Google

سال نو کا آغاز اور امت اسلامیہ سے خطاب

فضیلۃ الشیخ / عبد الرحمن السدیس

حمد و ثناء کے بعد

سال نو کا آغاز :
اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کے بعد اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس سال نو کو امت اسلامیہ کیلۓ امن و امان ، سلامتی و اسلام اور ان امور کی توفیق کا سال بنا دے جو اسے محبوب و پسندیدہ ہیں اور اس ذات با برکات سے جب مدد طلب کی جاۓ تو وہ مدد کرتا ہے ـ اس سے یہ بھی دعاء ہے کہ وہ اس نۓ سال کو اسلام اور تمام دنیا کے مسلمانوں کیلۓ فتح و نصرت کا سال بنا دے اور تمام انسانوں کو خیر و بھلائ ، عدل و انصاف اور سلامتی کی نعمتوں سے مالا مال کرے ، ھمارے موجودہ ایام کو ھمارے ماضی سے بہتر کر دے اور ھمارے موجودہ ایام سے ھمارے مستقبل کو بہتر و تابناک کر دے اور امت اسلامیہ کو مصائب و مشکلات اورہر طرح کے فتنوں اور بلاؤں سے محفوظ رکھے ـ وہ ذات گرامی بڑی ہی صاحب جود وکرم اور فضل و احسان والی ہے ـ

لمحہ فکریہ

مسلمانو ! زمانے کا پہیہ اپنی گردش کو پورا کر لیتا ہے لیکن اس کے حوادث سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا کوئ نہیں ھوتا سواۓ ان لوگوں کے جنکی بصیرت کو اللہ نے روشن کر رکھا ہے اور اپنی عمر کی ایک ایک گھڑی اور لمحہ لمحہ کو غنیمت سمجھتے ھوۓ اسے اعمال صالحہ اور بر و نیکی کے میدان میں صرف کرتا ہے اور افراط و تفریط یا تقصیر و کوتاہی اور گناہ کے راستوں سے دور رہتا ہے ـ

الوداع اے سال ماضی :

امت اسلامیہ نے ایک سال کو الوداع کر دیا ہے ، اب اسکی صرف یادیں رہ گئ ہیں ـ ھم نے سال کو یوں الوداع کیا ہے جیسے کوئ ایک دن کو رخصت کرتا ہے اور وہ اس دن کی صبح و شام میں حاصل ھونے والے ہر خوشی و غم کو جانتا ہے ، حزن و سرور اسے یاد ھوتا ہے سعادت و مصیبت اور سختی و تنگ حالی سب ذرہ ذرہ ازبر ھوتا ہے ـ بشارت و خوشخبری اس شخص کیلۓ جس نے اپنے سال ماضی کو تقرب الی اللہ اور اطاعت الہی کے کاموں میں صرف کیا ، اور خوش نصیب ہے وہ جس نے اس سال کے خزانوں میں نیکیوں کو جمع کر دیا اور جو گناھوں سے بچتا رہا ـ

سال نو اور امت اسلامیہ

مسلمانو ! یہ نیا ہجری سال ایک محبوب و صاحب لطف مہمان ہے ، یہ شہروں اوردیہاتوں کے تمام لوگوں کیلۓ باعث غناء و تونگری ہے اس میں تلخ و شرین ہے اور راحت و آرام ہے لیکن انتہائ افسوس کی بات ہے کہ یہ نیا سال ایسے حال میں آیا ہےکہ امت اسلامیہ ابھی تک اپنی عظمت رفتہ کو واپس لانے میں کوئ طریقہ تلاش نہ کرسکی اور نہ ہی غیرت کی سربلندی اور فلاح و نجاح کی راہ پا سکی ہے اور ابھی تک اسے وہ مقام حاصل نہیں ھو سکا اسے بری نظر سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نوچ سکے ـ لیکن ان المناک حالات اور مہلک طوفانوں کے تھپیٹروں کے باوجود ھم پر امید ہیں اور ایک تابناک امید ھمارا سرمایہ ہے ، امت کی لگام توحید الہی کے ہاتھ میں ہے اور اسکے دل ایمان و یقین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

{ اور اللہ اپنے نور کو پورا ( اسلام کو غالب ) کر کے رہے گا خواہ کافروں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے ـ( الصف ۔٨)

تلافیء مافات

ھمیں امید ہے کہ اس نۓ ہجری سال کے آغاز کی مناسب و موقع وہ بہترین وقت ثابت ھو گا ـ جس میں ھم دیکھ بھال اور مراجعہ و پڑتال کرکے اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کر سکیں گے اور یہ ھمارے لۓ کلیرنس اور محابسے کا وقت ثابت ھو گا اور امت کو اس بات کا ادراک ھو جاۓ گا کہ امور کی تاءسیس و استحکام اور قواعد و ضوابط کی وحدت و سلامتی اس بات کی مرھون منت ہے کہ ھم اللہ کی کتاب سے اعتصام و ربط رکھیں اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے تمسک و تعلق استوار کریں اور یہی دونوں ایسے سرچشمے ہیں جو سعادت و شقاوت اور نعمت و نقمت میں فرق کا پتہ دیتے ہیں اور انہی سے صحح عقائد اور درست منھج میسر آتا ہے ـ ان دونوں میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئ گنجائش ہی نہیں ہے اور جس نے ان دونوں کو چھوڑ کر کسی دوسری کتاب و ازم کے ذریعے دنیا میں عزت و برزگی اور عروج و کمال حاصل کرنا چاہا اس نے ایک محال کام میں ہاتھ ڈالا اور اسکا وبال اسے دیکھنا ہی ھو گا اور اسے اللہ سے بچانے والا کوئ دوست و مددگار نہیں ھو گا ـ

اسباب سعادت

برادران ایمان ! یہ امت اپنا ضعف و کمزوری قوت و طاقت میں نہیں بدل سکتی ، اپنی ذلت و رسوائ کو عزت و آبرو کا رنگ نہیں دے سکتی الا یہ کہ یہ پھیر سے انہی چراغوں کو نہ جلاۓ جن سے ھمارے سلف صالحین سے روشنی حاصل کی تھی ـ

ع ( ناکارہ سمجھ بجھا دیا جنھیں تم نے ٭ وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ھو گی ـ ) مترجم

ھماری مراد اس دین کے ان حقائق کو سامنے لانا ہے جنکی بدولت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے سعادت و خوشی پائ اور پھر انہی کی بدولت انھوں نے کئ صدیوں تک پوری دنیا کو سعادتوں سے مالا مال کیۓ رکھا ـ اگر ھم نے اپنی حالت کو شریعت کے آئینے میں دیکھ کر اسکی اصلاح کی نیت کر لی تو اللہ تعالی ھمارے حالات کو سدھار دے گا ـ

صدق و سچائی

اس سلسلہ میں ھماری مدد کرنے والی اھم ترین چیز یہ ہے کہ ھم اپنے نفس ، معاشرے اور امت کے ساتھ قول و عمل میں صادق ھوں ـ
چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ تاکہ اللہ صادقین اور سچوں کو انکے صدق و سچائ کا بدلہ دے ـ } ( الاحزاب ۔٢٤ )

امتوں کی عظمت و رفعت ان مخلصانہ اور سچے دل سے پیش کی گئ خدمات کا نتیجہ و ثمرہ ہے جو انکے مخلص و خیر و خواہ لوگ پیش کرتے ہیں اور عھد ماضی میں ان عظمتوں اور بلندیوں کو ان لوگوں نے بنایا تھا جو کہ باوفاء پرخلوص تھے ـ

یہاں اھل فکر و قلم ، ارباب ثقافت اور ذرائع ابلاغ سے متعلقہ لوگوں کیلۓ لمحۂ فکریہ ہے کہ انھیں امت کے بارے میں ہر طرح کے طوفان بپا کرنے کے باوجود کوئ مبنی پر حکمت و سنجیدگی چیز پیش کرنے کے لۓ نہیں ملی ، جبکہ حکمت صرف یہ ہے کہ مذاکرات میں صدق و سچائ کے پہلو کو لازم پکڑا جاۓ حق کے ساتھ حق کی طرف دعوت دی جاۓ ، اصلاح و تعمیر کی راہ پر دلیل و ثبوت اور رفق و نرمی سے چلا جاۓ تاکہ امت کا داخلی محاذ مضبوط رہے اور اسکا امن و امان پوری طرح محفوظ رہے اور اس بات کا یقین کہ تمام وسائل و قضایا میں اور امت کے تمام حالات و حوادث کو پوری گہرائ و باریکی سے لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیۓ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امت بیماریوں کے اسباب کو تلاش کرنے کے میدانوں کی طرف پوری مستعدی سے متوجہ ھو چکی ہے اور امت اپنے تشخص کی تمام واضح علامتوں کا تحفظ کرنے اور اپنے قواعد و ضوابط پر قائم رہنے میں سختی کے ساتھ سنجیدہ ہے ـ اور اپنی تاریخ و تھذیب کو اپنے لۓ باعث فخر سمجھتی ہے اور بیرونی کلچر نے ھماری تاریخ و تھذیب میں جو عیوب پیدا کر دیۓ ہیں انھیں برداشت کرنے کیلۓ ہرگز تیار نہیں ہے ـ

صبر و تقوی :

جب کسی امت کی تاریخ اور اسکے قواعد و ضوابط عظمت کے آسمانوں کو چھونے لگتے ہیں تو وہ امت بھی سرداری و کرامت کے درجے پر فائز ھو جاتی ہے اور گھات میں کھڑے دشمن کے ہاتھ سے موقع ضایع کر دیتی ہے جو اسے طرح طرح کی فکری دہشت گردی میں مبتلا کرنے کے درپے ھو تا ہے اور ایسے دشمن کی تھذیب کے سرچشمۂ قوت کا خاتمہ کردیتی ہے ـ اور اللہ نے سچ ہی فرمایا ہے :

{ اگر تم تکلیفوں پر صبر و برداشت اور ( ان سے ) کنارہ کشی ( اور اللہ کا تقوی اختیار ) کرتے رھو گے تو ان ( کفار ) کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ـ } (آل عمران ۔١٢٠ )

عقائد و اعمال :

برادران عقیدہ ! امت کیلۓ نجات کی سیڑھی اور ترقی کی معراج اس بات میں ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کا تحفظ کرے ـ فضائل اعمال کا اہتمام کرے اور نئ نسلوں کی اسلامی خطوط پر صحیح تربیت کرے اور ذلت آمیز افعال اور منشیات کے استعمال سے انھیں دور رکھے تاکہ وہ دور حاضر کے تمام فکری چیلنجوں سے محفوظ رہ سکیں ـ

سٹلائیٹ کی تباہ کاریاں :

پتہ نہیں کہ امت اسلامیہ اپنی ٹیکنالوجی اور دور حاضر کے پیش نظر قدرتی وسائل سے صحیح طور پر استفادہ کر سکے گی یا نہیں ؟ اور کیا وہ پورے حزم و احتیاط کے ساتھ ان تباہ کن اور دین و فضیلت کا ستیاناس کر دینے والے سیٹلائیٹ چینلزکے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ھو سکے گی ؟ وہ چینلز جو کہ شب و روز زھر پھیلا رہے ہیں ـ جن کا شر و فساد آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور انھوں نے کتنے نوجوان لڑکوں اور دوشیزاؤں کو اپنے ضیاع و فنا کے تیروں کا شکار کر لیا ہے ، اگر ھم بکثرت خاندانوں اور معاشروں کے فنا ھونے کا منظر دیکھتے رہے اور اس بلاء و وباء کا مداوا کرنے اور اس پر گہری نظر ڈالنے کو ٹالے رکھا تو بکثرت افراد معاشرہ ذلت و رسوائ کی گہرے کھڈوں میں جا گریں گے ، ان سے یہ رشد و ھدایت اور صحت و صواب کی تمیز کا مادہ بھی چھین لیں گے اور انھیں ضیاع اور قلق و اضطراب کے صحراء میں پھینک دیں گے ـ افسوس تو اس بات پر ہے کہ ان چینلوں کے ناظرین میں سے بعض لوگ تو وہ ہیں جنھیں کلچر کی حقیقت کا بھی علم نہیں ہے وہ سمجھ رہے ہیں کہ شائد یہ غازہ و پاڈر اور زیب و زینت یا میک اپ یہی مطلوبہ تمدن اور وہ تھذیب ہے جس کی امیدیں کی جا رہی ہیں ـ اگر امت ان جذباتی امور میں بٹ گئ تو غیرت مند دیکھیں گے کہ یہ اپنی ہی جلائ ھوئ آگ میں جل جاۓ گی ـ

فتنوں کے بادل :

اے امت اسلامیہ : فتنوں کے وہ بادل جن کا دھواں اس امت کے آسمان پر چھایا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس نۓ سال کے آغاز کے ساتھ ہی وہ چھٹنا شروع ھو جائيں گے ، فتنوں کے وہ بادل ان قوموں کے وہ ظالمانہ حملے ہیں جو اسلام اور اھل اسلام پر وہ قومیں کر رہی ہیں جن کے دل مکرو فریب سے یوں ابل رہے ہیں جیسے ہنڈیا ابلتی ہے ، انکے قلم حسد و بغض کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں ـ اور وہ اپنے ذرائع ابلاغ کو اسلام دشمنی کی چوٹی تک پہنچا چکے ہیں ، انھیں اسلام کے حقوق و معانی کا مطالعہ کرنے کی توفیق نہیں سکی بس انھیں اسلام کے حقائق و معانی کا مطالعہ کرنے کی تو توفیق نہیں ھو سکی بس انھوں نے اسلام پر حملے اور طرح طرح کے ہفوات بکنے کو ہی اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور انکے ذلیل و کمینہ ھونے کے نشانات و آثار انکے چہروں پر چھا گۓ اور انتہائ افسوس تو اس بات پر ہے کہ وہ تو محض طوطے کی طرح صرف رٹ لگا رہے ہیں انھیں سبق دینے والے لوگ ھماری اپنی ہی قوم کے ہیں ـ ھمارے طوطوں اور منافقوں نے امت اسلامیہ میں مغربی تھذیب و تمدن کے سلبی پہلو‎ؤں کو پھیلانا شروع کر رکھا ہے اور ساتھ ہی یہ بدزبانیان بھی کر رہے ہیں کہ اس وقت جتنی مشکلات پائ جاتی ہیں یہ سب اسلام کی وجہ سے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ اس کے مناھج اور نظام کو بدلنے کے مطالبے بھی کر رہے ہیں ـ ایسے لوگوں سے کہا جاۓ کہ جلدی بازی نہ کرو بلکہ ذرا صبر سے کام لو اور اس بات کو اپنے دل و دماغ کے پردوں پر نقش کر لو کہ اسلام کمال و جمال اور جلال کی اعلی بلندیوں پر فائز ہے لیکن ان کیلۓ جو اپنے آپ میں خود سپردگی کی خو پائيں اور فطرت سلیم کے مالک ھوں اور شکست خوردی و غلامانہ ذھنیت کی زندگی نہ جی رہے ھوں جنھوں نے انکی بصیرت کو اندھا کر رکھا ھو ـ اب شائد تمھارے لۓ ایک موقع ہے اسے غنیمت سمجھو اور اپنے آپ کو دین حق کے رنگ میں رنگ لو اور اسی سے اپنی پیار کی پینگیں بڑھا لو تو پھر سبھی اصلاح و تعمیر اور ترقی کے میدانوں میں کود پڑیں گے ـ اگر اسلام کو اسکے تمام تر محاسن و امتیازات اور عالمگیریت کے ساتھ پیش کیا جاۓ تو دور حاضر کے گلوبلائیزیشن کی رو سے امت بآسانی نجات پا سکتی ہے ـ

مسلم ممالک کا بلاک اور مضبوط اتحاد :

اے امت اسلامیہ ! ھم انپے نۓ ھجری و اسلامی سال کے آغاز پر ایک چيز اھمیت و ضرورت کی طرف نہ صرف آواز و اشارہ بلکہ نصیحت و تاکید کرنا چاہتے ہیں جسے اپنانا واجب بھی ہے اور وہ چیز ہے : ایک مضبوط اسلامی اتحاد یا اسلامی ممالک کا ایک قوی گروپ کا قیام ـ اور اللہ تعالی کا حکم بھی یہی ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ اور سب مل کر اللہ کی ( ھدایت کی ) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور باھم متفرق نہ ھونا ـ } (آل عمران ۔١٠٣ )

{ اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ ( ایسا کرو گے تو ) تم بزدل ھو جاؤ گے اور تمھارا اقبال ( شوکت و رعب ) جاتا رہے گا ـ } ( الانفال ۔٤٦ )

اسی طرح ان کھوکھلے نعروں اور مجرمانہ و محدود جذباتی تعلقات سے بھی بچ کر اس میں جو ھمیشہ کی طرح آج بھی شقاوتوں کا سرچشمہ اور مصائب و مشکلات کا مصدر ہیں اور بردران گرامی ! امت اسلامیہ کی موجودہ حالت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ باھم دیگر نفرتیں ، تفریق و تشتت اور اگر کوئ اتحاد ہے تو اس بات پر کہ ھم ہر مسئلہ میں ٹانگ اڑائیں گے اور ہر موقع پر سبھی ایک دوسرے کے مخالف چلیں گے ـ باھمی پیار و محبت کا رشتہ و ربط ختم ھو چکا ہے سب نے اگر اتفاق کیا ھوا ہے تو اس بات پر کہ کسی مسئلہ پر ھم متفق نہیں ھونگے ـــ حتی کہ اگر کہیں کوئ اللہ کا بندہ امت میں اتحاد و اتفاق کا نظریہ لے کر اٹھتا ہے تو کئ دوسرے اسکے خلاف اٹھ کھڑے ھوت ہیں اور وہ اختلاف کرتے وقت یہ بھی پیش نظر نہیں رکھتے کہ اس وقت امت اسلامیہ کن مصائب و مشکلات سے گزر رہی ہے اور اس روز افزوں و گرگوں عالم میں کن کن تلخیوں سے دوچار ہے اور تاریخ کے ایسے مشکل دورسے گزر رہی ہے کہ جسکے انجام کو اللہ کے سوا کوئ نہیں جانتا ـ

استعمار کے دست و بازو :

جب ہر طرف سے ھذیان بکنے ،کذب بیان کرنے اور بہتان طرازی کو اپنی ایک عادت ثانیہ بنانے کا دور دورہ ھو جاتا ہے تو ایسے میں اللہ تعالی اپنے کسی بندے کو اشارہ دے دیتا ہے جو اٹھے اور حق و صداقت کے دین کی مدد و نصرت کا فریضہ ادا کرے اور اللہ کی مخلوق کے سامنے پوری جرات و حق پسندی کے ساتھ واضح کرے کہ یہ اسلام پر طعن و تشنیع کرنے والے ھمارے ھم زبان دراصل مغرب کے ٹاؤٹ اور استعماری قوتوں کے ہی دست و بازو ہیں اور یہی اللہ کا نظام آ رہا ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ بلکہ ھم حق و سچ کو باطل و جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور باطل اسی وقت نابود ھو جاتا ہے ـ } ( الانبیاء ۔١٨ )

قائدین بلاد سے خطاب :

اے امت اسلامیہ کے قائدین و حکام اور لیڈران !

نیا ہجری سال شروع ھو چکا ہے اور دنیا خوف و ہراس میں مبتلا ہے اور ھمارے کئ علاقے جل رہے ہیں اورانکے امن و استقرار کی رسی میں سخت قلق و اضطراب پایا جاتا ہے ـ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرت سے عبرت حاصل کرو ، اس سے اتحاد و اتفاق باھمی مدد و نصرت اور عقلمندانہ منصوبہ بندی کا سبق حاصل کرو ، تاکہ امت اس پستی سے اٹھ کر ترقی و عظمت حاصل کرے اور صہیونی حکومت کی ظلمات و دہشت گردی سے اپنے مقامات مقدسہ کا دفاع کرنے کے قابل ھو سکے اور مصائب سے گلوخلاصی کرے جن سے آفاق بھرے پڑے ہیں اور یہ بات آپ لوگوں کے ذھن سے ہرگز غائب نہ ھو کہ دشمن تو دشمن ہی ہیں بلکہ بڑے بدترین دشمن ہیں اور انکے چیلنج بھی اب عام سے نہیں بلکہ وہ بڑے شد و مد سے کر رہے ہیں ـ

اے بشریت کے اھل عقل و دانش ! اے انسانیت کے اھل شرف و شرافت اس بات کا یقین کۓ بغیر کوئ چارہ ہی نہیں کہ رسالتوں اور شریعتوں کی اتباع اور دنیا کے اھل عقل و دانش سب یہی چاہتے ہیں کہ دائمی امن و استقرار اور سلامتی کا راج ھو اور وہ ضبط نفس کی دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ بلاد شرق کے ممالک جنگوں کے خطرات اور حوادث و مصائب کے نتائج بد سے بچ رہیں ــ بقول شاعر ـ

جنگ تو وہی ہے جو تم اپنی آنکھ سے دیکھ چکے اور اسکے اثرات بد کا مزہ چکھ چکے ھو لھذا بہادروں کی بہادری دکھلانے کے موقع سے پہلے پہلے راۓ مشورہ کرکے مذاکرات سے مسائل کو حل کر لو ـ

علماء امت سے خطاب :

اے علماء کرام ! آپ لوگ آسمانی وحی کے امین ہیں اپنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں اس مرکزی نقطہ پر بھرپور محنت کرو کہ اتحاد و اتفاق کو اپنانا اور تفرقہ و اختلاف کو اپنے ذھنوں سے نکال پھینکنا واجب ہے اور امت کو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنانے کی ترغیب دلاؤ اور امت کو نصوص قرآن و سنت ، شرعی قواعد اور آداب اسلامیہ و مقاصد عامہ کی روشنی میں سہولت و آسانی کی راہیں مہیا کریں ـ اپنے دین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف کی جانے والی گستاخیوں کا زبان و بیان سے دفاع کرنے میں خوب محنت کرو نئ نسل کے نوجوانوں کو رفق و نرمی اور میانہ روی کے میدانوں کی طرف توجہ دلائیں اور انھیں اصل علم ( کتاب و سنت ) سیکھنے کی طرف ترغیب دلائیں ـ آج امت کے افراد کی کثیر تعداد کے دلوں میں خوف و ہراس ، قلق و اضطراب اور مایوسی و ناامیدی چھائ ھوئ ہے ـ انھیں اپنے رب کی ذات سے امیدیں وابستہ کرنے کی تعلیم دیں اور بتائيں کہ دنیا میں کوئ طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ھو ـ اللہ کی طاقت اور اسکا ہاتھ اسکے بھی اوپر ہے ـ

دعاۃ و مبلغین سے خطاب :

اے دعاۃ و مبلغین اسلام ! وہ اخلاق و آداب ، وہ فضائل اعمال اور اعلی مثالیں جو مٹ چکی ہیں ، انھیں تازہ کریں ، اور معاشرے کے افراد کو ربط و تعلق ، تعاون و تفاھیم اور باھمی رحم و کرم سکھلائيں اور اپنے دلوں کو کتاب و سنت سے تمسک و تعلق پر جمع کریں ، دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی اور ہر دو جہان میں توفیق خیر پاؤ گۓ ـ اے داعیان اسلام ! کیا ابھی تک وہمی و خیالی معرکوں کیلۓ اٹھائ گئ تلواروں کو واپس نیاموں میں ڈالنے کا وقت نہیں آیا جو کہ اپنے ہی پیاروں اور بھائ لوگوں کے سینوں پر تانی گئ ہیں ـ

اے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے شعبے میں کام کرنے والو ! اللہ نے تمھاری محنتوں میں بڑی برکت فرمائ ہے ـ آپ لوگ امت کیلۓ بہترین آہنی لباس ہیں ـ اپنے کام اور ذمہ داری و فرائض منصبی کی ادائیگی میں شرعی طریقوں اور صحیح و معقول آداب کا خیال رکھیں تاکہ آپ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی صحیح روپ ، روشن تصویر لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں ـ

مربی حضرات سے خطاب :

اے تعلیم و تربیت کے میدان میں کام کرنے والی مربی حضرات !

خاتون مسلم کی پاکدامنی اور طہارت و پاکیزی کی بلندیوں تک پہنچانے میں خلوص کے ساتھ کام کریں اور خاص طور پر نوجوان نسل پر بھرپور توجہ دو ـ انکے دلوں میں دین کی حقیقت اور امید کی کرن پیدا کرو اور انکے سینوں میں عزم و ھمت اور عروج و ترقیوں کی جوت جگاؤ اور تڑپ پیدا کرو ـ اپنی تربیتی گفتگووں میں انھیں اپنے خالق و مالک کی مرضی کے اعمال کی طرف ترغیب دلاؤ اور میانہ روی کے منھج کا التزام کرو ،غلو اور افراط و تفریط کا رویہ نہ اپناؤ اور اسلام کی وسعت و نرمی ، فراخی و کشائش اور تمام اخلاق و اقدار اور اچھے کردار و عادات کی تعلیم و تربیت دو جن کی طرف نے دعوت دی ہے ، اللہ سے دعاء ہے کہ وہ حالات کی اصلاح کرے اور حال و مستقبل کی بھلائیوں کے کام کرنے کی توفیق سے نوازے ، وہ صاحب جود و کرم اورعطا و نوازشات ہے ـ

اللہ والو ! اللہ کا خوف و تقوی اختیار کرو اور یہ بات ذھن میں رکھو کہ یہ عمر بڑی تیزی سے گزر رہی ہے یہ ھمیشہ باقی رہنے والی چیز نہیں ہے ـ تقوی کو اپنا زاد راہ بناؤ ـ آپ کے حالات درست ھو جائیں گے اور قبولیت کی بلندیوں پر پہنچ کر باعث خوشنودی ھو جائيں گے ـ

توبہ اور عمل صالح :

برادران اسلام ! آپ کا سال نو شروع ھو گیا ہے ـ اس میں جلیل القدر نیک اعمال سر انجام دینے کیلۓ کمر بستہ ھو جائيں ـ اللہ اس شخص پر رحم فرماۓ جو اپنے آپ کا محاسبہ کرے اور ان تمام افعال سے توبہ کر لے جو قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا باعث بننے والے ہیں ـ

عظمت و قت :

برادران ایمان ! اسلام وقت اور زمانے کی عظمت بیان کرتا اور اسے ایمان و تقوی کی صفات کے ساتھ جوڑتا ہے ـ جناچہ ارشاد الہی ہے :

{ بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں اور اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بنایا ہے ان سب میں ان لوگوں کیلۓ دلائل ہیں جو اللہ کا خوف و تقوی رکھتے ہیں ـ } ( یونس ۔٦ )

دنیوی زندگي :

جن لوگوں نے اس دنیوی زندگی کو رفعتوں اور ترقیوں کی طرف جاۓ عبور اور اپنی درستگی و استقامت کا ہل بنایا اس کے لۓ نیکیاں کمائیں اور گناہ و نافرمانیوں سے دور رہا اور امت کی ترقی و عظمت اور قیادت و سیادت کے دن دیکھنا چاہیں انکے لۓ ضروری ہے کہ وہ اس کے خلاف اٹھنے والے طوفانوں کا رخ موڑیں ، شکوک و شبہات کا رد کریں ، اور ہر طرح کے حملوں سے امت اسلامیہ کا دفاع کریں ـ

مجنون دنیا :

البتہ وہ لوگ جو دنیوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے اور اسی میں مگن و گم ھو کر رہ گۓ ہیں ـ انھیں عروج و ترقی ، علو ھمتی اور حصول کمال سے نفرت ہے وہ ـ اللہ کی پناہ ــ ذلت و رسوائ سے دوچار ھو چکے ہیں ـ ایسے لوگ خسران و نقصان کے گھپ اندھیروں میں ڈالے جا چکے ہیں ـ انھیں جب قیامت کے دن پوچھا جاۓ گا تو اپنی اس حرکت پر جواب دینے سے بھی وہ گھبرائیں گے ، ایسے ہی ظالموں کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

{ جنھوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے پلٹتے ہیں } ( الشعراء ۔٢٢٧ )

سعودی عرب اور دفاع حق :

وہ نعمتیں جن پر انسان اللہ کے شکر کا صحیح معنوں میں حق ہی ادا نہیں کر سکتا ان میں سے ہی یہ بھی ہے کہ دنیا ان حرمین شریفین والے ملک کے حکام و عوام کو اللہ کے فضل و کرم سے سالہا سال گزرنے پر کبھی بھی بالکل ہرگز اور ہرگز ایسا نہیں پائيں گے کہ وہ حق ، عدل و انصاف ، اسلام اور امن و سلامتی کے دفاع کے میدانوں سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائيں ـ

عظمت محرم اور صوم عاشوراء :

برادران دین ! اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے ھمیں اس نۓ سال کے آغاز تک پہنچایا ہے ـ شائد یہ ھمارے اعمال صالحہ کیلۓ جد و جہد کا نقظہ آغاز ھو جاۓ ـ اور اس بات پر بھی اللہ کا احسان مانو کہ اس نے ھمیں سال کا آغاز کرنے والا یہ ماہ دیکھنا نصیب فرمایا ہے جو کہ اللہ کا حرمت والا مہینہ محرم الحرام ہے ـ اس ماہ کی تمام مہینوں کے مابین بڑی عظمت ہے ، اور اس ماہ کے دنوں میں سے بھی سب سے افضل دن یوم عاشوراء ( ١٠ محرم ) ہے جس میں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون اور اس کی فوج پر فتح و نصرت عطا فرمائ تھی ــ انھوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ھوۓ اس دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دلائ تھی چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

{ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس ایک روزے کے عوض گزشتہ ایک سال کے گناھوں کو مٹا دے گا ـ } ( صحیح مسلم )

عنیمت موقع :

اے اللہ کے بندو ! اس اجر عظیم کو پانے کیلۓ اس موقع کو غنیمت سمجھو کہ اس میں انبیاء کرام علہیم الصلوۃ و السلام کی اقتداء و پیروی ہے ـ اسکے ساتھ ہی یوم عاشوراء سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھ لیں ـ بشارتیں ہیں ان لوگوں کیلۓ جنھوں اس سال نو میں جد و جہد کرنے کیلۓ کمر کس لی اور قرب الہی حاصل کرنے کیلۓ نیکیاں کمانے کے میدان میں اتر آۓ ـ ان کمر بستہ لوگوں کی فوز و فلاح کے کیا کہنے ـ

اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے ھمیں بھی ان لوگوں میں سے بناۓ ـ

( سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین )

Leave a Reply

Englishاردو