<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Pardese's blog &#187; خطبات حرم</title>
	<atom:link href="http://pardese.urduhome.net/category/%d8%ae%d8%b7%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%ad%d8%b1%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://pardese.urduhome.net</link>
	<description>Read Quraan in Urdu</description>
	<lastBuildDate>Fri, 18 Jan 2008 20:09:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>رعنائی یا حسن و زیبائی اور فن</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Feb 2007 11:30:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ / صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ حمد و ثناء کے بعد لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔ فریب دنیا اور کامیابی : تعجب ھے اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  /  صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد<br />
لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔</p>
<p>فریب دنیا اور کامیابی :</p>
<p>تعجب ھے اس شخص پر جو اس دنیا اور اسکے انقلابات کو دیکھ سمجھ لے اور پھر بھی اس سے فریب کھا جاۓ ۔ کیا وہ خي و شر اور نافع و خسارہ میں فرق نہیں کر سکتا ؟ لوگوں کے دل انہیں گھمانے والی ذات باری تعالی کی طرف رجوع کیوں  نہیں کرتے اور وقت کو نیک اعمال میں صرف کرنے کو غنیمت کیوں نہیں سمجھتے اور دلوں کی بیماریوں سے صحت و عافیت کیوں نہیں پاتے اور امانت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے ۔ اپنی ہمتوں کو خیر و بھلائی کے کاموں کی طرف حرکت دیں اور اپنے عزائم کو جدوجہد پر آمادہ کریں اور فقراء و ناداروں اور مساکین و محتاجوں کی ضروریات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں کیونکہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; تم اس وقت تک نیکی و ثواب ہر گز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی محبوب و پسندیدہ چيز سےخرچ نہ کرو گے ۔&#8221; (آل عمران ۔٩٢ )</p>
<p>دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ھے :</p>
<p>&#8221; جو اپنے نفس کے بخل سے بچ گۓ وہی فلاح و کامیابی پانے والے ہیں ۔&#8221; ( الحشر ۔٩ )</p>
<p>اسلام = دین فطرت و بشریت :</p>
<p>مسلمانو ! اسلام دین فطرت ھے ۔ اس سے ہر زمانے میں اصلاح اور ہر جگہ تعمیر ممکن ھے ۔ یہ دین عقیدہ و شریعت ، دین تہذیب و تربیت ، دین سلوک و کردار ، دین حق و جمال اور دین وراثت و معاصرت ہے ۔ یہ زندگی کے تمام معاملات کو سلجھاتا ہے ۔ یہ کسی بھی زمانے میں توقف نہیں کرتا بلکہ اس میں جدت پیدا ھوتی رہتی ہے تاکہ یہ ہر زمانے کے حالات کو سدھار ے اور ہر معاملہ میں فتوی و فیصلہ دے ۔ یہی وجہ ہے اسلام ایسا دین نہیں کہ وہ بشری نفوس کی خواہشات و جذبات سے چشم پوشی کر ے  یا اس کی جبلت و فطرت کے مختلف حالات مثلا اہتمام و اقبال ، ادبار و فرار ، جد و جہد ، سستی و کاہلی ، کد و کاوش کے لۓ نشاط و تازگی ، پژمردگی ، انشراح صدر اور تنگدلی کو مدنظر نہ رکھے ۔<br />
<span id="more-289"></span><br />
نیت صحیح ۔ ۔ ۔ تو ہر کام عبادت :</p>
<p>اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اور ان کے خصائص و طبیعتیں بنائيں اور زندگی و کائنات میں جو چاہا بنا کر پھیلا دیا اور اس کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لۓ مسخر و زیردست کر دیا ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کو معلوم ہے کہ یہ بشر ہیں ان کے دلوں میں کچھ شوق ہیں ، ان کے نفوس کے کچھ حظوظ و مطالبات ہیں اور ان کی انسانی طبیعتیں ہیں ۔ لھذا اسلامی احکام و اوامر ایسے نہیں کہ وہ ان کے سارے کلام کو ہی ذکر الہی بنا دینے ، ان کی تمام تر خاموش گھڑیوں کو فکر و تدبر کر دینے ، اس کی سوچ بچار کو عبرت بنا دینے اور ان کی تمام تر فراغت و فرصت کو عبادت بنا دینے کا مطالبہ کرتے ھوں لیکن اللہ نے انہیں اس بات کی قدرت بخشی ہے کہ اگر وہ قرب الہی کی نیت اور خلوص دل سے یہ کام سر انجام دیں اور کام بھی صحیح ھوں تو ان کے وہ تمام اعمال ہی ذکر الہی ، فکر و تدبر ، عبادت اور عبرت بن جائيں ۔</p>
<p>مطالبات فطرت اور اسلامی آداب :</p>
<p>دین اسلام نے ان تمام اشیاء کو برقرار رکھا ہے جنھیں فطرت انسانی چاہتی اور جن کا مطالبہ کرتی ہے مثلا سرور و فرحت ، کھیل کود ، ہنسی مذاق اور شوق و جمال وغیرہ لیکن ان تمام چیزوں کو ان بلند اسلامی آداب کی باڑ کا پابند کر دیا ہے کہ اگر ان آداب کا خیال رکھا جاۓ تو ان مطالبات سے کمام درجہ استفادہ اور غایت درجہ تفریح طبع کی جا سکتی ہے جبکہ ان آداب کی بدولت ہی بدگوئی و حرام کاری ، ظلم و زیادتی ، بغض و نفرت اور مبادیات و اخلاق کی تباہی سے دور رہ کر بھی مذکورہ فطری امور سے لطف اندوز ھوا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>جمال فطرت سے استفادہ و لطف اندوزی :</p>
<p>اللہ نے ھمارے  لۓ کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں اور ھمیں کن کن عطاؤں سے نواز رکھا ، ھمارے لۓ کیا کیا کچھ مسخر و زیردست کر رکھا ہے اور ھمارے لۓ اپنے نفوس میں ، اپنی زمین میں اور اپنے آسمان میں کیا کیا قوانین و شرائع مقرر فرماۓ ہیں اور ھمارے گرد و پیش کی ہر چيز ہی ھماری دسترس میں کر دی ہے اور اللہ نے فائدہ مند چیزوں ارو مناظر قدرت سے استفادہ کرنے اور لطف اندوز ھونے کے دونوں پہلوؤں کو جمع کرتے ھوۓ ھمیں ان کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لیں ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور چارپایوں کو بھی اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ، ان میں تمھارے لۓ ( سردیوں میں ) گرمی کا سامان ( اون ) اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ھو اور جب شام کو انہیں ( جنگل سے ) لاتے ھو اور جب صبح کو ( جنگل کی طرف چرانے ) لے جاتے ھو تو ان سے تمھاری عزت و شان  ( جمال ) ہے اور ( دور دراز ) شہروں میں جہاں تم زحمت و مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے وہ تمھارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں بیشک تمھارا رب نہایت شفقت والا  مہربان ہے اور اسی نے گھوڑے ، خچر اور گدھے پیدا کۓ تاکہ تم ان پر سوار ھو اور ( وہ تمھارے لۓ ) زینت و رونق ( بھی ہیں ) اور وہ ( دیگر چیزوں بھی ) پیدا کرتا ہے جن کی تمھیں خبر نہیں ہے &#8220;۔ ( النحل ۔٥ ۔ ٧ ) ۔</p>
<p>دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ( کس نے ) تمھارے لۓ آسمان سے پانی برسایا ۔(ھم نے )<br />
پھر ھم ہی نے اس سے سرسبز و خوبصورت باغ اگاۓ &#8220;۔   ( النمل ۔٦٠ )</p>
<p>  ایک تیسرے مقام پر فرمایا :</p>
<p>اور ھم ہی نے آسمان میں برج بناۓ اور دیکھنے والوں کے لۓ اسے سجا دیا &#8220;۔ ( الحجر ۔١٦) ۔</p>
<p>بلکہ ھمیں حکم دیا گیا کہ ھم ہر جمال مناظر قدرت اور پکے ھوۓ پھلوں کو دیکھیں اور فکر و تامل اور غور و تدبر کریں ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ ھم نے اسے کس طرح بنایا اور اسے کیسے مزین کیا اور اس میں کہیں شگاف نہیں &#8220;۔ ( ق ۔٦ ) ۔</p>
<p>ایک جگہ اللہ تعالی نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; ( ان چیزوں کے پھل لانے کے وقت ) ان کے پھلوں پر اور ( پکتے وقت ) ان کے پکنے پر نظر ڈالو &#8220;۔ ( الانعام ۔٩٩) ۔</p>
<p>دوسرے مقام پر ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ھوتے ہیں &#8220;۔ ( ق ۔١٠ ) ۔</p>
<p>ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے ( عجیب ) پیدا کۓ گۓ ہیں اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گيا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کۓ گۓ ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے ؟ &#8220;۔ ( الغاشیہ ۔١٧ ۔ ٢٠ ) ۔</p>
<p>اختیار زینت و جمال کا حکم :</p>
<p>یہ نظر اور تفکر و تدبر ایمان و فائدہ ، اور جمال و زینت کے جامع ہیں بلکہ بنی آدم کو زینت کے اختیار کرنے کا اور خصوصا اوقات عبادت کے لۓ خوب بننے سنوارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : &#8221; اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو خوب مزین کیا کرو &#8220;۔ ( الاعراف ۔٣١ ) ۔</p>
<p>١ ۔ ستر و پوشی میں حسن و جمال اور رعنائی :</p>
<p>اللہ کے بندو ! اس باب میں مزید فکر و تامل اور تفصیل جاننے کے لۓ دیکھیں کہ بنی آدم کی دو چیزیں<br />
 شرمگاہ ہیں اور وہ دونوں ہی ستر و پردہ کی ضرورتمند ہیں بلکہ  ان کے ستر میں بھی انتہائی جمال اور خوبصورتی پائی جاتی ہے ۔ اور دونوں مقامات ستر میں سے ایک تو جسمانی شرمگاہ ہے اور اس کا ستر دو لباسوں سے ھوتا ہے ۔ ایک لباس پردہ سے اور دوسرے لبا‎س زینت سے ۔ اور دونوں کو بیان کرتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اے بنی آدم ! ھم نے تمھارے لۓ لباس نازل کیا جس سے تم اپنی شرمگاھوں کو چھپاتے ھو اور ( اپنے بدن کو ) زینت و رعنائی دیتے ھو اور ( جو ) پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے &#8220;۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔</p>
<p>پہلا لباس شرمگاہ کو چھپاتا اور ستر و پردہ کا باعث بنتا ہے اور دوسرا زیب و زینت اور حسن و رعنائی کا موجب ہے ۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ حسن و رعنائی کی تعبیر کے لۓ ریش ( پرندے کے پر ) کو اختیار کیا گیا کیونکہ تمام مخلوقات کی پوشاکوں میں سے حسین و جمیل پوشاک پرندوں کے پر ہیں جو کہ اپنے دیدہ زیب و دلکش رنگوں ، نرمی و باریکی اور جاذبیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ اور انھوں نے لکھا ہے کہ پرندوں کا پر انسانوں کے بالوں ، بھیڑ بکریوں کی اون اور اونٹ کے بالوں سے بھی نرم و نازک ھوتا ہے ، اگر چہ ان چیزوں میں بھی جمال و زیبائش موجود ہے جو کہ کسی پر مخفی نہیں ہے ۔</p>
<p>٢ ۔ نفس کا ستر :</p>
<p>انسان دوسری شرمگاہ یا مقام ستر ، نفس کا ستر ہے جسے اخلاق جمیلہ ، حسن عبادت اور اطاعت الہی کے پردے سے ڈھانپا جاتا ہے اور اسی پردہ و پوشاک یا ستر و لباس کا ذکر کرتے ھوۓ ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور ( جو ) تقوی و پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے &#8220;۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔</p>
<p>جمال صرف مادی اشیاء اور اجساد و اجسام میں ہی نہیں ھوتا بلکہ اخلاق میں بھی جمال پایا جاتا ہے اسی طرح صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی ) اور ہجر جمیل ( فراق ) جیسے اخلاقی امور وصفات میں جمال کا وجود معروف ہے ۔</p>
<p>جمال اور اسلام :</p>
<p>١ ۔ جمال تعبیر :</p>
<p>برادران و احباب کرام ! اگر دور حاضر کی اصطلاح میں ذوق جمال اور صفت جمال کو فن کا نام دیا گیا ہے تو یہ جمال دین اسلام اور اس کی اسلامی تھذیب میں صرف ذوق کے لۓ نہیں بلکہ یہ عظیم مقاصد کے لۓ مستعمل ہے ۔ جمال تعبیر  یا حسن تعبیر ہر طرح کے فنون کے وسیع ترین قسم اور لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر انداز ھونے والی چیز ہے ۔ اسی طرح ان کے باھمی معاملات ، خطاب و اسلوب ، امر و نہی ، دعوت و راہنمائی اور تعلیم و تربیت کے سب میدانوں میں حسن تعبیر ایک پر اثر چیز ہے ۔ اور ھم وہ امت ہیں جن کی راہنما ان کی کتاب قرآن کریم ہے اور یہ کتاب جمال و حسن تعبیر کے اعتبار سے ھمارے لۓ نادر و بیمثال نمونہ ہے اور اس امت کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جوامع الکلم دیۓ گۓ تھے کہ چند کلمات میں آپ معانی و مضامین کے دریا بہا دیا کرتے تھے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا کرتے    تھے ۔ عرض قول حسن ، وعظ حسن ، باحسن طریق جدال و مناظرہ اور احسن القصص یہ سب کلمات اہل علم اہل دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے میدانوں میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے ایک تنبیہ اور رہنمائی ھے کہ وہ اپنے اسلوب و انداز میں جاذبیت و کشش پیدا کریں اور مافی الضمیر کی تعبیر کے لیے وہ خوبصورت انداز اختیار کریں کہ جسے جمال تعبیر کہا جا سکتا ھے اور یہ کیوں نہ ھو جبکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس طرح راہنمائی کرتے ھوۓ فرمایا :</p>
<p>&#8221; آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لۓ نرم دل ھو گۓ اور اگر آپ سخت گفتگو و سخت دل ھوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ھوتے &#8220;۔  ( آل عمران ۔١٥٩ ) ۔ اللہ اکبر ! سبحان اللہ !</p>
<p>٢۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور جمال کلام :</p>
<p>اللہ والو ! یہ کتنا واضح اور کتنا حسن و جمال والا حکم ہے ۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سخت کلام اور سنگدل و سخت گیر افتاد طبع پاتے ۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے قطعی پاک تھے ۔ لیکن اگر آپ ایسے ھوتے تو آپ کی بات کوئی نہ مانتا بلکہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ نکلتے ۔ کیوں ؟ اس لۓ کہ لوگ رفق و نرم مزاجی ، خندہ روئی ، مسکراتے ھوۓ استقبال کۓ جانے ، اعلی اخلاق و حسن گفتگو ، حسن استماع ، جاذبیت و کشش کی فطرت پر پیدا ھوۓ ہیں اور انہی صفات کو قبول کرتے انہیں ہی چاہتے اور انہی کا احترام کرتے ہیں ۔</p>
<p>٣ ۔ جمال قول ، صبر جمیل اور ۔ ۔ ۔ :</p>
<p>معلم و مدرس ، رہبر و رھنما ، ناصح و خیر خواہ ، محتسب ، داعی و مبلغ ، قلم کار و مضمون نگار اور پڑھے لکھے تمام لوگ اس بات کے اہل ہیں اور انہیں چاہیۓ کہ وہ قول جمیل ( عمدہ بات ) ، صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی تلافی کا اعلی انداز ) اور ہجر جمیل ( فراق و علیحدہ کے عمدہ انداز ) کو اپنائیں ۔</p>
<p>فسق و فجور کوئی فن نہیں :</p>
<p>مسلمانو ! یہ خوبصورت جمال اور دلفریب و دلکش فن ، حق سے بالا تو ھو ہی نہیں سکتا ، نہ ہی فسق و فجور کے کاموں کو  فن کا نام دیا جا سکتا بلکہ یہ ممکن و جائز ہی نہیں کہ فن اور فنی عمل ( اداکاری و فنکاری ) کے نام سے کفر و فسق اور ظلم و جور پر پردہ ڈالا جاۓ بلکہ بعض لوگ تو انتہاء پسندی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان میں سے بعض یہ تک کہنے لگے کہ : فنکار کے خلاف ان قواعد اور معیاروں کے مطابق فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا جن کے تحت دوسرے لوگوں کے بارے میں کیا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ فنکاریوں کے جمال کو دروغ گوئی و جھوٹ اخلاقیات کی تخریب و تباہی اور عمدہ عادات و اطوار کو چھوڑ کر بداخلاقی اپنانے کا ذریعہ بنایا جاۓ ۔ اور نہ ہی یہ ہرگز جائز ہے کہ جمال تعبیر کے ذریعے باطل امور کو جنم دیا جاۓ بدگوئی کھلے عام کی جاۓ اور جعل سازی کا ارتکاب کیا جاۓ ۔</p>
<p>وسیلۂ ممنوع بھی ممنوع ہے :</p>
<p>جب یہ حسن جمال  اور زینت و رعنائی حق کی عمارت کو مسمار کرنے ، اخلاق اقدار کو نیست و نابود کرنے اور اخلاقیات پر دست درازی کرنے کا ذریعہ و سبب بننے لگیں تو ایسے حسن و رعنائی کو روکنا اور اس کی راہیں بند کرنا واجب ھو جاتا ہے کیونکہ ممنوع فعل تک پہنچانے والا ذریعہ و وسیلہ بھی ممنوع ہی ھوتا ہے ۔ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جو کہ پوری دنیا کی عورتوں سے زیادہ معزز و مکرم ، زیادہ اہل شرف و عظمت ، زیادہ عفت مآب اور زیادہ پاکباز تھیں ۔ انہیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اپنی آواز میں نرمی پیدا کرکے لوگوں سے باتیں نہ کریں کیونکہ یہ فعل بیمار دل والے مریض القلب لوگوں میں شر کو ابھارتا اور انہیں ممنوع امور تک پہچاتا ہے  چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; ( تم کسی اجنبی شخص سے ) نرم نرم باتیں نہ کرو  تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض و بیماری ھو اس میں کوئی امید ( نہ ) پیدا کرے اور دستور و معروف طریقہ کے مطابق بات کیا کرو &#8221; ۔ ( الاحزاب ۔٣٢) ۔</p>
<p>ستر اور شیطان :</p>
<p>اللہ کے بندو ! غور و تامل کا لطیف سا اشارہ اس بات میں موجود ھے جو کہ قرآن کریم نے ہمیں بتائی اور اس پر متنبہ و خبردار کیا ھے کہ شرمگاہ کو ننگا کرنے اور شیطان اور اسکے چیلوں میں ایک تعلق پایا جاتا ھے ۔ آپ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھ کر دیکھ لیں :</p>
<p>&#8221; اے ابن آدم ! (دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر ) جنت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیۓ تاکہ ان کے ستر انہیں کھول کر دکھلا دے ۔ وہ اور اس کے چیلے تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ سکتے ۔&#8221; (الاعراف۔٢٧)</p>
<p>شیطان ، اسکے چیلے اور اسی کی راہ چلنے والے دوسروں کو دونوں شرمگاھوں کو ننگا کر دینے کا حکم ترغیب دیتے رہتے ہیں ۔ جسم کے ستر کو ننگا ھونے ، کپڑے اتار پھینکنے اور بدن کو کھول دینے کے ذریعے عریاں کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور نفس کے ستر کو برے اخلاق و افعال کے ارتکاب سے کھلوا دیتے ہیں ۔</p>
<p>جمال رخ نہیں جمال عمل :</p>
<p>مسلمانو ! یہ ھے حسن و جمال اور یہ ھے زیبائی و رعنائی اور یہ ھے فن و فنکاری کا ظاہر و باطن اور اسکا حسن اور قبح و مذمت ۔ اے صاحب بصیرت مسلمان ان دونوں جمالوں اور رعنائیوں میں سے جو زیادہ حسن و خوبی والا ھے اسے اختیار کر لیں اور ان دونوں صورتوں میں سے جو سب سے زیادہ اچھی ھے اسے اپنا لیں ۔ اور شیطان اور اسکے چیلے آپ کو بہکا نہ دیں ۔ چہرے کا حسن کسی کو بلندی تک نہیں پہنچاتا اگر ان لوگوں کے اخلاق میں حسن و خوبی نہ ھو ۔ اور انسان کی عزت و شرف اسکی تربیت میں ھوتا ھے نہ کے شکل و صورت میں ۔ اگر آپ نے خوبصورت کپڑے پہن لیے اور عمدہ لباس سے مزین ھو گۓ تو یہ آپ کا جائز شرعی حق ھے لیکن اسکے ساتھ ہی اپنے آپ کو حسن اخلاق اور اعلی و عمدہ اعمال کی زینت و زیبائی میں بھی کوئی کمی کوتاہی نہ کریں ۔ یہ بڑے ہی احمق لوگ ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے خوش شکل ھوتے ہیں وہ اپنے ظاہری حسن و جمال کو بناۓ رکھنے کے لیے بھی بڑا کچھ کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے الفاظ و گفتگو میں قبیح اور انداز و کردار میں بدترین لوگ ھوتے ہیں ۔ بدذوقی انکا شیوہ بدزبانی انکی عادت اور سخت گيری انکا شعار ھوتی ھے یہ رنگ سراسر حماقت ھے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; پوچھیں تو ان سے ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم !) کہ جو زینت (و آرائش ) اور کھانے (پینے ) کی پاکیزہ چيزيں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں انہیں حرام کس  نے کیا ھے ؟ کہدیں کہ یہ چيزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن (بھی) خاص انہی کا حصہ ھوں گی ۔ ہم اسی طرح اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ کہہ دیں کہ میرے رب نے تو بےحیائی کی باتوں کو وہ ظاہر ھوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ھے اور اسکو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ جسکی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ اور اسکو بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں ۔&#8221; ( الاعراف ۔٣٢ ۔ ٣٣ )</p>
<p>عبرت انگيز موازنہ :</p>
<p>اللہ آپ کو توفیق خير سے نوازے ! اس مقارنہ و موازنہ کو بھی (پڑھ ) سن لیں جو کہ علامہ امام ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ عليہ نے ذکر کیا ھے اور انتہائی فکر و نظر کے لائق اور باعث تفکروتدبر ھے  چنانچہ انہوں نے لکھا ھے :</p>
<p>&#8221; خیر و بھلائی اور آخرت میں حسن انجام کا طلبگار فرشتوں کے مشابہ ھوتا ھے اور شر و برائی کرنے والا شیطانوں سے مشابہت رکھتا ھے ۔ شکار مارنے اور غلبہ و تسلط پانے کا خواہاں درندوں سے ملتا جلتا ھے اور لذتوں کے پیجھے دیوانہ وار پھرنے والا جانوروں کی مانند ھوتا ھے ۔ وہ شخص جو کسی مفاد و مصلحت کے بغیر ہی مال جمع کرنے کے پیچھے لگا رہتا ھے اس میں حیوانوں کی شباہت پاۓ جانے سے بھی نچلا درجہ پایا جاتا ھے بلکہ اسکے مال کا تو وہی حال ھے جو کہ لق و دق غاروں میں پاۓ جانے والے پانی کا ھوتا ھے جس سے کوئی حیوان بھی استفادہ نہیں کر سکتا ۔&#8221;</p>
<p>آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :</p>
<p> عقلمند وہ ھے جسکا تعلق کسی ایسے وصف سے نہ ھو کہ اس میں اس سے فوقیت صرف کسی درندے ، حیوان یا جمادات کو ہی حاصل ھو ۔ جو اپنی شجاعت و بہادری پر بڑا نازاں ھے اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ بھیڑیا اور چیتا اس سے بھی زیادہ بہادر ھوتے ہیں ۔ جسے اپی قوت پر گمنڈ ھو اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ اونٹ اس سے بھی زیادہ قوی ھوتا ھے ۔ جسے بوجھ زیادہ اٹھانے کا زعم ھو اسے اس بات کا پتہ رہنا چاہیۓ کہ ہاتھ اس سے بھی زیادہ بوجھ اٹھاتا ھے ۔ جسے یہ بات اچھی لگ رہی ھو کہ وہ بڑا تیز دوڑتا ھے ۔ اسے یہ بات نہیں بھولی چاہیۓ کہ اس گھوڑا زیادہ ھوڑتا ھے ۔ جسے اپنی خوش آوازی پر بڑا فخر ھو اسے یہ نہیں بھلانا چاہیۓ کہ بکثرت پرندوں اور بانسریوں کی لکڑیوں کی آوازیں زیادہ طرب آگيں اور لذت آمیز ھوتی ہیں ۔ جو باتیں ان حیوانات و جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں وہی اگر کسی شخص میں پائی جائيں تو اس میں فخر و سرور والی کونسی بات ھے ۔ البتہ اگر کسی میں شعور و تمیز قوی ھو ، اسکا علم وسیع ھو اور عمل اچھا ھو تو اسے اپنے آپ پر رشک کرنا اور خوش ھونا چاہیے ۔ اس سے آگے صرف وہی شخص ھو سکتا ھے جو اس سے بھی زیادہ ہمت والا اور اس سے بھی اکثر عمل والا ھو اور نیک و صالح شخص ھو ۔</p>
<p>اللہ والو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو ، آپ کے رب نے آپ کو بنایا ھے اور روۓ زمین پر پائی جانے والی تمام اشیاء کو اس زمین کی زینت و جمال بنایا تاکہ وہ آپ سب کو آزما کر دیکھے کہ آپ میں سے زیادہ اچھا عمل کون کرتا ھے ۔</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/26/%d8%b1%d8%b9%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%88-%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فلسفۂ عطاء و انکار اور زینت دنیا</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 07 Feb 2007 12:17:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ حمد و ٹناء کے بعد اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ٹناء کے بعد</p>
<p>اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی  ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا ہے ۔</p>
<p>[ آپ کو یہ دنیا کی زندگی کہیں فریفتہ نہ کر دے اور نہ ہی فریب دینے والا ( شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح فریب دے ] ۔ ( فاطر ۔٥ و لقمان ۔٣٣)</p>
<p>انسان کی بلاوجہ پریشانی :</p>
<p>مسلمانو! اپنی من پسند کی چیزوں کو پا لینے ۔ امیدوں تک پہنچ جانے اور مرغوب چیزوں کو حاصل کر لینے کی کوششوں کے دوران بندوں کا ایک گروہ تو بھول جاتا ہے یا پھر عمدا بھلا دیتا ہے کہ ان کی ان کوششوں کا انجام ھمیشہ ان کی خواہش و امید کے مطابق ہی رونما نہیں ھو گا ، لھذا جب کبھی انھیں انکی بعض محبوب چیزوں سے محرومی ھوتی ہے اور ان کے اور انکی من چاہی اشیاء کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ھو جاۓ تو تمام تر وسعتوں کے باوجود یہ زمین اس پر تنگ ھو جاتی ہے حتی کہ خود وہ اپنے آپ سے تنگ آیا ھوا ھوتا ہے اور اس کی عقل اس کا ساتھ نہیں دے رہی ھوتی حتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کے انکار پر اتر آتا ہے اور اس کے سابقہ تمام احسانات کو بھلا بیٹھتا ہے اوردن رات غمزدہ و پریشان رہنے لگتا ہے ، اس کا دل شدید قلق و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے نہ اسے جینے میں کوئی مزہ آتا ہے اور نہ اپنی حالت میں اسے کوئی سکون نصیب ھوتا ہے ۔</p>
<p>فلسفۂ عطاء و انکار :</p>
<p>برادران گرامی ! اس کا سبب در اصل صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عطاؤں کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی وہ اللہ کے کوئی نعمت دینے کے انکار کے فلسفے کی معرفت حاصل کر سکا ہے ۔ اور وہ یہ تصور کر بیٹھا ہے کہ عطاء اور انکار دو ضدیں ہیں جو کہ یکجا نہیں ھو سکتیں یا پھر وہ ندی کے  دو کناروں کی طرح انھیں ایسی چيزیں سمجھ بیٹھا ہے کہ جو کبھی باھم مل نہیں سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعص سلف صالحین امت نے بیان حق اور صحیح و صواب کی طرف ھدایت و راہنمائی کے لۓ بڑے مضبوط موقف اختیار کۓ ہیں ۔ چنانچہ امام سفیان ثوری نے بعض سلف امت کا یہ قول نقل کیا ہے :</p>
<p>&#8221; اللہ کا بندے کو اس کی بعض محبوب چیزوں سے منع و محروم کر دینا بھی در اصل اس کی ایک عطاء و نوازش ہی ہے کیونکہ اللہ نے اس سے وہ چیز کسی بخل کی وجہ سے نہیں روکی بلکہ اس پر لطف و کرم کرتے ھوۓ روکی ہے &#8221; ۔<br />
<span id="more-355"></span><br />
اس سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کہ اللہ کی عطاؤں اور نواشوں کا ھمیشہ ایک ہی سا انداز و رنگ نہیں ھوتا بلکہ اس کی عطاؤں کا رنگ کبھی یہ ھوتاہے کہ وہ بندے کو اسکی محبوب و مرغوب چیزیں دے دیتا ہے جن کی طلب میں وہ بھاگتا پھرتا ہے اور کبھی اس کی عطا کا انداز یہ بھی ھوتا ہے کہ وہ اس کی محبوب و مرغوب اشیاء کو اس سے روک دیتا ہے اور اسے منع کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اتنا صاحب جود و کرم ہے کہ جس کے کرم کی کوئی انتہاء نہیں اور نہ ہی اس کے احسان کی کوئی حد ہے اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس کے سامنے یہ ساری دنیا بھر مچھر کے ایک پر کے برابر بھی حثییت نہیں رکھتی ۔ جیسا کہ جامع ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[  اگر اللہ کے نزدیک اس دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ھوتی تو اللہ کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ] ( جامع ترمذی )</p>
<p>اللہ اگر کسی دنیوی چیز سے کسی بندے کو محروم کرتا ہے تو اس میں اس کی ایک انتہائی  گہری حکمت اور باریک فلسفہ کار فرما ھوتا ہے اور اس عظیم و قدیر کی قدرت و اندازے پنہاں ھوتے  ہیں  اس کے ساتھ ساتھ اس منع و انکار یا محرومی میں بندے کے لۓ بہت ساری مصلحتیں اور مفادات پوشیدہ ھوتے ہیں جو اکثر لوگوں کی نظروں سے مخفی ھوتے ہیں ۔  اس بات کا پتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد سے  چلتا ہے جو کہ جامع ترمذی اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ اللہ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو اسے اس دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ] ( ترمذی و ابن حبان )</p>
<p>اور مستدرک امام حاکم میں ایک روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[اللہ تعالی اپنے مومن بندے کو پیار کرتا ہے اور اسے ( اس دنیا سے ) ایسے بچاتا ہے جس طرح اپنے کسی بیمار کے فائدے کی خاطر تم میں سے کوئی شخص اسے کھانے پینے سے بچاتا ہے ] ۔</p>
<p>فسلفۂ تحریم اشیاء :</p>
<p>اسی طرح امام ابن رجب رحمۃ اللہ عليہ کے بقول یہ بات بھی اسی کی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر شہوت دنیا ، اسکی زینتوں اور رونقوں میں سے بعض چیزیں حرام کر دی ہیں کیونکہ انھیں ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی اور ان چیزوں کو اللہ نے ان کے لۓ آخرت میں ذخیرہ کر دیا اور اسی بات  کی  طرف اس ارشاد  باری  تعالی میں  ارشارہ پایا جاتا ہے جس میں اس نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ اور اگر یہ خیال نہ ھوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت  ھو جائيں گے تو جو لوگ اللہ کا انکار کرتے ہیں ھم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی کہ جن پر وہ چڑھتے ہیں ۔ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ  لگاتے ہیں ۔اور خوب تجمل و آرائش کر دیتے اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمھارے رب کے یہاں صرف پرہیز گاروں کے لۓ ہے ] ( الزخرف ٣٢، ٣٥)</p>
<p>ادھرایک صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جس نے اس دنیا میں ریشمی لباس زیب  تن کیا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ] ۔ ( بخاری و مسلم )</p>
<p>اور صحیح بخاری و مسلم میں ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>[ ریشم اور دیباج ( موٹا ریشمی کپڑا ، استبرق ) نہ پہنو ، نہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاؤ اور نہ ہی پیو ، یہ کفار کے لۓ اس دنیا میں ہیں اور تمھارے لۓ آخرت کی زندگی میں ہیں ] ( بخاری و مسلم )</p>
<p>اور صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جس نے اس دنیا میں شراب پی ، اسے آخرت میں شراب ( طہور ) پینے کو نہیں ملے گی ] ( بخاری و مسلم )</p>
<p>جبکہ آخرت کی وہ شراب طہور تو پینے والوں کے لۓ ایک  پاکیزہ و لذت دار چیز ھو گی ۔<br />
[ جس سے نہ تو ان کے سر درد بوجھل ھونگے اور نہ ہی ان کی عقلیں زائل ھونگی ] ( الواقعہ ۔١٩)</p>
<p>یہ آخرت کی شراب ھو گی کہاں وہ پاکیزہ شراب اور کہاں یہ دنیا والی شراب جو ایک نجس و پلید ، شیطانی فعل ہے اور وہ اس سے مومن لوگوں کے مابین عداوت و دشمنی اور رنجشیں پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے انھیں ذکر الہی اور نمازوں سے روکتا ہے ۔ یہ ساری قباحتیں اسی دنیوی شراب میں پائی جاتی ہیں ۔</p>
<p>زینت دنیا : کتاب الزھد امام احمد میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  انھوں نے فرمایا :</p>
<p>[ اگر مجھے نیکیوں کے کم ھو جانے کا ڈر  نہ ھوتا تو میں بھی تمھارے  ساتھ  عیش و آرام کی زندگی میں شریک ھو جاتا لیکن میں نے  ارشاد خداوندی  سنا ہے کہ اس نے ایک قوم کو عار دلاتے ھوۓ فرمایا ہے</p>
<p>[ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کر چکے اور ان سے متمتع و مستفید ھو چکے ھو آج تمھارے لۓ ذلت و رسوائی کا عذاب ہے ۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور اور فسق و فجور کیا کرتے تھے ] ۔ ( الاحقاف ۔٢٠ )</p>
<p>امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ عليہ نے  بعض سلف صالحین امت کا جو قول نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے جو فلسلفۂ عطاء و انکار بیان کیا ہے اس کی صحت و سچائی پر ھماری آج کی موجودہ حالت میں واضح دلائل اور روشن براھین موجود ہیں ۔ کتنے ہی ایسے لوگ کئی امیدیں لگاۓ بیٹھے ہیں کہ اگر ان کی وہ سب امیدیں برآئیں تو ان کا نتیجہ سواۓ نقصان کے کچھ نہ ھو ۔  اور ان کی کوششوں کے بدلے میں انھیں حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگے ۔ اور کتنے ہی ایسے لوگ وہ ہیں جو اگر اپنے ارادوں میں کامیاب ھو جائیں تو انکی وہ ظاھری کامیابی ان کی شکست و ناکامی کا سبب بن جاۓ اور وہ اس کی تلخی کے گھونٹ بھرتے رہ جائيں ۔</p>
<p>پسندیدہ و ناپسندیدہ :</p>
<p>اسی لۓ اللہ تعالی نے لوگوں کی نظریں اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہیں کہ بندہ دنیا کی بعض چیزوں کو دل و جان سے چاہتا ہے مگر وہ اس کے لۓ وبال جان ھوتی ہیں اور بعض چیزوں کو وہ دل سے ناپسند کرتا ہے مگر وہ اس کے لۓ بہت ہی بہتر اور اھم ھوتی ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>[ ( مسلمانو ! ) تم پر ( اللہ کی راہ میں ) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمھیں ناگوار تو ھو گا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بری لگے مگر وہ تمھارے حق میں بھلی ھو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بھلی لگے اور وہ تمھارے لۓ مضر ھو ، اور ( ان باتوں کو ) اللہ تعالی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ] ۔ ( البقرہ ۔٢١٦)</p>
<p>ایک امتحان :</p>
<p>اللہ تعالی نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو مالدار لوگوں کے پاس پائي جانے والی دنیا کی زیب و زینت کی حقیقت کو بطور مثال بیان فرمایا ہے :</p>
<p>[بیشک فخر و ستائش اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب و خواہش ہے ( اس کی مثال ایسی ہے ) جیسے بارش کہ ( اس سے کھیتی اگتی ہے اور ) کسانوں کو بھلی لگتی ہے ، پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر ( اسے دیکھنے والے ! ) تو اسے دیکھتا ہی کہ وہ ( پک کر ) زرد ھو  جاتی ہے ، پھر چورا چورا ھو جاتی ہے ۔ اور آخرت میں ( کافروں کے لۓ ) عذاب شدید اور ( مومنوں کے لۓ ) اللہ کی طرف سے بخشش و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے ] ۔ ( الحدید ۔٢٠)</p>
<p>مذمت دنیا سے مراد ؟</p>
<p>اللہ والو ! اھل علم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کتاب و سنت میں جو دنیا کی مذمت وارد ھوئی ہے ، اس سے مراد اس دنیا کا زمانہ و وقت نہیں جو کہ شب و روز کی شکل میں قیامت تک یکے بعد دیگرے مسلسل آتے  جاتے رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے پیچھے اس لۓ لگا رکھا ہے کہ لوگ انھیں دیکھ کر نصیحت حاصل کریں اور پھر اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا :</p>
<p>[ یہ شب و روز دو خزانے ( سیف ) ہیں ، اب دیکھو کہ تم ان میں کیا جمع کرتے ھو ]</p>
<p>اسی طرح دنیا کی مذمت سے اس کی جگہ کی مذمت بھی مقصود نہیں جو کہ یہ زمین ہے جسے اللہ نے بنی آدم کے لۓ گہوارہ و رہائش بنایا ہے ۔</p>
<p>ایسے ہی اس زمین میں اللہ تعالی نے جو چیزیں ودیعت کی ہیں وہ بھی اس مذمت سے مراد نہیں ہیں جیسے پہاڑ ، سمندر ، دریا  نہریں اور معدنیات ( سونا و چاندی وغیرہ ) ہیں ۔</p>
<p>وہ چیزیں بھی اس مذمت میں نہیں آتیں جو اللہ نے اس زمین سے  اگائی  ہیں  جیسے فصلیں ہیں اور درخت ہیں ۔</p>
<p>نہ ہی وہ چیزیں بھی اس مذمت کے تحت آتی ہیں جو اللہ نے اس زمین میں پھیلائی ہیں جیسے حیوانات وغیرہ ہیں۔</p>
<p>یہ سب چیزیں تو بندوں پر  اللہ کی نعمتیں ہیں اور ان  میں اس نے ان کے لۓ بڑے فوائد و منافع رکھے ھوۓ ہیں اور ان کی تو اس کائنات کے خالق و مالک کے وجود  و وحدانیت اور اس کی قدرت و عظمت کے   دلائل و براھین ھونے کے اعتبار سے ایک بہت بڑی حیثیت ہے ۔</p>
<p>مذمت دنیا سے مراد دنیا میں بنی آدم کے افعال قبیحہ کی مذمت ہے کیونکہ ان کے اکثر افعال ایسے واقع ھوتے ہیں کہ جن کے انجام قابل تعریف نہیں ھوتے اور نہ ہی ان سے کوئی مفادات واقع ھوتے ہیں ۔</p>
<p>اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعے دار آخرت طلب کرو اور دنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو ۔</p>
<p>و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/02/07/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%82-%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%86%d8%aa-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سال نو کا آغاز اور امت اسلامیہ سے خطاب</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 22 Jan 2007 12:25:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / عبد الرحمن السدیس حمد و ثناء کے بعد سال نو کا آغاز : اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کے بعد اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس سال نو کو امت اسلامیہ کیلۓ امن و امان ، سلامتی و اسلام اور ان امور کی توفیق کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / عبد الرحمن السدیس</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد</p>
<p>سال نو کا آغاز :<br />
 اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کے بعد اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس سال نو کو امت اسلامیہ کیلۓ امن و امان ، سلامتی و اسلام اور ان امور کی توفیق کا سال بنا دے جو اسے محبوب و پسندیدہ ہیں اور اس ذات با برکات سے جب مدد طلب کی جاۓ تو وہ مدد کرتا ہے ـ اس سے یہ بھی دعاء ہے کہ وہ اس نۓ سال کو اسلام اور تمام دنیا کے مسلمانوں کیلۓ فتح و نصرت کا سال بنا دے اور تمام انسانوں کو خیر و بھلائ ، عدل و انصاف اور سلامتی کی نعمتوں سے مالا مال کرے ، ھمارے موجودہ ایام کو ھمارے ماضی سے بہتر کر دے اور ھمارے موجودہ ایام سے ھمارے مستقبل کو بہتر و تابناک کر دے اور امت اسلامیہ کو مصائب و مشکلات اورہر طرح کے فتنوں اور بلاؤں سے محفوظ رکھے ـ وہ ذات گرامی بڑی ہی صاحب جود وکرم اور فضل و احسان والی ہے ـ</p>
<p>لمحہ فکریہ</p>
<p>مسلمانو ! زمانے کا پہیہ اپنی گردش کو پورا کر لیتا ہے لیکن اس کے حوادث سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا کوئ نہیں ھوتا سواۓ ان لوگوں کے جنکی بصیرت کو اللہ نے روشن کر رکھا ہے اور اپنی عمر کی ایک ایک گھڑی اور لمحہ لمحہ کو غنیمت سمجھتے ھوۓ اسے اعمال صالحہ اور بر و نیکی کے میدان میں صرف کرتا ہے اور افراط و تفریط یا تقصیر و کوتاہی اور گناہ کے راستوں سے دور رہتا ہے ـ<br />
<span id="more-354"></span><br />
الوداع اے سال ماضی :</p>
<p>امت اسلامیہ نے ایک سال کو الوداع کر دیا ہے ، اب اسکی صرف یادیں رہ گئ ہیں ـ ھم نے سال کو یوں الوداع کیا ہے جیسے کوئ ایک دن کو رخصت کرتا ہے اور وہ اس دن کی صبح و شام میں حاصل ھونے والے ہر خوشی و غم کو جانتا ہے ، حزن و سرور اسے یاد ھوتا ہے سعادت و مصیبت اور سختی و تنگ حالی سب ذرہ ذرہ ازبر ھوتا ہے ـ بشارت و خوشخبری اس شخص کیلۓ جس نے اپنے سال ماضی کو تقرب الی اللہ اور اطاعت الہی کے کاموں میں صرف کیا ، اور خوش نصیب ہے وہ جس نے اس سال کے خزانوں میں نیکیوں کو جمع کر دیا اور جو گناھوں سے بچتا رہا ـ</p>
<p>سال نو اور امت اسلامیہ</p>
<p>مسلمانو ! یہ نیا ہجری سال ایک محبوب و صاحب لطف مہمان ہے ، یہ شہروں اوردیہاتوں کے تمام لوگوں کیلۓ باعث غناء و تونگری ہے اس میں تلخ و شرین ہے اور راحت و آرام ہے لیکن انتہائ افسوس کی بات ہے کہ یہ نیا سال ایسے حال میں آیا ہےکہ امت اسلامیہ ابھی تک اپنی عظمت رفتہ کو واپس لانے میں کوئ طریقہ تلاش نہ کرسکی اور نہ ہی غیرت کی سربلندی اور فلاح و نجاح کی راہ پا سکی ہے اور ابھی تک اسے وہ مقام حاصل نہیں ھو سکا اسے بری نظر سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نوچ سکے ـ لیکن ان المناک حالات اور مہلک طوفانوں کے تھپیٹروں کے باوجود ھم پر امید ہیں اور ایک تابناک امید ھمارا سرمایہ ہے ، امت کی لگام توحید الہی کے ہاتھ میں ہے اور اسکے دل ایمان و یقین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>{ اور اللہ اپنے نور کو پورا ( اسلام کو غالب ) کر کے رہے گا خواہ کافروں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے ـ( الصف ۔٨)</p>
<p>تلافیء مافات</p>
<p>ھمیں امید ہے کہ اس نۓ ہجری سال کے آغاز کی مناسب و موقع وہ بہترین وقت ثابت ھو گا ـ جس میں ھم دیکھ بھال اور مراجعہ و پڑتال کرکے اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کر سکیں گے اور یہ ھمارے لۓ کلیرنس اور محابسے کا وقت ثابت ھو گا اور امت کو اس بات کا ادراک ھو جاۓ گا کہ امور کی تاءسیس و استحکام اور قواعد و ضوابط کی وحدت و سلامتی اس بات کی مرھون منت ہے کہ ھم اللہ کی کتاب سے اعتصام و ربط رکھیں اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے تمسک و تعلق استوار کریں اور یہی دونوں ایسے سرچشمے ہیں جو سعادت و شقاوت اور نعمت و نقمت میں فرق کا پتہ دیتے ہیں اور انہی سے صحح عقائد اور درست منھج میسر آتا ہے ـ ان دونوں میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئ گنجائش ہی نہیں ہے اور جس نے ان دونوں کو چھوڑ کر کسی دوسری کتاب و ازم کے ذریعے دنیا میں عزت و برزگی اور عروج و کمال حاصل کرنا چاہا اس نے ایک محال کام میں ہاتھ ڈالا اور اسکا وبال اسے دیکھنا ہی ھو گا اور اسے اللہ سے بچانے والا کوئ دوست و مددگار نہیں ھو گا ـ</p>
<p>اسباب سعادت</p>
<p>برادران ایمان ! یہ امت اپنا ضعف و کمزوری قوت و طاقت میں نہیں بدل سکتی ، اپنی ذلت و رسوائ کو عزت و آبرو کا رنگ نہیں دے سکتی الا یہ کہ یہ پھیر سے انہی چراغوں کو نہ جلاۓ جن سے ھمارے سلف صالحین سے روشنی حاصل کی تھی ـ</p>
<p>ع ( ناکارہ سمجھ بجھا دیا جنھیں تم نے ٭ وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ھو گی ـ ) مترجم</p>
<p>ھماری مراد اس دین کے ان حقائق کو سامنے لانا ہے جنکی بدولت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے سعادت و خوشی پائ اور پھر انہی کی بدولت انھوں نے کئ صدیوں تک پوری دنیا کو سعادتوں سے مالا مال کیۓ رکھا ـ اگر ھم نے اپنی حالت کو شریعت کے آئینے میں دیکھ کر اسکی اصلاح کی نیت کر لی تو اللہ تعالی ھمارے حالات کو سدھار دے گا ـ</p>
<p>صدق و سچائی</p>
<p>اس سلسلہ میں ھماری مدد کرنے والی اھم ترین چیز یہ ہے کہ ھم اپنے نفس ، معاشرے اور امت کے ساتھ قول و عمل میں صادق ھوں ـ<br />
چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ تاکہ اللہ صادقین اور سچوں کو انکے صدق و سچائ کا بدلہ دے ـ }  ( الاحزاب ۔٢٤ )</p>
<p>امتوں کی عظمت و رفعت ان مخلصانہ اور سچے دل سے پیش کی گئ خدمات کا نتیجہ و ثمرہ ہے جو انکے مخلص و خیر و خواہ لوگ پیش کرتے ہیں اور عھد ماضی میں ان عظمتوں اور بلندیوں کو ان لوگوں نے بنایا تھا جو کہ باوفاء پرخلوص تھے ـ</p>
<p>یہاں اھل فکر و قلم ، ارباب ثقافت اور ذرائع ابلاغ سے متعلقہ لوگوں کیلۓ لمحۂ فکریہ ہے کہ انھیں امت کے بارے میں ہر طرح کے طوفان بپا کرنے کے باوجود کوئ مبنی پر حکمت و سنجیدگی چیز پیش کرنے کے لۓ نہیں ملی ، جبکہ حکمت صرف یہ  ہے کہ مذاکرات میں صدق و سچائ کے پہلو کو لازم پکڑا جاۓ حق کے ساتھ حق کی طرف دعوت دی جاۓ ، اصلاح و تعمیر کی راہ پر دلیل و ثبوت اور رفق و نرمی سے چلا جاۓ تاکہ  امت کا داخلی محاذ مضبوط رہے اور اسکا امن و امان پوری طرح محفوظ رہے اور اس بات کا یقین کہ تمام وسائل و قضایا میں اور امت کے تمام حالات و حوادث کو پوری گہرائ و باریکی سے لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیۓ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امت بیماریوں کے اسباب کو تلاش کرنے کے میدانوں کی طرف پوری مستعدی سے متوجہ ھو چکی ہے اور امت اپنے تشخص کی تمام واضح علامتوں کا تحفظ کرنے اور اپنے قواعد و ضوابط پر قائم رہنے میں سختی کے ساتھ سنجیدہ ہے ـ اور اپنی تاریخ و تھذیب کو اپنے لۓ باعث فخر سمجھتی ہے اور بیرونی کلچر نے ھماری تاریخ و تھذیب میں جو عیوب پیدا کر دیۓ ہیں انھیں برداشت کرنے کیلۓ ہرگز تیار نہیں ہے ـ</p>
<p>صبر و تقوی :</p>
<p>جب کسی امت کی تاریخ اور اسکے قواعد و ضوابط عظمت کے آسمانوں کو چھونے لگتے ہیں تو وہ امت بھی سرداری و کرامت کے درجے پر فائز ھو جاتی ہے اور گھات میں کھڑے دشمن کے ہاتھ سے موقع ضایع کر دیتی ہے جو اسے طرح طرح کی فکری دہشت گردی میں مبتلا کرنے کے درپے ھو تا ہے اور ایسے دشمن کی تھذیب کے سرچشمۂ قوت کا خاتمہ کردیتی ہے ـ اور اللہ نے سچ ہی فرمایا ہے :</p>
<p>{ اگر تم تکلیفوں پر صبر و برداشت اور ( ان سے ) کنارہ کشی ( اور اللہ کا تقوی اختیار ) کرتے رھو گے تو ان ( کفار ) کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ـ } (آل عمران ۔١٢٠ )</p>
<p>عقائد و اعمال :</p>
<p>برادران عقیدہ ! امت کیلۓ نجات کی سیڑھی اور ترقی کی معراج اس بات میں ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کا تحفظ کرے ـ فضائل اعمال کا اہتمام کرے اور نئ نسلوں کی اسلامی خطوط پر صحیح تربیت کرے اور ذلت آمیز افعال اور منشیات کے استعمال سے انھیں دور رکھے تاکہ وہ دور حاضر کے تمام فکری چیلنجوں سے محفوظ رہ سکیں ـ</p>
<p>سٹلائیٹ کی تباہ کاریاں :</p>
<p>پتہ نہیں کہ امت اسلامیہ اپنی ٹیکنالوجی اور دور حاضر کے پیش نظر قدرتی وسائل سے صحیح طور پر استفادہ کر سکے گی یا نہیں ؟ اور کیا وہ پورے حزم و احتیاط کے ساتھ ان تباہ کن اور دین و فضیلت کا ستیاناس کر دینے والے سیٹلائیٹ چینلزکے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ھو سکے گی ؟ وہ چینلز جو کہ شب و روز زھر پھیلا رہے ہیں ـ جن کا شر و فساد آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور انھوں نے کتنے نوجوان لڑکوں اور دوشیزاؤں کو اپنے ضیاع و فنا کے تیروں کا شکار کر لیا ہے ، اگر ھم بکثرت خاندانوں اور معاشروں کے فنا ھونے کا منظر دیکھتے رہے اور اس بلاء و وباء کا مداوا کرنے اور اس پر گہری نظر ڈالنے کو ٹالے رکھا تو بکثرت افراد معاشرہ ذلت و رسوائ کی گہرے کھڈوں میں جا گریں گے ، ان سے یہ رشد و ھدایت اور صحت و صواب کی تمیز کا مادہ بھی چھین لیں گے اور انھیں ضیاع اور قلق و اضطراب کے صحراء میں پھینک دیں گے ـ افسوس تو اس بات پر ہے کہ ان چینلوں کے ناظرین میں سے بعض لوگ تو وہ ہیں جنھیں کلچر کی حقیقت کا بھی علم نہیں ہے وہ سمجھ رہے ہیں کہ شائد یہ غازہ و پاڈر اور زیب و زینت یا میک اپ یہی مطلوبہ تمدن اور وہ تھذیب ہے جس کی امیدیں کی جا رہی ہیں ـ اگر امت ان جذباتی امور میں بٹ گئ تو غیرت مند دیکھیں گے کہ یہ اپنی ہی جلائ ھوئ آگ میں جل جاۓ گی ـ</p>
<p>فتنوں کے بادل :</p>
<p>اے امت اسلامیہ : فتنوں کے وہ بادل جن کا دھواں اس امت  کے آسمان پر چھایا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس نۓ سال کے آغاز کے ساتھ ہی وہ چھٹنا شروع ھو جائيں گے ، فتنوں کے وہ بادل ان قوموں کے وہ ظالمانہ حملے ہیں جو اسلام اور اھل اسلام پر وہ قومیں کر رہی ہیں جن کے دل مکرو فریب سے یوں ابل رہے ہیں جیسے ہنڈیا ابلتی ہے  ، انکے قلم حسد و بغض کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں ـ اور وہ اپنے ذرائع ابلاغ کو اسلام دشمنی کی چوٹی تک پہنچا چکے ہیں ،  انھیں اسلام کے حقوق و معانی کا مطالعہ کرنے کی توفیق نہیں سکی بس انھیں اسلام کے حقائق و معانی کا مطالعہ کرنے کی تو توفیق نہیں ھو سکی بس انھوں نے اسلام پر حملے اور طرح طرح کے ہفوات بکنے کو ہی اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور انکے ذلیل و کمینہ ھونے کے نشانات و آثار انکے چہروں پر چھا گۓ اور انتہائ افسوس تو اس بات پر ہے کہ وہ تو محض طوطے کی طرح صرف رٹ لگا رہے ہیں انھیں سبق دینے والے لوگ ھماری اپنی ہی قوم کے ہیں ـ ھمارے طوطوں اور منافقوں نے امت اسلامیہ میں مغربی تھذیب و تمدن کے سلبی پہلو‎ؤں کو پھیلانا شروع کر رکھا ہے اور ساتھ ہی یہ بدزبانیان بھی کر رہے ہیں کہ اس وقت جتنی مشکلات پائ جاتی ہیں یہ سب اسلام کی وجہ سے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ اس کے مناھج اور نظام کو بدلنے کے مطالبے بھی کر رہے ہیں ـ ایسے لوگوں سے کہا جاۓ کہ جلدی بازی نہ کرو بلکہ ذرا صبر سے کام لو اور اس بات کو اپنے دل و دماغ کے پردوں پر نقش کر لو کہ اسلام کمال و جمال اور جلال کی اعلی بلندیوں پر فائز ہے لیکن ان کیلۓ جو اپنے آپ میں خود سپردگی کی خو پائيں اور فطرت سلیم کے مالک ھوں  اور شکست خوردی و غلامانہ ذھنیت کی زندگی نہ جی رہے ھوں جنھوں نے انکی بصیرت کو اندھا کر رکھا ھو ـ اب شائد تمھارے لۓ ایک موقع ہے اسے غنیمت سمجھو اور اپنے آپ کو دین حق کے رنگ میں رنگ لو اور اسی سے اپنی پیار کی پینگیں بڑھا لو تو پھر سبھی اصلاح و تعمیر اور ترقی کے میدانوں میں کود پڑیں گے ـ اگر اسلام کو اسکے تمام تر محاسن و امتیازات اور عالمگیریت کے ساتھ پیش کیا جاۓ تو دور حاضر کے گلوبلائیزیشن کی رو سے امت بآسانی نجات پا سکتی ہے ـ</p>
<p>مسلم ممالک کا بلاک اور مضبوط اتحاد :</p>
<p>اے امت اسلامیہ ! ھم انپے نۓ ھجری و اسلامی سال کے آغاز پر ایک چيز اھمیت و ضرورت کی طرف نہ صرف آواز و اشارہ بلکہ نصیحت و تاکید کرنا چاہتے ہیں جسے اپنانا واجب بھی ہے اور وہ چیز ہے : ایک مضبوط اسلامی اتحاد یا اسلامی ممالک کا ایک قوی گروپ کا قیام ـ اور اللہ تعالی کا حکم بھی یہی ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ اور سب مل کر اللہ کی ( ھدایت کی ) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور باھم متفرق نہ ھونا ـ } (آل عمران ۔١٠٣ )</p>
<p>{ اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ ( ایسا کرو گے تو ) تم بزدل ھو جاؤ گے اور تمھارا اقبال ( شوکت و رعب ) جاتا رہے گا ـ } ( الانفال ۔٤٦ )</p>
<p>اسی طرح ان کھوکھلے نعروں اور مجرمانہ و محدود جذباتی تعلقات سے بھی بچ کر اس میں جو ھمیشہ کی طرح آج بھی شقاوتوں کا سرچشمہ اور مصائب و مشکلات کا مصدر ہیں اور بردران گرامی ! امت اسلامیہ کی موجودہ حالت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ باھم دیگر نفرتیں ، تفریق و تشتت اور اگر کوئ اتحاد ہے تو اس بات پر کہ ھم ہر مسئلہ میں ٹانگ اڑائیں گے اور ہر موقع پر سبھی ایک دوسرے کے مخالف چلیں گے ـ باھمی پیار و محبت کا رشتہ و ربط ختم ھو چکا ہے سب نے اگر اتفاق کیا ھوا ہے تو اس بات پر کہ کسی مسئلہ پر ھم متفق نہیں ھونگے ـــ حتی کہ اگر کہیں کوئ اللہ کا بندہ امت میں اتحاد و اتفاق کا نظریہ لے کر اٹھتا ہے تو کئ دوسرے اسکے خلاف اٹھ کھڑے ھوت ہیں اور وہ اختلاف کرتے وقت یہ بھی پیش نظر نہیں رکھتے کہ اس وقت امت اسلامیہ کن مصائب و مشکلات سے گزر رہی ہے اور اس روز افزوں و گرگوں عالم میں کن کن تلخیوں سے دوچار ہے اور تاریخ کے ایسے مشکل دورسے گزر رہی ہے کہ جسکے انجام کو اللہ کے سوا کوئ نہیں جانتا ـ</p>
<p>استعمار کے دست و بازو :</p>
<p>جب ہر طرف سے ھذیان بکنے ،کذب بیان کرنے اور بہتان طرازی کو اپنی ایک عادت ثانیہ بنانے کا دور دورہ ھو جاتا ہے  تو ایسے میں اللہ تعالی اپنے کسی بندے کو اشارہ دے دیتا ہے جو اٹھے اور حق و صداقت کے دین کی مدد و نصرت کا فریضہ ادا کرے اور اللہ کی مخلوق کے سامنے پوری جرات و حق پسندی کے ساتھ واضح کرے کہ یہ اسلام پر طعن و تشنیع کرنے والے ھمارے ھم زبان دراصل مغرب کے ٹاؤٹ اور استعماری قوتوں کے ہی دست و بازو ہیں اور یہی اللہ کا نظام آ رہا ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p> { بلکہ ھم حق و سچ کو باطل و جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ھو جاتا ہے ـ }  ( الانبیاء ۔١٨ )</p>
<p>قائدین بلاد سے خطاب :</p>
<p>اے امت اسلامیہ کے قائدین و حکام اور لیڈران !</p>
<p>نیا ہجری سال شروع ھو چکا ہے اور دنیا خوف و ہراس میں مبتلا ہے اور ھمارے کئ علاقے جل رہے ہیں اورانکے امن و استقرار  کی رسی میں سخت قلق و اضطراب پایا جاتا ہے ـ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرت سے عبرت حاصل کرو ، اس سے اتحاد و اتفاق باھمی مدد و نصرت اور عقلمندانہ منصوبہ بندی کا سبق حاصل کرو ، تاکہ امت اس پستی سے اٹھ کر ترقی و عظمت حاصل کرے اور صہیونی حکومت کی ظلمات و دہشت گردی سے اپنے مقامات مقدسہ کا دفاع کرنے کے قابل ھو سکے اور مصائب سے گلوخلاصی کرے جن سے آفاق بھرے پڑے ہیں اور یہ بات آپ لوگوں کے ذھن سے ہرگز غائب نہ ھو کہ دشمن تو دشمن ہی ہیں بلکہ بڑے بدترین دشمن ہیں اور انکے چیلنج بھی اب عام سے نہیں بلکہ وہ بڑے شد و مد سے کر رہے ہیں ـ</p>
<p>اے بشریت کے اھل عقل و دانش ! اے انسانیت کے اھل شرف و شرافت اس بات کا یقین کۓ بغیر کوئ چارہ ہی نہیں کہ رسالتوں اور شریعتوں کی اتباع اور دنیا کے اھل عقل و دانش سب یہی چاہتے ہیں کہ دائمی امن و استقرار اور سلامتی کا راج ھو اور وہ ضبط نفس کی دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ بلاد شرق کے ممالک جنگوں کے خطرات اور حوادث و مصائب کے نتائج بد سے بچ رہیں ــ بقول شاعر ـ</p>
<p>جنگ تو وہی ہے جو تم اپنی آنکھ سے دیکھ چکے اور اسکے اثرات بد کا مزہ چکھ چکے ھو لھذا بہادروں کی بہادری دکھلانے کے موقع سے پہلے پہلے راۓ مشورہ کرکے مذاکرات سے مسائل کو حل کر لو ـ</p>
<p>علماء امت سے خطاب :</p>
<p>اے علماء کرام ! آپ لوگ آسمانی وحی کے امین ہیں اپنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں اس مرکزی نقطہ پر بھرپور محنت کرو کہ اتحاد و اتفاق کو اپنانا اور تفرقہ و اختلاف کو اپنے ذھنوں سے نکال پھینکنا واجب ہے اور امت کو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنانے کی ترغیب دلاؤ اور امت کو نصوص قرآن و سنت ، شرعی قواعد اور آداب اسلامیہ و مقاصد عامہ کی روشنی میں سہولت و آسانی کی راہیں مہیا کریں ـ اپنے دین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف کی جانے والی گستاخیوں کا زبان و بیان سے دفاع کرنے میں خوب محنت کرو نئ نسل کے نوجوانوں کو رفق و نرمی اور میانہ روی کے میدانوں کی طرف توجہ دلائیں اور انھیں اصل علم ( کتاب و سنت ) سیکھنے کی طرف ترغیب دلائیں ـ آج امت کے افراد کی کثیر تعداد کے دلوں میں خوف و ہراس ، قلق و اضطراب اور مایوسی و ناامیدی چھائ ھوئ ہے ـ انھیں اپنے رب کی ذات سے امیدیں وابستہ کرنے کی تعلیم  دیں اور بتائيں کہ دنیا میں کوئ طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ھو ـ اللہ کی طاقت اور اسکا ہاتھ اسکے بھی اوپر ہے ـ</p>
<p>دعاۃ و مبلغین سے خطاب :</p>
<p>اے دعاۃ و مبلغین اسلام ! وہ اخلاق و آداب ، وہ فضائل اعمال اور اعلی مثالیں جو مٹ چکی ہیں ، انھیں تازہ کریں ، اور معاشرے کے افراد کو ربط و تعلق ، تعاون و تفاھیم اور باھمی رحم و کرم سکھلائيں اور اپنے دلوں کو کتاب و سنت سے تمسک و تعلق پر جمع کریں ، دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی اور ہر دو جہان میں توفیق خیر پاؤ گۓ ـ اے داعیان اسلام ! کیا ابھی تک وہمی و خیالی معرکوں کیلۓ اٹھائ گئ تلواروں کو واپس نیاموں میں ڈالنے کا وقت نہیں آیا جو کہ اپنے ہی پیاروں اور بھائ لوگوں کے سینوں پر تانی گئ ہیں ـ</p>
<p>اے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے شعبے میں کام کرنے والو ! اللہ نے تمھاری محنتوں میں بڑی برکت فرمائ ہے ـ آپ لوگ امت کیلۓ بہترین آہنی لباس ہیں ـ اپنے  کام اور ذمہ داری و فرائض منصبی کی ادائیگی میں شرعی طریقوں اور صحیح و معقول آداب کا خیال رکھیں تاکہ آپ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی صحیح روپ ، روشن تصویر لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں ـ</p>
<p>مربی حضرات سے خطاب :</p>
<p>اے تعلیم و تربیت کے میدان میں کام کرنے والی مربی حضرات !</p>
<p>خاتون مسلم کی پاکدامنی اور طہارت و پاکیزی کی بلندیوں تک پہنچانے میں خلوص کے ساتھ کام کریں اور خاص طور پر نوجوان نسل پر بھرپور توجہ دو ـ انکے دلوں میں دین کی حقیقت اور امید کی کرن پیدا کرو اور انکے سینوں میں عزم و ھمت اور عروج و ترقیوں کی جوت جگاؤ اور تڑپ پیدا کرو ـ اپنی تربیتی گفتگووں میں انھیں اپنے خالق و مالک کی مرضی کے اعمال کی طرف ترغیب دلاؤ اور میانہ روی کے منھج کا التزام کرو ،غلو اور افراط و تفریط کا رویہ نہ اپناؤ اور اسلام کی وسعت و نرمی ، فراخی و کشائش اور تمام اخلاق و اقدار اور اچھے کردار و عادات کی تعلیم و تربیت دو جن کی طرف نے دعوت دی ہے ، اللہ سے دعاء ہے کہ وہ حالات کی اصلاح کرے اور حال و مستقبل کی بھلائیوں کے کام کرنے کی توفیق سے نوازے ، وہ صاحب جود و کرم اورعطا و نوازشات ہے ـ</p>
<p>اللہ والو ! اللہ کا خوف و تقوی اختیار کرو اور یہ بات ذھن میں رکھو کہ یہ عمر بڑی تیزی سے گزر رہی ہے یہ ھمیشہ باقی رہنے والی چیز نہیں ہے ـ تقوی کو اپنا زاد راہ بناؤ ـ آپ کے حالات درست ھو جائیں گے اور قبولیت کی بلندیوں پر پہنچ کر باعث خوشنودی ھو جائيں گے ـ</p>
<p>توبہ اور عمل صالح :</p>
<p> برادران اسلام ! آپ کا سال نو شروع ھو گیا ہے ـ اس میں جلیل القدر نیک اعمال سر انجام دینے کیلۓ کمر بستہ ھو جائيں ـ اللہ اس شخص پر رحم فرماۓ جو اپنے آپ کا محاسبہ کرے اور ان تمام افعال سے توبہ کر لے جو قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا باعث بننے والے ہیں ـ</p>
<p> عظمت و قت :</p>
<p>برادران ایمان ! اسلام وقت اور زمانے کی عظمت بیان کرتا اور اسے ایمان و تقوی کی صفات کے ساتھ جوڑتا ہے ـ جناچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں اور اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بنایا ہے ان سب میں ان لوگوں کیلۓ دلائل ہیں جو اللہ کا خوف و تقوی رکھتے ہیں ـ } ( یونس ۔٦ )</p>
<p>دنیوی زندگي :</p>
<p> جن لوگوں نے اس دنیوی زندگی کو رفعتوں اور ترقیوں کی طرف جاۓ عبور اور اپنی درستگی و استقامت کا ہل بنایا اس کے لۓ نیکیاں کمائیں اور گناہ و نافرمانیوں سے دور رہا اور امت کی ترقی و عظمت اور قیادت و سیادت کے دن دیکھنا چاہیں انکے لۓ ضروری ہے کہ وہ اس کے خلاف اٹھنے والے طوفانوں کا رخ موڑیں ، شکوک و شبہات کا رد کریں ، اور ہر طرح کے حملوں سے امت اسلامیہ کا دفاع کریں ـ</p>
<p> مجنون دنیا :</p>
<p> البتہ وہ لوگ جو دنیوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے اور اسی میں مگن و گم ھو کر رہ گۓ ہیں ـ انھیں عروج و ترقی ، علو  ھمتی اور حصول کمال سے نفرت ہے وہ  ـ اللہ کی پناہ ــ ذلت و رسوائ سے دوچار ھو چکے ہیں ـ ایسے لوگ  خسران و نقصان کے گھپ اندھیروں میں ڈالے جا چکے ہیں ـ انھیں جب قیامت کے دن پوچھا جاۓ گا تو اپنی اس حرکت پر جواب دینے سے بھی وہ گھبرائیں گے ، ایسے ہی ظالموں کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>{ جنھوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے پلٹتے ہیں } ( الشعراء ۔٢٢٧ )</p>
<p> سعودی عرب اور دفاع حق :</p>
<p> وہ نعمتیں جن پر انسان اللہ کے شکر کا صحیح معنوں میں حق ہی ادا نہیں کر سکتا ان میں سے ہی یہ بھی ہے کہ دنیا ان حرمین شریفین والے ملک کے حکام و عوام کو اللہ کے فضل و کرم سے سالہا سال گزرنے پر کبھی بھی بالکل ہرگز اور ہرگز ایسا نہیں پائيں گے کہ وہ حق ، عدل و انصاف ، اسلام اور امن و سلامتی کے دفاع کے میدانوں سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائيں ـ</p>
<p> عظمت محرم اور صوم عاشوراء :</p>
<p> برادران دین ! اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ  اس نے ھمیں اس نۓ سال کے آغاز تک پہنچایا ہے ـ شائد یہ ھمارے اعمال صالحہ کیلۓ جد و جہد کا نقظہ آغاز ھو جاۓ ـ اور اس بات پر بھی اللہ کا احسان مانو کہ اس نے ھمیں سال کا آغاز کرنے والا یہ ماہ دیکھنا نصیب فرمایا ہے جو کہ اللہ کا حرمت والا مہینہ محرم الحرام ہے ـ اس ماہ کی تمام مہینوں کے مابین بڑی عظمت ہے ، اور اس ماہ کے دنوں میں سے بھی سب سے افضل دن یوم عاشوراء ( ١٠ محرم ) ہے جس میں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون اور اس  کی فوج پر فتح و نصرت عطا فرمائ تھی ــ انھوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ھوۓ اس دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دلائ تھی چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>{ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس ایک روزے کے عوض گزشتہ ایک سال کے گناھوں کو مٹا دے گا ـ } ( صحیح مسلم )</p>
<p> عنیمت موقع :</p>
<p>  اے اللہ کے بندو ! اس اجر عظیم کو پانے کیلۓ اس موقع کو غنیمت سمجھو کہ اس میں انبیاء کرام علہیم الصلوۃ و السلام کی اقتداء و پیروی ہے ـ اسکے ساتھ ہی یوم عاشوراء سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھ لیں ـ بشارتیں ہیں ان لوگوں کیلۓ جنھوں اس سال نو میں جد و جہد کرنے کیلۓ کمر کس لی اور قرب الہی حاصل کرنے کیلۓ نیکیاں کمانے کے میدان میں اتر آۓ ـ ان کمر بستہ لوگوں کی فوز و فلاح کے کیا کہنے ـ</p>
<p> اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے ھمیں بھی ان لوگوں میں  سے بناۓ ـ</p>
<p> ( سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین  والحمد للہ رب العالمین )</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/22/%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%88-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%b7%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شرک بتاں اور مجسموں سے اجتناب</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Jan 2007 12:14:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلہ الشیخ / سعود الشریم حمد و ثناء کے بعد پتھروں سے صنم تراشی و پرستی لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روۓ زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلہ الشیخ /  سعود الشریم</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد<br />
پتھروں سے صنم تراشی و پرستی</p>
<p>لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روۓ زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں کا تعلق روحانی دنیا اور نورالہی سے منقطع ھو چکا تھا یہی وجہ تھی کہ ان پر عقائد و قوانین اور نفس پرستی کے اندھیرے چھاۓ ھوۓ تھے ایسے ظلمات اور اندھیرے کہ جن میں کوئ عقلمند بھی اتنی سی روشنی بھی نہیں پا رہا تھا کہ جس کی مدد سے وہ راہ ھدایت پر چل سکے یا ضلالت و گمراہی سے نجات پا سکے ، بلکہ وہ سخت گھٹاٹوپ اندھیرے تھے کہ تہ بہ تہ ایک دوسرے پر چڑھے ھوۓ تھے ۔ ایسے اندھیرے کہ جن میں اس وقت کے لوگ زندگی کی راھوں پر ایک شتر بے مہار کی طرح چلے جا رہے تھے ۔ ایسے ظلمات و اندھیرے کہ انھوں نے ان لوگوں کی عقول کو اس حد تک پہونچا رکھا تھا کہ وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لۓ معبود تراشتے اور پھر انکی عبادت کرنے کے لۓ انکے سامنے سجدہ ریز ھو جاتے تھے حالانکہ انھیں اور ان ہاتھوں کے بناۓ ھوۓ معبودان باطلہ کا خالق صرف اللہ تعالی ہے جو کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے مگر وہ اندھے بہرے ، گمراہ اور بدراہ ھو گۓ ۔<br />
پھر انکی یہ گمراہی و ضلالت اس حد تک گر گئ کہ انھوں نے پتھروں ، درختوں اور طرح طرح کے گھڑے ھوۓ اور کھڑے یا پڑھے بتوں کو پوجنا شروع کردیا اور انکے سامنے جھکنے لگے ۔ انھیں اس روش پر لگانے والی چیز ان میں انسانیت کا فقدان و نایابی ، ان میں عقل و فکر کا قحط و افلاس اور ساتھ ہی انکی فطرت کی خود کشی تھی ۔ اب وہ انسان نہیں  محض انسانی جسم و شکل کی ایک چیز بن کر رہ گۓ تھے ۔<br />
<span id="more-353"></span><br />
صالحین قوم نوح کی  پرستش</p>
<p>اس زمانے کے عقلی قحط اور صنم پرستی وغیرہ کے سلسلہ میں ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ھوۓ ۔ حبر امت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :<br />
{ وہ بت جنھیں قوم نوح علیہ السلام نے پوجا کرتی تھی اب وہ عربوں میں پوجے جا رہے تھے ۔ ود نام کا بت دومۃ الجندل کے لوگوں بنی کلب کے پاس تھا اور وہ اسکی پوجا کرتے تھے ،  [سواع ] کو قبیلۂ ھذیل کے لوگ پوجتے تھے ۔ [ یغوث ] بنی مراد سے پرستش کر وارہا تھا ، سباء کے قریب واقع بالجرف کے قبائل بنی قطیف بھی یغوث ہی کے پجاری تھے ۔<br />
[ یعوق ] کی پوجا بنی ھمدان میں ھو رھی تھی جبکہ [ نسر ] کی عبادت و پوجا حمیری قبائل آل ذی کلاع نے اختیار کر رکھی تھی ۔ یہ در اصل حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کچھ نیک و صالح لوگوں کے نام تھے ۔ جب عقائد و عقول کے لحاظ سے وہ ھلاک ھو گۓ تو شیطان نے انکے دماغ میں ڈال دیا کہ انھیں اپنی مجلسوں میں معبود بنا کر نصب کر لو اور ا ن بتوں کو صالحین قوم نوح کے نام دے دو تو انھوں نے ایسا ہی کیا ۔ اور جب وہ  لوگ ھلاک ھو گۓ اور علم اٹھ گیا تو ان بتوں کی پوجا پاٹ شروع ھو گئ ۔  ( صحیح بخاری )<br />
اللہ کے بندو ! صالحین قوم نوح علیہ السلام کی عبادت و پوجا شروع ھونے سے قبل اھل عرب حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کی ملت و دین پر تھے ۔ وقت گزرتا گیا ، علم کم ھوتا گیا ، علماء فوت ھو گۓ اور عربوں میں پھرسے ازسرنو بت پرستی نے قوم گاڑ لۓ اور ملت ابراھیمی منسوخ ھو گئ اسے بدل ڈالاگیا  ۔</p>
<p>اس بت پرستی کی شقاوت و بد بختی کا موجد ( مکہ کا ایک شخص ) ابو خزاعہ عمرو بن لحی تھا ۔ وہ ہی تھا جس نے بتوں کی پوجا شروع کی ، بتوں کے نام نذر کرکےجانوروں کو کھلا چھوڑنا شروع کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ سورج گرھن لگنے پر نماز کسوف پڑھانے کے دوران اسے جہنم میں دیکھا کہ وہ جھنم کی آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچتا ھوا چل رہا ہے ۔ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام جانوروں کو چھوڑنا اور انکی نذریں ماننا (اور عبادت کرنا ) شروع کیا تھا اور اسی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے دین حنیف کو بدلا تھا } ( صحیح مسلم )</p>
<p>امام ابن کثیر لکھتے ہیں :</p>
<p>{ عمروبن لحی وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کے دین کو بدلا ، حجاز میں بتوں کو داخل کیا اور بھیڑ بکریوں کے چرواھوں کو انکی عبادت اور ان سے تقرب حاصل کرنے پر لگایا تھا ۔</p>
<p>تخلیق جن و انس کا مقصد</p>
<p>مسلمانو ! اللہ تعالی نے جن و انس دونوں کو پیدا کیا تاکہ وہ زمین پر صرف اکیلے اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔ اللہ تعالی نے ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو روشن شریعت دے کر مبعوث فرمایا ۔ وہ شریعت جس میں وہ تمام قواعد و ضوابط موجود ہیں جو شارع حکیم نے مقرر فرماۓ ہیں اور انہی میں سے ہی وہ پانچ ضروری اموربھی ہیں جن کے تحفظ اور نگرانی و نگہبانی کے حکم پرانبیاء و رسل علیھم السلام کا اجماع و اتفاق ہے اور وہ پانچ چیزیں یہ ہیں ۔<br />
دین ، جان ، مال ، آبرو ، عقل ، اور ہر وہ فساد و بگاڑ جو ان پانچ چیزوں میں سے کسی بھی چيز کی طرف سے در آنے لگے تو اسکا دفع دور کرنا واجب ہے ، کہ وہ برائ جیسے جیسے پھیلتی جاۓ گی اس کے موجد کو زندگی میں اور موت کے بعد بھی دوسروں کی برائ و گناہ کا حصہ پہونچتا رہے گا ، جیسا کہ عمروبن لحی کا معاملہ ہے جس نے حجاز مقدس میں بت داخل کۓ اور دین و ملت ابراھیم کو بدل ڈالا ۔</p>
<p>اور مذکور پانچ ضروری امور میں سے سب سے پہلے نمبر پر آنے والی چیز دین و عقیدہ اور توحید باری تعالی کی ضرورت ہے ۔</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بت شکنی</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستے کو واضح و روشن کر دیا ہے اور ایک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہی اللہ تعالی نے جزیرہء عرب کو وثنیت پرستی ، تماثیل پرستی اور صنم و بت پرستی جیسی تمام غلاظتوں سے پاک کر دیا ہے ۔ عربوں کے سب سے بڑے بت کا نام [ ھبل ] تھا اور وہ مکہ مکرمہ کی سب سے بالائ جگہ پر رکھا ھوا تھا اور اسکے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ھوۓ تھے جوکہ سب کے سب ہی پتھر سے تراشے ھوۓ تھے ۔ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دخول کعبہ کے وقت اپنے دست مبارک سے ان بتوں کو توڑا اور انکی جھوٹی شان و شوکت پر کاری ضرب لگاتے ھوۓ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کریم میں نازل شدہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھتے جارہے تھے ۔<br />
[ اور کہہ ( اعلان کر ) دیجیۓ کہ حق آ گیا اور باطل نابود ھو گیا ، یقینا باطل تھا بھی نیست و نابود ھونے والا ] ( بنی اسرائیل ۔١٨ )</p>
<p>امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:</p>
<p>[ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب غلبہ حاصل ھو جاۓ تو مشرکین کے نصب کردہ تمام اوثان و اصنام اور بتوں کو توڑ دینا چاہیۓ ۔ ]</p>
<p>امام ابن منذر کہتے ہیں :</p>
<p>[ اصنام اور بتوں کے حکم میں ہی وہ مجسمے ( اسٹیچوز)بھی داخل ہیں جو قیمتی پتھروں ، لکڑی یا ایسی ہی کسی دوسری چیز سے بنا کر سجاۓ گۓ ھوں ۔ ]<br />
اللہ کے بندو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کعبہ کے گرد مشرکوں کے رکھے ھوۓ بت توڑے جبکہ اس وقت بعض صحابہ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے :<br />
[ اے عزی ! ھم تیری عبادت کا انکار کرتے ہیں ، تجھ سے کسی قسم کی بخشش و مدد ہرگز طلب نہیں کرتے کیونکہ میں دیکھ رہا ھوں کہ اللہ تعالی نے تجھے ذلیل و رسوا کر دیا ہے ۔ ]</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ مکرمہ کے ارگرد مختلف علاقوں میں نصب کردہ بتوں کو توڑنے کیلۓ اپنے صحابہ کرام کے دستے بھیجے اور مکہ مکرمہ میں ایک منادی نے یہ اعلان کر دیا :<br />
{ جو شخص اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے گھر میں پڑے بت کو توڑ دے ۔ }</p>
<p>عزی کی سرکوبی</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ عزی نامی بت مسمار کریں۔ انھوں نے اسے مسمار کیا اور واپس آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےان سے پوچھا ؟ { کیا تم نے کچھ دیکھا : } [ تو انھوں نے عرض کیا : نہیں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : { تب پھر تم نے اسے صحیح طور پر مسمار ہی  نہیں کیا ، دوبارہ جاؤ اور اسے خوب مسمار کر کے آ‎ؤ ۔ }<br />
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ واپس گے انکا رنگ اور تیور بدلے ھوۓ تھے ، انھوں نے اپنی تلوار سونت رکھی تھی ۔ ایک کالے رنگ کی ننگے بدن اور بکھرے ھوۓ بالوں والی عورت حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی راہ میں آڑے آئ ۔ عزی کے دربار کے خادم و گدی نشین نے اس بڑھیا کو  بچانے کے لۓ چلانا شروع کیا مـگر خالد رضی اللہ عنہ نے اتنے زور سے اس بڑھیا پر تلوار کا وار کیا کہ اسے دولخت کر دیا ۔ اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ھو کر اس بڑھیا کا قصہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :<br />
{ ہاں ! یہی عزی تھی ۔ اور اب وہ تمھارے ملک میں پوجے جانے سے مکمل طور پر مایوس ھو گئ ہے ۔ } ( سنن نسائ )</p>
<p>١۔ سواع کی تباہی :</p>
<p>اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلۂ بنی ھذیل کے بت [ سواع ] کی تباہی کیلۓ بھیجا ۔ جب وہ سواع کے دربار پر پہونچے تو گدی نشین آڑے آیا ۔ اس نے کہا : تم ھمارے بت کو تباہ و برباد نہیں کر سکتے ۔ تمھاری مزاحمت اور اسکا دفاع کیا جاۓ گا ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سوا‏ع کے قریب گۓ اور اسے پاش پاش کر دیا اور بعد میں وہ سجادہ نشین خود بھی مسلمان ھو گیا ۔</p>
<p>٢۔  منات کی بربادی :</p>
<p>پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ منات کو ٹھکانے لگائیں ۔ وہ گۓ اور اسے ریزہ ریزہ کر کے آۓ ۔</p>
<p>٣۔  ذوالکفین کا گھیرا‌ؤ جلا‌‎ؤ :</p>
<p>جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف جانے کا ارادہ فرمایا تو پہلے وہاں حضرت طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہاں کے بت ( مزار ) ذوالکفین کو مٹائیں ، وہ گۓ اور انھوں نے جا کر اس دربار و مزار کو تہس نہس کر دیا ، انھوں نے مشرکین کے اس باطل معبود کے منہ میں آگ بھرتے ھوۓ یہ اشعار پڑھے<br />
[ اے ذوالکفین ! ھم تیرے پجاری نہیں ہیں ، ھماری ( حق کی ) میلاد تو تیری میلاد سے بھی پہلے کی ہے ۔ یہ دیکھو ! میں نے تیرے منہ میں آگ بھر دی ہے اور تیرے دل کو جلا دیا ہے ۔</p>
<p>٤۔  فلس کو مسمار کروانا :</p>
<p>پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فلس نامی بت کے دربار کی طرف بھیجا ۔ یہ قبیلہ بنی طیء کا بت تھا ۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس فلس کے دربار کا ستیاناس کیا ۔</p>
<p>٥۔ ذوالخلصہ کا ستیاناس کروانا :</p>
<p>اس طرح یمن میں بھی ایک دربار بڑا مشہور و معروف تھا جہاں ذوالخلصہ نامی بت رکھا ھوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبداللہ بن جریر البجلی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر اسکا ستیاناس کروا دیا ۔</p>
<p>تجدید ملت ابراھیمی اور ضرب کلیم</p>
<p>اسی طرح تمام بتوں کو پاش پاش کر وا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ملت ابراھیمی اور دین انبیاء کی تجدید کی اور پھر سے توحید کا پرچم لہرانے لگا ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا مانگتے ھوۓ کہا تھا :<br />
{اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا ۔ }  ( ابراھیم ۔٣٥ )</p>
<p>اور اپنی قوم سے مخاطب ھو کر انھوں نے فرمایا :<br />
{ اور اللہ کی قسم ! میں تمھارے ان معبودان باطلہ کے ساتھ ، جب تم چلے جاؤ گے ، تو ایک چال چلوں گا }( انبیاء ۔٥٧ )<br />
پورے عرب میں جگہ جگہ پوجے جانے والے بتوں کے درباروں مزاروں کو تہہ و بالا  کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت موسی علیہ السلام والی ضرب کلیم کی یاد بھی تازہ کر دی کیونکہ موسی علیہ السلام نے سامری کے بناۓ ھو ۓ بت ( بچھڑے ) کا فسوں توڑنے کیلۓ اس سے مخاطب ھو کر فرمایا تھا :<br />
{ اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جسکا تو اعتکاف کۓ ھوۓ تھا کہ ھم اسے جلا کر ریزہ ریزہ کرکے دریابرد کر دیں گے ۔ } ( طہ ۔٩٧ )</p>
<p>عام مجسموں ( شوپیس ) کا حکم</p>
<p> مسلمانو ! اصنام و تماثیل اور بتوں کے بارے میں قولا و فعلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو جو موقف اختیار فرمایا وہ بڑا ہی نمایاں تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ان بتوں کے بارے میں ہی یہ موقف اپنانے پر بس نہیں کیا کہ جنکی اللہ کے سوا عبادت و پوجا کی جاتی تھی اور جنکی اسی طرح ہی تعظیم کی جایا کرتی تھی جو کہ صرف اللہ تعالی کا حق ہے بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے  گھروں میں رکھے اور سنبھالے جانے والے مجسموں یا تماثیل کے بارے میں بھی واضح ھدایات دے رکھی ہیں  جنکی اگر چہ پوجا نہیں کی جاتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے بارے میں بھی فرمایا ہے :<br />
{میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آۓ اور انھوں نے فرمایا :<br />
{ میں کل آپ کے پاس آیا تھا مگر میں آپ کے گھر میں اس لۓ داخل نہ ھوا کہ گھر کے باھر دروازے پر پڑی تماثیل ( مجسموں ) نے مجھے روک دیا تھا  }( ابو داؤد ، ترمذی ، عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ )</p>
<p>اسی حدیث میں یہ بھی ہے مذکور ہے  کہ جبرائیل علیہ السلام  نے مجھے حکم دیا کہ ان مجسموں کے سر کاٹ دیں تاکہ یہ کٹے ھوۓ درخت کے تنے کی طرح رہ جائیں ۔<br />
اللہ کے بندو ! کوئ عقلمند یہ تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ تماثیل و مجسمیں عبادت یا تعظیم کے لۓ رکھے ھوۓ ھوں ۔ ہرگز نہیں بات محض اتنی سی تھی کہ وہ دروازے کے باھر پڑے ھوۓ تھے ۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو وہ شخصیت ہیں کہ حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا :</p>
<p>{ اللہ تعالی نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے ؟ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا :<br />
اللہ تعالی نے مجھے صلہ رحمی کرنے اور اس کا حکم دینے ، بتوں کو توڑنے ، اللہ کی توحید کا علم بلند کرنے  اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی تعلیمات دے کر مبعوث فرمایا ہے ۔ } ( صحیح مسلم )</p>
<p>صحابہ کرام اور آئمۂ دین کا طرز عمل</p>
<p>١۔  اللہ والو !اس طرز عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیز آئمۂ دین رحمھم اللہ نے بھی اپنایا تھا ۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا :<br />
[ کیا میں تمھیں بھی اس کام کیلۓ نہ بھیجوں جس کام کیلۓ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھیجا تھا۔</p>
<p>( پھر فرمایا: ) کوئ تمثال و بت نہ چھوڑو سب کو مسمار کر دو ، جو کوئ بلند و بالا قبر ( مزار و دربار ) دیکھو اسے گراکر برابر کر دو ۔ ]  ( صحیح مسلم )<br />
اھل علم کے یہاں یہ بات طے ہے کہ اس جگہ کلمۂ تمثال نکرہ اور نہی کے سیاق میں آیا ہے ۔ لھذا یہ ہر تمثال کو شامل ہے وہ چاہے کسی بھی قسم کی کیوں نہ ھو  ، چاہے وہ عبادت کیلۓ بت بنا کر رکھی گئ ھو ۔ یا چاہے وہ محض زینت و ڈیکوریشن کیلۓ بطور شوپیس رکھی ھوئ ھو ۔</p>
<p>٢۔  امام محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب المغازی میں حضرت ابوالعالیہ سے روایت بیان کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں : [ جب ھم نے تستر کو فتح کیا تو ھم نے دیکھا کہ ہرمزان کے گھر میں چارپائ پر ایک مردہ آدمی پڑا ھے جسکے پاس ہی اسکا مصحف بھی رکھا ہے ۔ ھم اس آدمی کو اٹھاکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لۓ گۓ آگے چل کر وہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : تم نے اس آدمی کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ انھوں نے کہا : ھم نے اسکے لۓ دن کے وقت تیرہ مختلف قبریں کھودیں جب رات ھوئ تو ھم نے اسے کسی ایک قبر میں دفن کر دیا اور تمام قبروں پر مٹی برابر  کر دی تاکہ لوگوں کو اسکے بارے میں اندھیرے میں رکھا جا سکے تاکہ وہ اسکی قبر نہ کھود سکیں ۔ ایک آدمی نے کہا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ لکھتے ہیں : اس شخص کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جب کبھی قحط سالی ھوتی اور بارش نہ برستی تو لوگ اس شخص کی چار پائ باھر نکالتے تھے جسکے نتیجہ میں بارش ھو جاتی تھی ۔</p>
<p>٣۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اس قصہ پر حاشیہ و تعلیق چڑھاتے ھوۓ لکھتے ہیں : اس قصہ میں وہی رویہ مذکور ھوا ہے جو انصار و مھاجرین صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر کو لوگوں سے اندھیرے میں رکھنے کیلۓ ان کی تدفین پر کیا تھا ۔ تا کہ لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ھوں اور دعائیں کرنے کیلۓ یا ان سے تبرک حاصل کرنے کیلۓ انکی قبر کو زیارت گاہ ( مزار ) نہ بنا لیں ، اور اگر متاخرین کو انکی قبر کا پتہ چل جاۓ تو وہ انکی قبر کی زیارت میں سبقت لے جانے کیلۓ باھم شمشیرزنی بھی کرتے ۔</p>
<p>٤۔  حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ابن سعد نے (طبقات میں ) صحیح سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ لوگ اس درخت کے پاس آتے ہیں جس کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےاپنے ( چودہ سو ) صحابہ کرام سے بیعت ( رضوان ) لی تھی اور اسکے پاس آکر نمازیں پڑھتے ہیں ۔ اس پر پہلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس فعل سے ڈرایا دھمکایا اور پھر بالآخر اسے کاٹ دینے کا حکم صادر فرما دیا اور انکے حکم سے اس درخت کو واقعی کاٹ دیا گیا ۔<br />
توحید باری تعالی کے تحفظ اور شرک کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کرنےکیلۓ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور پھر آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس طرح کے انسدادی مواقف اور حفاظتی تدابیر اختیار کیں کیونکہ کوئ بدعت جب وجود میں آ جاۓ اور وہ لوگوں کو قرآن و سنت کے احکام و تقاضوں سے پھیرنے والی بھی بن جاۓ اور اس کے لۓ دلائل نما شبہات و اعتراضات بھی گھڑلۓ گۓ ھوں اور کئ باتیں جوڑ کر اسے ثابت کرنے کی کوشش کر لی گئ ھو تو پھر وہ بدعت بھی ایسی شکل اختیار کرنے لگتی ہے جیسے کہ وہ کوئ واقعی چیز اور مسلمات میں سے کچھ ھو جسکا تدارک و دفیعہ بڑی مشکلات کے بعد ہی ممکن ھو سکے ۔</p>
<p>بت سازی و بت پرستی کا آغاز</p>
<p>اور اس بات کی دلیل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا فاکہی وغیرہ کے حوالے سے نقل کردہ کلام ہے جس میں عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے بت سازی اور ان کی پرستش کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے عھد میں ھوا ۔ اس طرح بچے اپنے والدین سے نیکی و حسن سلوک کیا کرتے تھے کہ انکے بت بنا بنا کر رکھتے ۔ اور اسکا آغاز انکے یہاں بھی یوں ھوا کہ ایک شخص مر گیا ۔ اسکے بیٹے نے اس کی وفات پر بہت جزع و فزع اور غم کیا اور اسے صبر نہ آیا ۔ بالآخراس نے  والد کی شکل کی ایک تمثیل یا مورتی بنا کر رکھ لی ۔ جب کبھی اسے دیکھنے کا شوق آتا، اسکی مورتی یا مجسمے کو دیکھ کر دل بھلا لیا کرتا تھا ۔ پھر جب وہ مرا تو اسکے ساتھ اسکے بیٹے نے ویسے ہی کیا جیسے اس نے اپنے باپ کے ساتھ کیا تھا پھر یہ ایک رسم ہی چل نکلی ۔ بالآخر جب ان میں سے بڑے ایک ایک کرکے مر گۓ تو انکی اولاد نے کہا کہ ھمارے آباء و اجداد نے انھیں اسی لۓ بنایا تھا کہ یہ انکے معبود تھے لھذا انھوں نے انکی عبادت شروع کر دی ۔</p>
<p>دورثقافت اور شرف ؟</p>
<p>مسلمانو !  آج کوئ شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس مادی تھذیبی دور گلوبلا‌‌ئزیشن کے کلچر اور ثقافتی زمانے اور سیال قلم کے مالک لوگوں کی زندگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ بتوں کی پرستش کی غلاظت اور انکی تعظیم کرنے کانظریہ انکے معاشروں میں پھیل سکے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ اب بھی ممکن ہے اور اس میں تعجب والی بھی کوئ بات نہیں کیونکہ جب علم حقیقی کا فقدان ھو اور دلوں میں دین کی اھمیت کم ھو جاۓ تو یہ سب کچھ اب بھی ممکن ہے اور اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی اللہ تعالی کے سوا کتنے ہی معبودان باطلہ موجود ہیں کوئ بت کی شکل میں ہے کوئ نصب کیا ھوا ہے کوئ چلتے پھرتے جاندار کی شکل میں ہے ، اور یہ بات کسی صاحب عقل و دانش اور اھل بصیرت و نظر سے پوشیدہ ہے ، اور پھر اس سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ پہلے مشرکین عھد جاھلیت میں بھی ھماری طرح ہی عقل تھی ، انکے بھی ھماری طرح ہی جسم تھے ۔ وہ بھی منہ میں زبان بلکہ فصیح رکھتے تھے اور عربوں کے مابین انھیں قیادت و سیادت حاصل تھی ، اور سارے اس بات کا بھی اعتراف و اقرار کرتے تھے کہ خالق و را‌زق اور اس کارخانۂ دنیا کو چلانے والا صرف اللہ تعالی ہی ہے ۔ اسکے باوجود انھوں نے بتوں کی پوجا کی ، انکی تعظیم کی ورنہ پھر ابراھیم علیہ السلام کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اللہ سے دعائیں کرتے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا ۔</p>
<p>شرک کا پھر دور دورہ</p>
<p>اللہ کے بندو ! اس بات کی تاکید اس چیز سے بھی ھو جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت پر اس شرک کی غلاظت کے در آنے سے ڈرے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں بعض لوگوں پر یہ غلاظت آ گرے گی ۔ چنانچہ سنن ابوداؤد میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :<br />
{ اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی جب تک کہ میری امت میں سے بعض قبائل بتوں کی پوجا نہ شروع کر دیں ۔}<br />
بلکہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے :<br />
{ اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی جب تک کہ قبیلۂ دوس کی عورتیں ، ذوالخلصہ نامی بت کے مزار طواف نہ کرنے لگیں گی ۔ }<br />
اور یہ ذوالخلصہ ایک معروف بت ہے جسے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اس وقت پاش پاش کیا تھا جب انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسی حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ یہ بت پرستی جیسے کبھی پہلے رہی یہ ویسے ایک مرتبہ پھر لوٹ آۓ گی ۔ گویا یہ دن وہی ہیں کہ جنھیں اللہ تعالی لوگوں کے درمیاں پھیرتا رہتا ہے ۔ لوگوں میں سے کوئ موحد ہے اور کوئ مشرک ، ان میں سے کوئ تو اللہ تعالی کی تدبیر سے ڈرتا ہے اور کوئ بے خوف پڑا ہے اور {  اللہ کی تدبیر سے صرف وہی لوگ بے خوف رہ سکتے ہیں جو کہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ }<br />
اگر شرک کے دوبارہ لوٹ آنے والی بات نہ ھوتی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس سے ڈرانے کا راز کیا تھا ؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے حکومت توحید کی بنیاد رکھی اور اپنے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شرک کا سر کچل کر رکھ دیا اور اسے بالکل مٹا دیا حتی کہ اپنی وفات کے قریب آخری لمحات حیات میں سکرات الموت کے دوران بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرما گۓ ہیں :</p>
<p>{ اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرماۓ ۔ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ }</p>
<p>اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو خدشہ ھوا کہ یہ مرض شرک کہیں میرے بعد میری امت میں بھی نہ آجاۓ لھذا اس سے ڈراتے ھوۓ فرمایا :</p>
<p>{ میری قبر کو بت نہ بنا دینا کہ اس کی عبادت ھونے لگ جاۓ ۔ } ( مؤطا امام مالک )</p>
<p>امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ اور ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے روایت بیان کی ہے کہ ابراھیم تیمي نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بارے میں جو ارشاد الہی ہے کہ انھوں نے دعا کی :</p>
<p>{ اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچانا کہ ھم بتوں کی پوجا کریں ۔ } ( ابراھیم ۔٣٥)</p>
<p>[ ابراھیم علیہ السلام جیسے موحد و حنیف انسان کے بعد پھر دوسرا کون ہے جو اس آزمائش و بلاء سے بچ سکے ۔ ]</p>
<p>بتوں کی پوجا میں واقع ھونے سے وہی بے خوف ھو سکتا ہے جو انکی حقیقت سے ہی واقف نہ ھو ، نہ کچھ علم شرعی کا مالک ھو اور نہ ہی اس توحید خالص اور شرک سے ممانعت کی ان تعلیمات کو جانتا ھو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آۓ تھے ۔</p>
<p>شیطان اور ترغیب شرک</p>
<p>اس شرک کے میدان میں شیطان کے کردار کا تذکرہ کرتے ھوۓ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :</p>
<p>[ شیطان ھمیشہ قبرپرستوں کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ ان پر مزارات تعمیر کرو اور پھر انھیں ان پر مجاور بن کر بیٹھ جانے کی ترغیب دلاتا ہے ۔ پھر انھیں آہستہ آہستہ اھل قبور کو پکارنے اور انکی عبادت کرنے پر لگا دیتا ہے اور پھر انھیں مکمل بت کی شکل بنا دینے پر اکساتا ہے اور وہ پردے اور قندیلیں لٹکا دیتے ہیں اورجب یہ بات انکے دلوں میں جائز ہی ھو جاتی ہے تو پھر انھیں اس اعتقاد پر مضبوط کرنا شروع کر دیتا ہے کہ جو شخص تمھیں ان کاموں سے روکے وہ ان عالی مرتبہ لوگوں کی شان میں گستاخی کرنے والا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ ان کے کوئ مقام و مرتبہ اور حرمت و قدر نہیں ۔ اب ظاھر ہے کہ ایسے شخص پر تو مشرکین کو بڑا غصہ آتا ہے اور وہ آستین چڑھاکر اس کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ جب اکیلے اللہ تعالی کا ذکر کیا جاۓ تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اورجب اسکے سوا (غیراللہ) کا ذکر کیا جاۓ تو انکے دل کھل اٹھتے اور وہ خوش ھو جاتے ہیں ۔}<br />
(الزمر۔٤٥)</p>
<p>یہ بیماری بہت سارے جاھل اور کتنے ہی ایسے لوگوں کے دلوں تک سرایت کرچکی ہے جو علم دین کی طرف منسوب کۓ جاتے ہیں حتی کہ وہ اھل توحید سے عداوت و دشمنی رکھتے ہیں ۔ انھیں بڑے بڑے بے بنیاد الزام دیتے ہیں اور لوگوں کو ان سے متنفر کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔</p>
<p>صنم و وثن ؟</p>
<p>اللہ کے بندو ! یہ بات بھی ذھن میں رکھیں کہ بعض اھل علم نے اس بات کو طے کیا ہے کہ کبھی صنم و بت کا اطلاق  وثن پر بھی ھوتا ہے اور وثن سے مراد ہر وہ چیز ہے جسکی پوجا و عبادت کی جاۓ وہ چاہے کس شکل میں ھو ۔ اللہ تعالی نے اس سے منع کیا اور فرمایا ہے :</p>
<p>{پس تمھیں اللہ کے سوا پوجی جانے والی چیزوں سے دور رہنا چاہیۓ اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہیۓ ۔}( الحج ۔٣٠ )</p>
<p>بعض لوگوں نے غیراللہ کی عبادت کے مفہوم کو بڑا محدود کردیا ہے اور اس سے مراد صرف پتھروں کی اور بتوں کی عبادت ہی لی ہے ۔ جبکہ یہ انکے اس مسئلہ کے بارے میں سخت جہالت و بے علمی کی علامت ہے، کیونکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا صرف اسی بات میں منحصر نہیں ہے کہ صرف پتھر کے بت کو رکوع و سجدہ کیا جاۓ  بلکہ اس کے محدود فہم کی وضاحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائ ہے : چنانچہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کو یہ ارشاد الہی پڑھتے سنا :</p>
<p>{انھوں نے اپنے پیشواؤں کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا تھا۔} ( التوبہ ۔٣١ )</p>
<p>تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :<br />
[ ھم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔ ] اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>{ کیا تمھارے وہ پیشوا اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار نہ دیتے تھے اور تم انکی اس بات کو مان کر ان چیزوں کو حرام سمجھتے تھے ؟ اور وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دیتے اور تم انھیں حرام مانتے تھے ؟ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟<br />
[ ایسا تو ھم کرتے تھے ۔ ] نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :<br />
{ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ۔ }<br />
( مسنداحمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔ )</p>
<p>اے اللہ ھم ظاھر و باطن تمام فتنوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ھم تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں جبکہ ھم اس جانتے ھوں ، اے اللہ ! ھم اگرکسی چیز کو ان جانے میں تیرے ساتھ شریک بنا لیں تو ھمیں بخش دے تو بڑا بخشنے والا ہے ۔</p>
<p>اسلامیان عالم ! اللہ کا خوف کھاؤ اور یہ بات ذھن نشین کر لو کہ اللہ کے لۓ صرف دین خالص ہی ہے اور ہر مسلمان مرد و زن کیلۓ ضروری ہے کہ وہ اپنے ظاھر و باطن کی خوب تطہیر و صفائ کر لے اور ان امور سے بچ جاۓ جو اسے اکیلے اللہ تعالی کی عبادت کرنے سے پھیر کر شرک پر لگانے والے ہیں ، اسی طرح ھم تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ھم اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کی اطاعت و پیروی کریں ۔ اور انھیں اپنی ذات ، اپنے والدین اور تمام رشتہ داروں پر ترجیح دیں ۔ ایسے ہی تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں کو حسب مقدور بتوں کی پوجا اور انکی عبادت کی غلاظت سے پاک کریں ۔ خصوصا ان چیزوں سے اپنے گھروں کو پاک کریں جو محض زینت کیلۓ شوپیس کے طور پر رکھی گئ ہیں ۔ کیونکہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ھوتے جس میں کوئ مجسمہ یا تصویر ھو ۔</p>
<p>حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اگر کسی دعوت و ولیمہ میں مدعو کیا جاتا تو دعوت دینے والے سے پوچھتے کہ تمھارے گھر میں کوئ مجسمے یا تصویریں تو نہیں ہیں ؟ اگر وہ کہتا کہ نہیں ہیں تو اسکی دعوت کو قبول فرما لیتے ۔</p>
<p>خبردار ! مفاسد و بگاڑ کے راستوں کو بند کرنا اور شرک کی طرف لے جانے والے ذرائع کا سد باب کرنا بہت ضروری امر ہے جس سے عام مسلمانوں کو کبھی بھی غافل نہیں ھونا چاہیۓ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان والا درخت صرف اسی غرض سے اکھڑوا دیا تھا ۔</p>
<p>بت اور مجسمے رکھنا ، انکی تعظیم کرنا اور مزاروں و درباروں کی تعظیم کرنا اسلام میں ایک نیاپیداکردہ امر ہے اور اسکے پیدا کرنے والے بھی کوئ اھل علم و تقوی لوگ نہیں تھے بلکہ یہ چیزیں پیدا کرنے والے لوگ خواہشات نفس کے پیروکار ، جاھل و بے علم اور اقتدار و غلبہ والے لوگ تھے کیونکہ قرآن کریم میں اصحاب کہف کے تذکرہ میں اللہ تعالی نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>{ جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے ھم تو انکے آس پاس مسجد بنا لیں گے ۔ } ( الکہف ۔٣١)</p>
<p>دور حاضر کا شرک</p>
<p>موجودہ دور میں یہ معاملہ بہت بڑھ چکا ہے ۔ بعض لوگوں تو ربوبیت اور  الوھیت باری تعالی میں شرک کرنے لگے ہیں ، انھوں نے بعض اھل قبور سے طرح طرح کے اعتقاد قائم کر رکھے ہیں اور انھیں اصنام و تماثیل کی شکل دے رکھی ہے ، اور انکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ غیب جانتے ہیں اور جو شخص ان کا تصور کرے اور انکی طرف متوجہ ھو وہ اس کی بات و حاجت پوری کرتے ہین ۔ وہ مشکلات کو دور کرنے اور حاجات پوری کرنے کی قدرت و طاقت رکھتے ہیں بلکہ نوبت یہاں تک پہونچ گئ ہے کہ لوگوں نے بعض قبروں کو اسی طرح انصاب و بت بنا لیا ہے جس طرح کہ پہلے عربوں نے کیا تھا ۔ ان کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں ۔ انکی شفاعت و سفارش طلب کرتے ہیں بلکہ ان کے نام نذر کے جانور چھوڑے جاتے ہیں ۔ ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانے کیلۓ جانور لے جاۓ جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اور کہیں کہیں ایسا بھی ہے کہ صاحب قبر کی یادگاریں بنائ گئ ہیں اور انکی بھی تعظیم کی جا رہی ہے ، انکی حرمت و عظمت باور کرائ گئ ہے اور اس یادگار پر زیادتی کرنے والوں کی ‎سزا وہ رکھی گئ ہے جو اللہ کے دین پر زیادتی کرنے اور اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو گالی دینے والے کی بھی نہیں رکھتے ۔</p>
<p>افادات ابن قیم رحمہ اللہ</p>
<p>علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کے غزوہء طائف اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لات نامی بت کو ریزہ ریزہ کرنے کا تذکرہ کرتے ھوۓ لکھا ہے : [ اس واقعہ میں کئ فوا‏‏‏ئد پنہاں ہیں ۔</p>
<p>١۔  پہلا یہ کہ ایسے مقامات شرک کو بحال رکھنا جا‏ئز نہی ہے بلکہ جب غلبہ و اقتدار حاصل ھو جاۓ تو ایک ہی دن میں انھیں ختم کرنا ضروری ہے</p>
<p>٢۔  اسی طرح ان قبروں اور مزاروں کا حکم بھی ہے جنھیں عبادتگاہیں بنا لیا گیا ہے اور جہاں اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/16/%d8%b4%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%aa%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%b3%d9%85%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نوجوان نسل اور انحراف ۔اسباب و علاج</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 08 Jan 2007 11:45:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[Tag]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / عبد الباری الثبیتي ۔ حفظہ اللہ حمد و ثناء کے بعد میں آپ لوگوں کو اور اپنے آپ کو اللہ کا ڈر (تقوی ) اختیار کرنے کی وصیت و نصحیت کرتا ھوں۔ ارشاد الہی ھے ۔ &#8221; اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ایسے ڈرتے رھو ۔ جیسے اس سے ڈرنے کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ  /  عبد الباری  الثبیتي ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثناء کے  بعد<br />
میں آپ لوگوں کو اور اپنے آپ کو اللہ  کا ڈر (تقوی ) اختیار کرنے کی وصیت و نصحیت کرتا ھوں۔ ارشاد الہی ھے ۔<br />
&#8221; اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ایسے ڈرتے رھو ۔ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ھے ۔ اور تمہیں موت آۓ تو صرف اسلام پر ہی آۓ ۔ &#8221; ( آل عمران ۔١٠٢ )</p>
<p>نوجوان نسل قوم کا سرمایہ :<br />
نوجوان طبقہ امت و قوم کا ایک قیمتی سرمایہ اور گراں مایہ دولت و ثروت شمار ھوتا ھے ، اور جب اسے خیر و بھلائی کے کاموں ، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی کے امور میں صرف کیا جاۓ تو پھر یہ طبقہ ایک نعمت اورخیروبرکت بن جاتا ھے اور اگر اسے شرو فساد اپنے رنگ میں رنگ لے تو یہی طبقہ ایک خطرناک شر اور انتہائی نقصاندہ چیز بن کر سامنے آجاتا ھے ۔<br />
<span id="more-352"></span><br />
آج کا منحرف کل کا مجرم :<br />
اس شباب و جوانی میں اخلاق و کردار کا انحراف انتہائی خطرناک اور خوفناک ھے ۔ حتی کے آج کا منحرف کل کا مجرم ھوتا ھے ، اگر اسے اللہ تعالی کی رحمت وعنایت اپنے ساۓ میں نہ لے لے اور جس قدر نوجوان طبقے کا اہتمام اور ان کے مسائل میں دلچسپی لی جاۓ گی اسی قدر امت اور معاشرے کا انجام بہتر ھو گا ۔</p>
<p>آج کا اہم مسلہ انحراف شباب :<br />
آج کل کا اہم ترین مسلہ نوجوان نسل کا انحراف ہی ھے اور وہ امور جو والدین اور تعلیم و تربیت سے متعلقہ لوگوں کو پریشان کیے ھوۓ ہیں ان میں سے یہ ایک اہم ترین موضوع ھے ۔ انحراف کے بارے میں ہم پر جذبات غالب آجاتے ہیں اور ہم انتہائی سطح انداز اختیار کر لیتے ہیں اور کسی مسئلہ کو اسی طرح نرمی سے دیکھے چلے جاتے ہیں اور بلآخر وہ زخم بہت بڑا ھو کر پھٹ جاتا ھے اور پھر ہم بیکار کئ کئ مرتبہ اس پر آہیں بھرتے ہیں۔</p>
<p>تلاش اسباب و علاج :<br />
اس مسئلہ کا مفید و کامیاب علاج یہ ھے کہ عقل کو کام میں لایا جاۓ گہری فکر و نظر سے کام لیا جاۓ اور اس مسئلے کا تجزیہ کرتے ھوۓ ، اس کے اسباب کو پڑھا جاۓ ، مستقبل پر غور کیا جاۓ اور دین و شریعت کی بنیادوں پر پورے منظم انداز سے اس مسئلہ کی روک تھام اور بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جائیں ،<br />
 یہ کوئی باعث تعجب بات نہیں ھے کہ بعض ماہرین نوجوانوں کے انحراف کا مسئلہ حل کرنے کےلیے کوشاں ھوں ، وہ اس کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ انحراف کے تمام سوتے بند کردیے جائیں اور اس کی بیخ کنی کی جاسکے کیونکہ نوجوان نسل ہی تو امت کی امید ،مستقبل کا سہارا ، معاشرے کا سرمایہ اور امتوں کی زندگی کا ایک فعال حصہ یا ریڑھ کی ہڈی ھوتی ھے ۔</p>
<p>ہرملک میں مرض انحراف :<br />
نوجوان نسل کا انحراف آج ہر ملک کے افق پر منڈلانے والا قطرہ اور ہر معاشرے کو درپیش مسئلہ ھے اور انحراف کا دائرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ھے جب لوگ اپنے آپ کو غیرمحفوظ پاتے ہیں ،فکر و نظر پر کوئی پہرہ نہیں ھوتا اور ان کی شخصیت بلاتربیت و اطاعت ھوتی  ھے ۔ نوجوان بھی تو دوسرے لوگوں کی طرح ھوتے ہیں وہ غلطی بھی کرتے ہیں اور صحیح بھی ھوتے ہیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ھے ۔<br />
&#8220;تمام بنی آدم خطا کار ہیں  اور بہترین خطاکار وہ ھے جو (خطاکر بیھٹیں تو) توبہ کر لیں&#8221; (سنن ترمذی )</p>
<p>خیر امت کے نوجوان :<br />
یہ امت مسلمہ جسے اللہ تعالی نے تمام امتوں سے بہترین امت قرار دیا ھے یہ ہر گز نہیں چاہتی کہ اس کا نوجوان طبقہ محض عام سے لوگوں پر مشتمل ھو بلکہ وہ صرف یہی چاہتی ھے کہ اس کی نوجوان نسل زمین کے سردار اور اخلاقی میدان کے قائدین ھوں ۔ اسلام کا نور پھیلنے سے لیکر آج تک ہماری امت کی تاریخ میں اس امت کی نوجوان نسل نے بڑے بڑے کارنامے اور اعلی نمونے رقم کیے ہیں لیکن وہ نسل نو جو صحیح طور پر ایمان لاۓ ، عمدہ و اعلی اعمال صالحہ سرانجام دیۓ اور انھوں نے اللہ تعالی کے نازل کردہ منہج و شریعت کو اپنایا ۔ ان نوجوانوں نے اپنی قوم کو اپنے اقوال سے سعادت و خوشی کے ساتھ مالا مال کیا اور اپنے عمدہ اخلاق و اعلی کردار و عمل سے معاشرے کے ارمان کو تقویت دی اور اس کے نتیجہ میں عام خیر و بھلائی کی بشارتیں ملیں اور حقیقت یہ ھے کہ یہ نوجوان تو دوسروں پر اللہ تعالی کی نعمت ھے ۔</p>
<p>غلو اور تکفیری ٹولہ :<br />
ہمارے موجودہ دور میں شکوک و شہبات کے راستے بہت زیادہ ھو گۓ ہیں اور خواہشات نفس کی تسکین کا سامان بہت عام و بے لگام ھوگیا ھے اور ہماری نوجوان نسل ان زہریلے تیروں اور بدبودار منافقانہ اور غدارانہ نیزوں کا نشانہ بنی ھوئی ھے جس کی تلخی کا گھونٹ معاشرے کو غلو و مبالغہ آمیزی ، تکفیری فکر اور باعث غضب الہی اخلاقی انحلال و گراوٹ کی شکل میں پینا پڑ رہا ھے ۔</p>
<p>ہراول دستہ اسلام :<br />
مسلمانوں کی پہلی نسل اور ہراول دستہ اسلام کا معاشرہ ان باطل فرقوں ،گمراہ ٹولوں اور منافقانہ وکفر  ملک و اقوام سے ملوث نہیں ھوا تھا اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان گندگیوں سے دوچار ھوۓ تھے ۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اس نسل کو نہایت قوی تحفظ حاصل تھا ۔ چنانچہ حدیث میں آتا ھے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم باہر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لاۓ تو دیکھا کہ وہ لوگ تقدیر کے مسئلہ پر لے دے کر رہے ہیں ۔کوئی یہ آیت پیش کر رہ ھے اور کوئی اس آیت سے استدلال کر رہا ھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس پر سخت ناراض ھوۓ اور آپ کا رخ انور خصے سے یوں لال سرخ ھو گیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرے پر انار پھوٹ گیا ھو ،۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ۔</p>
<p>&#8221; کیا تم اس بات کا حکم دیا گیا ھے یا تمہیں یہ کام سونپا گیا ھے کہ تم قرآن کریم کی بعض آیات کو بعض دوسری آیات سے ٹکرتے پھرو ۔ تم سے پہلے کچھ قومیں اسی قسم کے افعال کی پاداش میں گمراہ ھو گئیں ۔ یہاں جو کچھ چل رہا ھے تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ۔ دیکھو! جس کا تمہیں حکم دیا گیا ھے اس پر عمل کرو اور جس کام سے تمہیں روکا گیا ھے اس سے باز آجاؤ ۔ &#8221; ( مسند احمد )</p>
<p>تکفیری خارجیوں کا تعارف :<br />
نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت سخت ناراض و غضبناک ھوۓ جب اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھنے والا ایک جاہل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے غنمتوں کو تقسیم کرنے پر اعتراض کرنے کے لیے کھڑا ھوگیا اور کہنے لگا : اے محمد ! عدل کرو ۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے فرمایا ، تیرا ستیاناس ھو اگر میں بھی عدل نہیں کروں گا تو پھر اور کون کرے گا ؟ جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اسے چھوڑو۔ اس کے ساتھی ایسے ھونگے کہ تم انکی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے ، انکے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو معمولی خیال کرو گے ، وہ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے جو ( ان کے حلق تک ہی رہے گا ) ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں جاۓ گا ۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ھے ۔ &#8221; (صحیح مسلم )</p>
<p>صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیدار مغزی :<br />
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیدار مغزی سے کام لیا اور تمام خوفناک فتنوں کے راستے بند کر دیۓ اور ایک منہج کے تحت ان کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرتے ھوۓ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ خلیفہ راشد امیر المومینین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لیں کہ انھوں نے جب صبیغ کو دیکھا کہ وہ کتاب و سنت کے مشکل مسائل کی کھوج میں لگا ھوا ھے تو اس کے سر پر کھجور کی ٹیڑھی لکڑی دے ماری ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت حدیث کے سلسلہ میں بڑی سخت احتیاط سے کام لیا اور انھوں نے مسائل مشکلہ اور تنگ و عاجز کر دینے والے امور اور سوال میں تکلیف سے  کام لینے جیسے سب کاموں سے لوگوں کو روک دیا اور ایسے ہی دوسرے قواعد اپناۓ جنھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےلیے ان کا دین محفوظ رکھا ۔</p>
<p>مخرب اخلاق و امن انحراف :<br />
انحراف کی ایک قسم وہ ھے جو اخلاق کو خراب کرتی اور قدروں کو تباہ کرکے رکھ دیتی ھے اور ایک بدترین جرم اور جان بوجھ کر کی جانے والی خطا کی شکل اختیار کر جاتی ھے اور اس سے معاشرے کی سلامتی ،امن و امان اور اس کے نظام کو سخت نقصان پہنچاتی ھے خصوصا جب وہ انحراف لاپرواہی اور اس پر اصرار کو بھی شامل ھو یا پھر وہ کسی گناہ کے ارتکاب اور ایسے کبیر گناھوں سے اپنے ہاتھوں کو رنگنے کی صورت میں ھو جن پر اللہ تعالی نے دردناک عذاب کی وعید سنائی ھے ۔</p>
<p>ہلاکت کے دھانے پر :<br />
اخلاقی قاعدے کی سلامتی امت کی زندگی میں امن و استقرار کی راہ اور اس کی قوت کا ذریعہ ھے جب کسی امت کے  افراد کا سلوک و کردار انحراف کا شکار ھو جاۓ ،خواہشات نفس کا آتش فشاں پھٹ پڑے اور تسکین جذبات کا داعیہ غالب آجاۓ تو ایسی امت ہلاکت کے دھانے پر کھڑی ھوتی ھے اور وہ تباہی و زودل کو آوازیں دے رہی ھوتی ھے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ھو تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں کو (فورحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے پھر اس پر عذاب کا حکم ثابت ھو گیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا ۔ &#8221; ( بنی اسرائیل ۔١٦ )</p>
<p>تعمیر شخصیت و کردار میں خاندان کا کردار :<br />
نوجوان نسل کی تربیت و تیاری اور اس کی شخصیت کو تعمیر کرنے کا پہلا مرحلہ اور واضح ادارہ اس کا خاندان ھوتا ھے ۔ اس سے خیروبھلائی یاشروبرائی کا صدور ھوتا ھے اور اسی سے بچے کے انحراف یا صلاح و سدھار کی راہ متعین ھوتی ھے ۔ اگر والدین خصوصا باپ اپنے خاندانوں یا گھرانوں کی تربیت سے اپنی توجہ ہٹا لیں اور صرف اسے ہی اپنی توجہ کا مرکز بنا لیں کہ ان کےلیے مال و دولت کا ذخیرہ مہیا کرنا ھے ۔ لڑکوں لڑکیوں کی لگامیں ڈھیلی چھوڑ دی جائیں ۔ان کی باگیں انہی کے  کندھوں پر ڈال دی جاہیں   ان کی تربیت میں کوتاہی برتی جاۓ اور ان کی راہنمائی و ہدایت کےلیے کوئی وقت ہی نہ دیا جاۓ تو ایسا خاندان اپنا رول ادا کرنے سے عاری ھوتا ھے اور وہ اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے نبھانے سے قاصر شمار ھوگا ۔</p>
<p>صرف دولت ہی نہیں تربیت بھی :<br />
بکثرت باپ ایسے ہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کا تعلق اور اپنے خاندان کے سلسلے میں وہ اپنی ذمہ داری صرف مالی حساب کتاب سے زیادہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کے کھانے پینے ، پہننےاور سیروتقریح کےلیے وافر اخراجات مہیا کر دینا ہی ان کی ڈیوٹی ھے ۔ جہاں تک ان کی اخلاقی تربیت ،کردار کی تہذیب و اصلاح اور ان کی شخصت کی تعمیر و بناء کا معاملہ ھے تو یہ امور ان کی ذمہ داریوں کی فہرست کے سب سے آخر میں آتے ہیں جب کے کسی بھی صاحب عقل و فہم شخص کو اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں کہ جب والدین اپنے بچوں کی صحیح تریبت کريں اور اسے اپنی زندگی کی اہم ترین ذمہ داری بنا لیں تو وہ اپنے بچوں کو انحراف سے تحفظ دے سکتے ہیں اور انہیں دردناک انجام تک پہنچنے سے بچاسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے معاشرے کے امن و استقرار کو قائم کرنے میں بھی  ایک فعال کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ھے ۔</p>
<p>&#8221; اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پھتر ہیں اس پر تند خو اور سخت گیرو سخت مزاج فرشے (مقرر ) ہیں اور اللہ تعالی انہيں جو حکم دیتا ھے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں ملتا ھے وہ اسے بجا لاتے ہیں ۔ &#8221; ( التحریم ۔٦ )<br />
 جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ارشاد فرمایا ھے ۔<br />
&#8221; (تم میں سے ) مرد اپنے گھر والوں کا نگران ھے اور وہ اپنی زیردست رعایا کے بارے میں جوابدہ ھے اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ھے اور وہ اپنی زیردست رعایا (بچوں ) کے بارے میں جوابدہ ھے ۔&#8221;(صحیح بخاری)</p>
<p>والدین کا احساس ذمہ داری :</p>
<p>اسلام میں نوجوان نسل کو انحراف سے بچا نے کا ذمہ دار خاندان ھے اور اگر بچوں ميں دینی غلو و تشدد اور مبالغہ آمیزی کی خو اور اخلاقی انتہاء پسندی آجاۓ تو اس کے زیادہ تر ذمہ دار ان کے والدین ہی ھوتے ہیں اور اسی غلو و انتہاپسندی کے تلخ و ترش پھل کا حظ وافر بھی انہیں ہی ملتا ھے ۔ کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ھے ۔<br />
&#8221; ہر بچہ فطرت (اسلام ) پر پیدا ھوتا ھے ۔ پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی ، نصرانی (عیسائی ) یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے چوپاۓ تو چوپاۓ کو ہی جنم دیتے ہیں یا آپ ان میں سے ( بوقت ولادت ) کسی کو نکٹا و کنکٹا دیکھتے ہیں ۔&#8221; ( صحیح  بخاری )</p>
<p>گھریلو ناچاقیاں اور انحراف :<br />
وہ خاندان جسکی فضائیں ابرآلود اور جسکا مطلع گردآلود و خراب ھو وہ انحراف کو جنم دینے کا باعث بنتا ھے ۔ وہ گھر جس میں ہر  وقت میاں بیوی کے باہمی جھگڑے اور نوک جھونک کی فضا بنی رہے ۔ اس گھر کی چاردیواری میں اہل خانہ ایک دوسرے سے باہم آویزاں اور اور دست و گریبان رہیں ، اختلافات سر اٹھاۓ رکھیں وہ گھر تربیت اور امن و استقرار نفس کا مقام نہیں ھو سکتا بلکہ ایسے گھر سے متعلقہ لوگ اس فضاء اور اس جگہ سے  بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں جہاں انہیں یہ گھٹن محسوس نہ ھو اور اب ممکن ھے کہ انہیں بری صحبت اور شریر ساتھیوں کی رفاقت مل جاۓ اور اسے وہ راستے آسانی سے ہاتھ لگ جائیں کہ جن پر چل کر وہ مجرم بن جاۓ ۔ کیوں نہیں ؟ اس کے ماں باپ نے اس کی صحیح نگرانی ، خیرخواہی ، اور راہنمائی نہیں کی اور اسے ہدایت و نور کاراستہ بتانے والا ہی کوئی نہیں تو پھر اس کا منحرف ھو جانا اور مجرم بن جانا  کوئی انہونی بات تو نہیں ھے۔</p>
<p>طلاق اور انحراف :<br />
طلاق بھی ایک خطرناک چیز ھے ۔ جو کہ معاشروں کے ڈھانچے کو توڑ کر رکھ دیتی ھے اور یہ بچوں میں انحراف پیدا کرنے کے بڑے اور بنیادی اسباب میں سے ھے خصوصا جب کہ دینی طور پر کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا بھی نہ ھو اور ہر طلاق کے نتیجے میں بہت واضح نقصانات اور اس کے گہرے اثرات سامنے آتے ہیں ۔ بلکہ یہ طلاق تو معاشرے کے سینے میں چھرا گونپ دینے کے برابر ھے جس سے معاشرے کے ڈھانچے سے مسلسل خون رستا رہتا ھے ۔<br />
جو بچہ طلاق کی جہنم سے گھبرا کر گھر سے نکلتا ھے اور ھو سکتا ھے کہ باہر اسے کوئی خیرخواہ نہ ملے اور نہ کوئی ایسا ساتھی میسر آۓ جو غلط کام سے اسے روکے اور برے ساتھی تو برے کام کو بھی سنوار کر ہی پیش کریں گے اور اہل فساد تو کمین گاہ لگاۓ بیٹھے ھوتے ہیں ۔<br />
معاشرہ اور خصوصا اس کے اہل و دانش افراد سے مطالبہ ھے کہ وہ طلاق کے اس بڑھتے ھوۓ رجحان کو روکیں جو کہ انتہائی المناک ھے تاکہ اس کے تباہ کن اثرات سے معاشرے کو محفوظ کیا جاسکے ۔</p>
<p>فقر و تنگدستی اور انحراف :<br />
اس انحراف و  بے راہ روی  کے اسباب میں سے بعض خاندانوں کا فقر و تنگدستی میں مبتلا ھوتا بھی ھے ۔ ایسے میں بعض لڑکے گھر سے تو اس لیے باہر نکلتے ہیں کہ وہ کہیں سے رزق کو تلاش کریں لیکن ان کی جہالت و لاعلمی اور ادراک کی کمی کے نتیجہ میں وہ برے ساتھیوں اور اہل شر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ انہیں انحراف کی راہ پر چڑھادیتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم فقر و تنگدستی سے اللہ تعالی کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسنون دعاؤں میں سے ہی یہ دعاء بھی ھے ۔</p>
<p>&#8221; اللھم انی اعوذبک من الکفر و الفقر &#8221;<br />
&#8221; اے اللہ ! میں کفر و فقر سے تیری پناہ مانگتا ھوں &#8221;</p>
<p>اسلامی نظام زکوۃ  و صدقات :<br />
اس فقر اور اس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے زکوۃ فرض کی اور مالدار لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی اور اجتماعی و معاشرتی خودکفالت کے مفہوم کو اجاگر کیا اور لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ یتیموں ، فقیروں اور مسکینوں کے حالات کی خبر گیری کرتے رہیں اور اس پر بہت بڑے اجروثواب کا وعدہ دیا گیا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ھے ۔<br />
&#8221; میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں اکٹھے ھوں گے اور (اس قرب کو واضح کرنے کےلیے ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی درمیانی اور اس کے ساتھ والی انگلیوں سے اشارہ کرتے ھوۓ انہیں ملایا اور الگ الگ ہٹایا ۔&#8221; ( صحیح بخاری) ۔</p>
<p>خیراتی اداروں کا کردار :<br />
اس باھمی تکافل و تعاون اور خود کفالت کے لۓ ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ خیراتی ادارے جو یتیموں فقیروں اور مسکینوں کی خبرگیری کرتے ہیں ان کے ساتھ بھرپور مالی تعاون کیا جاۓ ۔ بلاد حرمین شریفین نے اس مبارک پروگرام کو منظم کرنے کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں ۔ اور آج اس اجتماعی تعاون و تکافل میں بھر پور کردار ادا کرنے والی خیراتی انجمنیں اور ادارے پورے ملک کے کونے کونے میں پھیلے  ھوۓ ہیں اور ملک سے غربت و افلاس کے خاتمہ اور بشری و اقتصادی ترقی میں حقیقی شراکت کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ان اداروں نے امیروں اور فقیروں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا رول بھی ادا کیا ہے ، معاشرے کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ھے ، اور اسے  رحم و کرم اور شفقت و محبت کے مناظر و جذبات سے بھر دیا ہے ۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کتنے بھوکوں کو کھانا کھلایا گیا ، کتنے بے لباس لوگوں کو کپڑا مہیا کیا گيا ۔ کتنے مصیبت زدہ لوگوں کی مشکلات دور کی گئیں اور کتنے تنگدستی میں مبتلا لوگوں کی مدد کر کے ان کا بوجھ ہلکا کیا گيا ۔</p>
<p>بد نیتوں کے اعتراضات :<br />
ان خیراتی اداروں اور بابرکت جمیعتوں کے خلاف صرف وہی شخص بدزبانی کر سکتا ہے جو بدنیتی میں مبتلا ہے ۔ جس کی فکر مغربی نجاستوں کے ساتھ ملوث ھو چکی ہے ۔ جو شکست خوردہ ہے اور جس کے دل و دماغ اور جذبات سے خیر کے سوتے خشک ھو چکے ہیں اور بھلائی چشمے پھوٹنا بند ھو گۓ ہیں ورنہ یہ ادارے اور خیراتی انجمنیں انتہائی بابرکت ہیں ، ان کے ذریعے خیر و بھلائی عام کی جا رہی ہے ۔ ان کے فوائد بیشمار ہیں اور اس کے پودے انتہائی پاکیزہ ہیں جن کی شادابی و سیرابی کی ذمہ داری ھمارے سربراھوں نے اپنے سر لے رکھی ہے ۔</p>
<p>انحراف کے خاتمہ میں مدارس کا رول :<br />
گھر کے بعد مدرسہ وہ ادارہ ہے جس کا رول بہت ہی مؤثر و گہرا ہے اور نوجوان نسل کو سنوارنے یا بگاڑنے میں زبردست کردار ادا کرتا  ہے اور یہ مدرسہ ہی تعمیر یا تخریب کا ہتھیار اٹھاۓ ھوۓ ھے ۔ مدرسے کی اساس اور اس کی سرکردہ چیز اس کے تعلیمی و تربیتی مناھج و کورسسز اور نصاب ہیں اور اس سے کوئی صاحب عقل و خیرد انکار نہیں کر سکتا کہ نوجوان نسل کی عمر کا یہ مرحلہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ انھیں بھرپور شرعی نصاب سے مزین کیا جاۓ خصوصا جبکہ آجکل دنیا کے اطراف و اکناف سمٹ کر اسے ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل میں لے آۓ ہیں اور اس گلوبلائيزیشن کے ساتھ ساتھ ہی گمراہ کن افکار بھی بہت پھیلے ھوۓ اور شہوت پرستی کا دیو ننگا ناچ رہا ہے ۔ ایسے میں بھر پور شرعی نصاب سے نوجوان نسل کے دلوں کا تحفط کیا جانا ضروری ہے اور ان کے افکار کو گمراہ کن غلو و مبالغہ ، تشدد و انتہاء پسندی اور تباہ کن فسق و گناھوں سے بچایا جاۓ ۔</p>
<p>اسلامی تعلیمات اور خاتمہ انحراف :<br />
دین اسلام کی تعلیمات نوجوان نسل کو انحراف و بے راہ روی سے بچانے کی سب سے بڑی ضمانت ہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ اس بات کو روز روشن کی طرح واضح کر دیتا ہے کہ فرقوں کا ظہور اور انحراف و جرائم کا پھیلاؤ اسلامی معاشرے میں راہ نہ پا سکا اور نہ ہی اسے قلوب و عقول میں جگہ ملی سواۓ اس دور کے جب دعوت و تبلیغ کا کام رک گیا اور شریعت پر عمل چھوٹ گیا اور میرے خیال میں کوئی عقل و دانش کا مالک اس کا انکار نہیں کر سکتا اور تاریخ خود بیشمار واقعات و سنن اور عبرتوں کو اپنے اندر سموۓ ھوۓ ہے ۔</p>
<p>اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ھوا ، یہ ( قرآن ) عام لوگوں کے لۓ بیان صریح اور اہل تقوی کے لۓ ھدایت و نصیحت ہے &#8220;۔ ( آل عمران ۔١٣٧ ، ١٣٨ ) ۔<br />
جبکہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے:<br />
&#8221; یہ قرآن وہ راستہ دکھلاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے &#8220;۔ ( بنی اسرائیل ۔٩ ) ۔</p>
<p>فقدان دین و منھج :<br />
جب دین صحیح اور معتدلانہ منھج غائب ھو جاۓ تو نوجوان نسل انحراف بے راہ روی کا نشانہ بن جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نوجوان نسل کے افراد جرائم پیشہ ، دھشت گرد ، انتہاء پسندی ، اندھی تقلید فرنگ کے رسیا اور دشمنان دین کی گود میں سکون محسوس کرنے والے بن جائيں یا منحرفانہ افکار و نظریات کا شکار بن جائيں ۔ یا پھر وہ ایسے ضایع ھوں کہ امت کے جسم میں زھر بن جائيں یا پھر اس کے ڈھانچے کو توڑنے والا ہتھیار بن کر سامنے آ جائيں ۔ وہ اپنا بھی مستقبل برباد کریں اور امت کا بھی اور اپنے آپ کو بھی برباد کر لیں اور امت کو بھی لے ڈوبیں ۔</p>
<p>خاتمۂ انحراف میں مدارس کا کردار :<br />
مدارس کی لڑی اور تعلیم و تربیت کے میدان کا امام و محور معلم و مدرس ھوتا ہے ۔ اسی کی بدولت انحراف و بدراہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ اور اسی کے ذریعے نسل نو کا تحفظ ممکن ھوتا ہے لیکن یہ سب اس وقت ھو گا جب وہ اپنے سلوک و کردار میں استقامت کا مالک ، اخلاق و عادات میں نیک خو ، ایمان میں قوی و مضبوط اور اپنے کام میں ماھر ھو اور وہ اپنی امت اور اپنے معاشرے کے مسائل میں گہری دلچسپی رکھتا ھو ۔ کسی مسلمان معاشرے میں معلم و مدرس کی یہ اھم ترین صفات ہیں ۔ اور معلم و استاذ کا بلندترین پیغام ہے ایمان کو غذاء مہیا کر کے اسے تقویت دینا ، اخلاقی نگران اور پاسبان اور پہردار بٹھانا اور نسل نو کے دلوں میں اللہ کے نگران و نگہبان اور ہر قول و فعل کو دیکھنے والا ھونے کا یقین پیدا کرنا ۔</p>
<p>صحبت صالح کا اثر :<br />
اخلاق و کردار کی اصلاح اور اعلی قدروں کے اکتساب میں اچھے دوستوں کی سوسائٹی و صحبت بھی بڑا رنگ دکھاتی ہے حتی کہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :<br />
&#8221; انسان اپنے دوست کے دین پر ھوتا ہے ، لھذا اسے چاہیۓ کہ دیکھ بھال کر کسی کو اپنا دوست بناۓ &#8220;۔ ( مسند احمد وغیرہ ) ۔<br />
برے ساتھیوں کی صحبت آدمی کو تباہی و بربادی اور انحراف و جرائم کی طرف گھسیٹ لے جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے ھلاکتوں سے ھمکنار کر دے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحبت صالح بندے کی استقامت اور عمدہ اخلاق کے اسباب میں سے ہے بلکہ یہ انحراف سے بچنے کے عوامل میں سے ایک فعال ذریعہ ہے ۔</p>
<p>بے کاری اور انحراف :<br />
فرصت و بے کاری بھی انحراف و بدراہی کا ایک سبب ہے بلکہ ان دونوں کا تو جولی دامن کا ساتھ ہے ۔ فرصت کے اوقات کو اگر صحیح مصرف میں نہ لایا جاۓ تو اس کے برے اثرات خود اس شخص کی ذات پر مرتب ھونے لگتے ہیں اور فرصت و بےکاری کا زمانہ تو نو عمر انسان کے انحراف کا ایک موقع ھوتا ہے ۔ لھذا والدین پر واجب ہے کہ وہ اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ ان کا لاڈلہ اپنے فارغ اوقات کہاں اور کیسے گزارتا ہے ۔<br />
فرصت و بیکاری کے اوقات میں ممکن ہے کہ بچے کے ذھن میں کوئی منحرفانہ فکر جگہ پکڑ لے یا وہ کسی شہوت پرستی میں مبتلا ھو جاۓ یا کسی دوسری بری عادت میں پھنس جاۓ اور وہ قیامت ہی ڈھا دے ۔</p>
<p>فرصت کے اوقات کی صحیح سرمایہ کاری ؟<br />
تعلیم و تربیت کے اداروں ، دینی و شرعی کورسسز اور قرآن کریم کو حفظ کروانے والے حلقوں نے نسل نو کی ایک بہت بڑی تعداد کے دلوں اور عقول کو اپنے سايۂ تربیت و تحفظ میں لے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ایسے پر امن تربیتی اداروں کی تعداد کو مزید بڑھایا جاۓ تاکہ ان نوجوانوں کو بھی اپنی گود میں لے کر ان کی تربیت کر سکیں جنھوں نے غلو و مبالغہ آمیزی کو اپنی راہ بنا لیا ہے اور تکفیر کی شمشیر چلانے کو اپنے منھج کا درجہ دے لیا ہے اور ان نوجوانوں کو بھی اپنے دامن تربیت میں لے سکیں جنھوں نے زندگی کے محض حاشیہ و کنارہ پر جینے کو ہی اپنی روش قرار دے لیا ہے ۔ وہ گلی کوچوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے پھرتے ہیں اور جہاں چاہیں فٹ پاتھوں پر ڈیرہ لگا لیتے ہیں ۔ اسی طرح ان نوخیز کونپلوں کو بھی گوشۂ رحمت و شفقت میں جگہ دیں جو شراب و منشیات کا شکار ھو گۓ ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ھے ۔<br />
&#8221; جس نے اپنی عمر کا ایک دن بھی اس انداز سے بے کار گزار دیا کہ اس میں نہ کسی کا کوئی حق ادا کیا ، نہ کسی فرض کی ادائیگی سے سبکدوش ھوا ،نہ ہی عظمت و بزرگی پانے کی طرف کوئی قدم اٹھایا یا کوئی ایسا کام کیا جو اس کے لیے باعث ستائش و شاباش ھو یا کوئی کلمہ خیر سنایا یا کوئی علم سیکھا اس نے اس  دن کی نافرمانی کی اور اپنی ذات پر ظلم کیا ۔ &#8221;<br />
میں آپ سب کو اور خود اپنے آپ کو اللہ کے تقوی کی تاکید کرتا ھوں کیونکہ تقوی ہی نجات کی راہ اورفوزو فلاح کا ذریعہ ھے اور اسی سے دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی کا حصول ممکن ھے ۔</p>
<p>سیٹلائيٹ اور انحراف :</p>
<p>آج کا دور شہوتوں کو بھڑکانے والا عریانی بردوش دور ھے جو نسل نو کے جذبات کو رنگیخت کرتا اور انسان نما شیطانوں کا سب سے بڑا جال یہ سیٹلائيٹ چینلز ہیں جن میں سے اکثر کا کام ہی یہ ھوگیا ھے کہ وہ انحراف و بےراہ روی کو نہایت بنا سنوار کر پیش کر رہے ہیں اور لوگوں کو بدراہ کرنے پر تلے ھوۓ ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئ ھے کہ جب سے ان سیٹلائیٹ چینلوں نے اپنے شر کا بگل بجایا ھے تب سے ان کے مقابلے میں تربیتی اداروں نے ہتھیار ڈال دیۓ ہیں اب صرف وہی چینلز ہیں جو اپنی تمام تر قوتوں اور وسائل کے ذریعے عقلوں کو بگاڑنے ، دلوں میں فساد پیدا کرنے ، آنکھوں سے حیاء کا پردہ ہٹانے اور دینی پاسبان کو کمزور کرنے کےلیے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں اور شر کے دروازے کھولے بیٹھے ہیں ۔ ان ذرائع ابلاغ کے موثر اداروں نے مسلمانوں کے خلاف کفار کی فکری یلغار کی راہیں آسان کر دی ہیں اور وہ ان ممالک کا اخلاق و کلچر نقل کرتے چلے آرہے ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ھے ان ذرائع نے لوگوں کو فسق و فجور کا ارتکاب کرنے پر دلیر کر دیا ھے اور انہیں انحراف و جرائم کی جرات دے دی ھے ۔</p>
<p>اس درد کا درماں :<br />
اگر ہم اس بےراہ روی و انحراف کا حلقہ تنگ اور اس کا ناطقہ سربگریباں کرنا چاہیں تو ہمیں اس خطرناک ڈراؤنے خواب کا کوئی موثر حل تلاش کرنا چاہیے جوکہ ہمارے دل و دماغ اور قلوب و صدور پر مونگ دل رہا ھے ۔ اس کی زہر ناکیوں کا مقابلہ و علاج ڈھونڈنا چاہیے جو تریاق کاکام کرے اور اس زہر کا اثر ختم کر دے ۔</p>
<p>دعوت و تبلیغ کی ضرورت :<br />
اس انحراف کے علاج کےلیے جو طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں ان میں سے ہی ایک یہ بھی ھے کہ حکمت و دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دی جاۓ اور تبلیغ دین کا فریضہ صحیح طور پر ادا کیا جاۓ ۔ مسجد اپنا رول ادا کرے اپنا پیغام عام کرے اور لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے سلسلہ میں بھر پور انداز سے اپنا کردار ادا کرے ۔ اس طرح انحراف کا خاتمہ کرنے کے وسائل میں سے ہی ایک یہ بھی ھے کہ نوجوان نسل کی تربیت کے ذمہ دار اور دعاہ و مبلغین اپنی اپنی ڈیوٹی نبھائیں اور ذمہ داری کی ادائیگی کا حق ادا کریں ۔</p>
<p>اہل فکرو قلم کا فرض :<br />
ایسے ہی اہل فکر و قلم حضرات کو بھی ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اس انحراف و بےراہ روی کے مقابلہ میں اپنا حصہ ڈالیں ، اس کی کھلی سٹڈی کریں اور اس کےلیے موثر حل تجویز کریں اور وہ جو کچھ لکھتے ہیں اور نشر کرتے ہیں ان مضامین و مقالات اور آراء و افکار کو پیش کرتے وقت اللہ تعالی سے ڈریں ۔ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; اور (اے بندے ) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑو کہ کان آنکھ اور دل ان سے (اعضاء و جوارح) سے ضرور باز پرس ( جوابدہی ) ھو گی ۔ &#8221; ( بنی اسرائیل ۔٣٦ )</p>
<p>ہر فرد کی ذمہ داری :<br />
صرف مفکرین اسلام اور قلم ہی نہیں بلکہ ہم میں سے ہر فرد ایک امانتدار پہرے دار اور امت کی حمایت و نگرانی کا ذمہ دار ھے تاکہ اپنے فسادو بگاڑ اور انحراف و بےراہ روی سے بچایا جاسکے اور ہر شخص اپنے معاشرے کی بقاء اور اس کی صفائی و پاکیزگی کا محافظ ھے۔ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ازراہ ظلم تباہ کر دے جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ھوں ۔&#8221; (ھود ۔١١٧ )</p>
<p>محکمہ احتساب کا ادارہ :<br />
معاشرے کی بقاء و پاکیزگی کا ہدف پانے کےلیے ہی یہ بھی ضروری ھے کہ ہم سب ایک دوسرے کو راہ حق پر چلنے کی تاکید کرتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کے مقابلے میں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتے رہیں اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں کہ یہی تو تمام معاشروں کے امن و امان اور سکون و استقرار کا ضامن ھے ۔ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; عصر کی قسم ! بے شک انسان نقصان میں ھے سواۓ ان لوگوں کے جو ایمان لاۓ اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔( سورہ العصر )</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین<br />
سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/08/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%81-%db%94%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d9%88-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شادی بیاہ ۔ تقریبات ، احکام ، آداب</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 03 Jan 2007 11:48:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>
		<category><![CDATA[دین اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت و تبلیغ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلۃ الشیخ / عبدالمحسن القاسم حمد و ثناء کے بعد اللہ کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اس کا خوف و تقوی ہی راہ ھدایت ہے اور اس کی مخالفت راہ متفاوت و بدبختی ہے ۔ مسلمانو ! خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اسی سے امتیاز اور اقوام و قبائل نکلتے ہیں اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلۃ الشیخ / عبدالمحسن القاسم</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد</p>
<p>اللہ  کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اس  کا خوف و تقوی ہی راہ ھدایت ہے اور اس کی مخالفت راہ متفاوت و بدبختی ہے ۔<br />
مسلمانو ! خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اسی سے   امتیاز اور اقوام و قبائل نکلتے ہیں اور اس کی بیناد میاں  بیوی  ہیں ۔ ارشاد الہی ہے :<br />
[ اے لوگو ! ھم نے تمھیں ایک مرد و زن سے پیدا کیا اور ھم نے تمھیں قبائل و اقوام بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو باھم پہچانو ]۔ ( الحجرات ۔١٣)</p>
<p>دعوت شریعت :<br />
شریعت بندوں کی مصلحتوں ، حکمتوں اور ان کے دنیا و آخرت کے مفادات پر مبنی ہے ۔ اس نے نوجوانوں کو شادی کے ذریعے اپنے آپ کو عفیف و پاکدامن رکھنے کی دعوت دی ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے :<br />
[ اے نوجوانو  ! تم میں سے جس میں ( مادی و جسمانی ) طاقت ھو اسے چاہیۓ کہ شادی کرے یہ اس کی نگاہ کو نیچے رکھنے  اور شرمگاہ کی حفاظت کے لۓ مفید ہے اور جس میں ( مالی ) طاقت نہ ھو ، وہ روزہ رکھے ۔ یہ اس کی شہوت کشی کرے گا ]۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>شادی سے قبل ۔ ۔ ۔<br />
دین اسلام نے اعلی اخلاق و کردار والی ایسی نیک بیوی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ اپنے شوھر کو اذیت نہ پنچاۓ اور  نہ ہی اس کے سامنے اپنی آواز بلند کرے ۔ اور لڑکی لڑکے دونوں کے بارے میں چھان بین کر لینا لازمی ہے تا کہ اس کے مخفی اخلاق و کردار اور صفات کا پتہ چل جاۓ جو کہ اسلامی اخلاق کے منافی ھوں اور جس سے پوچھ پاچھ کے لۓ رابطہ کیا جاۓ اس پر واجب ہے کہ پورے صدق و صفائی سے جواب دے   ، اور امانت داری و وضاحت سے ان کے محاسن اور برائیاں بیان کر دے کیونکہ کسی کے پوچھنے پر کسی کے  عیوب و نقائص کو چھپانا مسلمان کو دھوکہ دینے کی ایک قسم ہے ، اور جب لڑکا کسی کو پیام نکاح دینے کا عزم کر لے تو اس کے لۓ مباح ہے کہ وہ حرام خلوت کے بغر ، لڑکی کے کسی محرم کی موجودگی میں لڑکی پر ایک نظر ڈال لے اور لڑکی جسمانی عیوب کو چھپانے والا میک اپ کر کے اسے دھوکہ میں نہ رکھے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ تم میں سے جب کوئی شخص کسی لٹرکی کو پیغام نکاح دے تو اسے چاہیۓ کہ ( نکاح سے پہلے ) ایک نظر دیکھ لے یہ ( دیکھ لینا ) انکے مابین تعلقات کے دوام کے لۓ مفید ہے ] ۔ ( مسلم )</p>
<p><span id="more-351"></span><br />
منگیتروں کے لۓ احکام :<br />
منگیتر کو اس بات سے ڈرنا چاہیۓ کہ وہ اپنی منگیتر لڑکی سے حرام خلوت اختیار نہ کرے ، نہ ہی اس سے ( نکاح سے قبل ) ٹیلیفون پر گفتگو کرے نہ اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہناۓ یا اس کے جسم کو چھوۓ اور نہ ہی اسے اس کے گھر سے باھر لے کر جاۓ ، یہ سب نافرمانی کے قبیل سے ہے ۔ شیطان کا چوکہ ہے اور اسی طریقے سے وہ لڑکوں کو بہکاتا و گمراہ کرتا ہے اور اکثر  انہی گناھوں کے نتیجہ میں ان دونوں منگیتروں کے خواب چکنا چور ھو جاتے ہیں ۔</p>
<p>کم مہر زیادہ برکت :<br />
اسلام دین عدل  و اعتدال ہے اس نے نوجوانوں کو شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور کم مہر طلب کرنے کی ترغیب دلائی ہے ، اگر مہر کم ھو گا تو عورت کی عزت و قیمت شوھر کی نظروں میں بڑھ جاۓ گی اور اس کی برکت میں بھی اضافہ ھو جاۓ گا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ عورتوں میں سے سب سے زیادہ بابرکت وہ ہے ، جسے بیاہ کر لانے پر کم از کم خرچہ آۓ ] ۔<br />
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے مالدار صحابہ بھی مہر زیادہ دینے میں مبالغہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :<br />
&#8221; میں نے کجھور کی گٹھلی کے برابر سونے ( حق مہر ) پر شادی کی &#8221; اور جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کے اس حق مہر کا پتہ چلا تو انھیں  یہ دعا دی : ۔۔۔۔  بارك اللہ لك ۔۔۔ ( اللہ تمھیں برکت عطا فرماۓ ۔ )<br />
مہر عورت کا حق ہے ۔ والدین یا سرپرستوں کو حق نہیں کہ وہ اسے اپنے کھاتے میں ڈال لیں ۔ ارشاد باری  تعالی ہے :<br />
[ اور عورتوں کو رضاء و خوشی سے انکا حق مہر دے دیں ] ۔ ( النساء۔٤)</p>
<p>عورت کا اصل حسن و جمال :<br />
عورت کا حسن و جمال اس کی پردہ داری میں ہے اور اس کا اصل رعب اس کی حیاء میں ہے اور اس کے چہرے کی رونق اس کی عفت و پاکدامنی میں ہے ۔ اسلام عورت کو چہرے کے پردے کا حکم دیتا ہے جبکہ بعض عورتیں شادی بیاہ کی تقریبات اور خوشی کے ایسے دیگر مواقع پر حرام امور میں واقع ھو جاتی ہیں ایسے لباس پسند کر لیتی ہیں جو بہت تنگ ھوتے ہیں ، کچھ وہ ہیں جو اتنا پتلا کپڑا پہن لیتی ہیں جو ان کے بدن کو پردہ مہیا نہیں کرتا ، بعض وہ ہیں  جو کہ ( سکرٹ پہن کر ) اپنی پنڈلیوں اور رانوں کو ننگا رکھتی ہیں اور کئی ایسی ہیں جو جسم کا اوپر کا حصہ ننگا رکھتی ہیں اور شیطان ان کے لۓ اس بے پردگی کو مزین کر کے پیش کرتا ہے ۔</p>
<p>احکام پردہ کی بعض قبیح خلاف ورزیاں<br />
کسی عورت کے لۓ یہ حلال نہیں کہ وہ دوسری عورتوں کے سامنے ان اعضاء کے علاوہ کو ظاھر کرے جن کا اس کے لۓ اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے ظاھر کرنا روا ہے ۔ جنھیں کہ وہ اپنے گھر میں اپنے محرم رشتہ داروں کے ننگا کر لیتی ہے مثلا سر ، دونوں ہاتھ ، گردن دونوں پاؤں ۔ عورت اس سے زیادہ اعضاء جسم کو عورتوں کے سامنے بھی ننگا کرنے کی مجاز نہیں ہے ۔<br />
عورتوں میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے جسم کے زائد بال اتروانے کے لۓ دوسری عورتوں کے سامنے اپنی شرمگاہ تک ننگی کر دیتی ہیں جبکہ یہ انتہائی بڑا گناہ ہے اور سخت ناجائز فعل ۔ اس کے ایسا کرنے میں ایک تو دوسروں کو شرمگاہیں دکھلانے کی قباحت پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح وہ عورت اپنے شوھر کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارتکاب بھی کرتی ہے کیونکہ وہ شوھر کی عدم موجودگی میں اپنے شوھر کا حق دوسری کے لۓ ضائع کر رہی ہے ۔ اس کے اس فعل پر اللہ تعالی کی طرف سے سخت وعید آئی ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :<br />
[ جس عورت نے اپنے شوھر کے گھر کے سوا کہیں اپنےکپڑے اتارے ۔ اس نے اپنے اور اللہ تعالی کے مابین پاۓ جانے والے پردے کو ھٹا دیا ] ۔ ( مستدرک حاکم )</p>
<p>تقریبات کے انعقاد میں راہ اعتدال :<br />
دین اسلام بخل اور فضول کے درمیان اوسط درجے کا خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے ، نکاح کا اعلان ( تقریب شادی کے ذریعے ) کیا جاۓ لیکن ممنوع حد تک نہ جایا جاۓ ۔</p>
<p>فاخرانہ لباس پر تکبر کاانجام :<br />
بعض عورتیں زیب و زینت کے معاملہ کے ساتھ ساتھ ہی تبرج و بے پردگی اور تزیین و تجمل پر اتراتی پھرتی<br />
اور فخر ومباھات کرتی ہیں ، اموال برباد کرتی اور اوقات ضا‏ئع کرتی ہیں اور یہ سب صرف بے بنیاد شہرت حاصل کرنے اور ناپسندیدہ ریاءکاری کے لۓ ھوتا ہے ۔<br />
اے خواتین ! لباس میں تکبر کرنے سے بچیں ۔ لباس پر فخر و تکبر کرنے والوں کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :<br />
[ ایک آدمی اپنا پسندیدہ لباس پہنے ھوۓ  تھا ، بالوں کو کنگھی سے سنوارا ھوا تھا اور چلنے میں بڑا متکبرانہ انداز آ چکا تھا ۔ اچانک اللہ نے اسے زمین میں ہی دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں ہی دھنستا جاۓ گا ] ۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>مردوں اور غیر مسلم عورتوں کی مشابہت :<br />
مسلمان عورت اپنی زینت و سنگھار ، اپنے لباس و پوشاک اور اپنے بالوں کے انداز میں ممتاز ھوتی ہے وہ مردوں یا غیر مسلم عررتوں سے مشابہت کرنے سے کوسوں دور  ھوتی ہے اور ان لوگوں ( مردوں اور غیر مسلم عورتوں ) سے مشابہت کرنا باعث وعید ہے ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں سے مشابہت پیدا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔</p>
<p>خصائص مرد و زن :<br />
مرد و زن کے بعض خصائص ہیں ، ان کے اپنے اپنے احوال ، لباس اور زینت کی اشیاء ہیں ۔ عورت اپنی نسوانیت پر فخر کرتی ہے اور مرد اپنی مردانگی و جوانمردمی کو باعث اعزاز سمجھتا ہے ۔ غیروں کی تقلید کرنے میں اپنی نفسیاتی کمزوری و احساس کمتری کا اظہار ھوتا ہے اور اپنے خصائص پر عدم رضامندی کا پتہ چلتا ہے ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ایسا کرنے سے بندہ اپنے خالق کی حکمتوں کے ادراک میں نقص والا بنتا ہے ۔</p>
<p>باعث لعنت افعال :<br />
آنکھوں کے ابرو اللہ تعالی نے زینت کے لۓ بناۓ ہیں جبکہ بعض عورتیں اپنی آنکھوں کے جمال اور چہرے کے رعب کو ابروں کے بال نکال کر ضا‏‏ئع کر دیتی ہیں حالانکہ ابروں کے بال زائل کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے :<br />
[ اللہ تعالی نے بال نکالنے والی اور بال نکلوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ] ۔</p>
<p>غیروں کی تقلید و نقالی کے اصل محرکات :<br />
بعض لوگ نفسیاتی کمزوری اور احساس کمتری میں مبتلا ھونے کی وجہ سے غیروں کی تقلید کے بڑے دلدادہ ھوتے ہیں حتی کہ شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات میں بھی نقالی کرتے ہیں۔</p>
<p>شب زفاف پر شرعی خلاف ورزیاں :<br />
مرد پر نکاح یا کسی بھی دوسرے موقع پر غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام ہے ۔ شب زفاف میں دولھے کا غیر محرم عورتوں میں جا گھسنا اور اپنی بیوی کے ساتھ سیٹیج پر بیٹھنا جبکہ وہ مسلمانوں کی بنی سنوری مکمل زیب و زینت والی عورتوں کو دیکھتا ہے ، یہ انتہائی ذلیل برائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ عورتوں ( غیر محرم خواتین  ) پرداخل ھونے سے بچو ] ۔ ( متفق علیہ )<br />
دولھے کا اپنی  دلھن کے ساتھ عورتوں کے سامنے سٹیج پر بیٹھنا تقلید اغیار کا شاخسانہ ہے ، اس کا باعث خواہشات کی پیروی ہے ، اس فعل کا ظاھری پہلو فخر و مباھات اور تکبر ہے اور اس کا ثمرہ شقاوت کی شکل میں  ھو سکتا ہے ، عورتوں کے سامنے بیٹھے دولھا دلھن کا حال یہ ھوتا ہے کہ وہ عورتیں انھیں دیکھ رہی ھوتی ہیں اور انھیں دیکھنے والوں میں سے کوئی تو اس کے جسمانی ساخت پر تنقید کر رہی اور کیڑے نکال رہی ھوتی ہے اور کوئی ان کے یہاں پائی جانے والی نعمتوں ( مال و جمال ) پر حسد کر رہی ھوتی ہے ۔<br />
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :<br />
[ عورت کے لۓ بہتر یہ ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھے اور غیر محرم مرد اسے نہ دیکھیں ] ۔</p>
<p>شادی پر دلہن کا لباس شہرت :<br />
دلھن کے شادی کے جوڑے کے پیچھے انتی لمبی دم بنا دینا جسے اس کے پیچھے کئی عورتیں اٹھاۓ چل رہی ھوتی ہیں ، یہ غیر مسلم لوگوں کی مشابہت ہے اور ایسا کرنا حرام فعل ہے ، اسی طرح شادی  بیاہ کے موقع پر ( اور عام حالات میں بھی ) گانا و موسیقی اللہ کی ناراضگی کا باعث اور قسوت قلبی سنگدلی کا سبب ہیں ۔ اور یہ گانا و موسیقی بندے اور اللہ تعالی کے مابین موٹا پردہ حائل کر دینے کا باعث بنتے ہیں ، شب نکاح و زفاف پر بعض لوگوں کا گانا و موسقی کا اھتمام کرنا اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے اور اللہ تعالی کی نافرمانی بھی ، اور انتہائی اسراف و فضول یہ ہے کہ گانے بجاۓ والی سنگر ( اور رقص کرنے والی ڈانسر ) منگوائی جاۓ اور گانا سنا  (اور رقص دیکھا ) جاۓ اور سحری کے ان اوقات میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی جاۓ جبکہ انہی گھڑیوں میں اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ اور اللہ والے اپنی عبادت گاھوں میں مصروف مناجات ھوتے ہیں۔</p>
<p>منکرات پر مشتمل تقریبات میں عدم شمولیت :<br />
مسلمان کے لۓ کسی بھی ایسی تقریب میں شرکت کرنا حرام ہے جس میں کسی منکر و برائی کا ارتکاب  کیا جا رہا ھو ، امام اوزاعی فرماتے ہیں :<br />
&#8220;کسی ایسی تقریب شادی میں شرکت نہ کریں جس میں طبلہ ساز بج رہے ھوں &#8221; ۔</p>
<p>تقریب شادی پر جائز امور :<br />
اسلام کے احکام میں حرام امور سے بچنے کے لۓ متبادل ایسے امور موجود ہیں کہ بندہ حرام کا محتاج ہی نہیں<br />
 رہ جاتا ، اسلام نے رات کے وقت ممنوع الفاظ سے  پاک کلام کے ساتھ خاص طور پر عورتوں کو دف بجا کر خوشی کا اظہار کر لینے کی اجازت دی ہے ۔</p>
<p>تصویر کشی اور مصور کا انجام :<br />
تصویر کشی کبیرہ گناھوں میں سے ہے اور یہ فعل اللہ کے غضب اور لعنت کا موجب بھی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :<br />
[ تصویر کشی کرنے والے مردوں اور عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے ]۔<br />
مصور یا تصویر ساز کو ساری انسانی مخلوق سے زیادہ عذاب ھو گا ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :<br />
[ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب مصوروں کو ھو گا ]۔ ( متفق علیہ )<br />
عورتوں  کی تصویروں اتارنا تو بہت ہی برے نتائج لاتا ہے ، ھو سکتا ہے وہ تصویریں غیر محرم مردوں تک پہنچیں اور اسی کے نتیجہ میں گھروں کے گھر تباہ و برباد جاتے ہیں ، سمجھدار باپ وہ ہے جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کو ایسی جگہوں پر جانے سے ہی روک دے جہاں تصویرں بن رہی ھوں ۔</p>
<p>اشیاء خورد  و نوش میں اعتدال :<br />
کھانے پینے کے سامان میں اعتدال و میانہ روی اور فخر و مباھات سے بچنا چاہیۓ اھل فضیلت لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو اپنا راھنما بناتے ہیں اور وہی طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔<br />
ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر ولیمہ کرنے کی تفصیل بیان کرتے ھوۓ فرماتی ہیں:<br />
[نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بعض بیویوں سے شادی پر دو مد جو سے ولیمہ کیا ] ۔<br />
یہ انتہائی غلط روش ہے کہ خیرات میں آدمی بخیل ھو جاۓ اور شادی بیاہ کے موقع پر انتہائی فضول خرچیاں کرتا جاۓ ، نکاح کے موقع پر بار بار تقریبات کا انعقاد کرنا بظاھر تو خوشی و فرحت ہی ہے جبکہ درحقیقت یہ شادی پر انجام کار غم کا باعث بننے والا ہے ، منگنی پر تقریب کا انعقاد ، منگیتر کے اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہنانے کے دن پھر ایک پرتکلف دستر خوان سجانا دونوں فعل ہی حرام ہیں ، عقد نکاح کی رات دعوت کا اھتمام اور شب زفاف کو رنگا رنگ کھانوں کا انتظام دولھےکے اخراجات میں بلاوجہ اضافے اور اس کے لے بوجھ بنتے ہیں ۔</p>
<p>کیا کوئی ہے ؟<br />
کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو اس بات کی کوشش کرے جو اپنی بیوی کے ساتھ سر ڈھانپنے کے لۓ گھر بناۓ جو ستر و عفت اور پاکدامنی کا ذریعہ بنے اور شادی کے اخراجات کم از کم کر کے اور فضول خرچی سے  بچ کر معاشرے میں ایک مثالی نیک کام کی بنیاد رکھے اور شب زفاف پر وہ صرف ایک ہی ولیمہ کرے جو کہ دولھا دلھن کے لۓ بھی زیادہ محبوب عمل ہے ، یہی تمام فضولیات سے بچنے کا طریقہ اور گناھوں سے سلامتی والا ، کامل ترین ولیمہ اور توفیق خیر کو پانے والا فعل ہے ۔</p>
<p>حکمت الہی اور اسو‏ہ ء نبوی :<br />
اللہ تعالی نے رات کو لباس و پردہ بنایا ہے اور نیند کو راحت بنایا ہے جبکہ [نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نماز عشاء سے پہلے سونا ناپسند فرماتے تھے اور نماز عشاء کے بعد ( بلاضرورت شرعی ) باتیں کرنا مکروہ جانتے تھے ] ۔ ( متفق علیہ )<br />
فرحت و خوشی کے لمحات کا اظہار فحش قسم کی رتجگے کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے اور نکاح کے اعلان و تقریب کے لۓ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ اسے سحری تک لمبا کر دیا جاۓ حالانکہ آغاز شب کی چند گھڑیاں ہی اس غرض کے لۓ کافی ہیں ۔</p>
<p>تقوی پر بنیاد :<br />
مسلمانو ! جس نے اپنی عمارت کی بنیاد تقوی پر رکھی وہی سب سے زیادہ مضبوط و خوبصورت اور دیرپا و مفید ھو گی اور جس نے اپنی عمارت کو محرمات سے بھر دیا اس نے گویا شقاوت و بدبختی کو آواز دے دی ، نوبیاہتا جوڑا شادی کی پہلی رات ( شب زفاف ) میں گوناگوں گناھوں کی تیپش سینکتا ہے ، حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ عليہ فرماتے ہیں :<br />
&#8221; میں گناہ کرتا ھوں تو اس کا اثر اپنی بیوی کے اخلاق و کردار میں پاتا ھوں یا پھر اپنی سواری کی سرکشی کی شکل میں دیکھ لیتا ھوں &#8221; ۔</p>
<p>عاقل عورت کا انداز :<br />
عاقل و حاذق عورت پہلی رات میں گناھوں کے ارتکاب سے اور اللہ کی نافرمانی سے اپنے گھر کی بنیادوں کو نہیں ھلاتی ، گناہ معاشرت کو مشکل بنا دیتے ہیں اور دونوں میاں بیوی کے دلوں کو مبتلا وحشت کر دیتے ہیں اور کوئی شادی جتنی بھی صحیح تر طریقے سے ھو گی اتنی ہی زیادہ توفیق یافتہ نکلے گی ، اور شادی بیاہ میں یہ جتنی بھی اسلامی خلاف ورزیاں ھوتی ہیں ان سب کا سبب احساس کمتری اور احساس درماندگی و نقص ہے ۔</p>
<p>تقریب نکاح کی اصل حقیقت :<br />
بعض لوگ نکاح کی حقیقت کو ہی شائد نہیں سمجھتے وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ فخر و مباھات اور کھانے<br />
پینے کی رنگا رنگ چیزوں کا اھتمام اور قیمتی کپڑوں کی خریداری شائد نکاح کے لوازمات میں سے ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ نکاح تو دو میاں بیوی کے مابین قائم ھونے والا ایک مضبوط بندھن ہے جسے کسی خطاکاری سے اور کسی گناہ و نافرمانی سے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیۓ ۔</p>
<p>والدین کی ذمہ داری :<br />
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح کے مواقع پر گناھوں کے ارتکاب کے لۓ عورتوں کی باگیں ڈھیلی نہ چھوڑ دیں ۔ عورت ذات کمزور ہے اگر وہ سرپرست کا ہاتھ نہ پکڑے رہے گی تو خواہشات کی رو میں بہہ کر بھٹک جاۓ گی ۔</p>
<p>خواتین کا فرض :<br />
خواتین پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی اطاعت کریں حرام امور و اشیاء کے ارتکاب سے بچیں ۔ عورت کو چاہیۓ کہ وہ اخلاق عالیہ سے مزین ھو اور اپنے دل کو اطاعت الہی کی ذریعہ اصلاح کرے ۔ وہ ماں ہے ، ایک خاندان کے بارے میں جوابدہ اور افراد خاندان کی راہنمائی کرنے والی ہے ، اسے عالی فکر اور بلند نگاہ ھونا چاہیۓ ۔ آج عمل کا وقت ہے اور کوئی حساب نہیں کیا جا رہا ہے اور کل ( قیامت کو ) حساب کتاب لیا جاۓ گا مگر عمل کا کوئی موقع نہیں رہے گا ۔</p>
<p>اللہ تعالی کا ارشاد ہے :<br />
[ جو نیک کام کرے گا تو اپنے لۓ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو پہنچے گا ، اور تمھارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے  ] ۔ ( حم السجدہ ۔٤٦)</p>
<p>باعث عروج و سعادت :<br />
مسلمانو ! اسلام تھذیب و تمدن اور سیادت و قیادت کا منبع ہے اس سے تعلق و تمسک عروج و ترقی کا ذریعہ ، امتوں کی تشکیل کا باعث اور نسلوں کی تعمیر کا سبب ہے  اور یہ سب کام باحسن طریق سرانجام پاتے ہیں ۔</p>
<p>دولھا اور اس کے والدین کے لۓ ھدایات :<br />
نکاح کے طریقوں میں آسانی اور سعادت بخش شادی کے ذریعے محبت و مودت کی راہیں پانا میاں بیوی دونوں اور ان کے سب گھر والوں کے لۓ باعث ابتہاج و مسرت ھوتا ہے اور یہی معاشرے کے لۓ بھی خوشی کا باعث بنتا ہے ۔ شوھر کو چاہیۓ کہ وہ دیندار ، بلند اخلاق اور باادب عورت کو بیوی بنانے کے لۓ اختیار کرے ۔ اور اگر کوئی اخلاق و دین میں برابری کا رشتہ آۓ تو اسے رد نہ کریں ، اھل عقل و تجربہ سے مشورہ کرنے ، اللہ سے استخارہ کرنے اور اس عورت کو بیوی بنانے کا عزم بالجزم کر لینے کے بعد کسی محرم کی موجودگی میں اپنی ھونے والی بیوی کو ایک نظر دیکھ لیں اور پھر پورے انشراح صدر اور توکل علی اللہ نکاح کریں ۔ شب زفاف پر اعتدال و میانہ روی سے فرحت و خوشی کی تقریب منعقد کریں جس میں لاابالی پن ، فخر و مباھات او کبر و نخوت نہ ھو ، اس سادہ سی تقریب کے ذریعے شرعی اعلان نکاح کریں ، اس میں اپنے دوست و احباب اور اعز و اقارب کو دعوت دیں اور مہمان کے بقدر مناسب کھانے پینے کا انتظام کریں جس میں اسراف و تبذیر ( فضول خرچی ) کا عنصر ہرگز شامل نہ ھو اور تقریب کے اختتام پر دلھن کو دلھا کے ساتھ روانہ کر دیں ۔</p>
<p>گناھوں کا اثر ازواجی زندگی پر :<br />
سمجھدار ، عقلمند اور اعلی اخلاقی و روحانی قوت کی مالکہ عورت اپنی شادی کے موقع پر حرام امور و اشیاء کے وقوع سے روکتی ہے ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ گناھوں کا اس کی ازواجی زندگی پر برا اثر مرتب ھو گا ۔</p>
<p>اسلام کی نکاح میں آسانیاں :<br />
اسلام نے نوجوانوں کے لۓ نکاح میں آسانیاں اور اس کے رشتوں میں بڑی سہولتیں مہیا کیں ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور شادی کی جبکہ آپ سفر میں تھے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ &#8221; راستے میں ہی تھے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دلھن بنایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو رات کے وقت ہی یہ بیوی ھدیہ کر دی ، او صبح ھوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم شب زفاف گزارے ھوۓ دلھا تھے ۔</p>
<p>ایک انتہائی قبیح فعل :<br />
شادی بیاہ کی برائیوں اور قبیح امور میں سے ایک یہ بھی ہے کہ والد اپنی بیٹی کی شادی کو مؤخر کر دے اگر چہ دینی ھم پلہ اور اخلاقی برابری کے رشتے آ رہے ہیں ، یا پھر بعض والدین لڑکی کے چچا زاد کے لۓ اسے روکے رکھتے ہیں ۔ ( کہ وہ شادی کے لائق ھو گا تو اسے اپنے اس بھتیجے سے بیا ھوں گا )<br />
اے باپ ! یہ بات ذھن نشین کر لیں کہ آپ کی بیٹی آپ کے گھر میں ایک کمزور سی مخلوق ہے ، اس کی حیاء  داری نے دل کی بات زبان پر لانے سے اس پر تالے لگا رکھے ہیں وہ صبح اٹھتی ہے تو دل میں رنج لیۓ اٹھتی ہے اور دن کو چلتی پھرتی ہے کہ اس کا دل حزین و غمگین ھوتا ہے ۔ وہ اس فکر میں رنج و الم محسوس کرتی رہتی ہے کہ کہیں بے بیا ہی نہ رہ جاۓ اور شادی کی گاڑی ہی نہ نکل جاۓ ۔</p>
<p>عورت : ایک پھول :<br />
عورت ایک پھول ہے ، جس کی بہار و جوبن کا زمانہ بہت ہی مختصر سا ھوتا ہے ۔ اور پھر یہ پھول مر جھا جاتا ہے اور دین اسلام و شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی ھدایت بھی یہی ہے کہ لڑکی کی شادی اس کے بالغ ھونے پر جلد از جلد کر دی جاۓ ۔ اور اس میں بھی کوئي قباحت نہیں کہ کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ کسی نیک شخص کے سامنے خود پیش کر دے بلکہ یہ سرپرستی و نگرانی کی انتہائی اعلی مثال ھو گی ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، انھوں نے رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا مگر وہ ناراض نہیں ھوۓ بلکہ یہی رشتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ انھوں نے بھی یہ رشتہ نہ لیا تو وہ پھر بھی مایوس نہیں ھوۓ بلکہ ام المؤ منین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا  کا رشتہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت عالیہ میں پیش کر دیا ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے شادی کر لی ۔ ( بخاری )</p>
<p>دین و اخلاق میں برابری کے رشتہ کو رد کرنے کا انجام :<br />
والدین کے لۓ دین و اخلاق کے مالک شخص یا نوجوان کا رشتہ قبول نہ کرنا شریعت اسلامیہ کے منافی فعل ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>[ جب تم سے کوئی ایسا شخص رشتہ طلب کرے جس کے دین و اخلاق سے آپ مطمئن ھوں ،  اسے رشتہ دے دو ، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور وسیع بگاڑ پیدا ھو جاۓ گا ] ( ترمذی )<br />
عقل و رشد یہی ہے کہ شریعت مصطفی کی پیروی کی جاۓ اور صاحب عقل و دانش وہی ہے جو اطاعت و پیروی کی راھوں سے سعادت و خوشی کا طلبگار ھو ۔</p>
<p>و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعن</p>
<p>سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2007/01/03/%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%db%94-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%8c-%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایام کے تناظر میں ۔ ذکر الہی اور اس کے فضائل و ثمرات ، فوائد و برکات</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2006/12/26/%d8%a7%db%8c%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%94-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2006/12/26/%d8%a7%db%8c%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%94-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 26 Dec 2006 09:49:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2006/12/26/%d8%a7%db%8c%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%94-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ / سامہ الخیاط ۔ حفظہ اللہ حمد و ثنا کے بعد اللہ کی بیشمار نعمتیں اللہ کے بندو ! اس اللہ سے ڈرتے رہا کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور عمدہ و پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی ۔ ارشاد الہی ہے ، &#8221; اور اس ( اللہ ) نے تم پر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  /  سامہ الخیاط   ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثنا کے بعد</p>
<p>اللہ کی بیشمار نعمتیں<br />
اللہ کے بندو ! اس اللہ سے ڈرتے رہا کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور عمدہ و پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی ۔  ارشاد الہی ہے ،<br />
&#8221; اور اس ( اللہ ) نے تم پر ظاھری و پوشیدہ نعمتیں بھرپور و عام کر دیں &#8220;۔ ( لقمان ۔٢٠ ) ۔<br />
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :<br />
&#8221; اور اس نے تمھیں ہر وہ چیز دی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اس کی نعمتوں کو گننا چاھو تو شمار نہیں کر سکو گے  بیشک انسان بڑا ظالم و ناشکرا ہے &#8220;۔ ( ابراھیم ۔٣٤ ) ۔</p>
<p> ذکر و یاد محبوب : باعث ازدیاد و دوام حب :<br />
محبوب کا ذکر اور اسکی یاد اس کی محبت کے دوام کا سبب اور اس کی مودت کی ھمیشگی کی راہ ہے ، اس کی رضاء و خوشنودی کے حصول کا طریق اور اس کی کریمانہ معیت و ساتھ کو پانے کا باعث ہے اور اللہ تعالی ہے سب سے زیادہ حقدار و اولی ہے کہ اسی سے کمال درجہ کی محبت کی جاۓ اسی کی عبادت و  بندگی بجا لائی جاۓ جو کہ اس کی تعظیم اور جلالت کی بناء پر ھو ، اس کی زیارت و دیدار کے شوق اور اسی سے امیدیں وابستہ کرنے کےلۓ ھو اور اسی پر توکل و اعتماد کے ساتھ ھو تو اللہ تعالی کا ذکر دلوں اور زبانوں کےلۓ وہ عظیم عمل بن جاتا ہے جس سے بندہ نفع حاصل کرتا ہے جس کی نیکی کی امید لگاتا ، اسے آخرت کے لۓ خزانہ بناتا ، اس کے اجر و ثواب کا امیدوار بنتا ہے اور اس کے اچھے انجام پر نگاہیں لگاتا ہے ۔<br />
<span id="more-350"></span><br />
ذکر الہی کا حکم اور فضائل و فوائد :<br />
کتاب اللہ میں اس ذکر الہی کو کثرت سے کرنے کا حکم اور بکثرت ذکر کرنے والوں کی تعریف آئی ہے اور وہ مرد ھوں چاہے عورتیں ۔<br />
چنانچہ ارشاد ربانی ہے :</p>
<p>&#8221; اے وہ لوگو جو ایمان لاۓ ھو ! اللہ کا بکثرت ذکر کرو اور صبح و شام اسکی تسبیح و پاکی بیان کرو &#8220;۔  ( الاحزاب ۔٤١ ، ٤٢ ) ۔<br />
دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :<br />
&#8221; اور اللہ کا بکثرت ذکر کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ &#8220;۔ ( الجمعہ۔١٠ ) ۔<br />
ایک تیسرے مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے :<br />
&#8221; بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں ، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں ، صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں ، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اپنی شرمگاھوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاھوں کی حفاظت کرنی والی عورتیں اور اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والی عورتیں ، ان سب کے لۓ اللہ نے مغفرت و بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے &#8220;۔ ( الاحزاب ۔٣٥) ۔</p>
<p>تمام اعمال سے افضل : ذکر الہی :<br />
ذکر الہی کو ایک انتہائی اشرف مقام حاصل ھونے ، اس کے عالی مرتبہ ھونے اور اس کے بہترین انجام والا ھونے اور اس پر اللہ تعالی کی طرف سے انتہائی کریمانہ جزاء کا اعلان ھونے جیسے اسباب کی بناء پر یہ ذکر الہی اللہ تعالی کے نزدیک تمام اعمال صالحہ سے بہتر و پاکیزہ عمل ہے ۔ جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے جسے امام مالک نے اپنے مؤطا میں ، امام احمد نے اپنی مسند مین اور امام ترمذی و ابن ماجہ نے اپنی اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ وہ بیان کرتے ہین کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; کیا میں تمھیں تمھارے اعمال میں سے تمھارے رب کے نزدیک بہترین عمل اور پاکیزہ ترین کام کی خبر نہ دوں جو کہ تمھارے درجات میں سب سے زیادہ بلندی پیدا کرنے والا اور تمھارے سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر اور اس سے بھی اچھا ہے کہ تم میدان جہاد میں اپنے دشمن سے ملو ، وہ تمھاری گردیں مارے اور تم ان کی گردیں مارو ؟ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! ضرور خبر دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ، &#8221;  وہ عمل ہے ذکر الہی &#8220;۔</p>
<p>( مؤطا ۔٤٩٠ ، عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ و عن غیرہ عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ۔ ، مسند احمد ٥ / ١٩٥ ، ترمذی۔٣٣٧٧ ، ابن ماجہ ، ٣٧٩٠ ، مستدرک حاکم  ١ / ٤٩٦ ، امام ہیثمی نے مجمع الزوائد ١٠ / ٧٣ میں اور علامہ البانی نے الکلم الطیب ابن تیمیہ کی تحقیق : میں اسے احسن قرار دیا ہے ۔</p>
<p>ذکر کرنے والے کو اللہ تعالی کا یاد کرنا :<br />
اللہ تعالی کے ذکر کا یہ شرف و مقام کیا کم ہے کہ اسے اللہ تعالی نے اس بندے کو اپنے یاد کرنے کا سبب بنا دیا ہے جو کہ اسے یاد کرتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے ظن و خیال کے مطابق ہی ھوتا ھوں اور وہ جب بھی مجھے یاد کرتا  ہے تو میں اس کے ساتھ ھوتا ھوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ھوں اور اگر وہ مجھے لوگوں کے مابین یاد کرتا ہے تو میں اسے ان لوگوں ( فرشتوں ) میں یاد کرتا ھوں جو کہ ان لوگوں سے بہت بہتر ھوتے ہیں&#8221;(بخاری:٧٤٠٥، مسلم ٢٦٧٥)</p>
<p>دیگر فوائد ذکر الہی :<br />
اگر ذکر الہی کا دوسرا کوئی بھی فائدہ نہ ھوتا تو یہی  بہت تھا جو کہ بہت ہی فضیلت و شرف کا باعث ہے جبکہ یہی نہیں بلکہ ذکر الہی کے فوائد و فضائل میں سے ہی یہ بھی ہے کہ یہ شیطان کو بھگاتا اور اس کا قلع قمع کرتا ہے ، غم و حزن کو زائل کرتا اور سرور و مسرت پیدا کرتا ہے ، دل کو تقویت و ثبات دیتا ہے ، قلب و چہرے کو منور کرتا ہے ، رزق لانے کا سبب بنتا ہے اور ذاکر کی ہیبت و حلاوت اور ترو تازگی کا باعث بنتا ہے ۔ یہ ذکر الہی معرفت الہی پیدا کرتا ہے اور بندے کے دل میں اللہ کے ہر وقت دیکھنے اور نگرانی کرنے والا ھونے کا احساس بیدار کرتا ہے حتی کہ ذکر الہی کرنے والا شخص احسان کے دروازے میں داخل ھو جاتا ہے اور وہ اللہ کی عبادت اس انداز سے کرنے لگتا ہے کہ وہ گویا اسے دیکھ رہا ھوتا ہے ۔</p>
<p>ذکر الہی : باعث رجوع الی اللہ :<br />
یہ ذکر الہی بندے میں اللہ کی طرف رجوع  و جھکاؤ پیدا کرتا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف پلٹ جاتا ہے ۔ بندہ جب زبانی ذکر کی بکثرت کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے تو نتیجۃً یہ زبانی رجوع الی اللہ اس کے دل کو بھی ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ کر دیتا ہے حتی کہ اللہ تعالی ہی اس کا ملجا و ماوی ، اس کی جاۓ پناہ و ٹھکانا بن جاتا ہے ، اس کے دل کا قبلہ بن جاتا ہے اور ناگہانی آفت اور مشکل و مصیبت میں وہ صرف اسی کی طرف دوڑنے لگتا ہے ۔ یہ ذکر الہی اس کے دل میں اللہ کی ہیبت ڈال دیتا ہے اس کا جلال پیدا کر دیتا ہے کیونکہ یہ ذکر اس کے دل و دماغ اور ریشے ریشے میں سرایت کر جاتا ہے اس کے برعکس غافل شخص کا یہ حال ھوتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ کی ہیبت کی راہ میں ایک باریک پردہ ھوتا ہے ۔</p>
<p>ذکر الہی : حیات بخش :<br />
یہ ذکر بندے کے دل کو زندگی بخشتا ہے کیونکہ ذکر الہی دلوں کی غذاء ہے اور یہ روح کے لۓ بھی  باعث تقویت و غذاء ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ عليہ لکھتے ہیں :<br />
&#8221; میں نے اپنے استاذ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ عليہ کو یہ کہتے ھوۓ سنا کہ ذکر دل کے لۓ وہی حیثیت رکھتا ہے جو کہ مچھلی کے  لۓ  پانی کا مقام ھوتا ہے اگر مچھلی کو پانی سے نکال کر باھر ڈال دیا جاۓ تو اس کی حالت کتنی بیتابی والی ھوتی ہے ؟ &#8220;۔ ( الوابل الصیب : ص ٦٣ ) ۔</p>
<p>ذکر الہی : دلوں کا زنگ دور :<br />
ذکر الہی دل سے زنگ کو دور کرتا اور اسے جلا دیتا ہے ۔ ہر چیز کو زنگ لگ جاتا ہے اور دلوں کا زنگ غفلت شعاری اور گناہ ہیں اور دل کو جلا دینے اور اسے صیقل کرنے والی چيزیں ذکر الہی اور  توبہ و استغفار ہیں ، یہ ذکر الہی گناھوں کو مٹاتا ہے اور برائیوں ، خطاؤں کو بہا لے جاتا ہے کیونکہ یہ خود ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :<br />
&#8221; بیشک نیکیاں برائیوں کو بہا لے جاتی ہیں &#8220;۔ ( ھود ۔١١٤ ) ۔</p>
<p>ذکر الہی باعث نجات :<br />
یہ ذکر الہی اللہ کے عذاب سے نجات کا سبب ہے ، اسی طرح یہ اللہ کی طرف سے سکینت و طمانیت کے نزول کا بھی باعث ہے اور اسی سے رحمت الہی سایہ فگن ھوتی ہے اور ذکر کرنے والے کو اللہ کے فرشتے اپنے جلو میں  لے لیتے ہیں ۔ جیساکہ رسول ھدایت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی خبر صحیح مسلم کی ایک حدیث میں دی ہے ۔ ( مسلم ۔٢٦٩٩ ) ۔</p>
<p>دیگر ثمرات ذکر الہی :<br />
یہ ذکر الہی دل کو غیبت و چغلی ، فخش گوئی اور باطل کلامی سے ہٹانے ( اور زبان کو ان گناھوں سے بچانے ) کا سبب بھی ہے اور یہ بندے کو قیامت کے دن کی حسرت سے محفوظ کر دیتا ہے ۔ جیسا کہ مسند احمد و ابوداود کی صحیح سند والی ایک حدیث میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے  ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :<br />
&#8221; کوئی قوم جب کسی ایسی مجلس سے اٹھے جس میں انھوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ھو تو وہ ایسے ہی ھونگے<br />
 جیسے کہ کسی گندھے مردار سے اٹھ کر گۓ ھوں اور یہ ( بے ذکر مجلس ان کے لۓ قیامت کے دن ) باعث حسرت بن جاۓ گی &#8220;۔<br />
( ابوداود ۔٤٨٥٥ ، مسند احمد ۔٢ / ٣٨٩ ، ٥١٥ ، ٥٢٧ ، بہیقی ٦ / ١٠٨ ،مستدرک حاکم ۔١٨٠٨ ، امام نووی نے اسے الاذکار میں صحیح قرار دیا ہے ۔ نیز دیکھۓ صحیح ابوداود للالبانی ، اور معجم طبرانی وغیرہ کے بعض طرق میں باقاعدہ جید اسناد سے ثابت ہے کہ یہ مجلس &#8221; قیامت کے دن &#8221; ان کے  لۓ حسرت کا باعث ثابت ھو گی ۔</p>
<p>ذکر الہی اور اشک باری : کیا کہنے ؟<br />
اگر ذکر الہی بھی ھو اور ساتھ ہی ذکر کرنے والا خلوت میں آہ و بکاہ اور خشیت الہی سے اشکباری بھی کر رہا ھوں تو یہ چیز قیامت کے دن بندے کو عرش الہی کے ساۓ میں جگہ دلوانے کا باعث بھی ہے جبکہ باقی تمام لوگ سورج کی سخت گرمی میں ھونگے ( اور عرش الہی کے سوا کوئی سایہ نہ ھو گا ) جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; اللہ تعالی ( قیامت کے دن ) سات قسم کے لوگوں کو اپنے ( عرش کے ) ساۓ میں جگہ دے گا جس کے سوا اس دن دوسرا کوئی سایہ نہیں ھو گا &#8221;  اور آگے طویل حدیث ہے جس میں ہی اس ایک آدمی کا ذکر ہے &#8221; ۔ ۔ ۔ اور وہ آدمی جس نے تنہائی و خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں برس پڑیں &#8220;۔ ( بخاری ۔٦٤٧٩  ، مسلم ۔١٠٣١ ) ۔<br />
 اسی طرح ذکر الہی کے دوسرے بھی کتنے ہی فضائل و فوائد ہیں جنھیں بعض اہل علم ( جیسے علامہ ابن قیم ) نے ذکر کیا ہے اور ان فوائد و فضائل میں سے ایک سو سے زائد کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔</p>
<p>ذکر الہی : ایام تشریق میں :<br />
مسلمانو ! آپ لوگ ان ایام سے گزر رہے ہیں جن میں اللہ تعالی نے آپ کو ذکر الہی کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ چند گنتی کے اور مبارک دن ، یہی ایام تشریق ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذوالحج ) کے دن ہیں جن کا آپ آج سے استقبال کرنے جا رہے ہیں کیونکہ ایام تشریق کا پہلا دن ( ١١ ۔ ذوالحج ) ہے ۔ ان ایام کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; منی میں گزارے جانے والے دن ( ایام تشریق ) کھانے پینے اور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے دن ہیں &#8220;۔<br />
( صحیح مسلم ۔١١٤١ )  ۔ عن نبیشر الھذلي ) ۔</p>
<p>علامہ ابن رجب لکھتے ہیں :<br />
&#8221; نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس بیان و ارشاد میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ان ایام عید ( الاضحی ) میں کھانے اور پینے کی طرف اس لۓ توجہ دلائی گئی ہے کہ اس سے ذکر الہی کرنے کے لۓ تقویت اور اطاعت و عبادت کی ھمت بڑھے گی ۔ اور یہ بھی اللہ کی نعمتوں کے شکر کی ایک مکمل شکل ہے کہ ان سے اللہ کی عبادت و اطاعت میں مدد حاصل کی جاۓ ۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب مقدس میں پاکیزہ چیزوں سے کھانے اور اس کا شکر ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے :</p>
<p>جس نے اللہ کی نعمتوں کو استعمال کر کے اللہ کی نافرمانی پر مدد حاصل کی اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری اور کفران نعمت کیا اور وہ شخص اگر اس لائق ہے کہ اس سے انھیں چھیں لیا جاۓ خصوصاً چوپایوں کے گوشت کی نعمت سے کھانا جیسا کہ ایام تشریق میں ھوتا ہے یہ چوپاۓ اللہ کے اطاعت گزار ھوتے ہیں ، اس کی نافرمانی ہرگز نہیں کرتے ۔ وہ اسکی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں اور اس کے تابعدار رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :<br />
&#8221; کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ھو لیکن تم اس کی تسبیح ( حمد و ثناء بیان کرنے ) کو نہیں سمجھتے &#8220;۔ ( بنی اسرائیل ۔٤٤ ) ۔</p>
<p>یہ تمام اشیاء اللہ کو سجدہ کرتی ہں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :<br />
&#8221; آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ھوتے ہیں &#8220;۔ ( النحل ۔٤٩ ) ۔</p>
<p>گوشت کھائيں اور ذکر الہی بجا لائيں :<br />
اللہ تعالی نے ان جانوروں اور چوپایوں کو ذبح کرنا مباح قرار دیا ہے تاکہ ان کا گوشت کھا کر لوگوں کے جسموں کو قوت ملے اور وہ لذتوں کی تکمیل کریں اور یہ ان کے لۓ علوم نافعہ کے حصول اور اعمال صالحہ کی سرانجام دہی میں مددگار بنے گا ، اس سے بنی آدم کا فرشتوں پر امتیاز بھی قائم ھو جاتا ہے ۔ اور اس لۓ بھی جانوروں کا ذبح کر کے ان کا گوشت کھانا مباح قرار دیا تاکہ وہ ان کے لۓ ذکر الہی میں معاون بن جاۓ اور انسانوں کا ذکر الہی کرنا جانوروں کے ذکر و تسبیح سے بڑا عمل ہے ۔ ان تمام امور کے پیش نظر یہ کسی مؤمن کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کے عوض میں ناشکری کرے بلکہ اسے چاہے کہ ان پر اللہ کا شکر گزار ھو اور ان سے اللہ کی اطاعت و عبادت اور ذکر الہی میں تعاون حاصل کرے اور اللہ نے بنی آدم کو اپنی بکثرت مخلوقات پر شرف و برتری دے رکھی ہے اور یہ تمام جانور اس کے لۓ مسخر و مطیع کر رکھے ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; تم ان جانور کے گوشت سے ( خود بھی ) کھاؤ اور اسے بھی کھلاؤ جو قناعت کۓ ( سوال کرنے سے رکا ) بیٹھا ہے اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ ۔ اسی طرح ھم نے چوپایوں کو تمھارے ماتحت کر دیا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو &#8220;۔ ( الحج۔٣٦ ) ۔</p>
<p>جو شخص اللہ کی ان مطیع فرمان مخلوقات اور اس کا ذکر و تسبیح کرنے والے جانوروں کو قتل و ذبح کرے پھر ان کا گوشت کھا کر ( طاقت حاصل کر کے ) اللہ کی نافرمانی پر اتر آۓ اور اللہ کا ذکر بھول جاۓ تو اس نے گویا کہ معاملے کو پلٹ کر ہی رکھ دیا اور نعمت کا شکر نہیں بلکہ کفران نعمت کیا &#8220;۔  ( کتاب &#8221; لطائف المعارف &#8221; امام ابن رجب ) ۔</p>
<p>شکر گزاری کے مختلف انداز :<br />
خبردار ھو جائيں ! نعمتوں کا اقرار کرنا ، اس کے انعامات کی گواہی دینا ، اس کے فضائل و اکرام کا معترف ھونا ، اور اس کے محامد و ثناء کا بیان کرنا ، یہ سب امور ایسے ہیں کہ ان سے شکر گزاری ھوتی ہے ۔ ان کے ذریعے اسکی حمد و ثناء بلند ھوتی ہے اور ان کے ساتھ ہی تمام جہانوں کے پالنے والے اللہ تعالی کی ہر قسم کی تعریفیں بیان ھوتی ہیں ۔ بیشک اللہ ہی ان تمام نعمتوں کو نازل کرنے ، ان عطاؤں سے نوازنے اور اس خیر و بھلائی کے فیضان کو عام کرنے والا ہے ۔ اس لۓ لوگوں کے ان نیک اعمال کو بجا لانے پر جن سے لوگوں کو بھی نفع پہنچتا ہے اور ان کے بڑے دور رس اثرات دوسروں پر مرتب ھوتے ہیں ۔ ان کے ایسے اعمال و خدمات پر ان کا شکریہ ادا نہ کرنا درحقیقت اللہ کا شکر ادا نہ کرنے والی بات شمار کیا گیا ہے ۔</p>
<p> جیسا کہ مسند احمد ، سنن ابوداود ، اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :<br />
&#8221; جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہ کیا &#8220;۔<br />
 ( مسند احمد۔٢ / ٢٩٥ ، ابوداود ۔٤١١١ ، ابن حبان ۔٣٤٠٧ ، ترمذی ۔١٩٥٤ ، و صحیح الترمذی للالبانی ؛ ١٥٩٢ ، الادب المفرد امام بخاری ۔٢١٨ )</p>
<p>سعودی حکومت کو خراج تحسین :<br />
اللہ تعالی نے اس مبارک مملکت سعودی عرب پر جو انعامات کۓ ہیں ان میں سے ہی ایک یہ بھی ہے کہ اس نے اس کے حکام و کارپردازوں کو حرمین شریفین ( حرم اللہ و حرم نبوی ) کی ہر ممکن طریقے سے خدمت کرنے کی توفیق سے نوازا ہے ، اسی طرح وہ حجاج بیت اللہ کی بھی عمدہ طریقے سے میزبانی و خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں اور حکومت کی ان تمام خدمات سے کسی کو مجال انکار ممکن ہی نہیں ہے ۔ اے اللہ تیرے اس فضل و کرم پر تیری ہی ہر طرح کی تعریف ہے اور تو اپنی طرف سے ان سب کو وافر خیر عطا فرما اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ انہیں ان خدمات پر اجر عظیم سے نواز  تو ہی وہ ذات ہے جو سب سے زیادہ صاحب و جود و کرم والی ہے کہ جس سے سوال کیا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>اللہ تعالی کا ارشاد ہے :<br />
&#8221; اللہ کا ان گنتی کے دنوں میں خوب ذکر کرو اور جس نے صرف دو ہی ( ١١ ، ١٢ ذوالحج منی میں گزارنے ) پر جلدی کی ( اور منی سے نکل گیا ) اسے کوئی گناہ نہیں ہے اور جو کوئی ( ١٣ ، ذوالحج کی رمی تک ) تاخیر کرے اسے بھی کوئی گناہ نہیں جو کہ تقوی اختیار کرے اور اللہ کا تقوی اختیار کرو اور یہ بات ذھن نشین کر لو کہ تم اسی کی طرف اکٹھے کۓ جاؤ گے &#8220;۔ ( البقرہ ۔٢٠٣) ۔</p>
<p>انواع و اقسام ذکر الہی :<br />
اللہ والو ! وہ ذکر الہی جس کا ھمیں اس ارشاد الہی میں حکم دیا گیا ہے جس میں ارشاد باری تعالی ہے :<br />
&#8221; اللہ کا ذکر کرو گنتی کے ( ان ) دنوں میں &#8221; ( البقرہ ۔٢٠٣) ۔</p>
<p>اس ذکر کی کئی اقسام و انواع ہیں :<br />
١ ۔ ان میں سے ہی ایک یہ ہے کہ فرض نمازوں کے بعد اس کا ذکر کیا جاۓ اور یہ ان کے بعد تکبیرات عید کہنے سے ھو گا اور یہ تکبیرات جمہور اہل علم کے نزدیک ایام تشریق کے آخر ( ١٣ ، ذوالحج کی عصر ) تک مشروع ہیں ۔</p>
<p>٢ ۔  دوسرا ذکر الہی یہ ہے کہ حجاج کی قربانیاں یا عام مسلمانوں کی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر کہا جاۓ ۔ اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم و تابعین اور بعد والے جمہور اہل علم کے نزدیک تو قربانی کے جانوروں کا ذبح کرنا ایام تشریق میں سے صرف پہلے دو دنوں کے ساتھ ہی خاص ہے ۔ امام ابوحنیفہ ، مالک اور مشہور روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل کا یہی مسلک ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک قربانی کا وقت ایام تشریق کے آخر ( ١٣ ذوالحج ) تک ہے ۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ عليہ اور ان کے شاگرد رشید اور علامہ ابن قیم نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے کیونکہ اسی قول کے دلائل ( قوی و بکثرت ) کتب حدیث کے ابواب متعلقہ میں مذکور و مبسوط ہے ۔</p>
<p>٣ ۔ ( ایام تشریق میں ) بکثرت ذکر کرنے میں سے ہی یہ بھی ہے کہ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھی جاۓ کیونکہ سنت یہ ہے کہ کھانا کھانے اور پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھی جاۓ اور آخر میں اللہ کی حمد و ثناء بیان کی جاۓ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :<br />
&#8221; اللہ تعالی اس بندے پر بڑا راضی ھوتا ہے جو ہر کھانے پر اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے اور ہر مرتبہ کوئی مشروب پینے پر بھی اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے &#8220;۔ ( صحیح مسلم ۔٢٧٣٤ ) ۔<br />
اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے بارے میں مروی ہے کہ جو ابھی نو عمر لڑکے  تھے اور ان کا ہاتھ کھانے کے برتن میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے مخاطب ھو کر فرمایا :<br />
&#8221; اے لڑکے ! اللہ کا نام لو ( بسم اللہ پڑھو ) ، دائیں سے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ &#8220;۔<br />
( بخاری ۔٥٣٧٦ ، مسلم ۔٢٠٢٢) ۔</p>
<p>٤ ۔ ذکر الہی کی انواع و اقسام میں سے  ایک یہ بھی ہے کہ ایام تشریق میں رمئ جمرات کے وقت کنکری مارتے وقت تکبیر کہی جاۓ اور یہ ذکر کی قسم ہے جو صرف حجاج کرام کے ساتھ ہی خاص ہے ۔</p>
<p>٥ ۔ ذکر الہی کی پانچویں قسم مطلق ذکر ہے جو کہ ایام تشریق میں بکثرت کرنا مستحب ہے :</p>
<p>حضرت عمر  رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمے میں بکثرت تکبیریں پڑھا کرتے اور لوگ بھی انہیں دیکھ کر تکبیریں کہنے لگتے حتی کہ پورا منی اللہ کی تکبیرات و بڑائیوں سے گھونج اٹھا کرتا تھا &#8221;  ۔<br />
 ( صحیح بخاری تعلیقا بالجزم فی کتاب العیدین ، باب التکبیر ایام منی ۔ و وصلہ للعیدین منصور و ابوعبید و البیہقی کما فی الفتح للحافظ ) ۔</p>
<p>بکثرت ذکر اور جامع ترین دعاء :<br />
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :<br />
&#8221; جب تم اپنے مناسک و اعمال حج پورے کر چکو تو اللہ کا اتنا ذکر کرو جتنا کہ تم اپنے آباء و اجداد کا کیا کرتے ھو یا اس سے بھی زیادہ ذکر الہی کیا کرو لوگوں میں وہ بھی ہیں جو یہ کہتا ہے کہ اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں خیر و بھلائی دے دے  ۔ اس کے لۓ آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور لوگوں میں سے ہی وہ بھی ہے جو کہتا ہے :<br />
اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھی بھلائی  عطاء کر اور آخرت میں بھی بھلائي عطا کرنا ، اور ھمیں عذاب جہنم سے نجات دے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لۓ ان کے اعمال کا حصہ ہے اور اللہ تعالی جلد حساب لینے والا ہے &#8220;۔ ( البقرہ ۔٢٠٠ ، ٢٠٢ ) ۔<br />
یہی وجہ ہے کہ سلف اہل علم کی اکثریت نے اس بات کو مستحب قرار دیا ہے کہ ایام تشریق میں یہ دعاء بکثرت اور خوب گڑ گڑا کر مانگنی چاہیۓ ۔</p>
<p>علام ابن رجب کہتے ہیں :<br />
&#8221; یہ دعاء دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کی جامع اور تمام دعاؤں سے جامع ترین دعاء ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اور آپ جب بھی دعاء کرتے تو اس میں اس دعاء کو ضرور شامل فرما لیا کرتے تھے ۔ یہ دعاء دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کی جامع ہے ۔</p>
<p>ذکر الہی : ناقابل اختتام عبادت :<br />
مناسک و اعمال حج کے اختتام بکثرت ذکر کرنے کا حکم دینے میں بھی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہر عمل اور تمام عبادت مکمل ھو جاتی ہیں اور عبادتگزار ان سے فارغ ھو جاتا ہے  لیکن ذکر الہی ایسا عمل ہے کہ جو کبھی ختم نہیں ھوتا اور نہ ہی اس سے فارغ ھوا جا سکتا ہے بلکہ یہ اہل ایمان کے لۓ دنیا و آخرت میں مسلسل جاری رہنے والا ہے &#8220;۔ ( لطائف المعارف امام ابن رجب ) ۔<br />
اللہ کے بندو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اپنے مناسک و اعمال حج کو بہتر طریقے ( بکثرت ذکر الہی ) سے اختتام پذیر کرو ۔<br />
وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین<br />
سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2006/12/26/%d8%a7%db%8c%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%94-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فرضیت و فضیلت حج و عمرہ در و دریوار مکہ مکرمہ و بطحا اور مشاعر مقدسہ</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2006/12/07/%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c%d8%aa-%d9%88-%d9%81%d8%b6%db%8c%d9%84%d8%aa-%d8%ad%d8%ac-%d9%88-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%af%d8%b1-%d9%88-%d8%af%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%da/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2006/12/07/%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c%d8%aa-%d9%88-%d9%81%d8%b6%db%8c%d9%84%d8%aa-%d8%ad%d8%ac-%d9%88-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%af%d8%b1-%d9%88-%d8%af%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%da/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 07 Dec 2006 10:35:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[Tag]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2006/12/07/%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c%d8%aa-%d9%88-%d9%81%d8%b6%db%8c%d9%84%d8%aa-%d8%ad%d8%ac-%d9%88-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%af%d8%b1-%d9%88-%d8%af%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%da/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ / صالح بن محمد آل طالب حفظہ اللہ حمد و ثنا کے بعد اخلاص عمل اور فضلیت ایام : مسلمانو ! اپنے اوقات کی خوب حفاظت کرو یہ انتہائی انمول چيز ہے اور حلال و پاکیزہ غذاء کھاؤ اور صرف حلال طریقے سے ہی کماؤ اور اپنے اعمال کو میزان شریعت پر تول [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  / صالح بن محمد آل طالب  حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثنا کے بعد</p>
<p>اخلاص عمل اور فضلیت ایام :</p>
<p>مسلمانو ! اپنے اوقات کی خوب حفاظت کرو یہ انتہائی انمول چيز ہے اور حلال و پاکیزہ غذاء کھاؤ اور صرف حلال طریقے سے ہی کماؤ اور اپنے اعمال کو میزان شریعت پر تول کر سرانجام دیا کرو اور اپنے مقاصد اور نیتوں کو صحیح کر لو اور خوب اخلاص للہ سے کام لیا کرو اور اپنے ظاھر و پوشیدہ ہر عمل میں اس ذات باری تعالی کو نگران و دیکھنے والا مانو جو کہ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کو بھی جانتا ہے اور اسے اپنے ہر فعل کا نگران ماننا بہت ہی عمدہ و جلیل القدر بات ہے اور موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اپنے موجودہ ایام ( شب و روز ) کو غنمیت سمجھو کیونکہ اللہ تعالی نے ان ایام کو بڑا شرف و مقام اور درجۂ فضلیت عطا کیا ہے ۔</p>
<p>مکہ مکرمہ کا استقبال حجاج :</p>
<p>مسلمانو ! ان مبارک دنوں میں مکہ مکرمہ حجاج کرام کے وفود کا استقبال کر رہا ہے اور مسجد حرام انہیں ( اللہ کے مہانوں کو ) اپنی گود میں لینے کے لۓ خوشی سے اپنے بازو پھیلاۓ ھوۓ ہے ۔ حجاج کرام اس طرح شان و شوکت سے چلے آ رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالی کی خاص عنایت و کرم ہے اور وہ دنیا کے کونے کونے سے کچھے چلے آ رہے ہیں ۔ وہ اپنے رب تعالی کی نداء پر لبیک کہتے ھوۓ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراھیم علیہ السلام کے اعلان پر سرتسلیم خم کۓ پہنچ رہے ہیں ۔  اللہ تعالی نے انھیں حکم دیتے ھوۓ فرمایا تھا :<br />
<span id="more-349"></span><br />
&#8221; اور ( اے ابراھیم ! ) لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں وہ آپ کے پاس ( اس شہر مکہ میں ) پاپیادہ اور پتلے دبلے انٹوں پر ( سوار ھو کر ) دور دراز راستوں سے چلے آئیں گے تاکہ اپنے ( دینی و دنیوی ) فائدے کے کاموں میں حاضر ھوں &#8220;۔</p>
<p>مقدس ترین مقام :</p>
<p>حجاج کرام سواریوں کو کھینچتے چلے آ رہے ہیں اور شوق و ذوق اور ولولہ و جوش انہیں بازی لیجانے پر لگاۓ ھوۓ ہے ۔ امید ان کی حدی خواں ہے ، فرحت و مسرت ان کے رؤیں رؤیں سے پھوٹ رہی ہے اور وہ اللہ تعالی کے عظیم گھر بیت اللہ و کعبہ شریف کی طرف رواں دواں ہیں ۔ وہ اپنے گناھوں کے کفارے کا لالچ دل میں سموۓ ھوۓ ہیں اور جنتوں کے حصول کا  سامان کرنا چاہتے  ہین وہ اپنے دین اسلام کے پانچ ارکان میں سے پانچویں اھم رکن ۔ &#8221; حج &#8221; کی ادائیگی کے لۓ روۓ زمین کے سب سے مقدس ترین مقام سر زمین مکہ مکرمہ میں حاضر ھو رہے ہیں ۔ یہ ایک تاریخ ہے ، کچھ یادیں ، ایک سیرت ہے اور ایک راہ عمل ہے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; پہلا گھر جو لوگوں ( کے عبادت کرنے ) کے لۓ مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو کہ مکہ میں ہے ، وہ بابرکت اور تمام جہانوں  کے   لۓ موجب ھدایت ہے ، اس میں کھلی ھوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ( حضرت ) ابراھیم کے کھڑا ھونے کی جگہ ہے جو شخص اس ( مبارک گھر ) میں داخل ھو گیا اس نے امن و امان پا لیا &#8220;۔ ( آل عمران ۔٩٦ ، ٩٧ ) ۔</p>
<p>مرکز ملت : مکہ مکرمہ :</p>
<p>اسی خانۂ کعبہ کا حج تمام انبیاء کرام نے کیا اسی کی طرف رخ انور کر کے امام الحنفاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھی ۔ مکہ مکرہ سے ہی نور ھدایت پھوٹا ، یہیں سے پیغام توحید نشر ھوا اور پوری روۓ زمین میں پھیل گیا اور اس نے ساری دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور اس نے تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ عدل و انصاف پسند اور سب سے عمدہ تھذیب و تمدن سے بنی نوع انسان کو متعارف کروایا ۔ یہ مکہ مکرمہ ساری دنیا کا مرکزی نقطہ اور مرکز ملت ہے ، یہ مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی رمز اور ساری دنیا کے لۓ منبع نور و سرچشمۂ ھدایت ہے ، یہ اللہ کے نزدیک ساری روۓ زمین کا مقدس و افضل ترین خطہ ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک تمام ملکوں اور شہروں سے بڑھ پیارا شہر ہے مکہ مکرمہ ام القری اور تمام شہروں کا سردار ہے ۔ اس کائنات کے افضل ترین شخص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت با سعادت اسی شہر مقدس میں ھوئی اسی کی سر زمین میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پلے بڑھے اور پرورش پائی ۔ اسی کے گوشے گوشے میں آپ چلتے پھرتے رہے :</p>
<p>&#8221; کہ کہے دیتی ہے شوخئی نقش پا کی &#8221;</p>
<p>نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی زندگی اسی مکہ مکرمہ میں ہی گزاری تھی ۔ اس شرف سے بڑا شرف دوسرا کون سا ھو سکتا ہے ؟</p>
<p>یہی وہ علاقہ ہے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لیکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ھوا کرتے تھے اور یہیں کوہ صفا پر چڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  نے دعوت توحید کا نعرہ بلند کیا تھا ( جسے پہاڑی کا وعظ کہا جاتا ہے ) اگر کعبہ شریف کو یاراۓ نطق ھو ، اگر زمزم کو بولنے کی سکت ھو اور اگر مقام ابراھیم کو قدرت کلام ھو تو یہ سب بول بول کر بتائیں کہ یہاں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جلوہ افروز تھے اور یہاں حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما جلوہ نما رہے اور یہیں دوسرے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم رونق حرم تھے جنھوں نے پوری دنیا کو نور توحید سے روشن اور نجاست شرک سے پاک کر دیا تھا ، اور انہی کے ہاتھوں معرکۂ توحید و شرک (معرکۂ حق و باطل ) بپا ھوا اور اللہ نے انھیں فتح مندیوں سے نواز کر دین اسلام کو دوسرے تمام ادیان پر غلبہ عطا کیا ۔<br />
 اس کعبہ کے سامنے یہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ھوۓ اور آپ نے دین کے عظیم مبادیات و اصول لوگوں کو سکھلاۓ اور بنی نوع انسان کے لۓ بلند ترین طرز زندگی طے فرمایا جس کے مقابلے میں آج تک دنیا کی تمام تھذیبیں ایسے اصول پیش کرنے ے قاصر ہیں ۔</p>
<p>حجاج کرام کو مبارک ھو :</p>
<p>اے حجاج بیت اللہ الحرام ! آپ کا اس عظیم خانہ کعبہ بیت اللہ شریف تک پہنچنا آپ کو مبارک ھو  ان شعائر کی ادائيگی اور ان مشاعر مقدسہ تک رسائی مبارک ھو ، یہ شرف زمان و مکان مبارک ھو اور آپ جو عظیم اعمال سر انجام دے رہے ہیں اور دیں گے وہ بھی مبارک ھوں ۔ اپنے اس رب جلیل کا شکر اور اس کی حمد و ثناء بیان کریں جس نے آپ کو ان عظیم نعمتوں سے مالا مال کیا ہے اور اس نے شکر کرنے والوں کے لۓ نعمتوں میں افاضے کا وعدہ فرما رکھا ہے ، آپ تشریف لاۓ ، بسم اللہ اور ان مقامات پر قدم رنجہ فرمایا ، خوش آمدید ، آپ اللہ کے مہمان اور وفد الہی کے افراد ہیں جن کی ضیافت و میزبانی اور عزت و احترام واجب ہے ، اللہ تعالی آپ کے لۓ حج و عمرہ کو آسان فرماۓ اور آپ کو ہر قسم کی پریشانی و مصیبت سے محفوظ رکھے اور آپ کے حج کو مبرور و مقبول بناۓ ۔ آپ کی سعئ صفا و مروہ کو شرف قبول سے نوازے ، اللہ تعالی ھمارے اور آپ کے اعمال صالحہ کو قبول فرماۓ ۔</p>
<p>گناھوں کا کفارہ اور جنت کی ضمانت :</p>
<p>مسلمانو ! ان مقامات مقدسہ و طاہرہ کی زیارت کے ارادے سے یہاں آنا گناھوں کو مٹا دیتا ہے ، برائیوں کو دھو ڈالتا ہے اور خطاؤں کو اڑا لے جاتا ہے بلکہ حج مبرور و مقبول کی تو جزاء ہی جنت ہے ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی اس کا شاھد ہے :<br />
[ و الحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ ]  (بخاری و مسلم  ، نسائی ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، مسنداحمد ) ۔</p>
<p>شوق زیارت</p>
<p>نفوس  و دل مکہ مکرمہ کی وادی بطحا کی زیارت کا کتنا شوق لۓ ھوۓ ہیں ؟ اور ان پاک وادیوں اور مقامات  کے لۓ دل مچل رہے ہیں اور کتنے لوگ شدت جذبات محبت و شوق سے مغلوب ھو کر زار و قطار رو رہے ہیں اور کتنے ہی لوگ ایسے بھی ہیں جو دلوں میں میں یہ تمنا لۓ بیھٹے ہیں کہ وہ وادئ محسر بھی دیکھیں ( جہاں کعبہ کے حملہ آور ہاتھیوں ) والوں کو اللہ نے پرندوں سے تہس نہس کروایا تھا ۔ دیکھیۓ سورت الفیل۔<br />
وہ منی میں راتیں گزارنے کی تمنا اور عرفات میں گھڑی بھر وقوف کا جذبہ دلوں میں سجاۓ ھوۓ ہیں  وہ وادئ مزدلفہ میں رات کاٹنا چاہتے ہیں ، جمرات پر رمی کرنا ( کنکریاں مارنا ) ان کی حسرت ہے ۔ وہ بیت اللہ کا طواف کرنے اور اسی دوران آنسو بہانے کا ارمان لۓ ھوۓ ہیں ۔ وہ ان تمام مقامات کی زیارت کی تمنا لۓ ھوۓ ہیں جہاں آنسو بہاۓ جاتے ہں ۔ جہاں اللہ کی رحمتیں نازل ھوتی ہیں جہاں گناھوں کی بخشش اور دعاؤں کی قبولیت کا شرف حاصل ھوتا ہے ۔ اللہ ان خیر و برکت سے معمور سنگلاخ وادیوں کو ھمیشہ تر و تازہ اور پر رونق رکھے ۔ کسی شاعر نے کہا ہے :</p>
<p>&#8221; یہ مسجد خیف ہے اور یہ وادئ منی ہے ، اے حدی خوان ذرا ھمارے لے سواریوں کو آہستہ چلاؤ بلکہ گھڑی بھر کے لۓ کارواں کو یہیں رکنے دو تاکہ ھم یہاں اپنے رب کے سامنے آہ و بکا کر لیں اور اس روز و اسی موقع کے لۓ تو ھم رونے اور آنسوؤں کو تیار کر رکھا ہے ۔ حدی خوان اگر تھوڑی دیر کے لۓ یہاں نرم  رفتاری اختیار کر لے اور جب ھم آنسو بہا چکیں تو وہ ناقہ کو تیز کر لے تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔ یہی تو وہ دیار مقدسہ ہیں جنھیں اہل شوق و جنون پورے پیار و محبت کے ساتھ پہچانتے ہیں &#8220;۔</p>
<p>بر و بحر و فضاء میں تلبیہ کے ترانے :</p>
<p>حجاج کرام کے قافلے دور دراز ہر طرف سے بڑھے چلے آ رہے ہیں ۔ تلبیہ ( لبیک اللھم لبیک ) کی آوازیں کتنی دلنواز ہیں ۔ جن سے فضاؤں میں ھوائی جہاز بھی معمور ہیں ، سمندری میں کشتیاں اور سفینے انہی آوازوں سے باغ و بہار ہیں اور بیت اللہ شریف کی طرف آنے والی بسوں گاڑیوں میں بھی اسی نغمۂ توحید کا عجب سماں بندھا ھوا ہے اور ہر طرف یہی ایک ہی آواز آ رہی ہے ۔</p>
<p>[ لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لاشریک لک ]</p>
<p>اس تلبیہ کے پکارنے والوں کی توجہ ایک ہی طرف ہے اور ان سب کا ھدف بھی ایک ہی ہے اور وہ سارے کے سارے ہی اللہ کے حکم پر سر تسلیم خم کۓ حاضر ھوۓ ہیں اور اللہ کے اس حرم شریف میں ایک دوسرے سے باھم آ ملے ہیں ۔ یہ ایمان کے قافلے ہیں اور یہ دلوں کو کھینچنے والے مقام کی طرف کا مبارک و مقدس سفر ہے ، یہ اسلام کی رمز اور مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ ہے ۔</p>
<p>فرضیت و وجوب حج :</p>
<p>اللہ والو ! اے حجاج بیت اللہ ! اللہ تعالی کے نزدیک حج کا ثواب ہی بڑا مقام اور عظیم درجہ ہے اور دین اسلام میں اس کی بہت ہی اھمیت ہے اور اللہ تعالی نے اسے واجب و فرض قرار دیتے ھوۓ اپنی کتاب مقدس میں فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور لوگوں پر اللہ کا حق ( فرض ) ہے کہ جو بیت اللہ تک جانے کی استطاعت و مقدور رکھتے ہیں وہ اس کا حج کریں اور جو ( کفر ) اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ بھی تمام جہانوں سے بے نیاز ہے&#8221;۔( آل عمران : ٩٧ ) ۔</p>
<p>فضائل حج : جنت کا پروانہ :</p>
<p>جہاں تک فضائل و برکات حج کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے مابین کۓ   گۓ گناھوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور و مقبول کی جزاء تو جنت ہی ہے &#8220;۔ (بخاری و مسلم وغیرہ کما تقدم )</p>
<p>اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا افضل ترین عمل کونسا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; اللہ تعالی پر ایمان لانا &#8221; ۔ آپ سے پوچھا گیا : اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; اللہ کی راہ میں ( کافروں سے ) جہاد کرنا &#8220;۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا گیا کہ ان کے بعد کون سا<br />
 عمل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; حج مبرور &#8221;</p>
<p>دو جہان کا منافع :</p>
<p>یہ حج دنیا و آخرت کی تجارت مع اللہ اور دونوں جہانوں میں منافع و کمائی کا بہترین موقع ہے ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; حج و عمرہ کرتے رہا کرو ، یہ دونوں مالی فقر و تنگدستی اور گناھوں کو یوں مٹا دیتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی لوہے کے میل کچیل ( زنگ ) کو نکالتی ہے &#8220;۔ ( مسنداحمد ، ترمذی ۔ بسند صحیح ) ۔</p>
<p>نیا جنم :</p>
<p>صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : &#8221; جس نے اس بیت اللہ کا حج کیا اور ( اس دوران ) کوئی شہوانی حرکت اور فسق و گناہ نہ کیا ۔ وہ اس طرح ( گناھوں سے پاک ) ھو کر یوں لوٹا جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ھو &#8221; ۔<br />
[ جسے اس دن تھا  جس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ] یعنی وہ گناھوں اور خطاؤں سے پاک صاف ھو کر لوٹتا ہے ۔</p>
<p>درجات و نیکیوں میں اضافے :</p>
<p>اس کے ساتھ ہی نیکیوں میں اضافے اور درجات میں بلندی ملتی ہے ۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں ھوتے ھوۓ ارشاد فرمایا : &#8221; میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں سے ایک ھزار گناہ زیادہ ہے سواۓ مسجد حرام ( مکہ مکرمہ ) کے اور مسجدحرام میں نماز کا ثواب دوسری مساجد سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے &#8220;۔ ( مسند احمد ، تاریخ امام بخاری بسند صحیح ) ۔ &#8216;</p>
<p>یعنی ایک نماز کا ثواب اتنا ہے جتنا ٥٤ سال نماز  پڑھنے کا ھوتا ہے ۔</p>
<p>مشاعر مقدسہ :</p>
<p>کیا اس کے بعد بھی کیس کا حرم شریف سے عشق و جنون لائق ملامت رہتا ہے ۔ اور خاص ان فضائل و برکات حرم کے علاوہ مکہ مکرمہ کے مضافات میں سے میدان عرفات وہ جگہ ہے جہاں رحمتوں کا نزول ھوتا ہے ۔ ( اور وہین جبل رحمت بھی ہے ) اور مشعرالحرام مزدلفہ بھی اللہ کے قرب حاصل کرنے کی جگہ ہے ۔ یہیں وادئ منی ہے جس کے مختلف راستوں پر چلنا اور اس کی مختلف جگہوں پر وقت گزارنا ھوتا ہے ، بیت اللہ شریف کا طواف کیا جاتا ہے ، صفا و مروہ کے مابین سعی کی جاتی ہے ۔ جمرات ( شیطان کے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو بہکانے کے لۓ سامنے آنے والی جگہوں ) کی رمی کی جاتی ہے اور انہیں کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔ یہ سارے مقامات ہی نزول رحمت اور قبولیت دعاء کے مقامات ہیں ۔</p>
<p>میدان عرفات :</p>
<p>جہاں تک میدان عرفات کا تعلق ہے تو آپ کیا جانیں کہ عرفات کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے :</p>
<p>&#8221; کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالی اپنے اتنے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ھو جتنے یوم عرفہ کے دن کرتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے قریب ( آسمان دنیا پر ) آ جاتا ہے اور فرشتوں میں ان پر فخر کرتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا لینے آۓ ہیں &#8220;۔ ( صحیح مسلم عن عائشہ رضی اللہ عنہا )</p>
<p>یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے طلبگار ہیں ، یہ اپنے گناھوں کی مغفرت و بخشش اور جہنم سے خلاصی و نجات چاہتے ہیں یہ دنیا کے دور دراز علاقوں اور زمین کے کونے کونے سے یہاں آۓ ہیں ۔ یہ اپنے اہل و عیال اور بال بچے چھوڑ کر آۓ ہیں انھوں نے اپنے گھر بار کے در و دیوار اور اپنے ملک و وطن کی فضاؤں کو خیرباد کہا ہے اور ان مقامات مقدسہ اور مشاعر مبارکہ تک پہنچنے کے لۓ انھوں نے حسب استطاعت مال و دولت خرچ کی ہے ۔</p>
<p>عدم ادائیگی حج پر وعید :</p>
<p>عین اسی وقت کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں اللہ تعالی نے اپنی بکثرت نعمتوں اور مال و دولت سے نواز رکھا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اسلام کے اس رکن و فریضہ کی ادائيگی سے سبکدوش نہیں ھوتے ۔ وہ اپنے مال کو سیر و سیاحت ، لہو و لعب اور غفلت میں ضایع کرتے اور اپنے اوقات کو لایعنی امور میں برباد کرتے پھرتے ہیں ، اور ساری عمر میں انھوں نے ایک مرتبہ بھی حج ادا نہیں کیا ۔ ایسے لوگوں کو معلوم ھونا چاہیۓ کہ انھوں نے اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن کو ترک کیا ہے جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں :</p>
<p>&#8221; جسے مالی کشائش و استطاعت ھو اور پھر بھی وہ حج کۓ بغیر ہی مر جاۓ تو وہ اب یہودی ھو کر مرے چاہے عیسائی ھو کر &#8220;۔ ( اس میں کوئی فرق نہیں ہے ) ۔ ایسا ہی ایک ارشاد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے :</p>
<p>&#8221; ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیۓ کہ اور صاحب استطاعت لوگوں کو چاہیۓ کہ وقت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے پہلے مناسک حج کی ادائيگی کر لیں لیکن اگر حج ادا کۓ بغیر اچانک کوئی معذوری و مجبوری پیدا ھو گئی یا پھر موت ہی نے آ دبوچا تو اس سستی و لاپرواہی کا کوئی عذر فائدہ مند و کارگر نہ ھو گا</p>
<p>١ ۔ تعظیم شعائر :</p>
<p>اے مومنو ! اے حجاج کرام ! اللہ تعالی نے آپ کو اپنے اس بیت اللہ العتیق تک پہنچا دیا ہے ۔ اب اس کے شعائر و مشاعر کی تعظیم بجا لاتے رھو ، اللہ تعالی آپ کے ایمان و تقوی میں اضافہ فرماۓ گا ۔</p>
<p>ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; یہ ( ھمارا حکم ہے ) اور جو شخص اللہ کے شعائر ( ادب کی چيزوں ) کی جو اللہ نے مقرر کی ہیں تعظیم کرے تو یہ ( فعل ) دلوں کے تقوی و پرہیزگاری سے ہے &#8220;۔ ( الحج : ٣٢ ) ۔</p>
<p>اللہ کے شعائر اور مقامات ادب کی تعظیم یہ بھی ہے کہ عمل پورے خلوص نیت سے کیا جاۓ ، اسے مکمل صورت میں ادا کریں ۔ اسے کامل شکل میں سنت مطہرہ کی اتباع و پیروی کی جاۓ ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; مجھ سے اپنے مناسک و احکام حج سیکھ لو &#8220;۔</p>
<p>مناسک حج و اعمال حج کے سلسلہ میں رخصتیں تلاش کرنے کے پیچھے لگے رہنا اور ان کی ادائیگی میں سستی و لاپراوہی برتنا اس کے اجر و ثواب میں نقص و کمی پیدا کر دیتا ہے جبکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور اللہ ( کی خوشنودی ) کے لۓ حج و عمرے کو پوری طرح کرو &#8220;۔ ( البقرہ : ١٩٦ ) ۔</p>
<p>٢ ۔ سعائر کی تعظیم میں ہی یہ چیز بھی شامل ہے کہ ہر اس فعل سے بچ کر رہا جاۓ جو حج میں نقص پیدا کرنے والا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی ان مقامات و اوقات کی عزت و احترام ملحوظ خاطر رکھیں جنھہیں کہ خود اللہ تعالی نے عظمتوں سے نوازا ہے ۔</p>
<p> بلاوجہ کے لڑائی جگھڑے مناظرے بازیاں اور لوگوں کو تشویش میں مبتلا کرنا ایسے افعال ہیں کہ ان سے مکمل اجتناب و پرہیزضروری ہے کیونکہ حج کی قبولیت اور مغفرت و بخشش کا حصول انہیں ترک کرنے کے ساتھ مشروط ہے ۔ ارشاد الہی ہے ۔</p>
<p>&#8221; حج کے مہینے ( معین ہیں جو ) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کر لے تو حج ( کے دنوں ) میں نہ عورتوں سے اختلاط و میل جول کرے نہ کوئی فسق و برا کام کرے اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کر ے &#8220;۔ ( البقرہ : ١٩٧ ) ۔</p>
<p>اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی صحیح بخاری و مسلم میں مروی حدیث پہلے بھی ذکر کی جا چکی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; جس نے حج کیا اور عورتوں سے اختلاط ( کسی شہوانی حرکت کا ارتکاب ) نہ کیا اور نہ ہی کوئی فسق و گناہ اور برائی کی ، وہ اپنے گناھوں سے یوں پاک ھو کر لوٹا جیسے اس دن ھو جس دن اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا &#8220;۔ (بخاری و مسلم )</p>
<p>خشوع و ادب :</p>
<p>طہارت نفس ، ازیاد ایمان اور حصول نفوس صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمان اللہ کی عبادت پورے خشوع و خضوع اور ادب و احترام سے ادا کرے اور وہ جس غرض و غایت اور عظیم مقصد کے لۓ اس مقام پر حاضر ھوا ہے اپنے آپ کو اس کے لۓ پوری طرح فارغ کر لے ، اپنے وقت کی قدر کو پہچانتے ھوۓ اس کا تحفظ کرے اپنے رب کے لۓ اخلاص نیت سے عمل کرے ۔</p>
<p>سوال و علم قبل از عمل :</p>
<p>اسی طرح کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے میں شرعی احکام پوچھ لینے چاہییں ۔ کتنے ہی حاجی ایسے بھی ھوتے ہیں کہ وہ جہالت و لا علمی سے عبادت سر انجام دیتے چلے جاتے ہیں ، نہ سیکھتے ہیں اور نہ کسی سے پوچھتے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ پہلے ایک کام کر گزرتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں اگر انھوں نے اس کام کو کرنے سے پہلے پوچھ لیا ھوتا تو انھیں کسی حرج میں مبتلا نہ ھونا پڑتا ۔</p>
<p>مسئولین کی ذمہ داری :</p>
<p>حجاج کرام کے استقبال اور طعام و قیام کے مسئول لوگوں پر یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے انھیں چاہیۓ کہ اس سلسلہ میں وہ اللہ سے ڈرتے رہیں ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرما رکھا ہے : &#8221; تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص اپنی زیر نگرانی و زیر دست لوگوں کے بارے میں جوابدہ ہے &#8220;۔</p>
<p>توحید باری تعالی  اور خانہ کعبہ :</p>
<p>اے مومنو ! اس خانہ کعبہ کی بنیاد جس اصل عظیم پر رکھی گئ ہے وہ ہے اللہ رب العالمین کی توحید اور اللہ تعالی نے ہی اپنی کتاب محکم میں ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور ( ایک وقت تھا ) جب ھم نے ( حضرت ) ابراھیم (علیہ السلام ) کے لۓ خانہ کعبہ کو مقام مقر  کیا ( اور فرمایا کہ ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا &#8220;۔ ( الحج : ٢٦  )  ۔</p>
<p>اور آيات و احکام حج کے ضمن میں ہی اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221;  بتوں کی نجاست و پلیدی سے بچو اور جھوٹ بات سے اجتناب و گریز کرو ، صرف ایک اللہ کے ھو کر اور اس کے  اس کے  ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ &#8220;۔ ( الحج : ٣٠ ، ٣١ ) ۔</p>
<p>ذکر الہی : اعلان توحید :</p>
<p>اللہ تعالی آپ سب پر رحم فرماۓ ۔ اپنے اعمال کو ہر قسم کی الائش سے پاک کر لو ، اپنے تمام اعمال بلکہ اپنی پوری زندگی میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو بالضرور مشعل راہ بناؤ اور شرک اعمال صالحہ کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے ۔ اور ذکر الہی کو لازمی طور پر اختیار کر لو کیونکہ یہ حج میں ایک نمایاں چیز ہے ۔ اور یہ ذکر ایک اعلان توحید ہے جو کہ حج کا شعار ہے ۔</p>
<p>[ لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لاشریک لک ]</p>
<p>میں حاضر ھوں ، اے اللہ ! میں حاضر ھوں ، میں حاضر ھوں ، تیرا کوئی شریک و ھمسر نہیں ہے ، میں حاضر ھوں بیشک تمام تعریفیں صرف تیرے لۓ ہیں اور تمام نعمتیں بھی تجھی سے مہیا ھوتی ہیں اور ہر چیز کی بادشاہی  بھی تیرے ہی لۓ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے &#8220;۔</p>
<p>اور ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; اور گتنی کے ان چند ایام ( حج ) میں اللہ کا ذکر کرو &#8220;۔ ( البقرہ : ٢٠٣ )  ۔</p>
<p>اور ایک جگہ رب کائنات نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور جب جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعرالحرام کے پاس ( مزدلفہ میں ) اللہ کا ذکر کرو &#8220;۔</p>
<p> ( البقرہ : ١٩٨ ) ۔</p>
<p>تھوڑا آگے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اور جب تم مناسک حج و اعمال پورے کر لو تو اللہ کا ذکر کرو &#8221; ۔ ( البقرہ : ٢٠٠  )</p>
<p>ایک مقام پر اللہ تعالی نے بعض مقاصد حج کا ذکر کرتے ھوۓ فرمایا ہے :</p>
<p>&#8220;تاکہ وہ اپنے (دینوی و دینی ) فوائد و منافع کے کاموں کے لۓ حاضر ھوں اور معلوم دنوں میں اللہ کا ذکر کریں&#8221;<br />
( الحج : ٢٨ ) ۔</p>
<p>فضائل عشرہ ذوالحج :</p>
<p>اے پوری دنیا کے مسلمانو ! چند ہی دنوں کے بعد عشرہ ذوالحج شروع ھو جاۓ گا  اور وہ ایسے دن ہیں جن کی اللہ تعالی نے بڑی تعظیم بتائی ہے اور ان کا ذکر بڑا بلند کیا ہے اور اپنی کتاب مقدس قرآن کریم میں ان کی قسم کھائی ہے ۔</p>
<p>چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی &#8220;۔ ( الفجر : ١ ۔ ٢ ) ۔</p>
<p>صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیا گیا عمل ان دس دنوں میں کۓ گۓ عمل سے زیادہ اللہ کو محبوب ھو &#8220;۔ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں سواۓ اس شخص کے جو اپنا سارا مال لیکر اور ہتھلی پر جان رکھ کر میدان جہاد میں اترا اور ان میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لایا &#8220;۔ ( یعنی مال و جان دونوں ہی قربان کر دیۓ &#8220;۔ ( صحیح بخاری )</p>
<p>اعمال خیر و مستحبات کی کثرت :</p>
<p>عشرہ ذوالحج کے ان دس دنوں میں بکثرت نیک اعمال سر انجام دینا ، ( مختلف قسم کے نوافل ادا کرنا ، تکبیر ( اللہ اکبر ) کہنا ، تحمید ( الحمد للہ کہتے ھوۓ اللہ کا شکر ادا کرنا ) اور تہلیل ( لا الہ الا اللہ پڑھنا ) مستحب ہے ۔ ان سنتوں کو زندہ کرو اور اللہ سے خیر و بھلائی طلب کرو تاکہ آپ لوگ فلاح و نجات پا جائیں ۔</p>
<p>یوم عرفہ کا روزہ : دو سالوں کا کفارہ :</p>
<p>جو شخص حج نہیں کر رہا اس کے لۓ مستحب ہے کہ وہ یوم عرفہ ( ٩ ذوالحج ) کا روزہ رکھے کیونکہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221;  مجھے اللہ سے امید ہے کہ یہ ( یوم عرفہ کا روزہ ) گزشتہ  و آئندہ دو سالوں کے گناھوں کو مٹا دے گا &#8220;۔<br />
( صحیح مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، مسنداحمد ) ۔</p>
<p>بال و ناخن نہ کاٹنا نہ تراشنا :</p>
<p>جو شخص قربانی کرنا چاہیۓ اسے چاہیے کہ ھلال ذوالحج کے نظر آ جانے اور ماہ ذوالحج کا مہینہ شروع ھو جانے سے لیکر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کر لینے تک اپنے بال نہ کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے ۔</p>
<p>نا اہل کی فتوی بازی :</p>
<p>یہاں ایک اھم بات پر لوگوں کو متنبہ کرنا ضروری معلوم ھوتا ہے اور وہ یہ کہ جسے علم و فن فتوی میں درک حاصل نہ ھو اسے چاہیۓ کہ وہ اس میدان میں نہ کود پڑے اور نہ ہی بلا علم اللہ کی طرف باتوں کو منسوب کرتا جاۓ ۔ کتنے ہی شخص ایسے ہیں جو فتوی بازی میں عجلت سے کام لے کر حجاج کرام کو حرج و مشکل میں مبتلا کر دیتے ہیں اور ھو سکتا ہے کہ اپنے غلط فتوؤں کی وجہ سے لوگوں کاحج خراب کرنے کا گناہ بھی اس کے سر آ جاۓ کیونکہ اس نے فتوی دینے کا منصب سنبھال لیا حالانکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے ، اور اس  نے بلاوجہ دخل اندازی کی ہے حالانکہ اس سے کوئی بات پوچھی ہی نہیں گئی تھی ۔ اگر وہ تقوی و ورع اختیار کرتا اور اللہ سے ڈرتے ھوۓ اپنے آپ کو اس اندھے کنویں میں نہ گراتا تو وہ خیرت و عافیت میں رہتا ۔</p>
<p>صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کا فتوی سے احتراز :</p>
<p>صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم فتوی صادر کرنے سے بچتے  رہتے تھے ۔ آج ان لوگوں کو کیا ھو گیا ہے کہ یہ فتوی بازی میں یوں سبقت لیجانے پر تلے رہتے ہیں جیسے یہ کوئی مال غنیمت لوٹنے والی بات ھو ۔ اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ لوگوں کو تعلیم دینا ، ان کی راہنمائی کرنا ، انہیں فتوی دینا بہت بڑا واجب اور قرب الہی کے حصول کا عظیم ذریعہ ہے لیکن یہ منصب ان علماء اور علم میں گہرا رسوخ رکھنے والے طلبۂ علم کا کام ہے اور یہی کام جب جاہل لوگ اور عوام الناس شروع کر دیں تو ان کے لۓ یہ ایک جرم ہے ۔ اللہ تعالی نے بلا علم اس کی طرف باتیں منسوب کرنے کو شرک و گناہ اور بغاوت و سر کشی کی صف سے شمار فرمایا ہے :</p>
<p>حج ایک عبادت ہے جو فقہ دین اور علم عمیق کی متقاضی ہے اور اس کے اہل لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا یہ منصب سنبھالیں اور اس ذمہ داری کو نبھائيں تاکہ ان کی موجودگی میں لوگ دوسروں سے مستغنی و  بے نیاز ھو جائیں ۔</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2006/12/07/%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c%d8%aa-%d9%88-%d9%81%d8%b6%db%8c%d9%84%d8%aa-%d8%ad%d8%ac-%d9%88-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%af%d8%b1-%d9%88-%d8%af%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%da/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سفر حج سے متعلق چند ھدایات</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2006/11/21/%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%ad%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%da%86%d9%86%d8%af-%da%be%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%aa/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2006/11/21/%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%ad%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%da%86%d9%86%d8%af-%da%be%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%aa/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 21 Nov 2006 11:25:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2006/11/21/%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%ad%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%da%86%d9%86%d8%af-%da%be%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%aa/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ / عبد المسن القاسم ۔حفظہ اللہ حمد و ثنا کے بعد اللہ والو ! اللہ تعالی سے اتنا ڈور جتنا کہ اس کا حق ہے اور اسے اعلانیہ و پوشیدہ ہر معاملہ میں اپنا نگران مانو ۔ دعوت ابراھیم علیہ السلام پر لبیک کہنے والے مسلمانو ! خیر و برکت لانے والے موسم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  /  عبد المسن القاسم ۔حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثنا کے بعد</p>
<p>اللہ والو ! اللہ تعالی سے اتنا ڈور جتنا کہ اس کا حق ہے اور اسے اعلانیہ و پوشیدہ ہر معاملہ میں اپنا نگران مانو ۔<br />
دعوت ابراھیم علیہ السلام پر لبیک کہنے والے</p>
<p>مسلمانو ! خیر و برکت لانے والے موسم یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے لۓ چلے آتے ہیں ۔ ایک ختم ھونے پاتا ہے تو کوئی دوسرا اسلامی شعار و عمل اور موقع آ جاتا ہے ۔ حجاج کرام فوج در فوج بیت اللہ العتیق کی زیارت کے ارادے سے چلے آ رہے ہیں اور انھوں نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی اس دعوت پر لبیک کہی ہے جس کا انھیں حکم دیتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا تھا :</p>
<p>&#8221; اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں وہ تیرے پاس پاپیادہ چلے آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار ھو کر بھی دنیا کے ہر کونے ( دور دراز ) سے چلے آئیں گے &#8220;۔ ( الحج ۔٢٧ ) ۔<br />
<span id="more-348"></span><br />
شرف بیت اللہ :</p>
<p>بیت اللہ شریف کو اللہ تعالی نے لوگوں کے لۓ حصول اجر و ثواب اور امن و امان کی جگہ بنایا ہے جہاں  رب کریم سے اس کی عطاؤں اور رحمتوں کی امیدیں لگائی جاتی ہیں ۔ یہ حرم مبارک ایسی جگہ  ہے جہاں رشد و ھدایت ہے ، خیرات و برکات ہیں اور ظاھر و روشن نشانیاں اور آیات ہیں ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; لوگوں کی عبادت کے لۓ جو سب سے پہلے گھر مقرر کیا گيا تھا وہ وہی ہے جو کہ مکہ میں ہے جو کہ بابرکت ہے اور سارے جہاں کے لۓ باعث ھدایت ہے ۔ اس میں روشن نشانیاں اور مقام ابراھیم ہے اور جو اس ( کی حدود ) میں داخل ھو گیا وہ امن والا ھو گیا &#8220;۔ ( آل عمران ۔٩٧ )</p>
<p> فرضیت حج بیت اللہ :</p>
<p>اس بیت اللہ شریف کا حج کرنا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن و ستون ہے ۔</p>
<p>چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :</p>
<p>&#8221; لوگوں پر اللہ کا حق ( فرض ) ہے کہ جسے استطاعت ھو ، وہ بیت اللہ شریف کا حج کریں اور جو کفر و انکار کرے تو اللہ سارے جہانوں سے بے نیاز ہے &#8221;  ۔ ( آل عمران ۔٨٦) ۔</p>
<p>شریعت نے حکم دیا ہے کہ اس حج کے دینی فریضہ کی ادائیگی کے لۓ بیت اللہ شریف آئيں ۔</p>
<p> چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; اے لوگو ! اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہے لھذا حج کرو &#8220;۔ ( صحیح مسلم ) ۔</p>
<p>جلیل القدر عمل :</p>
<p>حج بیت اللہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کے نزدیک جلیل القدر اعمال میں سے ہے ۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ! سے پوچھا گیا :افضل ترین عمل کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; اللہ تعالی پر اور اس کے رسول پر ایمان لانا &#8221; آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گيا : اس کے بعد؟<br />
 نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا &#8221; ۔ کہا گيا کہ اس کے بعد کونسا  ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : &#8221; حج مبرور و مقبول &#8220;۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>گناھوں سے پاک نیا جنم :</p>
<p>اسلام کے اس پانچویں رکن حج کی ادائيگی میں گناھوں کی بخشش اور نافرمانیوں خطاؤں کے میل چیل کا دھویا جانا پایا جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; جس نے حج کیا اور عورتوں سے اختلاط نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فسق و گناہ کیا وہ حج کے بعد یوں ھو کر لوٹا جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا &#8221; ۔ ( صحیح بخاری ) ۔</p>
<p>جس نے دوران حج تقوی اختیار کیا ، اللہ نے اس کی مہمانی کے لۓ جنت تیار کر رکھی ہے ۔</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے گناھوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور و مقبول کی جزاء تو جنت ہی ہے &#8220;۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>امام نووی لکھتے ہیں :</p>
<p>&#8221; اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کرنے والے کے صرف گناہ ہی معاف نہیں کۓ جائيں گے بلکہ وہ یقینا جنت میں داخل ھو جاۓ گا &#8220;۔</p>
<p>اخلاص کی قیمت اور شرک کی قباحت :</p>
<p>اعمال کا وزن اخلاص کی بنیاد پر ھو گا اگر ان میں شرک یا ریاء کاری کا شائبہ بھی آ گیا تو وہ انھیں برباد کر دے گا ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; آپ کی طرف ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ! ) وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے لوگوں کی طرف بھی ( وحی کی جا چکی ہے ) کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے تمام اعمال برباد ھو جائيں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ھو جائيں گے &#8220;۔ ( الزمر ۔٦٥ ) ۔</p>
<p>مال حلال اور رفقاء سفر کی خدمت :</p>
<p>حج کی نیکی تب تکمیل پذیر ھوتی ہے جب اسے مال حلال سے ادا کیا جاۓ جس میں حرام کا  شائبہ تک نہ ھو اور نہ اس میں کسی میل کی ملاوٹ کا شک و شبہ ھو اور حج کے دوران نیک لوگوں کا ساتھ اطاعت و عبادت کی حسن ادائيگی میں معاون ھوتا ہے اور اپنے رفقاء سفر کے ساتھ حسن سلوک ایسی عبادت ہے جس کا فائدہ اس شخص کے علاوہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔</p>
<p>امام مجاھد کہتے ہیں :</p>
<p>&#8221; میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت و معیت اختیار کی تاکہ ان کی خدمت کا شرف پا سکوں مگر اس کے برعکس معاملہ یہ نکلا کہ وہ میری خدمت کرتے رہے &#8220;۔</p>
<p>امام ابن رجب رحمہ اللہ عليہ کہتے ہیں :</p>
<p>&#8221; سلف صالحین امت میں سے بکثرت لوگ ایسے گزرے ہیں جو کہ اپنے رفقاء سفر پر یہ شرط عائد کر دیا کرتے تھے کہ میں تمھاری خدمت بجا لاؤں گا اور یہ اس لۓ ھوتا تاکہ اجر پا سکیں &#8221; ۔</p>
<p>تقوی : بہترین زاد راہ :</p>
<p>جو شخص اپنے نفس کی خواہشات اور اس کے راحت و سکون پر اللہ کے حق کو مقدم کرے گا وہ دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی پاۓ گا ۔ اور کوئی حاجی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو بہترین زاد راہ اٹھا لے جاتا ہے وہ تقوی و خشیت الہی کا توشہ ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; اور زاد راہ لے لو اور بہتر زاد راہ اللہ کا تقوی ( لوگوں کے سامنے دست سوال کرنے سے بچنا ) ہے &#8220;۔ ( البقرہ : ١٩٧ ) ۔</p>
<p>حج کو مبرور بنانے والے اعمال :</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جو وصیتیں فرمائی تھیں ان میں سے ہی یہ بھی ہے :</p>
<p>&#8221; اللہ سے ڈرتے رھو تو چاہیے جہاں بھی ھو ۔ اگر کوئی برائی ھو جاۓ تو اس کے پیچھے نیکی کرو وہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک و حسن اخلاق سے پیش آؤ &#8221; ۔ ( سنن ترمذی )۔</p>
<p>حج میں نیکی کمانے اور اسے حج مبرور بنانے کا ہی ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلائیں ۔ان میں سلام پھیلاؤ ان سے اچھی گفتگو کریں اور ان کے ساتھ حسن اخلاق و حسن معاملہ کریں اور حج کے دوران کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو حقیر ہرگز نہ سمجھیں لوگوں میں سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسرے لوگوں کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہے اور ان کے مابین سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو ان کی اذیتوں پر صبر و استقامت اختیار کرنے والا ہے ۔ جو شخص حجاج کی خدمت لوجہ اللہ انتہائی اخلاص کے ساتھ سر انجام دیتا ہے وہ حج کے اجر و ثواب میں ان کا شریک ھوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:</p>
<p>&#8221; ایک تیر کی بدولت اللہ تعالی تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرتا ہے ، اس کے بنانے والے کو جس نے اسے بنانے میں خیر و بھلائي کی نیت کی ۔ دوسرا وہ شخص ( مجاھد ) جو اسے ( دشمن کو ) مارتا ہے ۔ اور تیسرا وہ ہے جو کسی کو تیر پکڑاتا ( اس سے مدد کرتا ) ہے &#8220;۔ ( ترمذی )۔</p>
<p>جو شخص اللہ کے گھر کی نیت کر کے چل نکلتا ہے اسے تین خصال کا التزام کرنا چاہیۓ :</p>
<p>اللہ تعالی کا تقوی و ورع اختیار کرے جو اسے اللہ کی نافرمانی سے روک دے گا اور حلم بردباری کو اپناۓ اس سے اللہ کا غضب اس سے رک جاۓ گا اور اپنے رفقاء سفر کے ساتھ حسن صبحت و حسن اخلاق سے پیش آۓ ۔</p>
<p>قرب الہی کے حصول کا ذریعہ :</p>
<p>مسلمانو ! بندے اپنے رب کا قرب جن اعمال سے پا سکتے ہیں ان میں سے سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ وہ اپنی عبادات اور مناسک حج میں اللہ کی توحید کا اظہار کریں اور اپنے اعمال کو خالصتا لوجہ اللہ سر انجام دیں اور جو عمل کسی غیر اللہ کی رضاء و خوشنودی ( دکھلاوے ) کے لۓ کیا گیا وہ رائیگاں و بےکار جاۓ گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; حج اور عمرہ اللہ کے لۓ مکمل کرو &#8220;۔ ( البقرہ ۔١٩٦ ) ۔</p>
<p>اور مناسک حج میں خلوص نیت کے ساتھ ہی اپنی زبان سے بھی اپنے خالق و مالک کی وحدانیت کا اظہار کریں اور یہ کہیں :</p>
<p>&#8221; لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لاشریک لک &#8220;۔</p>
<p>یوم عرفہ کا مخصوص ذکر :</p>
<p>یوم عرفہ کو جس نے کوئی کلمہ کہنے کے لۓ زبان کھولی ان میں سب سے بہترین کلمہ ، کلمہ توحید ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; بہترین دعاء وہ ہے جو عرفہ کے دن کی جاۓ اور میں نے اور پہلے تمام انبیاء نے جو سب ذکر و اذکار کۓ ہیں ان میں سے بہترین ذکر یہ کلمہ توحید ہے &#8221; ۔</p>
<p>&#8221; لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک و لہ الحمد و ھو علی کل شیء قدیر &#8220;۔ ( سنن ترمذی )</p>
<p>توکل علی اللہ کی برکات :</p>
<p>اللہ پر توکل کرنا جلیل القدر عبادت ہے ۔</p>
<p>اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; اللہ کی عبادت کریں اور اس پر توکل کریں &#8221; ۔ (ھود ۔١٢٣) ۔</p>
<p>مایوسی کے لۓ اللہ کے دین میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; اللہ کی رحمت سے کافر قوم کے سوا کوئی ناامید نہیں ھوتا &#8220;۔ ( یوسف ۔٨٧ ) ۔</p>
<p>حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے لۓ اور اپنے بیٹے کے لۓ پانی تلاش کر رہی  تھیں اور وہ بھی دو پہاڑوں کے درمیان ایک بے آب و گیاہ وادی ( دامن جبل ) میں ۔ انھیں پیاس نے ستا رکھا تھا اور وہ اپنے بچے ( حضرت اسماعیل علیہ السلام ) پر شفقت کی وجہ سے نڈھال ھو رہی تھیں ۔ اللہ پر توکل کرنے اور مادی اسباب کو اختیار کرنے ( تلاش کرنے ) پر انھیں ایک ٹپکتا اچھلتا چشمہ مل گیا جو ان کے لۓ اور آئندہ نسلوں کے لۓ سدا بہار شکل اختیار کر چکا ہے ۔</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے تھے :</p>
<p>&#8221; اللہ تعالی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( حضرت ہاجرہ علیہا السلام ) پر رحم فرماۓ  اگر وہ زمزم کو اسی طرح ( بلا چار دیواری ) چھوڑ دیتیں تو وہ زمین پر وافر و بیشمار پانی والا چشمہ بن جاتا &#8220;۔ ( صحیح بخاری )</p>
<p>حج میں اللہ کی عظمت و کبریائی :</p>
<p>اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہی ہر قسم کا نفع و نقصان ہے ۔ وہ مشکلات کو دور کرنے اور مصائب کو ہٹانے والا ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر عالی قدر و برتر ہے ۔ زمین و آسمان کی چابیاں اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ عظمت و کبریائی اس کی صفات ہیں ۔ حاجی اللہ کی عظمت و کبریائی کا اعلان اپنے مناسک کے دوران طواف و سعی کرتے ھوۓ ، جمرات پر رمی کرتے ھوۓ ، یوم نحر و قربانی اور ایام تشریق ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذوالحج ) کو تکبیریں پڑھتے ھوۓ تلبیہ کہتے ھوۓ اور ذکر و دعا کرتے ھوۓ کرتا ہے تاکہ دل صرف اللہ کے لۓ اور صرف اسی کی طرف لگا رہے اور مخلوقات کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے ہٹ کر صرف اللہ سے امیدیں وابستہ کر لے ۔</p>
<p>رمئی جمرات اور دشمن سے خبردار :</p>
<p>جمرات کی رمی میں مسلمانوں کو ان کے گھات لگاۓ بیٹھے ازلی دشمن ابلیس کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے جو کہ انھیں جہنم کی طرف بلاتا ہے ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; بیشک شیطان تمھارا دشمن ہے لھذا تم اسے دشمن ہی سمجھو ، وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ بھی اہل جہنم سے ھو جائیں &#8220;۔ ( الفاطر ۔٦ ) ۔</p>
<p>قیمتی لمحات اور بیش بہا گھڑیاں :</p>
<p>اے مسلمان ! کسی بھی واجب کی ادائیگی میں کوتاہی سے بچیں ، اور ہر قسم کی نافرمانی سے خوب دامن بچا کر رکھیں یہ تو آپ کو ھلاکتوں میں مبتلا کر دیں گی اور اسبات کو ذھن نشین کر لیں کہ حج کے لمحات بڑے ہی قیمتی اور اس کی گھڑیاں بے پناہ مہنگی و بیش بہا ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو &#8220;۔ ( البقرہ ۔٢٠٣ ) ۔</p>
<p>ان اوقات اور گھڑیوں میں ہر خیر و بھلائی ، ہر باعث تقرب الہی اور ہر نیکی کمانے کی بھرپور کوشش کریں وہ ذکر و اذکار کی شکل میں ھو توبہ و استغفار کی صورت میں ھو  ، تکبیر و تہلیل یا تلاوت قرآن ھو ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعرالحرام ( جبل مزدلفہ ) کے پاس اللہ کا بکثرت ذکر کرو اور اس کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح کرنے کی تمھیں ھدایت دی گئی ہے &#8220;۔ ( البقرہ ۔١٩٨ ) ۔</p>
<p> اور جب مناسک حج پورے ھو جائيں تو اس ھدایت پر اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں اور اس عبادت کی انجام دہی پر اس کا شکر بجا لائيں ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; جب تم اپنے مناسک حج پورے کر لو تو اللہ کا اتنا ذکر کرو جتنا کہ تم اپنے اباء و اجداد کا کیا کرتے ھو بلکہ اللہ کا ذکر اس سے بھی بہت زیادہ کرو &#8220;۔ ( البقرہ ۔٢٠٠) ۔</p>
<p>مناسک حج کی ادائیگی کے دوران بھی توبہ و استغفار کرتے رہیں ۔ اور اللہ کی طرف رجوع کۓ رہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :</p>
<p>&#8221; پھر تم بھی وہیں ( عرفات ) سے ھو کر لوٹو جہاں ھو کر لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے توبہ و استغفار ( طلب مغفرت و بخشش ) کرو ، بیشک اللہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے &#8220;۔</p>
<p> ( البقرہ ۔١٩٩ ) ۔</p>
<p>سب سے بڑی نیکی : توبہ و استغفار :</p>
<p>شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ عليہ لکھتے ہیں :</p>
<p>&#8221; توبہ و استغفار کرنا تمام نیکیوں سے بڑا عمل ہے اور اس کا دروازہ بہت ہی وسیع ہے ۔ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کے قول و عمل میں تقصیر و کوتاہی آ گئی ہے ۔ اس کی حالت تنگ ھو رہی ہے اس کا رزق کم ھو رہا ہے یا اس کا دل ٹھکانے پر نہیں رہتا بلکہ پھرتا رہتا ہے ۔ اسے اللہ کی توحید اپنانی اور توبہ و استغفار کرنا چاہیۓ ، انہی دونون کاموں میں اس کی شفاء ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان دونوں کاموں کو پورے صدق دل اور خلوص کے ساتھ سر انجام دے &#8220;۔</p>
<p>دنیا و آخرت کےلۓ دعائیں کرنا :</p>
<p>حج میں لوگوں کو اجر و ثواب ان میں سے ہر کسی کی ھمت و محنت کے حساب سے دیا جاتا ہے ۔ ان میں سے کوئی تو صرف اس دنیا کی فوری و عارضی راحتوں کا سوال کرتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آخرت کی نعمتیں اور اللہ تعالی کی رضاء و خوشنودی طلب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :</p>
<p>&#8221; لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں : اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھلائی دے دے ۔ ایسے شخص کا آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔اور ان میں سے ہی وہ بھی ہے جو کہتا ہے  : اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھی نعمتیں عطا کر اور آخرت میں بھی نعمتوں سے نوازنا اور ھمیں نارجہنم کے عذاب سے بچانا ، یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ان کے اعمال کا اعلی بدلہ ملے گا اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے &#8220;۔ البقرہ ۔٢٠٠ ، ٢٠٢ )</p>
<p>اہل توفیق حجاج :</p>
<p>اہل توفیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے نیک خالص نیت اور صدق دل سے فریضۂ حج ادا کیا ۔ اپنے مال حلال سے خرچ کیا اور اپنی زبان کو ذکر الہی سے معطر رکھا اور اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ لوگوں سے حسن سلوک کیا اور انہیں نفع پہنچانے میں کوشاں رہا ۔ آپ لوگ اسی طرح ہی حج ادا کریں اور اپنے دین و عبادت کو اللہ تعالی کے لۓ خالص کر دیں ، نیک صالح اعمال کی انجام دہی میں جد و جہد کریں اور اپنے رب کی جنتوں کی طرف لپکیں ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; حج کے مہینے معلوم و معروف ہیں ۔ جس نے ان میں حج ادا کرنے کی نیت کر لی اسے اس دوران عورتوں سے اختلاط نہیں رکھنا چاہیۓ نہ ہی فسق و گناہ کا ارتکاب کریں اور نہ ہی لڑائی جھگڑا کریں اور تم جو بھی خیر و بھلائی ( نیکی ) کرتے ھو اللہ اسے جانتا ہے اور زاد راہ لے کر چلو ۔ بیشک بہترین زاد راہ اللہ کا تقوی ( لوگوں سے سوال کرنے سے بچنا ) ہے اور اے عقلمندو ! مجھ سے ڈرتے رہا کرو &#8220;۔ ( البقرہ ۔١٩٧  ) ۔</p>
<p>فضائل عشرہ ذوالحج :</p>
<p>آپ عشرہ ذوالحج کے ایام مبارکہ سایہ فگن ھو چکے ہیں ۔ ان میں کۓ گۓ اعمال کی بہت ہی زیادہ فضیلت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8221; ایسے کوئی دن نہیں جن میں کیا گیا عمل اللہ کو ان دنوں میں کۓ گۓ عمل سے زیادہ محبوب ھو &#8221; ۔ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :</p>
<p>&#8221; اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ۔ سواۓ اس آدمی کے جو اپنا مال لیکر اور ہتھیلی پر جان رکھ کر میدان جہاد میں جا اترا اور ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی واپس نہ لایا &#8221; ۔ ( بخاری )</p>
<p>اعمال عشرہ ذوالحج :</p>
<p>ان دنوں میں بکثرت تکبیریں کہیں اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، صلہ رحمی اور صدقہ و خیرات کریں ، اپنے والدین سے صلہ رحمی اور نیکی و حسن سلوک کریں ، لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں ان کی مدد کریں ان کی ضروریات کو پورا کریں اور ہر قسم کی عبادت و اطاعت کو سرانجام دیں ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کہتے ہیں :</p>
<p>&#8221; عشرہ ذوالحج کے دن ماہ رمضان کے آخری عشرہ کے دنوں سے افضل ہیں اور ماہ رمضان کے آخر عشرہ کی راتیں اس عشرہ ذوالحج کی راتوں سے افضل ہیں &#8220;۔</p>
<p>صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اس عشرہ میں لوگوں کے مابین تکبیر کی سنت کو زندہ کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحج میں بازار میں نکلتے اور ( بآواو بلند ) تکبیریں کہتے اور لوگ بھی ان دونوں کی دیکھا دیکھی تکبیریں کہنا شروع کر دیتے تھے&#8221; ( بخاری )</p>
<p>قربانیاں :</p>
<p>اس عشرہ ذوالحج میں خیر و نیکی کے مواقع یکے بعد دیگرے چلے آتے ہیں ۔ عید الاضحی کے دن اور اس کے بعد واے ایام تشریق کے تین دنوں ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذوالحج ) میں قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کی نیکی ہے ۔ حدیث میں ہے :</p>
<p>&#8221; نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو خوبصورت اور سینگوں والے (موٹے تازے ) مینڈھے قربانی دیۓ  ان پر آپ نے بسم اللہ اکبر ( تکبیر ) پڑھی اور انہیں اپنے دست مبارک سے ذبح کر دیا &#8220;۔ ( متفق علیہ )</p>
<p>افضل قربانی :</p>
<p>افضل قربانی وہ ہے جو زیادہ قیمتی ھو اور گھر والوں کے نزدیک زیادہ نفیس ھو ۔ قربانی میں ایک بکری ایک شخص اور اس کے تمام گھو والوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے ۔ اور جو قربانی کرنا چاہے اس کے   لۓ  ناجائز ہے کہ وہ ذوالحج کا چاند طلوع ھو جانے  سے  لیکر اپنے جانور کو ذبح کرنے تک اپنے ناخن بال یا جلد و چمڑے میں سے کچھ کاٹے ۔ خوش دلی سے قربانی دیں اور اس کا گوشت خود بھی کھائیں دوسروں کو بھی کھلائیں اور صدقہ بھی کریں اور اپنے صدقات و خیرات کے لۓ اپنے فقراء کو تلاش کر لیا کریں کیونکہ ان میں سے کوئی آپ کا قرابت دار و عزیز ھو گا اور کوئی ہمسایہ ۔</p>
<p>یوم عرفہ کا روزہ :</p>
<p>اپنی عیدوں کو ہر اس فعل سے پاک رکھیں جو کہ اللہ تعالی کو غضبناک کرنے والا ہے ۔ حجاج کے ساتھ ان کی دعاؤں تہلیل ( لا الہ الا اللہ ) اور تکبیروں میں شامل ھو جائيں جو شخص اپنے ہی گھر میں رہے اور حجاج اس سے سبقت لے جائيں اور مشاعر مقدسہ میں جا پہنچیں تو ایسے لوگوں کے لۓ یہ سنت ہے کہ وہ یوم عرفہ ( ٩ ذوالحج ) کا روزہ رکھیں ۔</p>
<p>نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :</p>
<p>&#8220;یوم عرفہ کا روزہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ آئندہ و گزشتہ دو سالوں کے گناھوں کو مٹا دیتا ہے &#8220;۔ ( صحیح مسلم )</p>
<p>لھذا موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے پہلے اسے غنیمت سمجھیں ۔ یہ زندگی غنیمت ہی ہے ۔ اس کے دن بہت تھوڑے ہیں اور عمریں بہت ہی چھوٹی چھوٹی ہیں ۔</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2006/11/21/%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%ad%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%da%86%d9%86%d8%af-%da%be%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دوسروں کا مال نا حق کھانا اور اسکا انجام</title>
		<link>http://pardese.urduhome.net/2006/11/15/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%86%d8%a7-%d8%ad%d9%82-%da%a9%da%be%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d8%a7%d9%85/</link>
		<comments>http://pardese.urduhome.net/2006/11/15/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%86%d8%a7-%d8%ad%d9%82-%da%a9%da%be%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d8%a7%d9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 15 Nov 2006 11:07:37 +0000</pubDate>
		<dc:creator>pardese</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلامی مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[خطبات حرم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://pardese.urduhome.net/2006/11/15/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%86%d8%a7-%d8%ad%d9%82-%da%a9%da%be%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d8%a7%d9%85/</guid>
		<description><![CDATA[فضیلتہ الشیخ / صلاح البدیر ۔ حفظہ اللہ حمد و ثناء کے بعد صحت و عافیت کی دولت : مسلمانو ! اللہ تعالی کی عطاؤں اور نوازشوں میں سے بہترین عطا دولت ایمان و تقوی ھے ۔ اور اہل تقوی کو دولت و سرمایہ بھی مل جاۓ تو مضایقہ نہیں لیکن صحت و تندرستی اہل [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>فضیلتہ الشیخ  /  صلاح  البدیر ۔ حفظہ اللہ</center></p>
<p>حمد و ثناء کے بعد</p>
<p>صحت و عافیت کی دولت :</p>
<p>مسلمانو ! اللہ تعالی کی عطاؤں اور نوازشوں میں سے بہترین عطا دولت ایمان و تقوی ھے ۔ اور اہل تقوی کو دولت و سرمایہ بھی مل جاۓ تو مضایقہ نہیں لیکن صحت و تندرستی اہل تقوی کے لیے دولت و سرمایہ داری سے بہتر ھوتی ھے ۔ تھوڑی دولت اور امراض و گناھوں سے عافیت رہے تو یہ اس بکثرت پونجی سے ہزار درجہ بہتر ھے جسکے نتیجے میں آدمی غافل ھو جاۓ اور ظلم و گناہگار کو اسکا مال و دولت ( اور اولاد ) کوئی کام نہ دیں گے ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ھے :</p>
<p>&#8221; اور جب وہ ( جہنم کے گڑھے میں ) گرے گا تو اسکا مال اسکے کچھ بھی کام نہیں آۓ گا ۔&#8221; (اللیل ۔١١ )</p>
<p><span id="more-347"></span><br />
قناعت و تونگری نفس :</p>
<p>دولت مندی و سرمایہ داری کوئی دنیا کے مال و متاع کی کثرت کا نام نہیں ھے بلکہ اصل دولت مندی اور حقیقی سرمایہ داری تو نفس کی تونگری ھے ۔ جس میں طمع و لالچ شدید ھوگیا اسکی گردن کا ٹوٹنا قریب آ گیا ۔ جس نے اس چيز کی طرف اپنی آنکھیں لگائيں جو کہ اسکے اپنے ہاتھ میں نہیں وہ جلد ہی خائب و خاسر اور مایوس و نامراد ھو گا اور اس پر حزن و ملال چھا جاۓ گا ۔۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ھے :</p>
<p>&#8221; جو شخص مسلمان ھو گیا اور اسے حسب حاجت ر‍زق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ عطا فرمایا اس پر قناعت کرنے کی توفیق دے دی وہ فوز و فلاح پا گیا ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>لین دین کے قواعد و ضوابط :</p>
<p>مسلمانو ! لین دین اور معاملات کے قواعد و ضوابط اور تبادلوں کا بیع و شراء یا خرید و فروخت کے ارکان جن پر اکثر احکام کی بنیاد ھے اور انہی پر تمام فیصلہ کرنے والوں کا اعتماد ھے ، ان میں سے ایک قاعدہ و ضابطہ اور رکن سب سے زیادہ جاننے والے بادشاہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ھے :</p>
<p>&#8221; اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھاؤ ، ہاں آپس کی رضاءمندی سے تجارت کا لین دین ھو ( تو جا‏ئز ھے ) اور اپنے آپ کو قتل و ہلاک نہ کرو بےشک اللہ تعالی تم پر بہت ہی مہربان ھے ۔&#8221; ( النسآء ۔٢٩ )</p>
<p>اسی سلسلہ میں دوسرا ارشاد الہی یہ ہے :</p>
<p>&#8221; اور ایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ اسے (بطور رشوت) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور ( اسے) تم جانتے ھو۔&#8221;(البقرہ:۔١٨٨ )</p>
<p>آبرو ، مال اور خون مسلم کی حرمت :</p>
<p>مسلمان کے بھائی ( دوسرے مسلمان ) کی حرمت بھی خود اسکے اپنے نفس جیسی ہی ھے ۔ اس کے لیے یہ ہر گز جائز نہیں کہ شرعا حرام کیۓ گۓ طریقے سے اسکا مال کھایا جاۓ یا کسی ایسے باطل طریقے سے اسکا مال اینٹھ لے جس میں اسکا کوئی فائدہ نہ ھو ۔ کیونکہ دینی اخوت و بھائی چارگی کا یہی مطالبہ اور انسانی شفقت و محبت کا یہی تقاضا ھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8220;تمہارے خون ، اموال اور آبروئيں ایک دوسرے کے لیے حرام ہیں ۔&#8221; ( متفق علیہ )</p>
<p>اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>مسلمان کا خون ، اسکی آبرو اور اسکا مال دوسرے مسلمان کے لیے حرام ھے ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>نہ دھوکہ دہی نہ دغابازی :</p>
<p>نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عداء نامی طویل العمر صحابی رضی اللہ عنہ کےہاتھوں جب کوئی غلام یا کنیز بیچی تو اسے یہ تحریرلکھ کر دی :</p>
<p>&#8221; عداء بن خالد بن ھوذہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم ) سے غلام یا کنیز خریدی ھے اور یہ ایسی ہی بیع و شراء ( خرید و فروخت ) ھے جو دو مسلمانوں کی آپس میں ھوتی ھے ۔ اس غلام میں کوئی عیب و بیماری ،دھوکہ دہی و دغابازی اور حرام فروشی نہیں ھے ۔&#8221; ( صحیح بخاری ، تعلیقا اور ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ موصولا )</p>
<p>اس غلام میں کوئی عیب و بیماری نہیں ھے ، اس میں کوئی دھوکہ دہی و دغا بازی نہیں ھے اور نہ ہی اس میں کوئی حرام فروشی و ضرر ھے ۔ اس میں کوئی ایسا عیب نہیں جسے چھپایا گیا ھو نہ ہی فجور و دغابازی ھے اور نہ ہی کوئی حیلہ سازی کہ جس سے خرید کا مال تلف ھو جاۓ نہ ہی اس میں دھوکہ دہی کا کوئی شائبہ پایا جاتا ھے ۔ اور نہ ہی میٹھی و نرم گفتگو سے دل موہ کر خریدار کو بیوقوف بنایا یا پھنسایا گیا ھے بلکہ ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے ساتھ خرید و فروخت ھے جس میں عدل و انصاف کے وجود کا شعور و احساس ھوتا اور لین دین میں کمی بیشی سے پہلو تہی کی جاتی ھے ۔</p>
<p>طمع و لالچ کے مارے ھوۓ لوگ :</p>
<p>مسلمانو ! طمع کے مارے ھوۓ لالچی لوگوں نے دوسرے کمزور لوگوں کے مال و متاع پر قبضہ جمانے کے لیے مکر و فریب ، غدر و خیانت اور دھوکہ و دغا پر مشتمل کئ طریقے اختیارکر رکھے ہیں ۔انہی طریقوں سے وہ فقراء و مساکین کے حقوق غصب کرتے ہیں اور گڈریوں چرواھوں اور سادہ لوح سیدھے سادے لوگوں کے اموال بھی چٹ کر جاتے ہیں جو کہ ضرورت و مجبوری کے ہاتھوں ذلیل و پست ھو چکے ہیں اور بھوک و فاقہ کشی نے انہیں لاچار کر رکھا ھے ۔ ان نادار و فقر لوگوں نے انکے بارے میں حسن ظن سے کام لیا اور ان چالاک و چابکدست لوگوں سے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نان جویں کی خواہش کی مگر وہ انکے بچھاۓ ھوۓ جال میں پھنس گۓ ۔ لیکن جب برتن کے منہ سے ڈھکنا اٹھا اور بھید سے پردہ اٹھا تو غدر و خیانت اور دھوکہ و فریب کاری کی علامتیں نظر آگئيں ۔ ان لوگوں کو ایسے طمع و حرص نے ہلاک کر رکھا ھے جنکی موجودگی میں عفت و پاکدامنی اختیار ہی نہیں کرسکتے ۔ اللہ کے خوف سے بے خطر ھو کر وہ مال و دولت کی رغبت میں لگے ھوۓ ہیں عقود و معاہدات توڑے جاتے ہیں ، عہد شکنی کی جاتی ھے ۔ مال پیش کرنے اور مارکیٹنگ کرنے میں دھوکہ دہی سے بچنے کا سوچا بھی نہیں جاتا اور نہ ہی جعلسازی و فریب کاری سے احتراز کیا جاتا ھے ۔ انکے انداز انتہائی مکارانہ اور انکے طریقے سراسر فاجرانہ ھوتے ہیں ۔ وہ انداز و طریقے جو کہ تلف و ضیاع والے اور ایسا مکر و فریب جو کہ مہلک و تباہ کن ھو ، شیئرز ، تجارت ، ریئلی اسٹپسٹ ، انویسٹمنٹ و سرمایہ کاری بچت سکیم اور محفوظ ذخائر کے ہر آب و تاب سے چھینا چھپٹی اور سلب و نہب یا چوری و ڈاکہ زنی کی جاتی ھے ۔ کسی لئیم و ملعون شخص سے ہلاکت و برائی کے سوا توقع ہی کیا کی جا سکتی ھے ۔ رسول ہدایت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ھے :</p>
<p>&#8221; لوگوں پر ایسا وقت ضرور آۓ گا کہ جس میں آدمی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے جو مال حاصل کیا ھے یہ حلال طریقے سے اسے ملا ھے یا حرام سے ۔&#8221; ( صحیح بخاری )</p>
<p>لالچ و طمع کی ہلاکتیں :</p>
<p>مال کی حرص و لالچ اور طمع اپنے اندر بہت سارے خطرات ، ہلاکتیں اور پرخار راہیں رکھتا ھے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; وہ دو بھیریۓ جو بھوکے ھوں اور انہیں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جاۓ وہ اتنی تباہی و بربادی نہیں کرتے جتنی اپنے دین کی تباہی وہ آدمی کرتا ھے جو مال و منصب کے طمع و لالچ میں مبتلا ھو ۔&#8221; ( ترمذی ، مسند احمد )</p>
<p>بروز قیامت غدار کا جھنڈا :</p>
<p>اے وہ شخص جس نے مٹھی بھر مال کی خاطر اپنے دین کو بیچ دیا ! اے وہ شحص جس نے ناحق وباطل طریقے سے ، مکروفریب کے ساتھ اور حیلہ سازی و دھوکہ دہی سے لوگوں کا مال کھایا ! اس ھولناک دن کو یاد رکھو جسے بڑی پیشی کا دن کہا جاتا ھے اللہ کبیر و عالی مقام کے حضور دست بستہ کھڑے ھونے کو یاد کرو ۔ اس دن کو یاد کرو جب خرید و فروخت اور دولت و تجارت کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے ۔ اس دن کو یاد رکھو جب بیڑیوں میں باندھ کر پابند سلاسل کر دیا جاۓ گا۔ حدیث میں صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ھے :</p>
<p>&#8221; قیامت کے دن ہر غدار کا جھنڈا ھو گا ۔&#8221;  اور کہا جاۓ گا کہ یہ جھنڈا فلاں شخص کی غداری کا نشان ھے ۔&#8221; (اس حدیث کا  جزء اول تو صحیح مسلم ، مسند احمد میں ھے ۔ جبکہ دوسرے حصے  کے الفاظ مختلف روایات میں مختلف ہیں ۔ )</p>
<p>حرام ذرائع آمدن :</p>
<p>حسرت و افسوس ھے اس شخص پر جس نے آگ خرید لی اور اس ذات جبار کا غضب و غصہ مول لے لیا اور یہ سب صرف اس دنیا کی معولی پونجی کے عوض جو کہ زائل و ختم ھونے اور جلد ہاتھوں سے نکل جانے والی ھے ۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ھےکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:</p>
<p>&#8220;جوگوشت اور خون حرام سے پرورش پاۓ گا اسکے لیے جہنم کی آگ ہی اولی ھے۔&#8221;(سنن ترمذی)</p>
<p>وہ لوگ اس حدیث سے کہاں جائيں گے جنکے گوشت بڑھ کر انکی ہڈیوں پر جوۓ ( قمار ) کی حرام کمائی سے چڑھتے ہیں ، کہانت کی کمائی ، جادوگری ، ٹیوے لگانے اور شعبدہ بازی کے معاوضہ پر پروان چڑھتے ہیں ، کسبی و فاحشہ عورتوں کی کمائی اور گویہ و رقاصہ عورتوں کی کمائی سے بڑھتا ھے ۔ جن چيزوں کی خرید و فروخت ہی حرام ھے جیسے تمباکو اور اسکی تمام مصنوعات ، شراب و منشیات ، سیٹلائیٹ کی ڈشیں وغیرہ ۔ اس طرح چوری چکاری ۔ غصب ، خردبرد ، دوسروں کی حق تلفی اور اموال تجارت کے عیوب چھپانے کے نتیجہ میں حاصل ھونے والی آمدن بھی ھے۔ مال کی قیمتوں سے کھیل کر پیسہ بنانا ، ملاوٹ و جعلسازی کرنا ، دھوکہ دہی و فریب کاری اور ناپ و تول میں کمی بیشی کرنا بھی انہی ذرائع حرام میں سے ھے ۔ سودی کاروبار کرنا جس میں ظالمانہ حد تک سود اور فحش حد تک اضافہ حاصل کیا جاتا ھے یہ سب بھی سراسر حرام ھے۔ یتیموں کا مال کھانا،اوقاف (وقف) اور وصیت کردہ اموال ہڑپ کر جانااوررشوت ستانی سے مال حاصل کرنا بھی سراسرحرام ھے ۔</p>
<p>اسباب ہلاکت :</p>
<p>آج کی یہ مادی دنیا لالچ و طمع ، مکروفریب اور انانیت و خود پسندی سے بھری ھو‏ئی ھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا :</p>
<p>&#8221; مجھے اللہ کی قسم ھے ! میں تم پر فقر و ناداری آ جانے سے نہیں ڈرتا ھوں بلکہ مجھے تو اس بات کا ڈر ھے کہ تمہارے لیے دنیا کے دروازے کھول دیۓ جائيں گے جس طرح کے پہلے لوگوں کے قدموں پر دنیا ڈھیر کر دی گئ تھی اور تم بھی اسے جمع کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے میں لگ جاؤ گے جیسے کہ پہلے لوگ اس میں جٹ گۓ تھے اور یہ تمہیں بھی اس طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کر کے رکھ دیا تھا ۔&#8221; ( متفق علیہ )</p>
<p>دعائیں غیر مقبول :</p>
<p> مسلمانو ! حرام کھانے والا اللہ کے دربار سے دھتکارا ھوا ھے اور اسکی دعائيں نامقبول ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے :</p>
<p>&#8221; نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ھے ، اسکے بال پراگندہ اور لباس غبار آلود ھے ۔ وہ آسمان کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر یارب یارب کہتا ھے جبکہ اس کا کھانا حرام ھے ، اسکا پینا حرام ھے ، اسکا لباس حرام ھے اور اسے غذاء حرام سے دی گئ ۔ اسکی دعائیں کہاں قبول ھونگی ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>حقیقی مفلس :</p>
<p>اے وہ لوگو جو کہ حساب و عقاب اور سزاء و عذاب سے بےفکر ھو چکے ھو اور اس جنگل کی دنیا میں پس رہے ھو ۔ تمہارے ہر فعل کے بارے میں قیامت کے دن فیصلہ صادر کیا جاۓ گا ۔ بڑا باریک بینی سے حساب کتاب ھو گا ، جوابدہی اور غضب و عتاب ھو گا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; کیا تم جانتے ھو کہ مفلس و غریب کون ھے ؟ &#8221; صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ہمارے مابین مفلس و فقیر وہ ھے جس کے پاس درہم و دینار اور مال و متاع نہ ھو ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں درحقیقت مفلس وہ ھے جو قیامت کے دن اس حال میں آۓ گا کہ اسکے نامہ اعمال میں نماز ، روزہ اور زکوہ  جیسے اعمال تو ھونگے مگر وہ اس طرح آۓ گا کہ اس نے اس آدمی کو گالیاں دی ھونگی ، اس شخص پر بہتان باندھا ھو گا ، اسکا مال ناحق کھایا ھو گا ، اسکا خون بہایا ھو گا اور اسے زد و کوب کیا(مارا) ھو گا ۔ اسکی نیکیوں میں سے کچھ اسے دی جائيں گی اور باقی دوسرے لوگوں کو ۔ اور اگر لوگوں کے حقوق پورے ھونے سے پہلے ہی اسکی نیکیاں ختم ھو گئيں تو ان باقی لوگوں کے گناہ و خطائيں لے کر اسکے حصے ( نامہ اعمال ) میں ڈال دیۓ جائيں گے پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جاۓ گا ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>جھوٹے دعوے اور جھوٹی قسمیں :</p>
<p>مسلمانو ! حاکم و قاضی کے فیصلے کا دارومدار دو باہم جگھڑنے والوں کے ظاہری کلام اور مدعی و مدعی علیہ کے دلائل و براہین پر ھوتا ھے ۔ اسکا کسی کے باطنی حالات سے کوئی تعلق نہیں ھوتا کیونکہ باطنی و پوشیدہ امور کا اسے کوئی علم نہیں ھو سکتا ۔ لہذا وہ باطن پر اپنا فیصلہ صادر و نافذ نہیں کرتا ۔ کوئی حرام چیز کسی قاضی کے فیصلے یا حاکم کے حکم سے حلال نہیں ھو سکتی ۔ چنانچہ حضرت امہ سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; تم اپنے جگھڑے میرے پاس فیصلہ کے لیے لاتے ھو اور ھو سکتا ھے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل و ثبوت پیش کرنے میں اپنے مدمقابل سے زیادہ چالاک و تیز ھو اور ( اسکی چرب لسانی کے نتیجہ میں) میں اسکی بات سن کر اسکے مسلمان بھائی کے حق سے کچھ اسے دلا دوں ( تو یہ اسکے لیے حلال نہیں ) اسے چاہیۓ کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ میں نے اسے نار جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ھے ۔&#8221; ( متفق علیہ )</p>
<p>ویل و ہلاکت ھے اس شخص کے لیے جس نے جھوٹے دعوؤں اور جعلی دلیلوں کے ذریعے اپنے کسی مسلمان بھائی کا مال کھایا۔ اے وہ شخص جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال اینٹھا ۔ اے سخت دن کی گناہ میں مبتلا کر دینے والی قسمیں کھانے والے ! تم نے اتنی بڑی بڑی اور بھاری قسمیں کھائی ہیں کہ جنکا بوجھ پہاڑ بھی نہ اٹھا سکیں ، وہ قسمیں کہ جنکا بوجھ مردوں کی گردنیں توڑ کر رکھ دے ، جو جان بوجھ کر کھانے والوں کی زندگی کو تباہ اور اسکی عمر کو فنا کرکے رکھ دیں ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; جس نے کسی مسلمان شخص کا حق جھوٹی قسم اٹھا کر چھین لیا ، اس کے لیے اللہ نے نار جہنم واجب کر دی اور اس پر جنت حرام کر دی ۔&#8221;</p>
<p>ایک آدمی نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم!  اگرچہ وہ چيز معمولی سی ہی کیوں نہ ھو ؟ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی شاخ ( مسواک ) ہی کیوں نہ ھو ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>جبکہ صحیح بخاری و مسلم میں ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8220;جس نے جان بوجھ کر ایسی جھوٹی قسم کھائی جس کے نتیجے میں وہ کسی مسلمان شخص کا مال کاٹ کھاۓ وہ اللہ کو (قیامت کے دن) اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرغضبناک ھوگا۔&#8221;(بخاری ومسلم )</p>
<p>حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :</p>
<p> ایک آدمی ( یمن کے ایک شہر) حضرت موت سے اور دوسرا کندہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت مین حاضر ھوا ۔ حضرمی نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! یہ شخص  (کندی ) میری زمین پر غاصبانہ قبضہ کر چکا ھے جو کہ میرے والد کی تھی (اور مجھے وراثت میں ملی) ۔ کندی نے کہا : وہ زمین میرے ہاتھ میں ھے میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ھوں اور اسکا اس میں کوئی حق نہیں ھے ۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حضرمی سے مخاطب ھو کرفرمایا:</p>
<p>&#8221; کیا تمہارے پاس ( تمہارے اس دعوے کی صداقت پر ) کوئی دلیل ھے ؟ &#8221; اس نے عرض کیا : نہیں  ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; تمہارے لیے اسکی قسم لینا ھے ۔&#8221; اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! یہ فاجر و گناہگار آدمی ھے اسے کسی چيز کے لیے قسم کھانے کی کوئی پرواہ نہیں ھے اور نہ ہی یہ کسی چيز کے معاملہ میں ورع و تقوی اختیار کرتا ھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:</p>
<p>&#8221; اب وہ آدمی قسم کھانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسکے پلٹنے پر فرمایا :</p>
<p>&#8221; اگر اس نے اس کے مال کو ناحق کھانے کے لیے قسم اٹھا لی تو یہ قیامت کے دن اللہ تعالی سے یقینا اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے اعراض کرنے والا ھو گا ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>اے جھوٹی قسمیں کھانے والے ! تجھے ذلت و رسوائی ، ناامیدی و نامرادی ، خسارہ و نقصان اور قلت و تباہی کا سامنا ھے ۔ اے وہ لوگو ! جو جھوٹی گواہی کے ذریعے لوگوں کے حقوق و اموال ضائع کرتے ھو اور تمہاری گواہی کذب و فجور پر مشتمل ھوتی ھے ۔ تمہارے لیے اس دن ویل و ہلاکت ھے جب صور پھونکا جاۓ گا ۔ تمہارے لیے اس دن ویل و ہلاکت ھے جس دن قبروں میں مدفون لوگوں کو اٹھایا جاۓ گا۔اس دن بھی تمہارے لیے ویل و ہلاکت ھو گی جب سبکے سینوں میں مدفون راز اگلو دیۓ جائيں گے ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ھےکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; کیا میں تمہیں کبیرہ گناھوں میں سے بڑے گناھوں کی خبر نہ دوں ؟ &#8221;  ہم نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! ضرور دیحیۓ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : &#8221; اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ۔&#8221; اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم ٹیک لگاۓ ھوۓ تھے اب سیدھے ھو کر بیٹھ گۓ اور فرمایا : &#8221; خبردار ھو جاؤ ! اور جھوٹی بات ( و گواہی ) ۔&#8221; نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کو بار بار دہراتے گۓ یہاں تک کہ ہم نے کہا : کاش ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش ھو جائيں ۔&#8221; ( متفق علیہ ) ۔</p>
<p>ملازمین اور غلاموں کے حقوق :</p>
<p>اے ملازمین کی تنخواہیں نہ دینے والو ! اے مزدوروں کے حقوق کم کر کے دینے والو ! کیا تمہارے دلوں سے شفقت و ررافت چھین لی گئ ھے ؟ اور تمہارے سینوں سے رحم و کرم کا جذبہ رخصت ھو چکا ھے ؟ حتی کہ تم نےحادثات میں ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں والے شخص اور حسرتوں میں مبتلا آدمی کا حق بھی کھا لیا ۔ مظلوم و فقیر کو بھی معاف نہ کیا اجیر کا حق بھی مار گۓ جبکہ تھکاوٹ و پسینے  نے اسکے بدن کو کوٹ کر رکھ دیا ھے ۔ اسکی بیوی چلا رہی ھے ، اسکا بچہ بلبلا رہا ھے اسکا مریض و بیمار سسکیاں لے رہا ھے ۔ اے ظالمو ! تم برباد ھو جاؤ ، اے جور و جفا کرنے والو تم اللہ کی رحمتوں سے دور ھو جاؤ ، اے مکارو فریبی لوگو تمہارے لیے رحمت الہی سے دوری ھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : &#8221; تین لوگ ایسے ہیں کہ قیامت کے دن انکے خلاف مدعی میں ھوں گا ۔ ایک وہ شخص جس نے میرے نام سے کسی کے ساتھ عہد و معاہدہ کیا اور پھر غدر و عہدشکنی کی ۔ اور ( دوسرا) وہ شخص جس نے کسی آزاد کو ( غلام بنا کر ) بیچ ڈالا اور اسکی قیمت کھا گیا ، اور ( تیسرا ) وہ شخص جس نے کسی کو اجرت پر کام لگایا اور اس سے پورا کام کروا لیا مگر اسے اسکی اجرت و مزدوری نہ دی ۔&#8221; ( صحیح بخاری )</p>
<p>اے اللہ کے بندے ! تو ان لوگوں میں سے مت ھو جو ظلم و ستم اور جود و جفا کرتے ہیں اور حق تلفیاں کرتے اور جھگڑالو ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8221; اجیر و مزدور کو اسکی اجرت و مزدوری اسکا پسینہ خشک ھونے سے پہلے ادا کر دو ۔&#8221; ( ابن ماجہ)</p>
<p>دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; وہ تمہارے بھائی اور غلام ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں آپ کے زیردست کیا ھے ۔ پس جسکا کوئی بھائی اسکے زیردست ھو اسے چاہیۓ کہ وہ اسے وہی کھلاۓ جوخود کھاۓ اور اسے ویسا ہی کپڑا پہناۓ جیسا کہ خود پہنے اور انہیں انکی طاقت سے زیادہ کام پر مامور نہ کریں اور اگر کسی ایسے کام پر لگا ہی دیں تو خود بھی انکی مدد و تعاون کریں ۔&#8221; ( متفق علیہ )</p>
<p>ناحق مطالبہ :</p>
<p>اے اللہ کے بندے ! جب تمہیں معلوم ھے کہ تم کسی معاملہ میں غلط بلکہ ظالم ھو تو وہ معاملہ کورٹ ، کچہری یا منصف کے پاس نہ لے جاؤ اور جب تم جانتے ھو کہ حقیقی دلائل تمہارے خلاف ہیں تو اپنی بودی لبلیں کیوں دیتے ھو اور جب کسی چيز پر تمہارا حق نہیں ھے تو تم اسکا مطالبہ ہی نہ کرو۔ ایسے ذرائع سے حاصل شدہ کمائیاں حرام ھوتی ہیں ۔ انکی بنیادیں خبیث و ناپاک ھوتی ہیں اور وہ خير و برکت سے سراسر خالی ھوتی ہیں ۔ ایسے مال سے حاصل شدہ ہر لقمہ حرام ، سدا کے لیے گلے کی پھانسی اور ہمیشہ کے  لیےحسرت انجام ھوتا ھے ۔</p>
<p>برکات حلال اور ثمرات صبر :</p>
<p>اسکے برعکس تھوڑا سا بھی مال حلال ھوا تو وہ ایسا ذخیرہ ھے جو کبھی ختم ھونے والا نہیں ھے، اسکی برکت بڑھتی چلی جاتی ھے اور اس میں اضافہ ھوتا جاتا ھے ۔ اے اپنے مال کے ذریعے آزماۓ جانے والے ! اپنے اجر و ثواب کو برباد نہ ھونے دو اور نہ ہی اپنے رب کا غصہ و ناراضگی مول لو ۔ مصیبت پر صبر کرو اور عطیہ نعمت پر شکر بجا لاؤ۔مصیبت دورھو جاۓگی اور صبر کا پھل تمہیں مل جاۓ گا اورکوئی بلاء وامتحان سخت ھوا تو وہ صبر وہمت کا فائدہ دےگا ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; اور ہم کسی قدر خوف و بھوک دے کر ، اور جان و مال اور پھلوں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ آپ صبر کرنے والوں کو ( رضاء الہی کے حصول کی ) بشارت دے دیں ۔ ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ھوتی ھے تو کہتے ہیں : (( انا للہ وانا الیہ راجعون )) &#8221; ہم اللہ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔&#8221; یہی لوگ ہیں جن پر انکے رب کی مہربانی اور رحمت ھے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں ۔&#8221;( البقرہ ۔١٥٥ ، ١٥٧ )</p>
<p>مسلمانو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اسے اپنے ہر قول و فعل کا نگران مانو ، اسکی اطاعت کیا کرو اور اسکی نافرمانی نہ کرو ۔ ارشاد الہی ہے :</p>
<p>&#8221; اے ایمان والو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو ۔&#8221; ( التوبہ ۔١١٩ )</p>
<p>قرض : دخول جنت میں رکاوٹ :</p>
<p>مسلمانو ! لوگوں سے قرضہ لینے سے خبردار رھو الا یہ کہ کوئی واقعی ضرورت اور سخت حاجت ھو اور یہ بات آپ کے علم میں رہنی چاہیۓ کہ مقروض و مدیون شخص اپنے قرض کا مرھون اور اپنے ذہن تلے دبا رہتا ھے جب تک کہ وہ اسے ادا نہ کر لے ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :</p>
<p>&#8221; ایک آدمی کھڑا ھوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! کیا فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کہ اگر میں اللہ کی راہ میں لڑتا ھوا شہید ھو جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ معاف ھو جائيں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : &#8221; ہاں ! بشرطیکہ تم صبر کرنے والے اور اللہ سے اجر و ثواب کی نیت رکھتے ھوں ، دشمن سے سامنا کرتے وقت شہادت پائيں نہ کہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ھوۓ مارے جائيں البتہ قرض معاف نہ ھو گا ۔ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتائی ھے ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>ایک اور حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :</p>
<p>&#8221; مومن کی جان اسکے قرض کے ساتھ لٹکتی رہتی ھے ( وہ جنت میں نہیں جا سکتا ) جب تک کہ اسکی طرف سے اس کا قرض ادا نہ کر دیا جاۓ ۔&#8221; ( ترمذی )</p>
<p>مقروض و تنگدست کو ڈھیل دینا :</p>
<p>مسلمانو ! جس نے کسی تنگدست کو ڈھیل اور مقروض و مدیون کو مہلت دی یا اسکا قرض معاف کر دیا یا کچھ کم کر دیا تو ملاقات کے دن ( بروز قیامت ) وہ شخص عرش الہی کے ساۓ میں ھو گا ۔ چنانچہ حضرت ابو یسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ان دو آنکھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ھے اور یہ کہتے ھوۓ انہوں  نے اپنی دو انگلیاں اپنی دونوں آنکھوں پر رکھیں اور میرے ان دو کانوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ھے اور میرے اس دل نے اسے یاد کر لیا ھے اور یہ کہتے ھوۓ انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ھے : &#8221; جس نے کسی تنگ دست کو مہلت و ڈھیل دی یا اسے قرض معاف کر دیا اسے اللہ اپنے عرش کے ساۓ تلے جگہ دے گا ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :</p>
<p>&#8220;ایک آدمی لوگوں کو ادھار دیا کرتا تھا اور وہ اپنے غلام سے کہا کرتا تھا :جب تم کسی تنگدست کے پاس تقاضاۓ قرض کے لیے آؤ تو اسے معاف کر دیا کرو شائد اسکے نتیجہ میں اللہ ہمیں بھی معاف فرما دے۔وہ آدمی ( وفات پانے کے بعد) اللہ سے ملا تو اللہ نے بھی اسے معاف کر دیا ۔&#8221; ( صحیح مسلم )</p>
<p>مسکین و ضعیف اور ضعیف و کمزور پر ترس کھایا کرو ۔ اللہ تعالی رحمان و لطیف ( رحم و کرم کرنے والا اور باریک بین ) آپ پر ترس کھاۓ گا اور معاف کر دے گا ۔</p>
<p>وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین</p>
<p>سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://pardese.urduhome.net/2006/11/15/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%86%d8%a7-%d8%ad%d9%82-%da%a9%da%be%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

