جو کہ بندے کو اللہ سے پھیر دے اور آخرت سے غافل کر دے ۔ اللہ تعالی تو یہ چاہتا ہے کہ یہ دنیا ھمارے ہاتھوں کی باندی ھو مگر کچھ ایسے کم ھمت لوگ آۓ انھوں نے اسے اپنے ہاتھ کی باندی بنانے کی بجاۓ وہ خود اس دنیا کے غلام بن گۓ ۔</p>
<p>مثالی و معتدل درجہ :</p>
<p>حب دنیا اور ترک دنیا دونوں میں افراط و تفریط ہے جبکہ اس سلسلہ میں بہترین درجہ یہ ہے کہ دین و دنیا دونوں کو یکجا جمع کر دیا جاۓ ۔ صبر و فقر کو جمع کیا جاۓ اور تقوی و تونگری کو یکجا کیا جاۓ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>[ اچھا و پاکیزہ مال و دولت تو نیک و صالح شخص کے لۓ ہے ] ۔ ( بخاری )</p>
<p>ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب سے یہ دعاء فرمایا کرتے تھے :</p>
<p>[ اے اللہ ! میرے لۓ میری دنیا درست کر دے جس میں کہ میرا معاش و روزی ہے ۔</p>
<p>اے اللہ ! میرے لۓ میری آخرت درست کر دے جس کی طرف مجھے لو ٹ جانا ہے ، اور ہر خیر و بھلائی کے لۓ عمر میں زیادتی فرما دے اور ہر شر و برائی سے بچانے کے لے موت کو میرے لۓ ذریعۂ راحت بنا دے ] ۔ (مسلم)</p>
<p>دین و دنیا میں جدائی :</p>
<p>دین و دنیا کے معاملات میں تفریق و جدائی ہی وہ بنیادی  سبب ہے جس نے امت کو  تنزل و پستی میں مبتلا کر دیا اور اس امت کی حالت اتنی پتلی کر دی کہ اسے اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے سے بھی روک دیا ۔</p>
<p>لوگوں نے جب دنیا کی مذمت سے یہ غلط مفہوم اخذ کر لیا کہ دنیا کو ہی لاپرواہی سے چھوڑ دیا جاۓ ، اس کی آباکاری سے ہاتھ اٹھا لیا جاۓ اس کی اصلاح و ترقی کے لے کوشش ترک کر کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں نیکی کا حکم دینے اور برائی کو روکنے سے دست کش ھو جائیں تو ان امور کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں ایک سخت مکروہ ناپسندیدہ سلبی کیفیت پیدا ھو گئی ۔ ان میں عزلت گزینی نے جنم لے لیا اور وہ ضعف و کمزوری در آئی جسے قبول کرنے سے ھمارا دین اسلام قطعی طور انکار کرتا ہے ۔ اللہ نے تو فرمایا ہے :</p>
<p>[ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ یہ ( دعاء کرتے ہیں ) اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھی نعمت عطا فرمایا اور آخرت میں بھی نعمت بخشن اور ھمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھنا ] ۔</p>
<p>( البقرہ ۔٢٠١)</p>
<p>دنیا و آخرت میں بھلائی :</p>
<p>دنیا کی حسنہ و نعمت ہر مطلوب و مرغوب چيز کو شامل ہے جیسے صحت و عافیت ، بڑا وسیع گھر ، وسیع رزق ، نفع بخش کام ، نیک صالح عمل ، آرام دہ سواری ، اچھی تعریف ، اور  آخرت کی حسنات و نعمتوں کی سردار نعمت دخول جنت ہے اور پھر اس کے تابع دوسرے امور مثلا بڑے خوف و گھبراہٹ سے امن و تحفظ اور حساب و کتاب میں آسانی ۔</p>
<p>صحابہ کرام : فہم اسلام کا بہترین نمونہ :</p>
<p>اسلام کو سمجھنے کے لۓ  بہترین نمونہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں وہ کمائی کے لۓ تجارت و زراعت جیسے اسباب کو اختیار فرمایا کرتے تھے ۔</p>
<p>علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ، اللہ کی راہ میں اپنے اوقات ، اپنی جانیں اور اپنے اموال خرچ کرتے تھے ، ان میں ایسے اغنیاء و مالدار بھی  تھے جو کہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتے تھے ۔ ان میں ہی ایسے فقیر بھی تھے جو کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے ۔ وہ دنیا کے لۓ ھلاکتوں میں واقع ھونے والی کیفیت سے بہت دور رہنے والے تھے ۔ انھوں نے ملکوں کے ملک فتح کیۓ ، شہروں کے شہر تعمیر و آباد کۓ اور حکومتیں قائم ہیں اور اسلام کی خوب نشر و اشاعت کی ۔</p>
<p>صحابہ اکرم رضی اللہ عنہم میں سے بعض کبار صحابہ رضی اللہ عنہم بڑے بڑے مالدار تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان میں سے کسی کو بھی کارو بار تجارت اور مال و دولت کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیا ۔ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں :</p>
<p>&#8221; یہ حب دنیا نہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اس سے وہ چیز حاصل کرے جو آپ کی اصلاح کر دے &#8221; ۔</p>
<p>سعید بن مسیب فرماتے ہیں :</p>
<p>&#8221; اس شخص میں بھی کوئي خیر و بھلائي نہیں جو مال طلب نہیں کرتا تاکہ وہ اپنا قرض  چکاۓ  اور اس کے ذریعے اپنی آبرو کا تحفظ کرے اور وہ مر جاۓ تو اسے وہ اپنے وارثوں کے لۓ بطور ترکہ چھوڑ جاۓ &#8221; ۔</p>
<p>دنیا کا صحیح اسلام مفہوم :</p>
<p>صحیح اسلامی مفہوم میں دنیا مقاصد شریعت کے حصول کا ایک وسیلہ و ذریعہ ہے اور یہ آخرت تک پہنچنے کے لۓ ایک  سواری ہے ، اگر یہ فاسد و خراب ھو جاۓ تو کبھی کبھی اس کی خرابی دین کی  خرابی و فساد کا باعث بن جایا کرتی ہے ۔</p>
<p>اور اس میں کیا شک ہے کہ جب اہل اسلام اس حالت میں مبتلا ھو جائيں کہ امن و امان کا قحط پڑ جاۓ ۔ رزق کی قلت ھو جاۓ قتل و غارت گری بڑھ جاۓ تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔ یہ بات ہرگز قبول نہ کی جاۓ کہ کوئي مسلمان یہ کہے کہ مین اپنا دین محفوظ کرتا ھوں اور اس کے لۓ دنیا کو چھوڑ رہا ھوں ، ایسا کرنے سے تو اہل شر و فساد اس  دنیا سے کھیلیں گے اور اس میں فساد و بگاڑ پیدا کر دیں گے ، کیونکہ جس کی دینی حالت بہتر ھو گئی مگر اس دنیا بگڑ گئی اور اس کے معاملات و امور میں خلل و اقع ھو گیا اس سے بعید نہیں کہ اس کی دینی حالت بھی بگڑ جاۓ اور اس میں خلل رونما ھو جاۓ ۔ اور جس کی دینی حالت بگڑ گئی مگر دنیا سنور گئی اور اس کے تمام امور منظم طریقہ سے چلتے رہے وہ اس دینوی صلاح  و سنوار کی کوئي لذت نہیں پا سکے گا اور نہ ہی اپنی دینوی زندگی کے سدھرنے کا کوئی اثر محسوس کرے گا ، کیونکہ انسان خود اپنی دنیا ہے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>[ اور جو ( مال ) آپ کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت ( کی بھلائی ) طلب کریں اور دنیا سے بھی اپنا حصہ لینا نہ بھلائيں اور جیسی اللہ نے آپ سے بھلائي کی ہے ( ویسی ) آپ بھی ( لوگوں سے ) بھلائی کریں اور دنیا میں طالب فساد نہ ھوں کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ]  ۔( القصص ۔٧٧)</p>
<p>دنیا کا ظاھر و باطن :</p>
<p>قرآن کریم میں اللہ تعالی  نے ایک جگہ فرمایا ہے :</p>
<p>[یہ تو دنیا کی ظاھری زندگی کو ہی جانتے ہیں اور آخرت (کی طرف ) سے غافل ہیں ] ۔ ( الروم ۔٧ )</p>
<p>قرآن کریم ایسی قوموں  کا واقعہ بیان کر رہا ہے جن کی نظر اس زندگی کے بارے میں انتہائي  محدود و تنگ ہے اور ان کی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف اس کے ظاھر ، اس کی لذتوں ، اس کے کھیل تماشیوں ، اس کی دولتوں کمائیوں ، دینوی امور و معاملات ، اس کی تعمیر و آبادی ، اس کی عمارات و رہائشوں ، اس کی شہوت خيز چیزوں اور خواہشات نفس کے مطابق اشیاء کو ہی جانتے ہیں ۔ وہ اس کے باطل ،  اس کے مضرات و نقصانات ، اس کی مشکلات و مصائب اور اس کے زائل و فانی ھونے کی حقیقت سے ناآشنا ہیں ۔</p>
<p>ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[ یہ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئي گھر نہ ھو ، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ھو اور اس دنیا کے لۓ مال و دولت وہی جمع کرتا ہے  جس میں عقل نہ ھو ] ۔ ( مسند احمد )</p>
<p>یہ لوگ جو کہ دنیا کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ھوۓ اور اسی سے دل لگاۓ بیٹھے ہیں انھیں ان دینوی لذتوں سے کچھ فائدہ حاصل نہ ھو گا ، اگر چہ وہ ساری دنیا کی دولتیں اور خزانے بھی کیوں نہ جمع کر لیں اور انھیں مسلسل نفسیاتی پیاس اور مادی خواہش گھیرے رکھیں گی ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ لو اگر ھم چاہتے تو ان آیتوں سے اس ( کے درجات ) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ھو گیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ھو گئي کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونیی چھوڑ  دو تو بھی زبان نکالے رہے ۔ یہی مثال  ان لوگوں کی ہے  جنھوں نے ھماری آيتوں کو جھٹلایا ۔ ۔ ] ( الاعراف ۔١٧٦)</p>
<p>و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین<br />
</span></font> </font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2006/10/09/%d8%ad%d8%a8-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%88-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%db%8c%d8%ad-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85-%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d9%81%db%81%d9%85%db%8c-%d8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مشق کا مذاکرہ</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2006/09/11/%d9%85%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%db%81/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2006/09/11/%d9%85%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Sep 2006 10:30:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2006/09/11/%d9%85%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%db%81/</guid>
		<description><![CDATA[عرض ناشر میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر گزار ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور مسلمانوں کے گھر پیداکیا۔اور دعوت و تبلیغ کے کام سے جوڑا جتنابھی شکر کریں کم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے اپنے دین کی محنت کرنے والوں کی خدمت لے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Urdu Naskh Asiatype">
<div><font size="3">عرض ناشر</p>
<p>    میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر گزار ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی امت میں پیدا فرمایا اور مسلمانوں کے گھر پیداکیا۔اور دعوت و تبلیغ کے کام سے جوڑا جتنابھی شکر کریں کم ہے۔</p>
<p>    اللہ تعالیٰ ہم سے اپنے دین کی محنت کرنے والوں کی خدمت لے لے یہ ہماری خوش قسمتی ہے اس کتاب سے پہلے ہم نے دعوت الی اللہ شائع کی جو بہت مقبول ہوئی اس کے بعد اعمال مسجد اس کے بعد رائیونڈ کا عشرہ شائع کی جو الحمد للہ آج تک چھپ رہی ہے اور اب الحمد للہ ہم مشق کا مذاکرہ شائع کر رہے ہیں جس کو جناب مولانا عبد الباسط صاحب نے بڑی محنت سے جمع کیا ہے ہم پور ی کوشش کی ہے اس میں کوئی غلطی نہ رہے لیکن پھر بھی انسان خطاکار ہے غلطی رہ سکتی ہے اس پر ادراہ پیشگی معذرت چاہتا ہے اور جو غلطی وہ اس سے ادارہ کو آگاہ کریں تاکہ آئندہ اڈیشن میںدرست کر دی جائے اللہ تعالیٰ ہمای کاوشوں کو قبول فرمائے</p>
<p> آمین ثم آمین</p>
<p>فقط</p>
<p>قاری محمد عبد الباسط</p>
<p>دعوت نیابت</p>
<p>    اللہ رب العزت چیزوں اور حالات کے خالق ہیں ۔اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اپنی نمائندگی کے لئے چنا ہے ۔اللہ رب العزت نے ساری کی ساری امت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کیلئے چنا ہے اور قرآن کی وراثت کیلئے چنا ہے ان اعلی نسبتوں کی وجہ سے پورے کے پور دین کو زندہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔</p>
<p>    سب سے پہلاکام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم والے غم و فکر اور کڑھن اور درد کے ساتھ نیابت والی محنت کوخود کرنا ہے اور پوری امت کو اس دردوغم والی محنت پر تیار کرنا ہے اپنے دل کے یقین کو درست کرنا ہے اور سارے کے سارے لوگوں کے دلوں کے یقینوں کو درست کرنا ہے خود بھی حضور کے اخلاق حسنہ کو زندہ کرنا ہے اور ساری امت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کو زندہ کرنے والا بنانا ہے۔</p>
<p>    حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو خود بھی سیکھنا ہے اور ساری امت کو علم کے سیکھنے کیلئے تیار کرنا ہے۔</p>
<p>    اب یہ مقاصد کیسے حاصل ہوں گے ۔ہر محنت کے کچھ نہ کچھ اعمال ہوتے ہیں نیابت والی محنت کے اعمال میں سے دعوت الی اللہ سب سے پہلا عمل ہے (لو گوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے)   اللہ کی عظمت اللہ کی کبریائی اللہ کی حمدو ثنا کے بولوں کوخود بھی بولنا ہے اور پوری امت سے بلوانا ہے۔</p>
<p>    نیابت والی محنت کے اعمال میں سے دوسرا عمل تعلیم و تعلم ہے یعنی(خود بھی سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اور لوگوں کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنے کیلے تیار کرنا ہے)</p>
<p>    نیابت والی محنت کے اعمال میں سے تیسرا عمل۔ذکرو عبادت کہ ہماری چوبیس گھنٹے کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اللہ رب العزت سے جڑا ہوا ہو۔</p>
<p>    نیاوت والی محنت کے اعمال میں سے چوتھا عمل اخلاق حسنہ یعنی (حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ سے ساری کی ساری امت کے ساتھ پیش آنا ہے ہم ان اعمال کو روزانہ اپنا وقت فارغ کر کے ان کی مشق کریں گے اور ان کی مشق کروائیں گے۔)</p>
<p>    نسبت نیابت کیا ہے حضور کے جی میں جو تھا وہ ہمارے جیویوں میں آجائے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راتیں اور دن گزرتے تھے اسی طرح ہماری راتیں اور دن گزریں ۔</p>
<p>    لوگوں کے پیچھے مارے مارے پھرنا اور ان کی کڑوی کسیلی برداشت کرنا یہ نسبت نیابت ہے۔</p>
<p>١۔ نکلنے کا مقصد کیا ہے</p>
<p>    حیثیت کو بدلنا ہے۔حیثیت پر زندگی لگنا آسان ہو جاتا ہے۔ہم تاجر نہیں۔زمیندار نہیں۔ملازم نہیں۔کارخانہ دار نہیں۔اللہ کے خلیفہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب قرآن کے وارث ہیں۔ابھی تک ہم نے خلافت ،نیابت۔وراثت کی حیثیت نہیں سمجھی ۔یہ ظلم کیا ہے۔اس پر ہم خود بھی اور جہاں جائیں اور سے بھی استغفار کرائیں۔ظالم کی مدد نہیں ہوتی اور ہدایت بھی نہیں ملتی ۔</p>
<p>٢۔ نائب کا کام</p>
<p>    پورا دین پوری دنیا کے انسانوں میں زندہ ہو جائے۔پور دین پر ہو چلے گا جس کے دل کے اندر کلمے والا یقین اتر جائے۔یعنی اللہ سے ہوتاہے ۔مخلوق سے نہیں ہوتا ۔دویقینوں کی نفی اور اثبات کے ساتھ دعوت دینا ضروری ہے۔</p>
<p>    اللہ پاک خالق ہے چیزوں کا اور حالات کا ،زمین ،آسمان ، سورج، چاند ،ستارے،دریا،پہاڑ وغیرہ سب اللہ نے بنائے ہیں ۔اللہ کے سوا ان کا بنانے والا کوئی نہیں۔</p>
<p>    عزت،ذلت،خوشی،کامیابی،ناکامی یہ حالات سب کے سب اللہ نے پیدا کئے ہیں ۔اللہ کے سوا کوئی ان کے بنانے والا نہیں ہے۔</p>
<p>    اللہ نے ہر کامیابی کو حکم پوراکرنے کے لئے سنت طریقہ اختیار کرنے کے ساتھ جوڑا ہے۔ہر ناکامی کو حکم توڑنے اور سنت طریقہ چھوڑنے کے ساتھ جوڑا ہے۔یہ یقین ہمارے دلوں میں اور ساری دنیا کے انسانوں کے دلوں میں اتر جائے اس کے لئے حضور کا طریقہ محنت ہے۔اعمال کو چھ صفات کے ساتھ کرنا ہے ۔اس کے لئے روزانہ وقت فارغ کرنا اور اللہ کے راستے میں نکلنا ضروری ہے۔</p>
<p>٣۔ نائب کے فائدے</p>
<p>    کچھ فائدے دنیا میں اور کچھ فائدے آخرت میں ملیں گے۔<br />
١۔ دنیا میں اللہ کے ساتھ نائب ہو جاتا ہے۔<br />
٢۔ اللہ نائب کی حفاظت بھی کرتے ہیں ۔اور تربیت بھی کرتے ہیں۔<br />
٣۔ کائنات ان کے تابع کردیتے ہیں۔<br />
٤۔  نائب کے ہر عمل کا اثر پوری دنیا کے انسانوں بلکہ آخرت تک آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔<br />
٥۔ آخرت میں نائب کے چہرے پر انبیاء جیسا نور ہو گا۔<br />
٦۔ ان کا حشر انبیاء کے ساتھ ہو گا۔<br />
٧۔ شفاعت کا حق دیا جائے گا۔<br />
٨۔ نائب کی جنت انبیاء سے ایک درجہ نیچے ہو گی۔</p>
<p>٩۔ نائب کی ترتیب</p>
<p>    سارے صحابہ نائب نبی تھے ۔ان کی تین ترتیبیں تھیں۔<br />
١۔ پوری زندگی پورا مال<br />
٢۔آدھی زندگی آدھا مال<br />
٣۔تہائی زندگی تہائی مال چار ماہ باہر اور ٨  ماہ مقام پر یہ آدھا دن اس کے لئے آدھا دن کاروبار کے لیے۔آدھی رات آرام کے لئے آدھی رات نفل ،تلاوت،ذکر دعا کے لئے باہر تشکیل میں ہو یا مقام پر چار کام کرنے ہیں۔نیابت والا مجموعہ تیار کرنا۔ہر مسجد ٢٤ گھنٹے آباد کرنا ہر گھر کو مسجد کی شاخ بنانا۔ہر گھر سے ایک ساتھی دور اور دیر کے لئے اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنا۔چاروں کام وجود میں آئیں۔اس لئے ہر بستی کا کا ہر بالغ مرد کو مسجد میں لا کر دعوت کے حلقے میں بٹھانا ضروری ہے بار بار تکرار سے کلمے کا یقین کرانا ہے۔پھر اوروں کو لا کر تکرار سے یقین کی بات یاد کرانا۔دعوت کی مشق کے بعد تعلیم کی مشق کرائی جائے۔پھر سیکھنے سکھانے وضو،نماز کے فرائض واجبات کو سکھایا جائے۔اس کے بعد ذکر کی مشق کرائی جائے۔تسبیحات اپنے سامنے یاد کروائی جائیں پھر چھ صفات کے ساتھ نماز پڑھنے کی مشق کرائی جائے۔</p>
<p>دعوت الی اللہ  (اللہ کی بڑائی)</p>
<p>    اللہ پاک کی ذات خالق ہے پیدا کرنے والی ہے چیزوں کے اور حالات کے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور معبود ہے جو اس کا دل سے یقین اور زبان سے اقرار کرے گا اللہ پاک براہ رات اپنے قدر ت سے پالیگا زمین کا پیدا کرنے والا اللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں ۔آسمان سورج چاند کا پیدا کرنے والا اللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا ہیں۔تمام کائنات کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والااللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اس طرح تمام چیزیں ۔</p>
<p>حالات</p>
<p>    تمام حالات کا پیدا کرنے والا اللہ ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔اللہ صحت دیتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی صحت دینے والا نہیں۔اللہ پاک خوشی دیتا ہے ۔اللہ پاک کے علاوہ کوئی خوشی دینے والا نہیں اللہ پا ک ہی بھوک دیتے ہیں۔اللہ پاک کے علاوہ کوئی بھوک دینے والا نہیں اللہ پاک ہی پیاس دیتا ہے اللہ پاک کے علاوہ کوئی پاس دینے والا نہیں درد،غم،خوشی،راحت ،لانے والا اللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی لانے والا نہیں ۔اس طرح تمام حالات ۔ ۔ ۔ جو پیدا ہوتے ہیں وہ تمام کی تمام مخلوق ہیں ان سے کچھ نہیں ہوتا پیدا کرنے والا خالق ہے اس سے سب کچھ ہو تا ہے۔(اللہ پاک کے خزانے) حق تعالیٰ شانہ کے پاس چیزوں کے اور حالات لامحدود اور بیشمارخزانے ہیں اور کسی کے پاس نہیں آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اور قیامت تک جتنا پانی ہے اس کو جمع کیا جائے تو ایک جنتی کو جو پانی ملے گا اس کے مقابلہ میں ایک قطرہ نہیں تمام جنتیوں کا پانی جمع کیا جائے تو اللہ پاک کے خزانوں کے مقابلہ کوئی حیثیت نہیں لا الہ الا اللہ۔اللہ کی ذات بڑی اللہ کے خزانے بڑے حدیث قدسی ہے۔</p>
<p>    اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جنات سب ایک کھلے میدان میں جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہری ایک کو اس کے سوال کے مطابق عطاکردوں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی کمی سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں بھی سب کو دے دینے سے کچھ کمی نہیں آتی۔</p>
<p>اللہ کے اوصاف اللہ کے خزانے ہیں</p>
<p>    صفت علیم ایک زبردست خزانہ ہے۔صفت حفیظ ایک زبردست خزانہ ہے۔</p>
<p>    اللہ کی ذات لا محدود اللہ کی صفات لا محدود:حق تعالیٰ شانہ اپنے خزانوں سے چیزیں نازل فرماتے ہیں اس کا مقدر اللہ ہی جانتے ہیں اللہ پاک اپنے خزانوں سے حالات نازل فرماتے ہیں اس کی مقدار اللہ ہی جانتے ہیں ۔بیماری کی مقدار کا علم اللہ کو ہے اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ہر ہر حال کی مقدار کا علم صرف اللہ کو ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ۔جو کچھ کائنات میں ہے یہ کچھ نہیں۔سات آسمان اور سات زمین اللہ پاک کے خزانے کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔یہ یقین ہمارے دلوں میں آجائے ۔</p>
<p>    اللہ پاک کے خزانوں سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ اللہ پاک کے احکامات ہیں (اللہ کی ذات حقیقی ذات ہے اللہ کی صفات حقیق صفات ہیں)تمام چیزوں کی صفات اثرات خاصیات حقیقی نہیں عارضی ہیں ذاتی نہیں۔اللہ پاک کی عطا کردہ ہیں ان کی ذاتی نہیں سورج میں روشنی ذاتی نہیں اللہ نے پیدا کی ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں آنکھ میں دیکھنے کی صلاحیت اللہ نے پید ا کی ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اس طرح زبان ہاتھ پاؤں پانی آگ لوہا سانپ کی خاصیات اثرات صفات ذاتی نہیں اللہ پاک کی عطا کردہ ہیں۔</p>
<p>اللہ کا قبضہ اور تصرف</p>
<p>    تمام چیزوں کی تمام صفات اثرات خاصیات پر اللہ پاک کا قبضہ اور تصرف تمام چیزوں اوت تمام حالات پر ۔آسمانوں پر اللہ پاک کا قبضہ ہے زمینوں پر اللہ پاک کا قبضہ ہے اور تصرف ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کا نہیں اسی طرح تمام چیزوں پانی آگ پہاڑوں پر اللہ کا قبضہ تصر ف ہے۔ تمام چیزوں پر اللہ کا قبضہ کوئی چیز اللہ کے قبضہ سے باہر نہیں۔</p>
<p>    اللہ پاک چاہے تو شکل ختم کردے اللہ پا ک چاہے تو شکل کو بدل دے ۔جیسے قوم فرعون کے لئے پانی کو خون بنادیا یا جنگ خندق کے موقعہ ٹھنڈی ہو ا صحابہ کے لئے گرم کفا ر کے لئے۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹہنی دی وہ تلوار بن گئی ۔ایک آدمی صبح اٹھ کر بیوی سے کہتا ہے بلب لگاؤ وہ کہنے لگی سورج بھی نکلا ہے جب آنکھ پر ہاتھ لگایا تو بینائی ختم بنی اسرائیل کی ایک نافرمان قوم کو اللہ نے بندر بنا دیا۔</p>
<p>    تو چیزوں کو دیکھ کر نہیں چلیں گے بلکہ جس کا چیزوں اور حالات پر قبضہ ہے اس کے حکم پر چلیں گے۔</p>
<p>موجودات حاضرہ اللہ کے اوامر ہیں</p>
<p>    اللہ پاک جو امر بنا دے وہ بن جائے اللہ پاک اگر چیونٹی کو امر بنا دے وہ چٹان بن جائے جب چائے زبان کو گونگا بنا دے۔جب چاہئے ضد پیدا کر دے اللہ قدر والا ہے طاقت والا ہے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والا بنایا۔</p>
<p>    آج زبان بول رہی ہے قیامت کے دن ہاتھ رن پاؤں اعضاء بولیں گے۔چیزوں کو دیکھ کر چیزوں میں گم ہونا جہالت ہے کرنے والی ذات اللہ پاک ہے جو غیب میں ہے۔</p>
<p>اللہ پاک کی ذات صمد ہے</p>
<p>    اللہ پاک سب کے بغیر سب کچھ کر سکتا ہے اور کسی کا کوئی کام اس کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔</p>
<p>    اللہ پا ک چاہئے بغیر زمینوں کو غلہ عطا کر دے غلہ دینے میں زمینوں کا محتاج نہیں،اللہ پاک چاہے بغیر دوائی کے صحت دے ،اللہ پاک چاہئے بغیر درخت کے پھل دے دے، اللہ پاک چاہئے بغیر کھانے کے بھوک ختم کر دے۔اللہ پاک چاہئے بغیر والدین کے بچہ پیدا کر دیگ اللہ پا ک کے ارادے کے بغیر زمین غلہ نہیں دے سکتی۔</p>
<p>    اللہ پاک کے ارادے کے بغیر دوئی سے صحت نہیں مل سکتی اس طرح تما م چیزوں سے بذات خود کچھ نہیں ہو تا اللہ سے بذات خود سب کچھ ہوتا ہے۔بذات خود زمین غلہ نہیں دیتی بذات دوائی صحت نہیں دیتا،بذات خود کوئی کچھ نہی کر سکتا جہاں سے جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری آنکھوں کا دھوکہ ہے کرنے والی ذات اللہ پاک ہے جو نظر نہیں آتی ۔</p>
<p>    کھیت سے کچھ حاصل نہیں ہو تا۔مادی اسباب کچھ سے نہیں ہو تا اللہ کی ذات سے ہو تا ہے۔سارے انسان سارے اسباب اور اللہ پاک کے درمیان پردہ ہے اس پردہ میں سوراخ کر کے اللہ کے نور کا مشاہدہ کرنا ہے جیسے آگے سمندر پیچھے فوج لیکن موسیٰ علیہ السلام متاثر نہیں ہوئے فرمایا اللہ میرے ساتھ ہیں۔ اللہ پاک نے دو موتوں کے درمیان راستہ دے دیا یہ صفات ہیں۔</p>
<p>اب اللہ کی ذات</p>
<p>    اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان سات زمینوں کو پیدا کیا اللہ وہ نے جس نے سور ج چاند ستاروں کو پیدا کیا۔</p>
<p>    اللہ وہ جس کے پاس تما چیزوں اور تمام حالات کے لا محدود خزانے ہیں،اللہ وہ ہے جس کی ذات حقیقی ذات جس کی صفات حقیقی صفات ہیں، اللہ وہ ہے جس کا تمام چیزوں اور چیزوں ک صفات پر قبضہ اور تصرف ہے اللہ وہ صمد ہے ۔اللہ وہ ہے جس نے جنت کو پیدا کیا اللہ وہ ہے جس نے جہنم کو بنایااللہ وہ ہے جس نے دریاؤں کو چلایا ہے اللہ وہ ہے جس نے آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا، اللہ وہ ہے جس نے حوا علیہا السلام کو بغیر ماں کے پیدا کر دیا اللہ وہ ہے جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو پتھر سے پیدا کیا،اللہ وہ ہے جو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرتا ہے،اللہ وہ ہے جو زندگی سے موت اور موت سے زندہ کو نکالتا ہے ،اللہ وہ جس کے ارادے سے ہر چیز کی تخلیق ہو رہی ہے اس اللہ پاک کے ارادے اور فیصلہ کے بغیر نہ ہماری دنیا ء کی زندگی بنے گی اور نہ ہماری آخرت کی زندگی بنے گی۔</p>
<p>    دنیا اور آخرت کی عزت دنیاء اور آخرت کی کامیابی دنیا اور آخرت کا چین او ر امن کے لئے اللہ کو راضی کرنا ضروری ہے دونوں جہانوں میں کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت حکومت مادی اسباب نہیں دی بلکہ دونوں جہانوں کی کامیابی کیلئے احکامات نازل فرمائیں ہیں کامیابی کا ذریعہ مادی اسبا نہیں کامیابی کا ذریعہ اللہ پاک کے احکامات ہیں اللہ کی ذات پر یقین کر تے ہوئے (کہ اللہ سے ہو تا ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا)اللہ کے حکموں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے پورا کرنا۔</p>
<p>    آج دل نا پاک ہے دماغ ناپاک ،روح ناپاک ہے غیر کا تاثر چھایا ہوا ہے دل و دماغ اور روح سے غیر کا یقین نکال کر پاک کرنا ہے۔</p>
<p>مادی چیزوں کی نفی</p>
<p>١۔   ساری مادی چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا۔</p>
<p>٢۔    ساری مادی چیزوں پرا للہ پا ک قبضہ اور تصرف اور کنٹرول ہے۔</p>
<p>٣۔  اللہ پاک چاہئے تو ساری مادی چیزوں سے زندگی بنا دے۔</p>
<p>٤۔    اللہ پاک چاہئے ساری مادی چیزوں سے زندگی بگاڑ دے۔</p>
<p>٥۔    اللہ پاک چاہئے تو چھوٹی چیزوں سے بڑا فائدہ دے۔</p>
<p>٦۔   اللہ پاک چاہئے تو بڑی چیزوں سے چھوٹا فائدہ پہنچائے۔</p>
<p>٧۔    اللہ پاک چاہئے تو چیزوں کے وجود کو ختم کر یں۔</p>
<p>٨۔    اللہ پا ک چاہئے تو بغیر چیزوں کے زندگی بنا دے۔</p>
<p>    چیزوں کا تاثر بڑی مہلک بیماری ہے خود اپنے اندر سے اس تاثر کو نکالنا اورامت کے ایک ایک فرد کو اس کے تاثر سے بچانا ہمارے ذمہ ہے ۔غلط یقین کی بد بو اگر ظاہر ہو جائے تو تعفن سے انسان مرجائے اللہ سے ہونے کا تاثر خوشبو ہی خوشبو نور ہی نور ہے اور یہ نور قیامت کے دن چہرے پر آجائے گا۔</p>
<p>    ساری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اللہ پاک نے پیدا کیا ہے۔یہ کائنات قیمتی نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قیمتی ہے اور کائنات سے نکلنے والی چیزوں قیمتی نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے نکلے ہوئے اعمال قیمتی ہیں کائنات کی چیزوں کو حاصل کرنے سے انسان قیمتی نہیں بنتا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو اپنانے سے انسان قیمتی بنتا ہے۔</p>
<p>    کائنات کی چیزوں سے دنیا اور آخرت کی زندگی نہیں بنے گی ایک سنت میں وہ کامیابی ہے جو ساری کائنات کی چیزوں میں نہیں کائنات کی چیزوں سے متاثر ہو کر زندگی نہیں گزاریں گے بلکہ اللہ کے حکم سے متاثر ہو کر زندگی گذاریں گے۔</p>
<p>حدیث۔١<br />
اگر پوری دنیا کی مچھر کے پر کے برابر کوئی حیثیت ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی کا نہ ملتا ۔</p>
<p>حدیث٢۔<br />
جب میری امت دنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اسلام کی وقعت ان کے قلوب سے نکل جائے گی۔</p>
<p>   آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قیمتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال قیمتی ہیں تو اپنے دل میں اعمال کی اہمیت پیداکرنے کی غرض سے دعوت دے تو دل میں اعمال کی اہمیت پیدا ہو گی اور چیزوں کا تاثر دل سے نکلے گا۔</p>
<p>    جو اللہ پا ک کی ذات عالی پر بھروسہ کر کے زندگی گزارے گا تو اللہ پاک اپنی قدرت سے ان کی زندگی بنائیں گے جو مادی چیزوں پر بھروسہ کر کے زندگی گزارے گا تو اللہ پاک اپنی قدرت سے ان کی زندگی بگاڑے گا۔</p>
<p>        محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے بغیر مادی چیزوں سے کامیا بی نہیں ملتی اور بغیر مادی چیزوں کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کامیابی ملے گی۔</p>
<p>ضابطہ: اللہ پا ک کے ہاں کامیابی کے ضابطے اور ناکامی کے ضابطے مقرر ہیں جو بدلتے نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لا ینظر والی صورت واموالکم والا کن ینظر الی قلوبکم واعمالکم  (حدیث)</p>
<p>    مادی چیزوں کو دیکھ کر اللہ پاک کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ ایمان اور اعمال کو دیکھ کر اللہ کامیابی ناکامی کے فیصلے کرتے ہیں تو کامیابی ناکامی کے لئے ضابطہ مال اسباب نہیں بلکہ ایمان اور اعمال ہیں۔</font></div>
<p> </font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2006/09/11/%d9%85%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

