Google

شرک بتاں اور مجسموں سے اجتناب

فضیلہ الشیخ / سعود الشریم

حمد و ثناء کے بعد
پتھروں سے صنم تراشی و پرستی

لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روۓ زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں کا تعلق روحانی دنیا اور نورالہی سے منقطع ھو چکا تھا یہی وجہ تھی کہ ان پر عقائد و قوانین اور نفس پرستی کے اندھیرے چھاۓ ھوۓ تھے ایسے ظلمات اور اندھیرے کہ جن میں کوئ عقلمند بھی اتنی سی روشنی بھی نہیں پا رہا تھا کہ جس کی مدد سے وہ راہ ھدایت پر چل سکے یا ضلالت و گمراہی سے نجات پا سکے ، بلکہ وہ سخت گھٹاٹوپ اندھیرے تھے کہ تہ بہ تہ ایک دوسرے پر چڑھے ھوۓ تھے ۔ ایسے اندھیرے کہ جن میں اس وقت کے لوگ زندگی کی راھوں پر ایک شتر بے مہار کی طرح چلے جا رہے تھے ۔ ایسے ظلمات و اندھیرے کہ انھوں نے ان لوگوں کی عقول کو اس حد تک پہونچا رکھا تھا کہ وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لۓ معبود تراشتے اور پھر انکی عبادت کرنے کے لۓ انکے سامنے سجدہ ریز ھو جاتے تھے حالانکہ انھیں اور ان ہاتھوں کے بناۓ ھوۓ معبودان باطلہ کا خالق صرف اللہ تعالی ہے جو کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے مگر وہ اندھے بہرے ، گمراہ اور بدراہ ھو گۓ ۔
پھر انکی یہ گمراہی و ضلالت اس حد تک گر گئ کہ انھوں نے پتھروں ، درختوں اور طرح طرح کے گھڑے ھوۓ اور کھڑے یا پڑھے بتوں کو پوجنا شروع کردیا اور انکے سامنے جھکنے لگے ۔ انھیں اس روش پر لگانے والی چیز ان میں انسانیت کا فقدان و نایابی ، ان میں عقل و فکر کا قحط و افلاس اور ساتھ ہی انکی فطرت کی خود کشی تھی ۔ اب وہ انسان نہیں محض انسانی جسم و شکل کی ایک چیز بن کر رہ گۓ تھے ۔

صالحین قوم نوح کی پرستش

اس زمانے کے عقلی قحط اور صنم پرستی وغیرہ کے سلسلہ میں ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ھوۓ ۔ حبر امت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
{ وہ بت جنھیں قوم نوح علیہ السلام نے پوجا کرتی تھی اب وہ عربوں میں پوجے جا رہے تھے ۔ ود نام کا بت دومۃ الجندل کے لوگوں بنی کلب کے پاس تھا اور وہ اسکی پوجا کرتے تھے ، [سواع ] کو قبیلۂ ھذیل کے لوگ پوجتے تھے ۔ [ یغوث ] بنی مراد سے پرستش کر وارہا تھا ، سباء کے قریب واقع بالجرف کے قبائل بنی قطیف بھی یغوث ہی کے پجاری تھے ۔
[ یعوق ] کی پوجا بنی ھمدان میں ھو رھی تھی جبکہ [ نسر ] کی عبادت و پوجا حمیری قبائل آل ذی کلاع نے اختیار کر رکھی تھی ۔ یہ در اصل حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کچھ نیک و صالح لوگوں کے نام تھے ۔ جب عقائد و عقول کے لحاظ سے وہ ھلاک ھو گۓ تو شیطان نے انکے دماغ میں ڈال دیا کہ انھیں اپنی مجلسوں میں معبود بنا کر نصب کر لو اور ا ن بتوں کو صالحین قوم نوح کے نام دے دو تو انھوں نے ایسا ہی کیا ۔ اور جب وہ لوگ ھلاک ھو گۓ اور علم اٹھ گیا تو ان بتوں کی پوجا پاٹ شروع ھو گئ ۔ ( صحیح بخاری )
اللہ کے بندو ! صالحین قوم نوح علیہ السلام کی عبادت و پوجا شروع ھونے سے قبل اھل عرب حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کی ملت و دین پر تھے ۔ وقت گزرتا گیا ، علم کم ھوتا گیا ، علماء فوت ھو گۓ اور عربوں میں پھرسے ازسرنو بت پرستی نے قوم گاڑ لۓ اور ملت ابراھیمی منسوخ ھو گئ اسے بدل ڈالاگیا ۔

اس بت پرستی کی شقاوت و بد بختی کا موجد ( مکہ کا ایک شخص ) ابو خزاعہ عمرو بن لحی تھا ۔ وہ ہی تھا جس نے بتوں کی پوجا شروع کی ، بتوں کے نام نذر کرکےجانوروں کو کھلا چھوڑنا شروع کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ سورج گرھن لگنے پر نماز کسوف پڑھانے کے دوران اسے جہنم میں دیکھا کہ وہ جھنم کی آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچتا ھوا چل رہا ہے ۔ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام جانوروں کو چھوڑنا اور انکی نذریں ماننا (اور عبادت کرنا ) شروع کیا تھا اور اسی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے دین حنیف کو بدلا تھا } ( صحیح مسلم )

امام ابن کثیر لکھتے ہیں :

{ عمروبن لحی وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کے دین کو بدلا ، حجاز میں بتوں کو داخل کیا اور بھیڑ بکریوں کے چرواھوں کو انکی عبادت اور ان سے تقرب حاصل کرنے پر لگایا تھا ۔

تخلیق جن و انس کا مقصد

مسلمانو ! اللہ تعالی نے جن و انس دونوں کو پیدا کیا تاکہ وہ زمین پر صرف اکیلے اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔ اللہ تعالی نے ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو روشن شریعت دے کر مبعوث فرمایا ۔ وہ شریعت جس میں وہ تمام قواعد و ضوابط موجود ہیں جو شارع حکیم نے مقرر فرماۓ ہیں اور انہی میں سے ہی وہ پانچ ضروری اموربھی ہیں جن کے تحفظ اور نگرانی و نگہبانی کے حکم پرانبیاء و رسل علیھم السلام کا اجماع و اتفاق ہے اور وہ پانچ چیزیں یہ ہیں ۔
دین ، جان ، مال ، آبرو ، عقل ، اور ہر وہ فساد و بگاڑ جو ان پانچ چیزوں میں سے کسی بھی چيز کی طرف سے در آنے لگے تو اسکا دفع دور کرنا واجب ہے ، کہ وہ برائ جیسے جیسے پھیلتی جاۓ گی اس کے موجد کو زندگی میں اور موت کے بعد بھی دوسروں کی برائ و گناہ کا حصہ پہونچتا رہے گا ، جیسا کہ عمروبن لحی کا معاملہ ہے جس نے حجاز مقدس میں بت داخل کۓ اور دین و ملت ابراھیم کو بدل ڈالا ۔

اور مذکور پانچ ضروری امور میں سے سب سے پہلے نمبر پر آنے والی چیز دین و عقیدہ اور توحید باری تعالی کی ضرورت ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بت شکنی

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستے کو واضح و روشن کر دیا ہے اور ایک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہی اللہ تعالی نے جزیرہء عرب کو وثنیت پرستی ، تماثیل پرستی اور صنم و بت پرستی جیسی تمام غلاظتوں سے پاک کر دیا ہے ۔ عربوں کے سب سے بڑے بت کا نام [ ھبل ] تھا اور وہ مکہ مکرمہ کی سب سے بالائ جگہ پر رکھا ھوا تھا اور اسکے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ھوۓ تھے جوکہ سب کے سب ہی پتھر سے تراشے ھوۓ تھے ۔ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دخول کعبہ کے وقت اپنے دست مبارک سے ان بتوں کو توڑا اور انکی جھوٹی شان و شوکت پر کاری ضرب لگاتے ھوۓ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کریم میں نازل شدہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد پڑھتے جارہے تھے ۔
[ اور کہہ ( اعلان کر ) دیجیۓ کہ حق آ گیا اور باطل نابود ھو گیا ، یقینا باطل تھا بھی نیست و نابود ھونے والا ] ( بنی اسرائیل ۔١٨ )

امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

[ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب غلبہ حاصل ھو جاۓ تو مشرکین کے نصب کردہ تمام اوثان و اصنام اور بتوں کو توڑ دینا چاہیۓ ۔ ]

امام ابن منذر کہتے ہیں :

[ اصنام اور بتوں کے حکم میں ہی وہ مجسمے ( اسٹیچوز)بھی داخل ہیں جو قیمتی پتھروں ، لکڑی یا ایسی ہی کسی دوسری چیز سے بنا کر سجاۓ گۓ ھوں ۔ ]
اللہ کے بندو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کعبہ کے گرد مشرکوں کے رکھے ھوۓ بت توڑے جبکہ اس وقت بعض صحابہ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے :
[ اے عزی ! ھم تیری عبادت کا انکار کرتے ہیں ، تجھ سے کسی قسم کی بخشش و مدد ہرگز طلب نہیں کرتے کیونکہ میں دیکھ رہا ھوں کہ اللہ تعالی نے تجھے ذلیل و رسوا کر دیا ہے ۔ ]

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ مکرمہ کے ارگرد مختلف علاقوں میں نصب کردہ بتوں کو توڑنے کیلۓ اپنے صحابہ کرام کے دستے بھیجے اور مکہ مکرمہ میں ایک منادی نے یہ اعلان کر دیا :
{ جو شخص اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے گھر میں پڑے بت کو توڑ دے ۔ }

عزی کی سرکوبی

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ عزی نامی بت مسمار کریں۔ انھوں نے اسے مسمار کیا اور واپس آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےان سے پوچھا ؟ { کیا تم نے کچھ دیکھا : } [ تو انھوں نے عرض کیا : نہیں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : { تب پھر تم نے اسے صحیح طور پر مسمار ہی نہیں کیا ، دوبارہ جاؤ اور اسے خوب مسمار کر کے آ‎ؤ ۔ }
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ واپس گے انکا رنگ اور تیور بدلے ھوۓ تھے ، انھوں نے اپنی تلوار سونت رکھی تھی ۔ ایک کالے رنگ کی ننگے بدن اور بکھرے ھوۓ بالوں والی عورت حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی راہ میں آڑے آئ ۔ عزی کے دربار کے خادم و گدی نشین نے اس بڑھیا کو بچانے کے لۓ چلانا شروع کیا مـگر خالد رضی اللہ عنہ نے اتنے زور سے اس بڑھیا پر تلوار کا وار کیا کہ اسے دولخت کر دیا ۔ اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ھو کر اس بڑھیا کا قصہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
{ ہاں ! یہی عزی تھی ۔ اور اب وہ تمھارے ملک میں پوجے جانے سے مکمل طور پر مایوس ھو گئ ہے ۔ } ( سنن نسائ )

١۔ سواع کی تباہی :

اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلۂ بنی ھذیل کے بت [ سواع ] کی تباہی کیلۓ بھیجا ۔ جب وہ سواع کے دربار پر پہونچے تو گدی نشین آڑے آیا ۔ اس نے کہا : تم ھمارے بت کو تباہ و برباد نہیں کر سکتے ۔ تمھاری مزاحمت اور اسکا دفاع کیا جاۓ گا ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سوا‏ع کے قریب گۓ اور اسے پاش پاش کر دیا اور بعد میں وہ سجادہ نشین خود بھی مسلمان ھو گیا ۔

٢۔ منات کی بربادی :

پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ منات کو ٹھکانے لگائیں ۔ وہ گۓ اور اسے ریزہ ریزہ کر کے آۓ ۔

٣۔ ذوالکفین کا گھیرا‌ؤ جلا‌‎ؤ :

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف جانے کا ارادہ فرمایا تو پہلے وہاں حضرت طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہاں کے بت ( مزار ) ذوالکفین کو مٹائیں ، وہ گۓ اور انھوں نے جا کر اس دربار و مزار کو تہس نہس کر دیا ، انھوں نے مشرکین کے اس باطل معبود کے منہ میں آگ بھرتے ھوۓ یہ اشعار پڑھے
[ اے ذوالکفین ! ھم تیرے پجاری نہیں ہیں ، ھماری ( حق کی ) میلاد تو تیری میلاد سے بھی پہلے کی ہے ۔ یہ دیکھو ! میں نے تیرے منہ میں آگ بھر دی ہے اور تیرے دل کو جلا دیا ہے ۔

٤۔ فلس کو مسمار کروانا :

پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فلس نامی بت کے دربار کی طرف بھیجا ۔ یہ قبیلہ بنی طیء کا بت تھا ۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس فلس کے دربار کا ستیاناس کیا ۔

٥۔ ذوالخلصہ کا ستیاناس کروانا :

اس طرح یمن میں بھی ایک دربار بڑا مشہور و معروف تھا جہاں ذوالخلصہ نامی بت رکھا ھوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبداللہ بن جریر البجلی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر اسکا ستیاناس کروا دیا ۔

تجدید ملت ابراھیمی اور ضرب کلیم

اسی طرح تمام بتوں کو پاش پاش کر وا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ملت ابراھیمی اور دین انبیاء کی تجدید کی اور پھر سے توحید کا پرچم لہرانے لگا ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا مانگتے ھوۓ کہا تھا :
{اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا ۔ } ( ابراھیم ۔٣٥ )

اور اپنی قوم سے مخاطب ھو کر انھوں نے فرمایا :
{ اور اللہ کی قسم ! میں تمھارے ان معبودان باطلہ کے ساتھ ، جب تم چلے جاؤ گے ، تو ایک چال چلوں گا }( انبیاء ۔٥٧ )
پورے عرب میں جگہ جگہ پوجے جانے والے بتوں کے درباروں مزاروں کو تہہ و بالا کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت موسی علیہ السلام والی ضرب کلیم کی یاد بھی تازہ کر دی کیونکہ موسی علیہ السلام نے سامری کے بناۓ ھو ۓ بت ( بچھڑے ) کا فسوں توڑنے کیلۓ اس سے مخاطب ھو کر فرمایا تھا :
{ اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جسکا تو اعتکاف کۓ ھوۓ تھا کہ ھم اسے جلا کر ریزہ ریزہ کرکے دریابرد کر دیں گے ۔ } ( طہ ۔٩٧ )

عام مجسموں ( شوپیس ) کا حکم

مسلمانو ! اصنام و تماثیل اور بتوں کے بارے میں قولا و فعلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو جو موقف اختیار فرمایا وہ بڑا ہی نمایاں تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ان بتوں کے بارے میں ہی یہ موقف اپنانے پر بس نہیں کیا کہ جنکی اللہ کے سوا عبادت و پوجا کی جاتی تھی اور جنکی اسی طرح ہی تعظیم کی جایا کرتی تھی جو کہ صرف اللہ تعالی کا حق ہے بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں میں رکھے اور سنبھالے جانے والے مجسموں یا تماثیل کے بارے میں بھی واضح ھدایات دے رکھی ہیں جنکی اگر چہ پوجا نہیں کی جاتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے بارے میں بھی فرمایا ہے :
{میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آۓ اور انھوں نے فرمایا :
{ میں کل آپ کے پاس آیا تھا مگر میں آپ کے گھر میں اس لۓ داخل نہ ھوا کہ گھر کے باھر دروازے پر پڑی تماثیل ( مجسموں ) نے مجھے روک دیا تھا }( ابو داؤد ، ترمذی ، عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ )

اسی حدیث میں یہ بھی ہے مذکور ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ ان مجسموں کے سر کاٹ دیں تاکہ یہ کٹے ھوۓ درخت کے تنے کی طرح رہ جائیں ۔
اللہ کے بندو ! کوئ عقلمند یہ تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ تماثیل و مجسمیں عبادت یا تعظیم کے لۓ رکھے ھوۓ ھوں ۔ ہرگز نہیں بات محض اتنی سی تھی کہ وہ دروازے کے باھر پڑے ھوۓ تھے ۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو وہ شخصیت ہیں کہ حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا :

{ اللہ تعالی نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے ؟ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا :
اللہ تعالی نے مجھے صلہ رحمی کرنے اور اس کا حکم دینے ، بتوں کو توڑنے ، اللہ کی توحید کا علم بلند کرنے اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی تعلیمات دے کر مبعوث فرمایا ہے ۔ } ( صحیح مسلم )

صحابہ کرام اور آئمۂ دین کا طرز عمل

١۔ اللہ والو !اس طرز عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیز آئمۂ دین رحمھم اللہ نے بھی اپنایا تھا ۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا :
[ کیا میں تمھیں بھی اس کام کیلۓ نہ بھیجوں جس کام کیلۓ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھیجا تھا۔

( پھر فرمایا: ) کوئ تمثال و بت نہ چھوڑو سب کو مسمار کر دو ، جو کوئ بلند و بالا قبر ( مزار و دربار ) دیکھو اسے گراکر برابر کر دو ۔ ] ( صحیح مسلم )
اھل علم کے یہاں یہ بات طے ہے کہ اس جگہ کلمۂ تمثال نکرہ اور نہی کے سیاق میں آیا ہے ۔ لھذا یہ ہر تمثال کو شامل ہے وہ چاہے کسی بھی قسم کی کیوں نہ ھو ، چاہے وہ عبادت کیلۓ بت بنا کر رکھی گئ ھو ۔ یا چاہے وہ محض زینت و ڈیکوریشن کیلۓ بطور شوپیس رکھی ھوئ ھو ۔

٢۔ امام محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب المغازی میں حضرت ابوالعالیہ سے روایت بیان کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں : [ جب ھم نے تستر کو فتح کیا تو ھم نے دیکھا کہ ہرمزان کے گھر میں چارپائ پر ایک مردہ آدمی پڑا ھے جسکے پاس ہی اسکا مصحف بھی رکھا ہے ۔ ھم اس آدمی کو اٹھاکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لۓ گۓ آگے چل کر وہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : تم نے اس آدمی کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ انھوں نے کہا : ھم نے اسکے لۓ دن کے وقت تیرہ مختلف قبریں کھودیں جب رات ھوئ تو ھم نے اسے کسی ایک قبر میں دفن کر دیا اور تمام قبروں پر مٹی برابر کر دی تاکہ لوگوں کو اسکے بارے میں اندھیرے میں رکھا جا سکے تاکہ وہ اسکی قبر نہ کھود سکیں ۔ ایک آدمی نے کہا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ لکھتے ہیں : اس شخص کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جب کبھی قحط سالی ھوتی اور بارش نہ برستی تو لوگ اس شخص کی چار پائ باھر نکالتے تھے جسکے نتیجہ میں بارش ھو جاتی تھی ۔

٣۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اس قصہ پر حاشیہ و تعلیق چڑھاتے ھوۓ لکھتے ہیں : اس قصہ میں وہی رویہ مذکور ھوا ہے جو انصار و مھاجرین صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر کو لوگوں سے اندھیرے میں رکھنے کیلۓ ان کی تدفین پر کیا تھا ۔ تا کہ لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ھوں اور دعائیں کرنے کیلۓ یا ان سے تبرک حاصل کرنے کیلۓ انکی قبر کو زیارت گاہ ( مزار ) نہ بنا لیں ، اور اگر متاخرین کو انکی قبر کا پتہ چل جاۓ تو وہ انکی قبر کی زیارت میں سبقت لے جانے کیلۓ باھم شمشیرزنی بھی کرتے ۔

٤۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ابن سعد نے (طبقات میں ) صحیح سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ لوگ اس درخت کے پاس آتے ہیں جس کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےاپنے ( چودہ سو ) صحابہ کرام سے بیعت ( رضوان ) لی تھی اور اسکے پاس آکر نمازیں پڑھتے ہیں ۔ اس پر پہلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس فعل سے ڈرایا دھمکایا اور پھر بالآخر اسے کاٹ دینے کا حکم صادر فرما دیا اور انکے حکم سے اس درخت کو واقعی کاٹ دیا گیا ۔
توحید باری تعالی کے تحفظ اور شرک کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کرنےکیلۓ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور پھر آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس طرح کے انسدادی مواقف اور حفاظتی تدابیر اختیار کیں کیونکہ کوئ بدعت جب وجود میں آ جاۓ اور وہ لوگوں کو قرآن و سنت کے احکام و تقاضوں سے پھیرنے والی بھی بن جاۓ اور اس کے لۓ دلائل نما شبہات و اعتراضات بھی گھڑلۓ گۓ ھوں اور کئ باتیں جوڑ کر اسے ثابت کرنے کی کوشش کر لی گئ ھو تو پھر وہ بدعت بھی ایسی شکل اختیار کرنے لگتی ہے جیسے کہ وہ کوئ واقعی چیز اور مسلمات میں سے کچھ ھو جسکا تدارک و دفیعہ بڑی مشکلات کے بعد ہی ممکن ھو سکے ۔

بت سازی و بت پرستی کا آغاز

اور اس بات کی دلیل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا فاکہی وغیرہ کے حوالے سے نقل کردہ کلام ہے جس میں عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے بت سازی اور ان کی پرستش کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے عھد میں ھوا ۔ اس طرح بچے اپنے والدین سے نیکی و حسن سلوک کیا کرتے تھے کہ انکے بت بنا بنا کر رکھتے ۔ اور اسکا آغاز انکے یہاں بھی یوں ھوا کہ ایک شخص مر گیا ۔ اسکے بیٹے نے اس کی وفات پر بہت جزع و فزع اور غم کیا اور اسے صبر نہ آیا ۔ بالآخراس نے والد کی شکل کی ایک تمثیل یا مورتی بنا کر رکھ لی ۔ جب کبھی اسے دیکھنے کا شوق آتا، اسکی مورتی یا مجسمے کو دیکھ کر دل بھلا لیا کرتا تھا ۔ پھر جب وہ مرا تو اسکے ساتھ اسکے بیٹے نے ویسے ہی کیا جیسے اس نے اپنے باپ کے ساتھ کیا تھا پھر یہ ایک رسم ہی چل نکلی ۔ بالآخر جب ان میں سے بڑے ایک ایک کرکے مر گۓ تو انکی اولاد نے کہا کہ ھمارے آباء و اجداد نے انھیں اسی لۓ بنایا تھا کہ یہ انکے معبود تھے لھذا انھوں نے انکی عبادت شروع کر دی ۔

دورثقافت اور شرف ؟

مسلمانو ! آج کوئ شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس مادی تھذیبی دور گلوبلا‌‌ئزیشن کے کلچر اور ثقافتی زمانے اور سیال قلم کے مالک لوگوں کی زندگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ بتوں کی پرستش کی غلاظت اور انکی تعظیم کرنے کانظریہ انکے معاشروں میں پھیل سکے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ اب بھی ممکن ہے اور اس میں تعجب والی بھی کوئ بات نہیں کیونکہ جب علم حقیقی کا فقدان ھو اور دلوں میں دین کی اھمیت کم ھو جاۓ تو یہ سب کچھ اب بھی ممکن ہے اور اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی اللہ تعالی کے سوا کتنے ہی معبودان باطلہ موجود ہیں کوئ بت کی شکل میں ہے کوئ نصب کیا ھوا ہے کوئ چلتے پھرتے جاندار کی شکل میں ہے ، اور یہ بات کسی صاحب عقل و دانش اور اھل بصیرت و نظر سے پوشیدہ ہے ، اور پھر اس سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ پہلے مشرکین عھد جاھلیت میں بھی ھماری طرح ہی عقل تھی ، انکے بھی ھماری طرح ہی جسم تھے ۔ وہ بھی منہ میں زبان بلکہ فصیح رکھتے تھے اور عربوں کے مابین انھیں قیادت و سیادت حاصل تھی ، اور سارے اس بات کا بھی اعتراف و اقرار کرتے تھے کہ خالق و را‌زق اور اس کارخانۂ دنیا کو چلانے والا صرف اللہ تعالی ہی ہے ۔ اسکے باوجود انھوں نے بتوں کی پوجا کی ، انکی تعظیم کی ورنہ پھر ابراھیم علیہ السلام کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اللہ سے دعائیں کرتے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا ۔

شرک کا پھر دور دورہ

اللہ کے بندو ! اس بات کی تاکید اس چیز سے بھی ھو جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت پر اس شرک کی غلاظت کے در آنے سے ڈرے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں بعض لوگوں پر یہ غلاظت آ گرے گی ۔ چنانچہ سنن ابوداؤد میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
{ اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی جب تک کہ میری امت میں سے بعض قبائل بتوں کی پوجا نہ شروع کر دیں ۔}
بلکہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے :
{ اس وقت تک قیامت نہیں آۓ گی جب تک کہ قبیلۂ دوس کی عورتیں ، ذوالخلصہ نامی بت کے مزار طواف نہ کرنے لگیں گی ۔ }
اور یہ ذوالخلصہ ایک معروف بت ہے جسے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اس وقت پاش پاش کیا تھا جب انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسی حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ یہ بت پرستی جیسے کبھی پہلے رہی یہ ویسے ایک مرتبہ پھر لوٹ آۓ گی ۔ گویا یہ دن وہی ہیں کہ جنھیں اللہ تعالی لوگوں کے درمیاں پھیرتا رہتا ہے ۔ لوگوں میں سے کوئ موحد ہے اور کوئ مشرک ، ان میں سے کوئ تو اللہ تعالی کی تدبیر سے ڈرتا ہے اور کوئ بے خوف پڑا ہے اور { اللہ کی تدبیر سے صرف وہی لوگ بے خوف رہ سکتے ہیں جو کہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ }
اگر شرک کے دوبارہ لوٹ آنے والی بات نہ ھوتی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس سے ڈرانے کا راز کیا تھا ؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکومت توحید کی بنیاد رکھی اور اپنے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شرک کا سر کچل کر رکھ دیا اور اسے بالکل مٹا دیا حتی کہ اپنی وفات کے قریب آخری لمحات حیات میں سکرات الموت کے دوران بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرما گۓ ہیں :

{ اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرماۓ ۔ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ }

اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو خدشہ ھوا کہ یہ مرض شرک کہیں میرے بعد میری امت میں بھی نہ آجاۓ لھذا اس سے ڈراتے ھوۓ فرمایا :

{ میری قبر کو بت نہ بنا دینا کہ اس کی عبادت ھونے لگ جاۓ ۔ } ( مؤطا امام مالک )

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ اور ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے روایت بیان کی ہے کہ ابراھیم تیمي نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بارے میں جو ارشاد الہی ہے کہ انھوں نے دعا کی :

{ اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچانا کہ ھم بتوں کی پوجا کریں ۔ } ( ابراھیم ۔٣٥)

[ ابراھیم علیہ السلام جیسے موحد و حنیف انسان کے بعد پھر دوسرا کون ہے جو اس آزمائش و بلاء سے بچ سکے ۔ ]

بتوں کی پوجا میں واقع ھونے سے وہی بے خوف ھو سکتا ہے جو انکی حقیقت سے ہی واقف نہ ھو ، نہ کچھ علم شرعی کا مالک ھو اور نہ ہی اس توحید خالص اور شرک سے ممانعت کی ان تعلیمات کو جانتا ھو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آۓ تھے ۔

شیطان اور ترغیب شرک

اس شرک کے میدان میں شیطان کے کردار کا تذکرہ کرتے ھوۓ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

[ شیطان ھمیشہ قبرپرستوں کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ ان پر مزارات تعمیر کرو اور پھر انھیں ان پر مجاور بن کر بیٹھ جانے کی ترغیب دلاتا ہے ۔ پھر انھیں آہستہ آہستہ اھل قبور کو پکارنے اور انکی عبادت کرنے پر لگا دیتا ہے اور پھر انھیں مکمل بت کی شکل بنا دینے پر اکساتا ہے اور وہ پردے اور قندیلیں لٹکا دیتے ہیں اورجب یہ بات انکے دلوں میں جائز ہی ھو جاتی ہے تو پھر انھیں اس اعتقاد پر مضبوط کرنا شروع کر دیتا ہے کہ جو شخص تمھیں ان کاموں سے روکے وہ ان عالی مرتبہ لوگوں کی شان میں گستاخی کرنے والا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ ان کے کوئ مقام و مرتبہ اور حرمت و قدر نہیں ۔ اب ظاھر ہے کہ ایسے شخص پر تو مشرکین کو بڑا غصہ آتا ہے اور وہ آستین چڑھاکر اس کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

{ جب اکیلے اللہ تعالی کا ذکر کیا جاۓ تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اورجب اسکے سوا (غیراللہ) کا ذکر کیا جاۓ تو انکے دل کھل اٹھتے اور وہ خوش ھو جاتے ہیں ۔}
(الزمر۔٤٥)

یہ بیماری بہت سارے جاھل اور کتنے ہی ایسے لوگوں کے دلوں تک سرایت کرچکی ہے جو علم دین کی طرف منسوب کۓ جاتے ہیں حتی کہ وہ اھل توحید سے عداوت و دشمنی رکھتے ہیں ۔ انھیں بڑے بڑے بے بنیاد الزام دیتے ہیں اور لوگوں کو ان سے متنفر کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔

صنم و وثن ؟

اللہ کے بندو ! یہ بات بھی ذھن میں رکھیں کہ بعض اھل علم نے اس بات کو طے کیا ہے کہ کبھی صنم و بت کا اطلاق وثن پر بھی ھوتا ہے اور وثن سے مراد ہر وہ چیز ہے جسکی پوجا و عبادت کی جاۓ وہ چاہے کس شکل میں ھو ۔ اللہ تعالی نے اس سے منع کیا اور فرمایا ہے :

{پس تمھیں اللہ کے سوا پوجی جانے والی چیزوں سے دور رہنا چاہیۓ اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہیۓ ۔}( الحج ۔٣٠ )

بعض لوگوں نے غیراللہ کی عبادت کے مفہوم کو بڑا محدود کردیا ہے اور اس سے مراد صرف پتھروں کی اور بتوں کی عبادت ہی لی ہے ۔ جبکہ یہ انکے اس مسئلہ کے بارے میں سخت جہالت و بے علمی کی علامت ہے، کیونکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا صرف اسی بات میں منحصر نہیں ہے کہ صرف پتھر کے بت کو رکوع و سجدہ کیا جاۓ بلکہ اس کے محدود فہم کی وضاحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائ ہے : چنانچہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد الہی پڑھتے سنا :

{انھوں نے اپنے پیشواؤں کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا تھا۔} ( التوبہ ۔٣١ )

تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
[ ھم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔ ] اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

{ کیا تمھارے وہ پیشوا اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار نہ دیتے تھے اور تم انکی اس بات کو مان کر ان چیزوں کو حرام سمجھتے تھے ؟ اور وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دیتے اور تم انھیں حرام مانتے تھے ؟ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟
[ ایسا تو ھم کرتے تھے ۔ ] نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
{ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ۔ }
( مسنداحمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔ )

اے اللہ ھم ظاھر و باطن تمام فتنوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ھم تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں جبکہ ھم اس جانتے ھوں ، اے اللہ ! ھم اگرکسی چیز کو ان جانے میں تیرے ساتھ شریک بنا لیں تو ھمیں بخش دے تو بڑا بخشنے والا ہے ۔

اسلامیان عالم ! اللہ کا خوف کھاؤ اور یہ بات ذھن نشین کر لو کہ اللہ کے لۓ صرف دین خالص ہی ہے اور ہر مسلمان مرد و زن کیلۓ ضروری ہے کہ وہ اپنے ظاھر و باطن کی خوب تطہیر و صفائ کر لے اور ان امور سے بچ جاۓ جو اسے اکیلے اللہ تعالی کی عبادت کرنے سے پھیر کر شرک پر لگانے والے ہیں ، اسی طرح ھم تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ھم اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کی اطاعت و پیروی کریں ۔ اور انھیں اپنی ذات ، اپنے والدین اور تمام رشتہ داروں پر ترجیح دیں ۔ ایسے ہی تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں کو حسب مقدور بتوں کی پوجا اور انکی عبادت کی غلاظت سے پاک کریں ۔ خصوصا ان چیزوں سے اپنے گھروں کو پاک کریں جو محض زینت کیلۓ شوپیس کے طور پر رکھی گئ ہیں ۔ کیونکہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ھوتے جس میں کوئ مجسمہ یا تصویر ھو ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اگر کسی دعوت و ولیمہ میں مدعو کیا جاتا تو دعوت دینے والے سے پوچھتے کہ تمھارے گھر میں کوئ مجسمے یا تصویریں تو نہیں ہیں ؟ اگر وہ کہتا کہ نہیں ہیں تو اسکی دعوت کو قبول فرما لیتے ۔

خبردار ! مفاسد و بگاڑ کے راستوں کو بند کرنا اور شرک کی طرف لے جانے والے ذرائع کا سد باب کرنا بہت ضروری امر ہے جس سے عام مسلمانوں کو کبھی بھی غافل نہیں ھونا چاہیۓ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان والا درخت صرف اسی غرض سے اکھڑوا دیا تھا ۔

بت اور مجسمے رکھنا ، انکی تعظیم کرنا اور مزاروں و درباروں کی تعظیم کرنا اسلام میں ایک نیاپیداکردہ امر ہے اور اسکے پیدا کرنے والے بھی کوئ اھل علم و تقوی لوگ نہیں تھے بلکہ یہ چیزیں پیدا کرنے والے لوگ خواہشات نفس کے پیروکار ، جاھل و بے علم اور اقتدار و غلبہ والے لوگ تھے کیونکہ قرآن کریم میں اصحاب کہف کے تذکرہ میں اللہ تعالی نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے ھم تو انکے آس پاس مسجد بنا لیں گے ۔ } ( الکہف ۔٣١)

دور حاضر کا شرک

موجودہ دور میں یہ معاملہ بہت بڑھ چکا ہے ۔ بعض لوگوں تو ربوبیت اور الوھیت باری تعالی میں شرک کرنے لگے ہیں ، انھوں نے بعض اھل قبور سے طرح طرح کے اعتقاد قائم کر رکھے ہیں اور انھیں اصنام و تماثیل کی شکل دے رکھی ہے ، اور انکے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ غیب جانتے ہیں اور جو شخص ان کا تصور کرے اور انکی طرف متوجہ ھو وہ اس کی بات و حاجت پوری کرتے ہین ۔ وہ مشکلات کو دور کرنے اور حاجات پوری کرنے کی قدرت و طاقت رکھتے ہیں بلکہ نوبت یہاں تک پہونچ گئ ہے کہ لوگوں نے بعض قبروں کو اسی طرح انصاب و بت بنا لیا ہے جس طرح کہ پہلے عربوں نے کیا تھا ۔ ان کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں ۔ انکی شفاعت و سفارش طلب کرتے ہیں بلکہ ان کے نام نذر کے جانور چھوڑے جاتے ہیں ۔ ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانے کیلۓ جانور لے جاۓ جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اور کہیں کہیں ایسا بھی ہے کہ صاحب قبر کی یادگاریں بنائ گئ ہیں اور انکی بھی تعظیم کی جا رہی ہے ، انکی حرمت و عظمت باور کرائ گئ ہے اور اس یادگار پر زیادتی کرنے والوں کی ‎سزا وہ رکھی گئ ہے جو اللہ کے دین پر زیادتی کرنے اور اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو گالی دینے والے کی بھی نہیں رکھتے ۔

افادات ابن قیم رحمہ اللہ

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوہء طائف اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لات نامی بت کو ریزہ ریزہ کرنے کا تذکرہ کرتے ھوۓ لکھا ہے : [ اس واقعہ میں کئ فوا‏‏‏ئد پنہاں ہیں ۔

١۔ پہلا یہ کہ ایسے مقامات شرک کو بحال رکھنا جا‏ئز نہی ہے بلکہ جب غلبہ و اقتدار حاصل ھو جاۓ تو ایک ہی دن میں انھیں ختم کرنا ضروری ہے

٢۔ اسی طرح ان قبروں اور مزاروں کا حکم بھی ہے جنھیں عبادتگاہیں بنا لیا گیا ہے اور جہاں اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔

سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین

Leave a Reply

Englishاردو