Google

رعنائی یا حسن و زیبائی اور فن

فضیلتہ الشیخ / صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ

حمد و ثناء کے بعد
لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔

فریب دنیا اور کامیابی :

تعجب ھے اس شخص پر جو اس دنیا اور اسکے انقلابات کو دیکھ سمجھ لے اور پھر بھی اس سے فریب کھا جاۓ ۔ کیا وہ خي و شر اور نافع و خسارہ میں فرق نہیں کر سکتا ؟ لوگوں کے دل انہیں گھمانے والی ذات باری تعالی کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے اور وقت کو نیک اعمال میں صرف کرنے کو غنیمت کیوں نہیں سمجھتے اور دلوں کی بیماریوں سے صحت و عافیت کیوں نہیں پاتے اور امانت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے ۔ اپنی ہمتوں کو خیر و بھلائی کے کاموں کی طرف حرکت دیں اور اپنے عزائم کو جدوجہد پر آمادہ کریں اور فقراء و ناداروں اور مساکین و محتاجوں کی ضروریات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں کیونکہ ارشاد الہی ہے :

” تم اس وقت تک نیکی و ثواب ہر گز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی محبوب و پسندیدہ چيز سےخرچ نہ کرو گے ۔” (آل عمران ۔٩٢ )

دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ھے :

” جو اپنے نفس کے بخل سے بچ گۓ وہی فلاح و کامیابی پانے والے ہیں ۔” ( الحشر ۔٩ )

اسلام = دین فطرت و بشریت :

مسلمانو ! اسلام دین فطرت ھے ۔ اس سے ہر زمانے میں اصلاح اور ہر جگہ تعمیر ممکن ھے ۔ یہ دین عقیدہ و شریعت ، دین تہذیب و تربیت ، دین سلوک و کردار ، دین حق و جمال اور دین وراثت و معاصرت ہے ۔ یہ زندگی کے تمام معاملات کو سلجھاتا ہے ۔ یہ کسی بھی زمانے میں توقف نہیں کرتا بلکہ اس میں جدت پیدا ھوتی رہتی ہے تاکہ یہ ہر زمانے کے حالات کو سدھار ے اور ہر معاملہ میں فتوی و فیصلہ دے ۔ یہی وجہ ہے اسلام ایسا دین نہیں کہ وہ بشری نفوس کی خواہشات و جذبات سے چشم پوشی کر ے یا اس کی جبلت و فطرت کے مختلف حالات مثلا اہتمام و اقبال ، ادبار و فرار ، جد و جہد ، سستی و کاہلی ، کد و کاوش کے لۓ نشاط و تازگی ، پژمردگی ، انشراح صدر اور تنگدلی کو مدنظر نہ رکھے ۔

نیت صحیح ۔ ۔ ۔ تو ہر کام عبادت :

اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اور ان کے خصائص و طبیعتیں بنائيں اور زندگی و کائنات میں جو چاہا بنا کر پھیلا دیا اور اس کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لۓ مسخر و زیردست کر دیا ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کو معلوم ہے کہ یہ بشر ہیں ان کے دلوں میں کچھ شوق ہیں ، ان کے نفوس کے کچھ حظوظ و مطالبات ہیں اور ان کی انسانی طبیعتیں ہیں ۔ لھذا اسلامی احکام و اوامر ایسے نہیں کہ وہ ان کے سارے کلام کو ہی ذکر الہی بنا دینے ، ان کی تمام تر خاموش گھڑیوں کو فکر و تدبر کر دینے ، اس کی سوچ بچار کو عبرت بنا دینے اور ان کی تمام تر فراغت و فرصت کو عبادت بنا دینے کا مطالبہ کرتے ھوں لیکن اللہ نے انہیں اس بات کی قدرت بخشی ہے کہ اگر وہ قرب الہی کی نیت اور خلوص دل سے یہ کام سر انجام دیں اور کام بھی صحیح ھوں تو ان کے وہ تمام اعمال ہی ذکر الہی ، فکر و تدبر ، عبادت اور عبرت بن جائيں ۔

مطالبات فطرت اور اسلامی آداب :

دین اسلام نے ان تمام اشیاء کو برقرار رکھا ہے جنھیں فطرت انسانی چاہتی اور جن کا مطالبہ کرتی ہے مثلا سرور و فرحت ، کھیل کود ، ہنسی مذاق اور شوق و جمال وغیرہ لیکن ان تمام چیزوں کو ان بلند اسلامی آداب کی باڑ کا پابند کر دیا ہے کہ اگر ان آداب کا خیال رکھا جاۓ تو ان مطالبات سے کمام درجہ استفادہ اور غایت درجہ تفریح طبع کی جا سکتی ہے جبکہ ان آداب کی بدولت ہی بدگوئی و حرام کاری ، ظلم و زیادتی ، بغض و نفرت اور مبادیات و اخلاق کی تباہی سے دور رہ کر بھی مذکورہ فطری امور سے لطف اندوز ھوا جا سکتا ہے ۔

جمال فطرت سے استفادہ و لطف اندوزی :

اللہ نے ھمارے لۓ کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں اور ھمیں کن کن عطاؤں سے نواز رکھا ، ھمارے لۓ کیا کیا کچھ مسخر و زیردست کر رکھا ہے اور ھمارے لۓ اپنے نفوس میں ، اپنی زمین میں اور اپنے آسمان میں کیا کیا قوانین و شرائع مقرر فرماۓ ہیں اور ھمارے گرد و پیش کی ہر چيز ہی ھماری دسترس میں کر دی ہے اور اللہ نے فائدہ مند چیزوں ارو مناظر قدرت سے استفادہ کرنے اور لطف اندوز ھونے کے دونوں پہلوؤں کو جمع کرتے ھوۓ ھمیں ان کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لیں ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے :

” اور چارپایوں کو بھی اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ، ان میں تمھارے لۓ ( سردیوں میں ) گرمی کا سامان ( اون ) اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ھو اور جب شام کو انہیں ( جنگل سے ) لاتے ھو اور جب صبح کو ( جنگل کی طرف چرانے ) لے جاتے ھو تو ان سے تمھاری عزت و شان ( جمال ) ہے اور ( دور دراز ) شہروں میں جہاں تم زحمت و مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے وہ تمھارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں بیشک تمھارا رب نہایت شفقت والا مہربان ہے اور اسی نے گھوڑے ، خچر اور گدھے پیدا کۓ تاکہ تم ان پر سوار ھو اور ( وہ تمھارے لۓ ) زینت و رونق ( بھی ہیں ) اور وہ ( دیگر چیزوں بھی ) پیدا کرتا ہے جن کی تمھیں خبر نہیں ہے “۔ ( النحل ۔٥ ۔ ٧ ) ۔

دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :

” بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ( کس نے ) تمھارے لۓ آسمان سے پانی برسایا ۔(ھم نے )
پھر ھم ہی نے اس سے سرسبز و خوبصورت باغ اگاۓ “۔ ( النمل ۔٦٠ )

ایک تیسرے مقام پر فرمایا :

اور ھم ہی نے آسمان میں برج بناۓ اور دیکھنے والوں کے لۓ اسے سجا دیا “۔ ( الحجر ۔١٦) ۔

بلکہ ھمیں حکم دیا گیا کہ ھم ہر جمال مناظر قدرت اور پکے ھوۓ پھلوں کو دیکھیں اور فکر و تامل اور غور و تدبر کریں ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

” کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ ھم نے اسے کس طرح بنایا اور اسے کیسے مزین کیا اور اس میں کہیں شگاف نہیں “۔ ( ق ۔٦ ) ۔

ایک جگہ اللہ تعالی نے فرمایا :

” ( ان چیزوں کے پھل لانے کے وقت ) ان کے پھلوں پر اور ( پکتے وقت ) ان کے پکنے پر نظر ڈالو “۔ ( الانعام ۔٩٩) ۔

دوسرے مقام پر ارشاد ہے :

” اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ھوتے ہیں “۔ ( ق ۔١٠ ) ۔

ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالی ہے :

” کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے ( عجیب ) پیدا کۓ گۓ ہیں اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گيا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کۓ گۓ ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے ؟ “۔ ( الغاشیہ ۔١٧ ۔ ٢٠ ) ۔

اختیار زینت و جمال کا حکم :

یہ نظر اور تفکر و تدبر ایمان و فائدہ ، اور جمال و زینت کے جامع ہیں بلکہ بنی آدم کو زینت کے اختیار کرنے کا اور خصوصا اوقات عبادت کے لۓ خوب بننے سنوارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : ” اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو خوب مزین کیا کرو “۔ ( الاعراف ۔٣١ ) ۔

١ ۔ ستر و پوشی میں حسن و جمال اور رعنائی :

اللہ کے بندو ! اس باب میں مزید فکر و تامل اور تفصیل جاننے کے لۓ دیکھیں کہ بنی آدم کی دو چیزیں
شرمگاہ ہیں اور وہ دونوں ہی ستر و پردہ کی ضرورتمند ہیں بلکہ ان کے ستر میں بھی انتہائی جمال اور خوبصورتی پائی جاتی ہے ۔ اور دونوں مقامات ستر میں سے ایک تو جسمانی شرمگاہ ہے اور اس کا ستر دو لباسوں سے ھوتا ہے ۔ ایک لباس پردہ سے اور دوسرے لبا‎س زینت سے ۔ اور دونوں کو بیان کرتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

” اے بنی آدم ! ھم نے تمھارے لۓ لباس نازل کیا جس سے تم اپنی شرمگاھوں کو چھپاتے ھو اور ( اپنے بدن کو ) زینت و رعنائی دیتے ھو اور ( جو ) پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے “۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔

پہلا لباس شرمگاہ کو چھپاتا اور ستر و پردہ کا باعث بنتا ہے اور دوسرا زیب و زینت اور حسن و رعنائی کا موجب ہے ۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ حسن و رعنائی کی تعبیر کے لۓ ریش ( پرندے کے پر ) کو اختیار کیا گیا کیونکہ تمام مخلوقات کی پوشاکوں میں سے حسین و جمیل پوشاک پرندوں کے پر ہیں جو کہ اپنے دیدہ زیب و دلکش رنگوں ، نرمی و باریکی اور جاذبیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ اور انھوں نے لکھا ہے کہ پرندوں کا پر انسانوں کے بالوں ، بھیڑ بکریوں کی اون اور اونٹ کے بالوں سے بھی نرم و نازک ھوتا ہے ، اگر چہ ان چیزوں میں بھی جمال و زیبائش موجود ہے جو کہ کسی پر مخفی نہیں ہے ۔

٢ ۔ نفس کا ستر :

انسان دوسری شرمگاہ یا مقام ستر ، نفس کا ستر ہے جسے اخلاق جمیلہ ، حسن عبادت اور اطاعت الہی کے پردے سے ڈھانپا جاتا ہے اور اسی پردہ و پوشاک یا ستر و لباس کا ذکر کرتے ھوۓ ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

” اور ( جو ) تقوی و پرہیزگاری کا لباس ( ہے ) وہ سب سے اچھا ہے “۔ ( الاعراف ۔٢٦) ۔

جمال صرف مادی اشیاء اور اجساد و اجسام میں ہی نہیں ھوتا بلکہ اخلاق میں بھی جمال پایا جاتا ہے اسی طرح صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی ) اور ہجر جمیل ( فراق ) جیسے اخلاقی امور وصفات میں جمال کا وجود معروف ہے ۔

جمال اور اسلام :

١ ۔ جمال تعبیر :

برادران و احباب کرام ! اگر دور حاضر کی اصطلاح میں ذوق جمال اور صفت جمال کو فن کا نام دیا گیا ہے تو یہ جمال دین اسلام اور اس کی اسلامی تھذیب میں صرف ذوق کے لۓ نہیں بلکہ یہ عظیم مقاصد کے لۓ مستعمل ہے ۔ جمال تعبیر یا حسن تعبیر ہر طرح کے فنون کے وسیع ترین قسم اور لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر انداز ھونے والی چیز ہے ۔ اسی طرح ان کے باھمی معاملات ، خطاب و اسلوب ، امر و نہی ، دعوت و راہنمائی اور تعلیم و تربیت کے سب میدانوں میں حسن تعبیر ایک پر اثر چیز ہے ۔ اور ھم وہ امت ہیں جن کی راہنما ان کی کتاب قرآن کریم ہے اور یہ کتاب جمال و حسن تعبیر کے اعتبار سے ھمارے لۓ نادر و بیمثال نمونہ ہے اور اس امت کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جوامع الکلم دیۓ گۓ تھے کہ چند کلمات میں آپ معانی و مضامین کے دریا بہا دیا کرتے تھے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا کرتے تھے ۔ عرض قول حسن ، وعظ حسن ، باحسن طریق جدال و مناظرہ اور احسن القصص یہ سب کلمات اہل علم اہل دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے میدانوں میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے ایک تنبیہ اور رہنمائی ھے کہ وہ اپنے اسلوب و انداز میں جاذبیت و کشش پیدا کریں اور مافی الضمیر کی تعبیر کے لیے وہ خوبصورت انداز اختیار کریں کہ جسے جمال تعبیر کہا جا سکتا ھے اور یہ کیوں نہ ھو جبکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس طرح راہنمائی کرتے ھوۓ فرمایا :

” آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لۓ نرم دل ھو گۓ اور اگر آپ سخت گفتگو و سخت دل ھوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ھوتے “۔ ( آل عمران ۔١٥٩ ) ۔ اللہ اکبر ! سبحان اللہ !

٢۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور جمال کلام :

اللہ والو ! یہ کتنا واضح اور کتنا حسن و جمال والا حکم ہے ۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سخت کلام اور سنگدل و سخت گیر افتاد طبع پاتے ۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے قطعی پاک تھے ۔ لیکن اگر آپ ایسے ھوتے تو آپ کی بات کوئی نہ مانتا بلکہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ نکلتے ۔ کیوں ؟ اس لۓ کہ لوگ رفق و نرم مزاجی ، خندہ روئی ، مسکراتے ھوۓ استقبال کۓ جانے ، اعلی اخلاق و حسن گفتگو ، حسن استماع ، جاذبیت و کشش کی فطرت پر پیدا ھوۓ ہیں اور انہی صفات کو قبول کرتے انہیں ہی چاہتے اور انہی کا احترام کرتے ہیں ۔

٣ ۔ جمال قول ، صبر جمیل اور ۔ ۔ ۔ :

معلم و مدرس ، رہبر و رھنما ، ناصح و خیر خواہ ، محتسب ، داعی و مبلغ ، قلم کار و مضمون نگار اور پڑھے لکھے تمام لوگ اس بات کے اہل ہیں اور انہیں چاہیۓ کہ وہ قول جمیل ( عمدہ بات ) ، صبر جمیل ، صفح جمیل ( معافی تلافی کا اعلی انداز ) اور ہجر جمیل ( فراق و علیحدہ کے عمدہ انداز ) کو اپنائیں ۔

فسق و فجور کوئی فن نہیں :

مسلمانو ! یہ خوبصورت جمال اور دلفریب و دلکش فن ، حق سے بالا تو ھو ہی نہیں سکتا ، نہ ہی فسق و فجور کے کاموں کو فن کا نام دیا جا سکتا بلکہ یہ ممکن و جائز ہی نہیں کہ فن اور فنی عمل ( اداکاری و فنکاری ) کے نام سے کفر و فسق اور ظلم و جور پر پردہ ڈالا جاۓ بلکہ بعض لوگ تو انتہاء پسندی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان میں سے بعض یہ تک کہنے لگے کہ : فنکار کے خلاف ان قواعد اور معیاروں کے مطابق فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا جن کے تحت دوسرے لوگوں کے بارے میں کیا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ فنکاریوں کے جمال کو دروغ گوئی و جھوٹ اخلاقیات کی تخریب و تباہی اور عمدہ عادات و اطوار کو چھوڑ کر بداخلاقی اپنانے کا ذریعہ بنایا جاۓ ۔ اور نہ ہی یہ ہرگز جائز ہے کہ جمال تعبیر کے ذریعے باطل امور کو جنم دیا جاۓ بدگوئی کھلے عام کی جاۓ اور جعل سازی کا ارتکاب کیا جاۓ ۔

وسیلۂ ممنوع بھی ممنوع ہے :

جب یہ حسن جمال اور زینت و رعنائی حق کی عمارت کو مسمار کرنے ، اخلاق اقدار کو نیست و نابود کرنے اور اخلاقیات پر دست درازی کرنے کا ذریعہ و سبب بننے لگیں تو ایسے حسن و رعنائی کو روکنا اور اس کی راہیں بند کرنا واجب ھو جاتا ہے کیونکہ ممنوع فعل تک پہنچانے والا ذریعہ و وسیلہ بھی ممنوع ہی ھوتا ہے ۔ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جو کہ پوری دنیا کی عورتوں سے زیادہ معزز و مکرم ، زیادہ اہل شرف و عظمت ، زیادہ عفت مآب اور زیادہ پاکباز تھیں ۔ انہیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اپنی آواز میں نرمی پیدا کرکے لوگوں سے باتیں نہ کریں کیونکہ یہ فعل بیمار دل والے مریض القلب لوگوں میں شر کو ابھارتا اور انہیں ممنوع امور تک پہچاتا ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

” ( تم کسی اجنبی شخص سے ) نرم نرم باتیں نہ کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض و بیماری ھو اس میں کوئی امید ( نہ ) پیدا کرے اور دستور و معروف طریقہ کے مطابق بات کیا کرو ” ۔ ( الاحزاب ۔٣٢) ۔

ستر اور شیطان :

اللہ کے بندو ! غور و تامل کا لطیف سا اشارہ اس بات میں موجود ھے جو کہ قرآن کریم نے ہمیں بتائی اور اس پر متنبہ و خبردار کیا ھے کہ شرمگاہ کو ننگا کرنے اور شیطان اور اسکے چیلوں میں ایک تعلق پایا جاتا ھے ۔ آپ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھ کر دیکھ لیں :

” اے ابن آدم ! (دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر ) جنت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیۓ تاکہ ان کے ستر انہیں کھول کر دکھلا دے ۔ وہ اور اس کے چیلے تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ سکتے ۔” (الاعراف۔٢٧)

شیطان ، اسکے چیلے اور اسی کی راہ چلنے والے دوسروں کو دونوں شرمگاھوں کو ننگا کر دینے کا حکم ترغیب دیتے رہتے ہیں ۔ جسم کے ستر کو ننگا ھونے ، کپڑے اتار پھینکنے اور بدن کو کھول دینے کے ذریعے عریاں کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور نفس کے ستر کو برے اخلاق و افعال کے ارتکاب سے کھلوا دیتے ہیں ۔

جمال رخ نہیں جمال عمل :

مسلمانو ! یہ ھے حسن و جمال اور یہ ھے زیبائی و رعنائی اور یہ ھے فن و فنکاری کا ظاہر و باطن اور اسکا حسن اور قبح و مذمت ۔ اے صاحب بصیرت مسلمان ان دونوں جمالوں اور رعنائیوں میں سے جو زیادہ حسن و خوبی والا ھے اسے اختیار کر لیں اور ان دونوں صورتوں میں سے جو سب سے زیادہ اچھی ھے اسے اپنا لیں ۔ اور شیطان اور اسکے چیلے آپ کو بہکا نہ دیں ۔ چہرے کا حسن کسی کو بلندی تک نہیں پہنچاتا اگر ان لوگوں کے اخلاق میں حسن و خوبی نہ ھو ۔ اور انسان کی عزت و شرف اسکی تربیت میں ھوتا ھے نہ کے شکل و صورت میں ۔ اگر آپ نے خوبصورت کپڑے پہن لیے اور عمدہ لباس سے مزین ھو گۓ تو یہ آپ کا جائز شرعی حق ھے لیکن اسکے ساتھ ہی اپنے آپ کو حسن اخلاق اور اعلی و عمدہ اعمال کی زینت و زیبائی میں بھی کوئی کمی کوتاہی نہ کریں ۔ یہ بڑے ہی احمق لوگ ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے خوش شکل ھوتے ہیں وہ اپنے ظاہری حسن و جمال کو بناۓ رکھنے کے لیے بھی بڑا کچھ کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے الفاظ و گفتگو میں قبیح اور انداز و کردار میں بدترین لوگ ھوتے ہیں ۔ بدذوقی انکا شیوہ بدزبانی انکی عادت اور سخت گيری انکا شعار ھوتی ھے یہ رنگ سراسر حماقت ھے ۔ ارشاد الہی ہے :

” پوچھیں تو ان سے ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم !) کہ جو زینت (و آرائش ) اور کھانے (پینے ) کی پاکیزہ چيزيں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں انہیں حرام کس نے کیا ھے ؟ کہدیں کہ یہ چيزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن (بھی) خاص انہی کا حصہ ھوں گی ۔ ہم اسی طرح اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ کہہ دیں کہ میرے رب نے تو بےحیائی کی باتوں کو وہ ظاہر ھوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ھے اور اسکو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ جسکی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ اور اسکو بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں ۔” ( الاعراف ۔٣٢ ۔ ٣٣ )

عبرت انگيز موازنہ :

اللہ آپ کو توفیق خير سے نوازے ! اس مقارنہ و موازنہ کو بھی (پڑھ ) سن لیں جو کہ علامہ امام ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ عليہ نے ذکر کیا ھے اور انتہائی فکر و نظر کے لائق اور باعث تفکروتدبر ھے چنانچہ انہوں نے لکھا ھے :

” خیر و بھلائی اور آخرت میں حسن انجام کا طلبگار فرشتوں کے مشابہ ھوتا ھے اور شر و برائی کرنے والا شیطانوں سے مشابہت رکھتا ھے ۔ شکار مارنے اور غلبہ و تسلط پانے کا خواہاں درندوں سے ملتا جلتا ھے اور لذتوں کے پیجھے دیوانہ وار پھرنے والا جانوروں کی مانند ھوتا ھے ۔ وہ شخص جو کسی مفاد و مصلحت کے بغیر ہی مال جمع کرنے کے پیچھے لگا رہتا ھے اس میں حیوانوں کی شباہت پاۓ جانے سے بھی نچلا درجہ پایا جاتا ھے بلکہ اسکے مال کا تو وہی حال ھے جو کہ لق و دق غاروں میں پاۓ جانے والے پانی کا ھوتا ھے جس سے کوئی حیوان بھی استفادہ نہیں کر سکتا ۔”

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :

عقلمند وہ ھے جسکا تعلق کسی ایسے وصف سے نہ ھو کہ اس میں اس سے فوقیت صرف کسی درندے ، حیوان یا جمادات کو ہی حاصل ھو ۔ جو اپنی شجاعت و بہادری پر بڑا نازاں ھے اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ بھیڑیا اور چیتا اس سے بھی زیادہ بہادر ھوتے ہیں ۔ جسے اپی قوت پر گمنڈ ھو اسے معلوم ھونا چاہیۓ کہ اونٹ اس سے بھی زیادہ قوی ھوتا ھے ۔ جسے بوجھ زیادہ اٹھانے کا زعم ھو اسے اس بات کا پتہ رہنا چاہیۓ کہ ہاتھ اس سے بھی زیادہ بوجھ اٹھاتا ھے ۔ جسے یہ بات اچھی لگ رہی ھو کہ وہ بڑا تیز دوڑتا ھے ۔ اسے یہ بات نہیں بھولی چاہیۓ کہ اس گھوڑا زیادہ ھوڑتا ھے ۔ جسے اپنی خوش آوازی پر بڑا فخر ھو اسے یہ نہیں بھلانا چاہیۓ کہ بکثرت پرندوں اور بانسریوں کی لکڑیوں کی آوازیں زیادہ طرب آگيں اور لذت آمیز ھوتی ہیں ۔ جو باتیں ان حیوانات و جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں وہی اگر کسی شخص میں پائی جائيں تو اس میں فخر و سرور والی کونسی بات ھے ۔ البتہ اگر کسی میں شعور و تمیز قوی ھو ، اسکا علم وسیع ھو اور عمل اچھا ھو تو اسے اپنے آپ پر رشک کرنا اور خوش ھونا چاہیے ۔ اس سے آگے صرف وہی شخص ھو سکتا ھے جو اس سے بھی زیادہ ہمت والا اور اس سے بھی اکثر عمل والا ھو اور نیک و صالح شخص ھو ۔

اللہ والو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو ، آپ کے رب نے آپ کو بنایا ھے اور روۓ زمین پر پائی جانے والی تمام اشیاء کو اس زمین کی زینت و جمال بنایا تاکہ وہ آپ سب کو آزما کر دیکھے کہ آپ میں سے زیادہ اچھا عمل کون کرتا ھے ۔

وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین

سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین

One Response to “رعنائی یا حسن و زیبائی اور فن”

  1. DALE Says:


    Medicamentspot.com. Canadian Health&Care.Special Internet Prices.No prescription online pharmacy.Best quality drugs. Low price drugs. Buy pills online

    Buy:Prevacid.Prednisolone.Retin-A.Arimidex.Actos.Petcam (Metacam) Oral Suspension.Zovirax.Lumigan.Synthroid.Nexium.Valtrex.Mega Hoodia.Zyban.100% Pure Okinawan Coral Calcium.Human Growth Hormone.Accutane….

Leave a Reply

Englishاردو