Google

ایام کے تناظر میں ۔ ذکر الہی اور اس کے فضائل و ثمرات ، فوائد و برکات

فضیلتہ الشیخ / سامہ الخیاط ۔ حفظہ اللہ

حمد و ثنا کے بعد

اللہ کی بیشمار نعمتیں
اللہ کے بندو ! اس اللہ سے ڈرتے رہا کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور عمدہ و پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی ۔ ارشاد الہی ہے ،
” اور اس ( اللہ ) نے تم پر ظاھری و پوشیدہ نعمتیں بھرپور و عام کر دیں “۔ ( لقمان ۔٢٠ ) ۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :
” اور اس نے تمھیں ہر وہ چیز دی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اس کی نعمتوں کو گننا چاھو تو شمار نہیں کر سکو گے بیشک انسان بڑا ظالم و ناشکرا ہے “۔ ( ابراھیم ۔٣٤ ) ۔

ذکر و یاد محبوب : باعث ازدیاد و دوام حب :
محبوب کا ذکر اور اسکی یاد اس کی محبت کے دوام کا سبب اور اس کی مودت کی ھمیشگی کی راہ ہے ، اس کی رضاء و خوشنودی کے حصول کا طریق اور اس کی کریمانہ معیت و ساتھ کو پانے کا باعث ہے اور اللہ تعالی ہے سب سے زیادہ حقدار و اولی ہے کہ اسی سے کمال درجہ کی محبت کی جاۓ اسی کی عبادت و بندگی بجا لائی جاۓ جو کہ اس کی تعظیم اور جلالت کی بناء پر ھو ، اس کی زیارت و دیدار کے شوق اور اسی سے امیدیں وابستہ کرنے کےلۓ ھو اور اسی پر توکل و اعتماد کے ساتھ ھو تو اللہ تعالی کا ذکر دلوں اور زبانوں کےلۓ وہ عظیم عمل بن جاتا ہے جس سے بندہ نفع حاصل کرتا ہے جس کی نیکی کی امید لگاتا ، اسے آخرت کے لۓ خزانہ بناتا ، اس کے اجر و ثواب کا امیدوار بنتا ہے اور اس کے اچھے انجام پر نگاہیں لگاتا ہے ۔

ذکر الہی کا حکم اور فضائل و فوائد :
کتاب اللہ میں اس ذکر الہی کو کثرت سے کرنے کا حکم اور بکثرت ذکر کرنے والوں کی تعریف آئی ہے اور وہ مرد ھوں چاہے عورتیں ۔
چنانچہ ارشاد ربانی ہے :

” اے وہ لوگو جو ایمان لاۓ ھو ! اللہ کا بکثرت ذکر کرو اور صبح و شام اسکی تسبیح و پاکی بیان کرو “۔ ( الاحزاب ۔٤١ ، ٤٢ ) ۔
دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :
” اور اللہ کا بکثرت ذکر کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ “۔ ( الجمعہ۔١٠ ) ۔
ایک تیسرے مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
” بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں ، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں ، صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں ، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اپنی شرمگاھوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاھوں کی حفاظت کرنی والی عورتیں اور اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والی عورتیں ، ان سب کے لۓ اللہ نے مغفرت و بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے “۔ ( الاحزاب ۔٣٥) ۔

تمام اعمال سے افضل : ذکر الہی :
ذکر الہی کو ایک انتہائی اشرف مقام حاصل ھونے ، اس کے عالی مرتبہ ھونے اور اس کے بہترین انجام والا ھونے اور اس پر اللہ تعالی کی طرف سے انتہائی کریمانہ جزاء کا اعلان ھونے جیسے اسباب کی بناء پر یہ ذکر الہی اللہ تعالی کے نزدیک تمام اعمال صالحہ سے بہتر و پاکیزہ عمل ہے ۔ جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے جسے امام مالک نے اپنے مؤطا میں ، امام احمد نے اپنی مسند مین اور امام ترمذی و ابن ماجہ نے اپنی اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ وہ بیان کرتے ہین کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” کیا میں تمھیں تمھارے اعمال میں سے تمھارے رب کے نزدیک بہترین عمل اور پاکیزہ ترین کام کی خبر نہ دوں جو کہ تمھارے درجات میں سب سے زیادہ بلندی پیدا کرنے والا اور تمھارے سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر اور اس سے بھی اچھا ہے کہ تم میدان جہاد میں اپنے دشمن سے ملو ، وہ تمھاری گردیں مارے اور تم ان کی گردیں مارو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! ضرور خبر دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ، ” وہ عمل ہے ذکر الہی “۔

( مؤطا ۔٤٩٠ ، عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ و عن غیرہ عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ۔ ، مسند احمد ٥ / ١٩٥ ، ترمذی۔٣٣٧٧ ، ابن ماجہ ، ٣٧٩٠ ، مستدرک حاکم ١ / ٤٩٦ ، امام ہیثمی نے مجمع الزوائد ١٠ / ٧٣ میں اور علامہ البانی نے الکلم الطیب ابن تیمیہ کی تحقیق : میں اسے احسن قرار دیا ہے ۔

ذکر کرنے والے کو اللہ تعالی کا یاد کرنا :
اللہ تعالی کے ذکر کا یہ شرف و مقام کیا کم ہے کہ اسے اللہ تعالی نے اس بندے کو اپنے یاد کرنے کا سبب بنا دیا ہے جو کہ اسے یاد کرتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے ظن و خیال کے مطابق ہی ھوتا ھوں اور وہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ھوتا ھوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ھوں اور اگر وہ مجھے لوگوں کے مابین یاد کرتا ہے تو میں اسے ان لوگوں ( فرشتوں ) میں یاد کرتا ھوں جو کہ ان لوگوں سے بہت بہتر ھوتے ہیں”(بخاری:٧٤٠٥، مسلم ٢٦٧٥)

دیگر فوائد ذکر الہی :
اگر ذکر الہی کا دوسرا کوئی بھی فائدہ نہ ھوتا تو یہی بہت تھا جو کہ بہت ہی فضیلت و شرف کا باعث ہے جبکہ یہی نہیں بلکہ ذکر الہی کے فوائد و فضائل میں سے ہی یہ بھی ہے کہ یہ شیطان کو بھگاتا اور اس کا قلع قمع کرتا ہے ، غم و حزن کو زائل کرتا اور سرور و مسرت پیدا کرتا ہے ، دل کو تقویت و ثبات دیتا ہے ، قلب و چہرے کو منور کرتا ہے ، رزق لانے کا سبب بنتا ہے اور ذاکر کی ہیبت و حلاوت اور ترو تازگی کا باعث بنتا ہے ۔ یہ ذکر الہی معرفت الہی پیدا کرتا ہے اور بندے کے دل میں اللہ کے ہر وقت دیکھنے اور نگرانی کرنے والا ھونے کا احساس بیدار کرتا ہے حتی کہ ذکر الہی کرنے والا شخص احسان کے دروازے میں داخل ھو جاتا ہے اور وہ اللہ کی عبادت اس انداز سے کرنے لگتا ہے کہ وہ گویا اسے دیکھ رہا ھوتا ہے ۔

ذکر الہی : باعث رجوع الی اللہ :
یہ ذکر الہی بندے میں اللہ کی طرف رجوع و جھکاؤ پیدا کرتا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف پلٹ جاتا ہے ۔ بندہ جب زبانی ذکر کی بکثرت کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے تو نتیجۃً یہ زبانی رجوع الی اللہ اس کے دل کو بھی ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ کر دیتا ہے حتی کہ اللہ تعالی ہی اس کا ملجا و ماوی ، اس کی جاۓ پناہ و ٹھکانا بن جاتا ہے ، اس کے دل کا قبلہ بن جاتا ہے اور ناگہانی آفت اور مشکل و مصیبت میں وہ صرف اسی کی طرف دوڑنے لگتا ہے ۔ یہ ذکر الہی اس کے دل میں اللہ کی ہیبت ڈال دیتا ہے اس کا جلال پیدا کر دیتا ہے کیونکہ یہ ذکر اس کے دل و دماغ اور ریشے ریشے میں سرایت کر جاتا ہے اس کے برعکس غافل شخص کا یہ حال ھوتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ کی ہیبت کی راہ میں ایک باریک پردہ ھوتا ہے ۔

ذکر الہی : حیات بخش :
یہ ذکر بندے کے دل کو زندگی بخشتا ہے کیونکہ ذکر الہی دلوں کی غذاء ہے اور یہ روح کے لۓ بھی باعث تقویت و غذاء ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ عليہ لکھتے ہیں :
” میں نے اپنے استاذ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ عليہ کو یہ کہتے ھوۓ سنا کہ ذکر دل کے لۓ وہی حیثیت رکھتا ہے جو کہ مچھلی کے لۓ پانی کا مقام ھوتا ہے اگر مچھلی کو پانی سے نکال کر باھر ڈال دیا جاۓ تو اس کی حالت کتنی بیتابی والی ھوتی ہے ؟ “۔ ( الوابل الصیب : ص ٦٣ ) ۔

ذکر الہی : دلوں کا زنگ دور :
ذکر الہی دل سے زنگ کو دور کرتا اور اسے جلا دیتا ہے ۔ ہر چیز کو زنگ لگ جاتا ہے اور دلوں کا زنگ غفلت شعاری اور گناہ ہیں اور دل کو جلا دینے اور اسے صیقل کرنے والی چيزیں ذکر الہی اور توبہ و استغفار ہیں ، یہ ذکر الہی گناھوں کو مٹاتا ہے اور برائیوں ، خطاؤں کو بہا لے جاتا ہے کیونکہ یہ خود ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” بیشک نیکیاں برائیوں کو بہا لے جاتی ہیں “۔ ( ھود ۔١١٤ ) ۔

ذکر الہی باعث نجات :
یہ ذکر الہی اللہ کے عذاب سے نجات کا سبب ہے ، اسی طرح یہ اللہ کی طرف سے سکینت و طمانیت کے نزول کا بھی باعث ہے اور اسی سے رحمت الہی سایہ فگن ھوتی ہے اور ذکر کرنے والے کو اللہ کے فرشتے اپنے جلو میں لے لیتے ہیں ۔ جیساکہ رسول ھدایت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی خبر صحیح مسلم کی ایک حدیث میں دی ہے ۔ ( مسلم ۔٢٦٩٩ ) ۔

دیگر ثمرات ذکر الہی :
یہ ذکر الہی دل کو غیبت و چغلی ، فخش گوئی اور باطل کلامی سے ہٹانے ( اور زبان کو ان گناھوں سے بچانے ) کا سبب بھی ہے اور یہ بندے کو قیامت کے دن کی حسرت سے محفوظ کر دیتا ہے ۔ جیسا کہ مسند احمد و ابوداود کی صحیح سند والی ایک حدیث میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” کوئی قوم جب کسی ایسی مجلس سے اٹھے جس میں انھوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ھو تو وہ ایسے ہی ھونگے
جیسے کہ کسی گندھے مردار سے اٹھ کر گۓ ھوں اور یہ ( بے ذکر مجلس ان کے لۓ قیامت کے دن ) باعث حسرت بن جاۓ گی “۔
( ابوداود ۔٤٨٥٥ ، مسند احمد ۔٢ / ٣٨٩ ، ٥١٥ ، ٥٢٧ ، بہیقی ٦ / ١٠٨ ،مستدرک حاکم ۔١٨٠٨ ، امام نووی نے اسے الاذکار میں صحیح قرار دیا ہے ۔ نیز دیکھۓ صحیح ابوداود للالبانی ، اور معجم طبرانی وغیرہ کے بعض طرق میں باقاعدہ جید اسناد سے ثابت ہے کہ یہ مجلس ” قیامت کے دن ” ان کے لۓ حسرت کا باعث ثابت ھو گی ۔

ذکر الہی اور اشک باری : کیا کہنے ؟
اگر ذکر الہی بھی ھو اور ساتھ ہی ذکر کرنے والا خلوت میں آہ و بکاہ اور خشیت الہی سے اشکباری بھی کر رہا ھوں تو یہ چیز قیامت کے دن بندے کو عرش الہی کے ساۓ میں جگہ دلوانے کا باعث بھی ہے جبکہ باقی تمام لوگ سورج کی سخت گرمی میں ھونگے ( اور عرش الہی کے سوا کوئی سایہ نہ ھو گا ) جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” اللہ تعالی ( قیامت کے دن ) سات قسم کے لوگوں کو اپنے ( عرش کے ) ساۓ میں جگہ دے گا جس کے سوا اس دن دوسرا کوئی سایہ نہیں ھو گا ” اور آگے طویل حدیث ہے جس میں ہی اس ایک آدمی کا ذکر ہے ” ۔ ۔ ۔ اور وہ آدمی جس نے تنہائی و خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں برس پڑیں “۔ ( بخاری ۔٦٤٧٩ ، مسلم ۔١٠٣١ ) ۔
اسی طرح ذکر الہی کے دوسرے بھی کتنے ہی فضائل و فوائد ہیں جنھیں بعض اہل علم ( جیسے علامہ ابن قیم ) نے ذکر کیا ہے اور ان فوائد و فضائل میں سے ایک سو سے زائد کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔

ذکر الہی : ایام تشریق میں :
مسلمانو ! آپ لوگ ان ایام سے گزر رہے ہیں جن میں اللہ تعالی نے آپ کو ذکر الہی کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ چند گنتی کے اور مبارک دن ، یہی ایام تشریق ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذوالحج ) کے دن ہیں جن کا آپ آج سے استقبال کرنے جا رہے ہیں کیونکہ ایام تشریق کا پہلا دن ( ١١ ۔ ذوالحج ) ہے ۔ ان ایام کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :

” منی میں گزارے جانے والے دن ( ایام تشریق ) کھانے پینے اور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے دن ہیں “۔
( صحیح مسلم ۔١١٤١ ) ۔ عن نبیشر الھذلي ) ۔

علامہ ابن رجب لکھتے ہیں :
” نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس بیان و ارشاد میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ان ایام عید ( الاضحی ) میں کھانے اور پینے کی طرف اس لۓ توجہ دلائی گئی ہے کہ اس سے ذکر الہی کرنے کے لۓ تقویت اور اطاعت و عبادت کی ھمت بڑھے گی ۔ اور یہ بھی اللہ کی نعمتوں کے شکر کی ایک مکمل شکل ہے کہ ان سے اللہ کی عبادت و اطاعت میں مدد حاصل کی جاۓ ۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب مقدس میں پاکیزہ چیزوں سے کھانے اور اس کا شکر ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے :

جس نے اللہ کی نعمتوں کو استعمال کر کے اللہ کی نافرمانی پر مدد حاصل کی اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری اور کفران نعمت کیا اور وہ شخص اگر اس لائق ہے کہ اس سے انھیں چھیں لیا جاۓ خصوصاً چوپایوں کے گوشت کی نعمت سے کھانا جیسا کہ ایام تشریق میں ھوتا ہے یہ چوپاۓ اللہ کے اطاعت گزار ھوتے ہیں ، اس کی نافرمانی ہرگز نہیں کرتے ۔ وہ اسکی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں اور اس کے تابعدار رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ھو لیکن تم اس کی تسبیح ( حمد و ثناء بیان کرنے ) کو نہیں سمجھتے “۔ ( بنی اسرائیل ۔٤٤ ) ۔

یہ تمام اشیاء اللہ کو سجدہ کرتی ہں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ھوتے ہیں “۔ ( النحل ۔٤٩ ) ۔

گوشت کھائيں اور ذکر الہی بجا لائيں :
اللہ تعالی نے ان جانوروں اور چوپایوں کو ذبح کرنا مباح قرار دیا ہے تاکہ ان کا گوشت کھا کر لوگوں کے جسموں کو قوت ملے اور وہ لذتوں کی تکمیل کریں اور یہ ان کے لۓ علوم نافعہ کے حصول اور اعمال صالحہ کی سرانجام دہی میں مددگار بنے گا ، اس سے بنی آدم کا فرشتوں پر امتیاز بھی قائم ھو جاتا ہے ۔ اور اس لۓ بھی جانوروں کا ذبح کر کے ان کا گوشت کھانا مباح قرار دیا تاکہ وہ ان کے لۓ ذکر الہی میں معاون بن جاۓ اور انسانوں کا ذکر الہی کرنا جانوروں کے ذکر و تسبیح سے بڑا عمل ہے ۔ ان تمام امور کے پیش نظر یہ کسی مؤمن کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کے عوض میں ناشکری کرے بلکہ اسے چاہے کہ ان پر اللہ کا شکر گزار ھو اور ان سے اللہ کی اطاعت و عبادت اور ذکر الہی میں تعاون حاصل کرے اور اللہ نے بنی آدم کو اپنی بکثرت مخلوقات پر شرف و برتری دے رکھی ہے اور یہ تمام جانور اس کے لۓ مسخر و مطیع کر رکھے ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

” تم ان جانور کے گوشت سے ( خود بھی ) کھاؤ اور اسے بھی کھلاؤ جو قناعت کۓ ( سوال کرنے سے رکا ) بیٹھا ہے اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ ۔ اسی طرح ھم نے چوپایوں کو تمھارے ماتحت کر دیا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو “۔ ( الحج۔٣٦ ) ۔

جو شخص اللہ کی ان مطیع فرمان مخلوقات اور اس کا ذکر و تسبیح کرنے والے جانوروں کو قتل و ذبح کرے پھر ان کا گوشت کھا کر ( طاقت حاصل کر کے ) اللہ کی نافرمانی پر اتر آۓ اور اللہ کا ذکر بھول جاۓ تو اس نے گویا کہ معاملے کو پلٹ کر ہی رکھ دیا اور نعمت کا شکر نہیں بلکہ کفران نعمت کیا “۔ ( کتاب ” لطائف المعارف ” امام ابن رجب ) ۔

شکر گزاری کے مختلف انداز :
خبردار ھو جائيں ! نعمتوں کا اقرار کرنا ، اس کے انعامات کی گواہی دینا ، اس کے فضائل و اکرام کا معترف ھونا ، اور اس کے محامد و ثناء کا بیان کرنا ، یہ سب امور ایسے ہیں کہ ان سے شکر گزاری ھوتی ہے ۔ ان کے ذریعے اسکی حمد و ثناء بلند ھوتی ہے اور ان کے ساتھ ہی تمام جہانوں کے پالنے والے اللہ تعالی کی ہر قسم کی تعریفیں بیان ھوتی ہیں ۔ بیشک اللہ ہی ان تمام نعمتوں کو نازل کرنے ، ان عطاؤں سے نوازنے اور اس خیر و بھلائی کے فیضان کو عام کرنے والا ہے ۔ اس لۓ لوگوں کے ان نیک اعمال کو بجا لانے پر جن سے لوگوں کو بھی نفع پہنچتا ہے اور ان کے بڑے دور رس اثرات دوسروں پر مرتب ھوتے ہیں ۔ ان کے ایسے اعمال و خدمات پر ان کا شکریہ ادا نہ کرنا درحقیقت اللہ کا شکر ادا نہ کرنے والی بات شمار کیا گیا ہے ۔

جیسا کہ مسند احمد ، سنن ابوداود ، اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہ کیا “۔
( مسند احمد۔٢ / ٢٩٥ ، ابوداود ۔٤١١١ ، ابن حبان ۔٣٤٠٧ ، ترمذی ۔١٩٥٤ ، و صحیح الترمذی للالبانی ؛ ١٥٩٢ ، الادب المفرد امام بخاری ۔٢١٨ )

سعودی حکومت کو خراج تحسین :
اللہ تعالی نے اس مبارک مملکت سعودی عرب پر جو انعامات کۓ ہیں ان میں سے ہی ایک یہ بھی ہے کہ اس نے اس کے حکام و کارپردازوں کو حرمین شریفین ( حرم اللہ و حرم نبوی ) کی ہر ممکن طریقے سے خدمت کرنے کی توفیق سے نوازا ہے ، اسی طرح وہ حجاج بیت اللہ کی بھی عمدہ طریقے سے میزبانی و خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں اور حکومت کی ان تمام خدمات سے کسی کو مجال انکار ممکن ہی نہیں ہے ۔ اے اللہ تیرے اس فضل و کرم پر تیری ہی ہر طرح کی تعریف ہے اور تو اپنی طرف سے ان سب کو وافر خیر عطا فرما اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ انہیں ان خدمات پر اجر عظیم سے نواز تو ہی وہ ذات ہے جو سب سے زیادہ صاحب و جود و کرم والی ہے کہ جس سے سوال کیا جا سکتا ہے ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” اللہ کا ان گنتی کے دنوں میں خوب ذکر کرو اور جس نے صرف دو ہی ( ١١ ، ١٢ ذوالحج منی میں گزارنے ) پر جلدی کی ( اور منی سے نکل گیا ) اسے کوئی گناہ نہیں ہے اور جو کوئی ( ١٣ ، ذوالحج کی رمی تک ) تاخیر کرے اسے بھی کوئی گناہ نہیں جو کہ تقوی اختیار کرے اور اللہ کا تقوی اختیار کرو اور یہ بات ذھن نشین کر لو کہ تم اسی کی طرف اکٹھے کۓ جاؤ گے “۔ ( البقرہ ۔٢٠٣) ۔

انواع و اقسام ذکر الہی :
اللہ والو ! وہ ذکر الہی جس کا ھمیں اس ارشاد الہی میں حکم دیا گیا ہے جس میں ارشاد باری تعالی ہے :
” اللہ کا ذکر کرو گنتی کے ( ان ) دنوں میں ” ( البقرہ ۔٢٠٣) ۔

اس ذکر کی کئی اقسام و انواع ہیں :
١ ۔ ان میں سے ہی ایک یہ ہے کہ فرض نمازوں کے بعد اس کا ذکر کیا جاۓ اور یہ ان کے بعد تکبیرات عید کہنے سے ھو گا اور یہ تکبیرات جمہور اہل علم کے نزدیک ایام تشریق کے آخر ( ١٣ ، ذوالحج کی عصر ) تک مشروع ہیں ۔

٢ ۔ دوسرا ذکر الہی یہ ہے کہ حجاج کی قربانیاں یا عام مسلمانوں کی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر کہا جاۓ ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین اور بعد والے جمہور اہل علم کے نزدیک تو قربانی کے جانوروں کا ذبح کرنا ایام تشریق میں سے صرف پہلے دو دنوں کے ساتھ ہی خاص ہے ۔ امام ابوحنیفہ ، مالک اور مشہور روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل کا یہی مسلک ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک قربانی کا وقت ایام تشریق کے آخر ( ١٣ ذوالحج ) تک ہے ۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ عليہ اور ان کے شاگرد رشید اور علامہ ابن قیم نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے کیونکہ اسی قول کے دلائل ( قوی و بکثرت ) کتب حدیث کے ابواب متعلقہ میں مذکور و مبسوط ہے ۔

٣ ۔ ( ایام تشریق میں ) بکثرت ذکر کرنے میں سے ہی یہ بھی ہے کہ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھی جاۓ کیونکہ سنت یہ ہے کہ کھانا کھانے اور پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھی جاۓ اور آخر میں اللہ کی حمد و ثناء بیان کی جاۓ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” اللہ تعالی اس بندے پر بڑا راضی ھوتا ہے جو ہر کھانے پر اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے اور ہر مرتبہ کوئی مشروب پینے پر بھی اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے “۔ ( صحیح مسلم ۔٢٧٣٤ ) ۔
اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے بارے میں مروی ہے کہ جو ابھی نو عمر لڑکے تھے اور ان کا ہاتھ کھانے کے برتن میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے مخاطب ھو کر فرمایا :
” اے لڑکے ! اللہ کا نام لو ( بسم اللہ پڑھو ) ، دائیں سے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ “۔
( بخاری ۔٥٣٧٦ ، مسلم ۔٢٠٢٢) ۔

٤ ۔ ذکر الہی کی انواع و اقسام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایام تشریق میں رمئ جمرات کے وقت کنکری مارتے وقت تکبیر کہی جاۓ اور یہ ذکر کی قسم ہے جو صرف حجاج کرام کے ساتھ ہی خاص ہے ۔

٥ ۔ ذکر الہی کی پانچویں قسم مطلق ذکر ہے جو کہ ایام تشریق میں بکثرت کرنا مستحب ہے :

حضرت عمر رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمے میں بکثرت تکبیریں پڑھا کرتے اور لوگ بھی انہیں دیکھ کر تکبیریں کہنے لگتے حتی کہ پورا منی اللہ کی تکبیرات و بڑائیوں سے گھونج اٹھا کرتا تھا ” ۔
( صحیح بخاری تعلیقا بالجزم فی کتاب العیدین ، باب التکبیر ایام منی ۔ و وصلہ للعیدین منصور و ابوعبید و البیہقی کما فی الفتح للحافظ ) ۔

بکثرت ذکر اور جامع ترین دعاء :
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :
” جب تم اپنے مناسک و اعمال حج پورے کر چکو تو اللہ کا اتنا ذکر کرو جتنا کہ تم اپنے آباء و اجداد کا کیا کرتے ھو یا اس سے بھی زیادہ ذکر الہی کیا کرو لوگوں میں وہ بھی ہیں جو یہ کہتا ہے کہ اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں خیر و بھلائی دے دے ۔ اس کے لۓ آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور لوگوں میں سے ہی وہ بھی ہے جو کہتا ہے :
اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء کر اور آخرت میں بھی بھلائي عطا کرنا ، اور ھمیں عذاب جہنم سے نجات دے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لۓ ان کے اعمال کا حصہ ہے اور اللہ تعالی جلد حساب لینے والا ہے “۔ ( البقرہ ۔٢٠٠ ، ٢٠٢ ) ۔
یہی وجہ ہے کہ سلف اہل علم کی اکثریت نے اس بات کو مستحب قرار دیا ہے کہ ایام تشریق میں یہ دعاء بکثرت اور خوب گڑ گڑا کر مانگنی چاہیۓ ۔

علام ابن رجب کہتے ہیں :
” یہ دعاء دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کی جامع اور تمام دعاؤں سے جامع ترین دعاء ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اور آپ جب بھی دعاء کرتے تو اس میں اس دعاء کو ضرور شامل فرما لیا کرتے تھے ۔ یہ دعاء دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کی جامع ہے ۔

ذکر الہی : ناقابل اختتام عبادت :
مناسک و اعمال حج کے اختتام بکثرت ذکر کرنے کا حکم دینے میں بھی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہر عمل اور تمام عبادت مکمل ھو جاتی ہیں اور عبادتگزار ان سے فارغ ھو جاتا ہے لیکن ذکر الہی ایسا عمل ہے کہ جو کبھی ختم نہیں ھوتا اور نہ ہی اس سے فارغ ھوا جا سکتا ہے بلکہ یہ اہل ایمان کے لۓ دنیا و آخرت میں مسلسل جاری رہنے والا ہے “۔ ( لطائف المعارف امام ابن رجب ) ۔
اللہ کے بندو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اپنے مناسک و اعمال حج کو بہتر طریقے ( بکثرت ذکر الہی ) سے اختتام پذیر کرو ۔
وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین۔

Leave a Reply

Englishاردو