Google

فرضیت و فضیلت حج و عمرہ در و دریوار مکہ مکرمہ و بطحا اور مشاعر مقدسہ

فضیلتہ الشیخ / صالح بن محمد آل طالب حفظہ اللہ

حمد و ثنا کے بعد

اخلاص عمل اور فضلیت ایام :

مسلمانو ! اپنے اوقات کی خوب حفاظت کرو یہ انتہائی انمول چيز ہے اور حلال و پاکیزہ غذاء کھاؤ اور صرف حلال طریقے سے ہی کماؤ اور اپنے اعمال کو میزان شریعت پر تول کر سرانجام دیا کرو اور اپنے مقاصد اور نیتوں کو صحیح کر لو اور خوب اخلاص للہ سے کام لیا کرو اور اپنے ظاھر و پوشیدہ ہر عمل میں اس ذات باری تعالی کو نگران و دیکھنے والا مانو جو کہ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کو بھی جانتا ہے اور اسے اپنے ہر فعل کا نگران ماننا بہت ہی عمدہ و جلیل القدر بات ہے اور موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اپنے موجودہ ایام ( شب و روز ) کو غنمیت سمجھو کیونکہ اللہ تعالی نے ان ایام کو بڑا شرف و مقام اور درجۂ فضلیت عطا کیا ہے ۔

مکہ مکرمہ کا استقبال حجاج :

مسلمانو ! ان مبارک دنوں میں مکہ مکرمہ حجاج کرام کے وفود کا استقبال کر رہا ہے اور مسجد حرام انہیں ( اللہ کے مہانوں کو ) اپنی گود میں لینے کے لۓ خوشی سے اپنے بازو پھیلاۓ ھوۓ ہے ۔ حجاج کرام اس طرح شان و شوکت سے چلے آ رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالی کی خاص عنایت و کرم ہے اور وہ دنیا کے کونے کونے سے کچھے چلے آ رہے ہیں ۔ وہ اپنے رب تعالی کی نداء پر لبیک کہتے ھوۓ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراھیم علیہ السلام کے اعلان پر سرتسلیم خم کۓ پہنچ رہے ہیں ۔ اللہ تعالی نے انھیں حکم دیتے ھوۓ فرمایا تھا :

” اور ( اے ابراھیم ! ) لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں وہ آپ کے پاس ( اس شہر مکہ میں ) پاپیادہ اور پتلے دبلے انٹوں پر ( سوار ھو کر ) دور دراز راستوں سے چلے آئیں گے تاکہ اپنے ( دینی و دنیوی ) فائدے کے کاموں میں حاضر ھوں “۔

مقدس ترین مقام :

حجاج کرام سواریوں کو کھینچتے چلے آ رہے ہیں اور شوق و ذوق اور ولولہ و جوش انہیں بازی لیجانے پر لگاۓ ھوۓ ہے ۔ امید ان کی حدی خواں ہے ، فرحت و مسرت ان کے رؤیں رؤیں سے پھوٹ رہی ہے اور وہ اللہ تعالی کے عظیم گھر بیت اللہ و کعبہ شریف کی طرف رواں دواں ہیں ۔ وہ اپنے گناھوں کے کفارے کا لالچ دل میں سموۓ ھوۓ ہیں اور جنتوں کے حصول کا سامان کرنا چاہتے ہین وہ اپنے دین اسلام کے پانچ ارکان میں سے پانچویں اھم رکن ۔ ” حج ” کی ادائیگی کے لۓ روۓ زمین کے سب سے مقدس ترین مقام سر زمین مکہ مکرمہ میں حاضر ھو رہے ہیں ۔ یہ ایک تاریخ ہے ، کچھ یادیں ، ایک سیرت ہے اور ایک راہ عمل ہے ۔ ارشاد الہی ہے :

” پہلا گھر جو لوگوں ( کے عبادت کرنے ) کے لۓ مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو کہ مکہ میں ہے ، وہ بابرکت اور تمام جہانوں کے لۓ موجب ھدایت ہے ، اس میں کھلی ھوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ( حضرت ) ابراھیم کے کھڑا ھونے کی جگہ ہے جو شخص اس ( مبارک گھر ) میں داخل ھو گیا اس نے امن و امان پا لیا “۔ ( آل عمران ۔٩٦ ، ٩٧ ) ۔

مرکز ملت : مکہ مکرمہ :

اسی خانۂ کعبہ کا حج تمام انبیاء کرام نے کیا اسی کی طرف رخ انور کر کے امام الحنفاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھی ۔ مکہ مکرہ سے ہی نور ھدایت پھوٹا ، یہیں سے پیغام توحید نشر ھوا اور پوری روۓ زمین میں پھیل گیا اور اس نے ساری دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور اس نے تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ عدل و انصاف پسند اور سب سے عمدہ تھذیب و تمدن سے بنی نوع انسان کو متعارف کروایا ۔ یہ مکہ مکرمہ ساری دنیا کا مرکزی نقطہ اور مرکز ملت ہے ، یہ مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی رمز اور ساری دنیا کے لۓ منبع نور و سرچشمۂ ھدایت ہے ، یہ اللہ کے نزدیک ساری روۓ زمین کا مقدس و افضل ترین خطہ ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک تمام ملکوں اور شہروں سے بڑھ پیارا شہر ہے مکہ مکرمہ ام القری اور تمام شہروں کا سردار ہے ۔ اس کائنات کے افضل ترین شخص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت با سعادت اسی شہر مقدس میں ھوئی اسی کی سر زمین میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پلے بڑھے اور پرورش پائی ۔ اسی کے گوشے گوشے میں آپ چلتے پھرتے رہے :

” کہ کہے دیتی ہے شوخئی نقش پا کی ”

نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی زندگی اسی مکہ مکرمہ میں ہی گزاری تھی ۔ اس شرف سے بڑا شرف دوسرا کون سا ھو سکتا ہے ؟

یہی وہ علاقہ ہے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لیکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ھوا کرتے تھے اور یہیں کوہ صفا پر چڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دعوت توحید کا نعرہ بلند کیا تھا ( جسے پہاڑی کا وعظ کہا جاتا ہے ) اگر کعبہ شریف کو یاراۓ نطق ھو ، اگر زمزم کو بولنے کی سکت ھو اور اگر مقام ابراھیم کو قدرت کلام ھو تو یہ سب بول بول کر بتائیں کہ یہاں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جلوہ افروز تھے اور یہاں حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما جلوہ نما رہے اور یہیں دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونق حرم تھے جنھوں نے پوری دنیا کو نور توحید سے روشن اور نجاست شرک سے پاک کر دیا تھا ، اور انہی کے ہاتھوں معرکۂ توحید و شرک (معرکۂ حق و باطل ) بپا ھوا اور اللہ نے انھیں فتح مندیوں سے نواز کر دین اسلام کو دوسرے تمام ادیان پر غلبہ عطا کیا ۔
اس کعبہ کے سامنے یہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ھوۓ اور آپ نے دین کے عظیم مبادیات و اصول لوگوں کو سکھلاۓ اور بنی نوع انسان کے لۓ بلند ترین طرز زندگی طے فرمایا جس کے مقابلے میں آج تک دنیا کی تمام تھذیبیں ایسے اصول پیش کرنے ے قاصر ہیں ۔

حجاج کرام کو مبارک ھو :

اے حجاج بیت اللہ الحرام ! آپ کا اس عظیم خانہ کعبہ بیت اللہ شریف تک پہنچنا آپ کو مبارک ھو ان شعائر کی ادائيگی اور ان مشاعر مقدسہ تک رسائی مبارک ھو ، یہ شرف زمان و مکان مبارک ھو اور آپ جو عظیم اعمال سر انجام دے رہے ہیں اور دیں گے وہ بھی مبارک ھوں ۔ اپنے اس رب جلیل کا شکر اور اس کی حمد و ثناء بیان کریں جس نے آپ کو ان عظیم نعمتوں سے مالا مال کیا ہے اور اس نے شکر کرنے والوں کے لۓ نعمتوں میں افاضے کا وعدہ فرما رکھا ہے ، آپ تشریف لاۓ ، بسم اللہ اور ان مقامات پر قدم رنجہ فرمایا ، خوش آمدید ، آپ اللہ کے مہمان اور وفد الہی کے افراد ہیں جن کی ضیافت و میزبانی اور عزت و احترام واجب ہے ، اللہ تعالی آپ کے لۓ حج و عمرہ کو آسان فرماۓ اور آپ کو ہر قسم کی پریشانی و مصیبت سے محفوظ رکھے اور آپ کے حج کو مبرور و مقبول بناۓ ۔ آپ کی سعئ صفا و مروہ کو شرف قبول سے نوازے ، اللہ تعالی ھمارے اور آپ کے اعمال صالحہ کو قبول فرماۓ ۔

گناھوں کا کفارہ اور جنت کی ضمانت :

مسلمانو ! ان مقامات مقدسہ و طاہرہ کی زیارت کے ارادے سے یہاں آنا گناھوں کو مٹا دیتا ہے ، برائیوں کو دھو ڈالتا ہے اور خطاؤں کو اڑا لے جاتا ہے بلکہ حج مبرور و مقبول کی تو جزاء ہی جنت ہے ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی اس کا شاھد ہے :
[ و الحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ ] (بخاری و مسلم ، نسائی ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، مسنداحمد ) ۔

شوق زیارت

نفوس و دل مکہ مکرمہ کی وادی بطحا کی زیارت کا کتنا شوق لۓ ھوۓ ہیں ؟ اور ان پاک وادیوں اور مقامات کے لۓ دل مچل رہے ہیں اور کتنے لوگ شدت جذبات محبت و شوق سے مغلوب ھو کر زار و قطار رو رہے ہیں اور کتنے ہی لوگ ایسے بھی ہیں جو دلوں میں میں یہ تمنا لۓ بیھٹے ہیں کہ وہ وادئ محسر بھی دیکھیں ( جہاں کعبہ کے حملہ آور ہاتھیوں ) والوں کو اللہ نے پرندوں سے تہس نہس کروایا تھا ۔ دیکھیۓ سورت الفیل۔
وہ منی میں راتیں گزارنے کی تمنا اور عرفات میں گھڑی بھر وقوف کا جذبہ دلوں میں سجاۓ ھوۓ ہیں وہ وادئ مزدلفہ میں رات کاٹنا چاہتے ہیں ، جمرات پر رمی کرنا ( کنکریاں مارنا ) ان کی حسرت ہے ۔ وہ بیت اللہ کا طواف کرنے اور اسی دوران آنسو بہانے کا ارمان لۓ ھوۓ ہیں ۔ وہ ان تمام مقامات کی زیارت کی تمنا لۓ ھوۓ ہیں جہاں آنسو بہاۓ جاتے ہں ۔ جہاں اللہ کی رحمتیں نازل ھوتی ہیں جہاں گناھوں کی بخشش اور دعاؤں کی قبولیت کا شرف حاصل ھوتا ہے ۔ اللہ ان خیر و برکت سے معمور سنگلاخ وادیوں کو ھمیشہ تر و تازہ اور پر رونق رکھے ۔ کسی شاعر نے کہا ہے :

” یہ مسجد خیف ہے اور یہ وادئ منی ہے ، اے حدی خوان ذرا ھمارے لے سواریوں کو آہستہ چلاؤ بلکہ گھڑی بھر کے لۓ کارواں کو یہیں رکنے دو تاکہ ھم یہاں اپنے رب کے سامنے آہ و بکا کر لیں اور اس روز و اسی موقع کے لۓ تو ھم رونے اور آنسوؤں کو تیار کر رکھا ہے ۔ حدی خوان اگر تھوڑی دیر کے لۓ یہاں نرم رفتاری اختیار کر لے اور جب ھم آنسو بہا چکیں تو وہ ناقہ کو تیز کر لے تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔ یہی تو وہ دیار مقدسہ ہیں جنھیں اہل شوق و جنون پورے پیار و محبت کے ساتھ پہچانتے ہیں “۔

بر و بحر و فضاء میں تلبیہ کے ترانے :

حجاج کرام کے قافلے دور دراز ہر طرف سے بڑھے چلے آ رہے ہیں ۔ تلبیہ ( لبیک اللھم لبیک ) کی آوازیں کتنی دلنواز ہیں ۔ جن سے فضاؤں میں ھوائی جہاز بھی معمور ہیں ، سمندری میں کشتیاں اور سفینے انہی آوازوں سے باغ و بہار ہیں اور بیت اللہ شریف کی طرف آنے والی بسوں گاڑیوں میں بھی اسی نغمۂ توحید کا عجب سماں بندھا ھوا ہے اور ہر طرف یہی ایک ہی آواز آ رہی ہے ۔

[ لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لاشریک لک ]

اس تلبیہ کے پکارنے والوں کی توجہ ایک ہی طرف ہے اور ان سب کا ھدف بھی ایک ہی ہے اور وہ سارے کے سارے ہی اللہ کے حکم پر سر تسلیم خم کۓ حاضر ھوۓ ہیں اور اللہ کے اس حرم شریف میں ایک دوسرے سے باھم آ ملے ہیں ۔ یہ ایمان کے قافلے ہیں اور یہ دلوں کو کھینچنے والے مقام کی طرف کا مبارک و مقدس سفر ہے ، یہ اسلام کی رمز اور مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ ہے ۔

فرضیت و وجوب حج :

اللہ والو ! اے حجاج بیت اللہ ! اللہ تعالی کے نزدیک حج کا ثواب ہی بڑا مقام اور عظیم درجہ ہے اور دین اسلام میں اس کی بہت ہی اھمیت ہے اور اللہ تعالی نے اسے واجب و فرض قرار دیتے ھوۓ اپنی کتاب مقدس میں فرمایا ہے :

” اور لوگوں پر اللہ کا حق ( فرض ) ہے کہ جو بیت اللہ تک جانے کی استطاعت و مقدور رکھتے ہیں وہ اس کا حج کریں اور جو ( کفر ) اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ بھی تمام جہانوں سے بے نیاز ہے”۔( آل عمران : ٩٧ ) ۔

فضائل حج : جنت کا پروانہ :

جہاں تک فضائل و برکات حج کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے مابین کۓ گۓ گناھوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور و مقبول کی جزاء تو جنت ہی ہے “۔ (بخاری و مسلم وغیرہ کما تقدم )

اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا افضل ترین عمل کونسا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” اللہ تعالی پر ایمان لانا ” ۔ آپ سے پوچھا گیا : اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں ( کافروں سے ) جہاد کرنا “۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا گیا کہ ان کے بعد کون سا
عمل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” حج مبرور ”

دو جہان کا منافع :

یہ حج دنیا و آخرت کی تجارت مع اللہ اور دونوں جہانوں میں منافع و کمائی کا بہترین موقع ہے ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” حج و عمرہ کرتے رہا کرو ، یہ دونوں مالی فقر و تنگدستی اور گناھوں کو یوں مٹا دیتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی لوہے کے میل کچیل ( زنگ ) کو نکالتی ہے “۔ ( مسنداحمد ، ترمذی ۔ بسند صحیح ) ۔

نیا جنم :

صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ” جس نے اس بیت اللہ کا حج کیا اور ( اس دوران ) کوئی شہوانی حرکت اور فسق و گناہ نہ کیا ۔ وہ اس طرح ( گناھوں سے پاک ) ھو کر یوں لوٹا جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ھو ” ۔
[ جسے اس دن تھا جس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ] یعنی وہ گناھوں اور خطاؤں سے پاک صاف ھو کر لوٹتا ہے ۔

درجات و نیکیوں میں اضافے :

اس کے ساتھ ہی نیکیوں میں اضافے اور درجات میں بلندی ملتی ہے ۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں ھوتے ھوۓ ارشاد فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں سے ایک ھزار گناہ زیادہ ہے سواۓ مسجد حرام ( مکہ مکرمہ ) کے اور مسجدحرام میں نماز کا ثواب دوسری مساجد سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے “۔ ( مسند احمد ، تاریخ امام بخاری بسند صحیح ) ۔ ‘

یعنی ایک نماز کا ثواب اتنا ہے جتنا ٥٤ سال نماز پڑھنے کا ھوتا ہے ۔

مشاعر مقدسہ :

کیا اس کے بعد بھی کیس کا حرم شریف سے عشق و جنون لائق ملامت رہتا ہے ۔ اور خاص ان فضائل و برکات حرم کے علاوہ مکہ مکرمہ کے مضافات میں سے میدان عرفات وہ جگہ ہے جہاں رحمتوں کا نزول ھوتا ہے ۔ ( اور وہین جبل رحمت بھی ہے ) اور مشعرالحرام مزدلفہ بھی اللہ کے قرب حاصل کرنے کی جگہ ہے ۔ یہیں وادئ منی ہے جس کے مختلف راستوں پر چلنا اور اس کی مختلف جگہوں پر وقت گزارنا ھوتا ہے ، بیت اللہ شریف کا طواف کیا جاتا ہے ، صفا و مروہ کے مابین سعی کی جاتی ہے ۔ جمرات ( شیطان کے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو بہکانے کے لۓ سامنے آنے والی جگہوں ) کی رمی کی جاتی ہے اور انہیں کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔ یہ سارے مقامات ہی نزول رحمت اور قبولیت دعاء کے مقامات ہیں ۔

میدان عرفات :

جہاں تک میدان عرفات کا تعلق ہے تو آپ کیا جانیں کہ عرفات کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے :

” کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالی اپنے اتنے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ھو جتنے یوم عرفہ کے دن کرتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے قریب ( آسمان دنیا پر ) آ جاتا ہے اور فرشتوں میں ان پر فخر کرتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا لینے آۓ ہیں “۔ ( صحیح مسلم عن عائشہ رضی اللہ عنہا )

یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے طلبگار ہیں ، یہ اپنے گناھوں کی مغفرت و بخشش اور جہنم سے خلاصی و نجات چاہتے ہیں یہ دنیا کے دور دراز علاقوں اور زمین کے کونے کونے سے یہاں آۓ ہیں ۔ یہ اپنے اہل و عیال اور بال بچے چھوڑ کر آۓ ہیں انھوں نے اپنے گھر بار کے در و دیوار اور اپنے ملک و وطن کی فضاؤں کو خیرباد کہا ہے اور ان مقامات مقدسہ اور مشاعر مبارکہ تک پہنچنے کے لۓ انھوں نے حسب استطاعت مال و دولت خرچ کی ہے ۔

عدم ادائیگی حج پر وعید :

عین اسی وقت کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں اللہ تعالی نے اپنی بکثرت نعمتوں اور مال و دولت سے نواز رکھا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اسلام کے اس رکن و فریضہ کی ادائيگی سے سبکدوش نہیں ھوتے ۔ وہ اپنے مال کو سیر و سیاحت ، لہو و لعب اور غفلت میں ضایع کرتے اور اپنے اوقات کو لایعنی امور میں برباد کرتے پھرتے ہیں ، اور ساری عمر میں انھوں نے ایک مرتبہ بھی حج ادا نہیں کیا ۔ ایسے لوگوں کو معلوم ھونا چاہیۓ کہ انھوں نے اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن کو ترک کیا ہے جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں :

” جسے مالی کشائش و استطاعت ھو اور پھر بھی وہ حج کۓ بغیر ہی مر جاۓ تو وہ اب یہودی ھو کر مرے چاہے عیسائی ھو کر “۔ ( اس میں کوئی فرق نہیں ہے ) ۔ ایسا ہی ایک ارشاد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے :

” ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیۓ کہ اور صاحب استطاعت لوگوں کو چاہیۓ کہ وقت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے پہلے مناسک حج کی ادائيگی کر لیں لیکن اگر حج ادا کۓ بغیر اچانک کوئی معذوری و مجبوری پیدا ھو گئی یا پھر موت ہی نے آ دبوچا تو اس سستی و لاپرواہی کا کوئی عذر فائدہ مند و کارگر نہ ھو گا

١ ۔ تعظیم شعائر :

اے مومنو ! اے حجاج کرام ! اللہ تعالی نے آپ کو اپنے اس بیت اللہ العتیق تک پہنچا دیا ہے ۔ اب اس کے شعائر و مشاعر کی تعظیم بجا لاتے رھو ، اللہ تعالی آپ کے ایمان و تقوی میں اضافہ فرماۓ گا ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

” یہ ( ھمارا حکم ہے ) اور جو شخص اللہ کے شعائر ( ادب کی چيزوں ) کی جو اللہ نے مقرر کی ہیں تعظیم کرے تو یہ ( فعل ) دلوں کے تقوی و پرہیزگاری سے ہے “۔ ( الحج : ٣٢ ) ۔

اللہ کے شعائر اور مقامات ادب کی تعظیم یہ بھی ہے کہ عمل پورے خلوص نیت سے کیا جاۓ ، اسے مکمل صورت میں ادا کریں ۔ اسے کامل شکل میں سنت مطہرہ کی اتباع و پیروی کی جاۓ ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

” مجھ سے اپنے مناسک و احکام حج سیکھ لو “۔

مناسک حج و اعمال حج کے سلسلہ میں رخصتیں تلاش کرنے کے پیچھے لگے رہنا اور ان کی ادائیگی میں سستی و لاپراوہی برتنا اس کے اجر و ثواب میں نقص و کمی پیدا کر دیتا ہے جبکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

” اور اللہ ( کی خوشنودی ) کے لۓ حج و عمرے کو پوری طرح کرو “۔ ( البقرہ : ١٩٦ ) ۔

٢ ۔ سعائر کی تعظیم میں ہی یہ چیز بھی شامل ہے کہ ہر اس فعل سے بچ کر رہا جاۓ جو حج میں نقص پیدا کرنے والا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی ان مقامات و اوقات کی عزت و احترام ملحوظ خاطر رکھیں جنھہیں کہ خود اللہ تعالی نے عظمتوں سے نوازا ہے ۔

بلاوجہ کے لڑائی جگھڑے مناظرے بازیاں اور لوگوں کو تشویش میں مبتلا کرنا ایسے افعال ہیں کہ ان سے مکمل اجتناب و پرہیزضروری ہے کیونکہ حج کی قبولیت اور مغفرت و بخشش کا حصول انہیں ترک کرنے کے ساتھ مشروط ہے ۔ ارشاد الہی ہے ۔

” حج کے مہینے ( معین ہیں جو ) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کر لے تو حج ( کے دنوں ) میں نہ عورتوں سے اختلاط و میل جول کرے نہ کوئی فسق و برا کام کرے اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کر ے “۔ ( البقرہ : ١٩٧ ) ۔

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی صحیح بخاری و مسلم میں مروی حدیث پہلے بھی ذکر کی جا چکی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :

” جس نے حج کیا اور عورتوں سے اختلاط ( کسی شہوانی حرکت کا ارتکاب ) نہ کیا اور نہ ہی کوئی فسق و گناہ اور برائی کی ، وہ اپنے گناھوں سے یوں پاک ھو کر لوٹا جیسے اس دن ھو جس دن اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا “۔ (بخاری و مسلم )

خشوع و ادب :

طہارت نفس ، ازیاد ایمان اور حصول نفوس صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمان اللہ کی عبادت پورے خشوع و خضوع اور ادب و احترام سے ادا کرے اور وہ جس غرض و غایت اور عظیم مقصد کے لۓ اس مقام پر حاضر ھوا ہے اپنے آپ کو اس کے لۓ پوری طرح فارغ کر لے ، اپنے وقت کی قدر کو پہچانتے ھوۓ اس کا تحفظ کرے اپنے رب کے لۓ اخلاص نیت سے عمل کرے ۔

سوال و علم قبل از عمل :

اسی طرح کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے میں شرعی احکام پوچھ لینے چاہییں ۔ کتنے ہی حاجی ایسے بھی ھوتے ہیں کہ وہ جہالت و لا علمی سے عبادت سر انجام دیتے چلے جاتے ہیں ، نہ سیکھتے ہیں اور نہ کسی سے پوچھتے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ پہلے ایک کام کر گزرتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں اگر انھوں نے اس کام کو کرنے سے پہلے پوچھ لیا ھوتا تو انھیں کسی حرج میں مبتلا نہ ھونا پڑتا ۔

مسئولین کی ذمہ داری :

حجاج کرام کے استقبال اور طعام و قیام کے مسئول لوگوں پر یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے انھیں چاہیۓ کہ اس سلسلہ میں وہ اللہ سے ڈرتے رہیں ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرما رکھا ہے : ” تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص اپنی زیر نگرانی و زیر دست لوگوں کے بارے میں جوابدہ ہے “۔

توحید باری تعالی اور خانہ کعبہ :

اے مومنو ! اس خانہ کعبہ کی بنیاد جس اصل عظیم پر رکھی گئ ہے وہ ہے اللہ رب العالمین کی توحید اور اللہ تعالی نے ہی اپنی کتاب محکم میں ارشاد فرمایا ہے :

” اور ( ایک وقت تھا ) جب ھم نے ( حضرت ) ابراھیم (علیہ السلام ) کے لۓ خانہ کعبہ کو مقام مقر کیا ( اور فرمایا کہ ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا “۔ ( الحج : ٢٦ ) ۔

اور آيات و احکام حج کے ضمن میں ہی اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

” بتوں کی نجاست و پلیدی سے بچو اور جھوٹ بات سے اجتناب و گریز کرو ، صرف ایک اللہ کے ھو کر اور اس کے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ “۔ ( الحج : ٣٠ ، ٣١ ) ۔

ذکر الہی : اعلان توحید :

اللہ تعالی آپ سب پر رحم فرماۓ ۔ اپنے اعمال کو ہر قسم کی الائش سے پاک کر لو ، اپنے تمام اعمال بلکہ اپنی پوری زندگی میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو بالضرور مشعل راہ بناؤ اور شرک اعمال صالحہ کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے ۔ اور ذکر الہی کو لازمی طور پر اختیار کر لو کیونکہ یہ حج میں ایک نمایاں چیز ہے ۔ اور یہ ذکر ایک اعلان توحید ہے جو کہ حج کا شعار ہے ۔

[ لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لاشریک لک ]

میں حاضر ھوں ، اے اللہ ! میں حاضر ھوں ، میں حاضر ھوں ، تیرا کوئی شریک و ھمسر نہیں ہے ، میں حاضر ھوں بیشک تمام تعریفیں صرف تیرے لۓ ہیں اور تمام نعمتیں بھی تجھی سے مہیا ھوتی ہیں اور ہر چیز کی بادشاہی بھی تیرے ہی لۓ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے “۔

اور ارشاد باری تعالی ہے :

” اور گتنی کے ان چند ایام ( حج ) میں اللہ کا ذکر کرو “۔ ( البقرہ : ٢٠٣ ) ۔

اور ایک جگہ رب کائنات نے ارشاد فرمایا ہے :

” اور جب جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعرالحرام کے پاس ( مزدلفہ میں ) اللہ کا ذکر کرو “۔

( البقرہ : ١٩٨ ) ۔

تھوڑا آگے فرمایا ہے :

” اور جب تم مناسک حج و اعمال پورے کر لو تو اللہ کا ذکر کرو ” ۔ ( البقرہ : ٢٠٠ )

ایک مقام پر اللہ تعالی نے بعض مقاصد حج کا ذکر کرتے ھوۓ فرمایا ہے :

“تاکہ وہ اپنے (دینوی و دینی ) فوائد و منافع کے کاموں کے لۓ حاضر ھوں اور معلوم دنوں میں اللہ کا ذکر کریں”
( الحج : ٢٨ ) ۔

فضائل عشرہ ذوالحج :

اے پوری دنیا کے مسلمانو ! چند ہی دنوں کے بعد عشرہ ذوالحج شروع ھو جاۓ گا اور وہ ایسے دن ہیں جن کی اللہ تعالی نے بڑی تعظیم بتائی ہے اور ان کا ذکر بڑا بلند کیا ہے اور اپنی کتاب مقدس قرآن کریم میں ان کی قسم کھائی ہے ۔

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

” قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی “۔ ( الفجر : ١ ۔ ٢ ) ۔

صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

” کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیا گیا عمل ان دس دنوں میں کۓ گۓ عمل سے زیادہ اللہ کو محبوب ھو “۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں سواۓ اس شخص کے جو اپنا سارا مال لیکر اور ہتھلی پر جان رکھ کر میدان جہاد میں اترا اور ان میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لایا “۔ ( یعنی مال و جان دونوں ہی قربان کر دیۓ “۔ ( صحیح بخاری )

اعمال خیر و مستحبات کی کثرت :

عشرہ ذوالحج کے ان دس دنوں میں بکثرت نیک اعمال سر انجام دینا ، ( مختلف قسم کے نوافل ادا کرنا ، تکبیر ( اللہ اکبر ) کہنا ، تحمید ( الحمد للہ کہتے ھوۓ اللہ کا شکر ادا کرنا ) اور تہلیل ( لا الہ الا اللہ پڑھنا ) مستحب ہے ۔ ان سنتوں کو زندہ کرو اور اللہ سے خیر و بھلائی طلب کرو تاکہ آپ لوگ فلاح و نجات پا جائیں ۔

یوم عرفہ کا روزہ : دو سالوں کا کفارہ :

جو شخص حج نہیں کر رہا اس کے لۓ مستحب ہے کہ وہ یوم عرفہ ( ٩ ذوالحج ) کا روزہ رکھے کیونکہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

” مجھے اللہ سے امید ہے کہ یہ ( یوم عرفہ کا روزہ ) گزشتہ و آئندہ دو سالوں کے گناھوں کو مٹا دے گا “۔
( صحیح مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، مسنداحمد ) ۔

بال و ناخن نہ کاٹنا نہ تراشنا :

جو شخص قربانی کرنا چاہیۓ اسے چاہیے کہ ھلال ذوالحج کے نظر آ جانے اور ماہ ذوالحج کا مہینہ شروع ھو جانے سے لیکر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کر لینے تک اپنے بال نہ کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے ۔

نا اہل کی فتوی بازی :

یہاں ایک اھم بات پر لوگوں کو متنبہ کرنا ضروری معلوم ھوتا ہے اور وہ یہ کہ جسے علم و فن فتوی میں درک حاصل نہ ھو اسے چاہیۓ کہ وہ اس میدان میں نہ کود پڑے اور نہ ہی بلا علم اللہ کی طرف باتوں کو منسوب کرتا جاۓ ۔ کتنے ہی شخص ایسے ہیں جو فتوی بازی میں عجلت سے کام لے کر حجاج کرام کو حرج و مشکل میں مبتلا کر دیتے ہیں اور ھو سکتا ہے کہ اپنے غلط فتوؤں کی وجہ سے لوگوں کاحج خراب کرنے کا گناہ بھی اس کے سر آ جاۓ کیونکہ اس نے فتوی دینے کا منصب سنبھال لیا حالانکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے ، اور اس نے بلاوجہ دخل اندازی کی ہے حالانکہ اس سے کوئی بات پوچھی ہی نہیں گئی تھی ۔ اگر وہ تقوی و ورع اختیار کرتا اور اللہ سے ڈرتے ھوۓ اپنے آپ کو اس اندھے کنویں میں نہ گراتا تو وہ خیرت و عافیت میں رہتا ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فتوی سے احتراز :

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فتوی صادر کرنے سے بچتے رہتے تھے ۔ آج ان لوگوں کو کیا ھو گیا ہے کہ یہ فتوی بازی میں یوں سبقت لیجانے پر تلے رہتے ہیں جیسے یہ کوئی مال غنیمت لوٹنے والی بات ھو ۔ اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ لوگوں کو تعلیم دینا ، ان کی راہنمائی کرنا ، انہیں فتوی دینا بہت بڑا واجب اور قرب الہی کے حصول کا عظیم ذریعہ ہے لیکن یہ منصب ان علماء اور علم میں گہرا رسوخ رکھنے والے طلبۂ علم کا کام ہے اور یہی کام جب جاہل لوگ اور عوام الناس شروع کر دیں تو ان کے لۓ یہ ایک جرم ہے ۔ اللہ تعالی نے بلا علم اس کی طرف باتیں منسوب کرنے کو شرک و گناہ اور بغاوت و سر کشی کی صف سے شمار فرمایا ہے :

حج ایک عبادت ہے جو فقہ دین اور علم عمیق کی متقاضی ہے اور اس کے اہل لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا یہ منصب سنبھالیں اور اس ذمہ داری کو نبھائيں تاکہ ان کی موجودگی میں لوگ دوسروں سے مستغنی و بے نیاز ھو جائیں ۔

وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین

سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔

Leave a Reply

Englishاردو