سفر حج سے متعلق چند ھدایات
حمد و ثنا کے بعد
اللہ والو ! اللہ تعالی سے اتنا ڈور جتنا کہ اس کا حق ہے اور اسے اعلانیہ و پوشیدہ ہر معاملہ میں اپنا نگران مانو ۔
دعوت ابراھیم علیہ السلام پر لبیک کہنے والے
مسلمانو ! خیر و برکت لانے والے موسم یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے لۓ چلے آتے ہیں ۔ ایک ختم ھونے پاتا ہے تو کوئی دوسرا اسلامی شعار و عمل اور موقع آ جاتا ہے ۔ حجاج کرام فوج در فوج بیت اللہ العتیق کی زیارت کے ارادے سے چلے آ رہے ہیں اور انھوں نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی اس دعوت پر لبیک کہی ہے جس کا انھیں حکم دیتے ھوۓ اللہ تعالی نے فرمایا تھا :
” اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں وہ تیرے پاس پاپیادہ چلے آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار ھو کر بھی دنیا کے ہر کونے ( دور دراز ) سے چلے آئیں گے “۔ ( الحج ۔٢٧ ) ۔
شرف بیت اللہ :
بیت اللہ شریف کو اللہ تعالی نے لوگوں کے لۓ حصول اجر و ثواب اور امن و امان کی جگہ بنایا ہے جہاں رب کریم سے اس کی عطاؤں اور رحمتوں کی امیدیں لگائی جاتی ہیں ۔ یہ حرم مبارک ایسی جگہ ہے جہاں رشد و ھدایت ہے ، خیرات و برکات ہیں اور ظاھر و روشن نشانیاں اور آیات ہیں ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :
” لوگوں کی عبادت کے لۓ جو سب سے پہلے گھر مقرر کیا گيا تھا وہ وہی ہے جو کہ مکہ میں ہے جو کہ بابرکت ہے اور سارے جہاں کے لۓ باعث ھدایت ہے ۔ اس میں روشن نشانیاں اور مقام ابراھیم ہے اور جو اس ( کی حدود ) میں داخل ھو گیا وہ امن والا ھو گیا “۔ ( آل عمران ۔٩٧ )
فرضیت حج بیت اللہ :
اس بیت اللہ شریف کا حج کرنا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن و ستون ہے ۔
چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :
” لوگوں پر اللہ کا حق ( فرض ) ہے کہ جسے استطاعت ھو ، وہ بیت اللہ شریف کا حج کریں اور جو کفر و انکار کرے تو اللہ سارے جہانوں سے بے نیاز ہے ” ۔ ( آل عمران ۔٨٦) ۔
شریعت نے حکم دیا ہے کہ اس حج کے دینی فریضہ کی ادائیگی کے لۓ بیت اللہ شریف آئيں ۔
چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” اے لوگو ! اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہے لھذا حج کرو “۔ ( صحیح مسلم ) ۔
جلیل القدر عمل :
حج بیت اللہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کے نزدیک جلیل القدر اعمال میں سے ہے ۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ! سے پوچھا گیا :افضل ترین عمل کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” اللہ تعالی پر اور اس کے رسول پر ایمان لانا ” آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گيا : اس کے بعد؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ” ۔ کہا گيا کہ اس کے بعد کونسا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ” حج مبرور و مقبول “۔ ( متفق علیہ )
گناھوں سے پاک نیا جنم :
اسلام کے اس پانچویں رکن حج کی ادائيگی میں گناھوں کی بخشش اور نافرمانیوں خطاؤں کے میل چیل کا دھویا جانا پایا جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” جس نے حج کیا اور عورتوں سے اختلاط نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فسق و گناہ کیا وہ حج کے بعد یوں ھو کر لوٹا جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ” ۔ ( صحیح بخاری ) ۔
جس نے دوران حج تقوی اختیار کیا ، اللہ نے اس کی مہمانی کے لۓ جنت تیار کر رکھی ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے گناھوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور و مقبول کی جزاء تو جنت ہی ہے “۔ ( متفق علیہ )
امام نووی لکھتے ہیں :
” اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کرنے والے کے صرف گناہ ہی معاف نہیں کۓ جائيں گے بلکہ وہ یقینا جنت میں داخل ھو جاۓ گا “۔
اخلاص کی قیمت اور شرک کی قباحت :
اعمال کا وزن اخلاص کی بنیاد پر ھو گا اگر ان میں شرک یا ریاء کاری کا شائبہ بھی آ گیا تو وہ انھیں برباد کر دے گا ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” آپ کی طرف ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ! ) وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے لوگوں کی طرف بھی ( وحی کی جا چکی ہے ) کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے تمام اعمال برباد ھو جائيں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ھو جائيں گے “۔ ( الزمر ۔٦٥ ) ۔
مال حلال اور رفقاء سفر کی خدمت :
حج کی نیکی تب تکمیل پذیر ھوتی ہے جب اسے مال حلال سے ادا کیا جاۓ جس میں حرام کا شائبہ تک نہ ھو اور نہ اس میں کسی میل کی ملاوٹ کا شک و شبہ ھو اور حج کے دوران نیک لوگوں کا ساتھ اطاعت و عبادت کی حسن ادائيگی میں معاون ھوتا ہے اور اپنے رفقاء سفر کے ساتھ حسن سلوک ایسی عبادت ہے جس کا فائدہ اس شخص کے علاوہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔
امام مجاھد کہتے ہیں :
” میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت و معیت اختیار کی تاکہ ان کی خدمت کا شرف پا سکوں مگر اس کے برعکس معاملہ یہ نکلا کہ وہ میری خدمت کرتے رہے “۔
امام ابن رجب رحمہ اللہ عليہ کہتے ہیں :
” سلف صالحین امت میں سے بکثرت لوگ ایسے گزرے ہیں جو کہ اپنے رفقاء سفر پر یہ شرط عائد کر دیا کرتے تھے کہ میں تمھاری خدمت بجا لاؤں گا اور یہ اس لۓ ھوتا تاکہ اجر پا سکیں ” ۔
تقوی : بہترین زاد راہ :
جو شخص اپنے نفس کی خواہشات اور اس کے راحت و سکون پر اللہ کے حق کو مقدم کرے گا وہ دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی پاۓ گا ۔ اور کوئی حاجی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو بہترین زاد راہ اٹھا لے جاتا ہے وہ تقوی و خشیت الہی کا توشہ ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” اور زاد راہ لے لو اور بہتر زاد راہ اللہ کا تقوی ( لوگوں کے سامنے دست سوال کرنے سے بچنا ) ہے “۔ ( البقرہ : ١٩٧ ) ۔
حج کو مبرور بنانے والے اعمال :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جو وصیتیں فرمائی تھیں ان میں سے ہی یہ بھی ہے :
” اللہ سے ڈرتے رھو تو چاہیے جہاں بھی ھو ۔ اگر کوئی برائی ھو جاۓ تو اس کے پیچھے نیکی کرو وہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک و حسن اخلاق سے پیش آؤ ” ۔ ( سنن ترمذی )۔
حج میں نیکی کمانے اور اسے حج مبرور بنانے کا ہی ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلائیں ۔ان میں سلام پھیلاؤ ان سے اچھی گفتگو کریں اور ان کے ساتھ حسن اخلاق و حسن معاملہ کریں اور حج کے دوران کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو حقیر ہرگز نہ سمجھیں لوگوں میں سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسرے لوگوں کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہے اور ان کے مابین سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو ان کی اذیتوں پر صبر و استقامت اختیار کرنے والا ہے ۔ جو شخص حجاج کی خدمت لوجہ اللہ انتہائی اخلاص کے ساتھ سر انجام دیتا ہے وہ حج کے اجر و ثواب میں ان کا شریک ھوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:
” ایک تیر کی بدولت اللہ تعالی تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرتا ہے ، اس کے بنانے والے کو جس نے اسے بنانے میں خیر و بھلائي کی نیت کی ۔ دوسرا وہ شخص ( مجاھد ) جو اسے ( دشمن کو ) مارتا ہے ۔ اور تیسرا وہ ہے جو کسی کو تیر پکڑاتا ( اس سے مدد کرتا ) ہے “۔ ( ترمذی )۔
جو شخص اللہ کے گھر کی نیت کر کے چل نکلتا ہے اسے تین خصال کا التزام کرنا چاہیۓ :
اللہ تعالی کا تقوی و ورع اختیار کرے جو اسے اللہ کی نافرمانی سے روک دے گا اور حلم بردباری کو اپناۓ اس سے اللہ کا غضب اس سے رک جاۓ گا اور اپنے رفقاء سفر کے ساتھ حسن صبحت و حسن اخلاق سے پیش آۓ ۔
قرب الہی کے حصول کا ذریعہ :
مسلمانو ! بندے اپنے رب کا قرب جن اعمال سے پا سکتے ہیں ان میں سے سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ وہ اپنی عبادات اور مناسک حج میں اللہ کی توحید کا اظہار کریں اور اپنے اعمال کو خالصتا لوجہ اللہ سر انجام دیں اور جو عمل کسی غیر اللہ کی رضاء و خوشنودی ( دکھلاوے ) کے لۓ کیا گیا وہ رائیگاں و بےکار جاۓ گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
” حج اور عمرہ اللہ کے لۓ مکمل کرو “۔ ( البقرہ ۔١٩٦ ) ۔
اور مناسک حج میں خلوص نیت کے ساتھ ہی اپنی زبان سے بھی اپنے خالق و مالک کی وحدانیت کا اظہار کریں اور یہ کہیں :
” لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لاشریک لک “۔
یوم عرفہ کا مخصوص ذکر :
یوم عرفہ کو جس نے کوئی کلمہ کہنے کے لۓ زبان کھولی ان میں سب سے بہترین کلمہ ، کلمہ توحید ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” بہترین دعاء وہ ہے جو عرفہ کے دن کی جاۓ اور میں نے اور پہلے تمام انبیاء نے جو سب ذکر و اذکار کۓ ہیں ان میں سے بہترین ذکر یہ کلمہ توحید ہے ” ۔
” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک و لہ الحمد و ھو علی کل شیء قدیر “۔ ( سنن ترمذی )
توکل علی اللہ کی برکات :
اللہ پر توکل کرنا جلیل القدر عبادت ہے ۔
اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
” اللہ کی عبادت کریں اور اس پر توکل کریں ” ۔ (ھود ۔١٢٣) ۔
مایوسی کے لۓ اللہ کے دین میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
” اللہ کی رحمت سے کافر قوم کے سوا کوئی ناامید نہیں ھوتا “۔ ( یوسف ۔٨٧ ) ۔
حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے لۓ اور اپنے بیٹے کے لۓ پانی تلاش کر رہی تھیں اور وہ بھی دو پہاڑوں کے درمیان ایک بے آب و گیاہ وادی ( دامن جبل ) میں ۔ انھیں پیاس نے ستا رکھا تھا اور وہ اپنے بچے ( حضرت اسماعیل علیہ السلام ) پر شفقت کی وجہ سے نڈھال ھو رہی تھیں ۔ اللہ پر توکل کرنے اور مادی اسباب کو اختیار کرنے ( تلاش کرنے ) پر انھیں ایک ٹپکتا اچھلتا چشمہ مل گیا جو ان کے لۓ اور آئندہ نسلوں کے لۓ سدا بہار شکل اختیار کر چکا ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے تھے :
” اللہ تعالی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( حضرت ہاجرہ علیہا السلام ) پر رحم فرماۓ اگر وہ زمزم کو اسی طرح ( بلا چار دیواری ) چھوڑ دیتیں تو وہ زمین پر وافر و بیشمار پانی والا چشمہ بن جاتا “۔ ( صحیح بخاری )
حج میں اللہ کی عظمت و کبریائی :
اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہی ہر قسم کا نفع و نقصان ہے ۔ وہ مشکلات کو دور کرنے اور مصائب کو ہٹانے والا ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر عالی قدر و برتر ہے ۔ زمین و آسمان کی چابیاں اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ عظمت و کبریائی اس کی صفات ہیں ۔ حاجی اللہ کی عظمت و کبریائی کا اعلان اپنے مناسک کے دوران طواف و سعی کرتے ھوۓ ، جمرات پر رمی کرتے ھوۓ ، یوم نحر و قربانی اور ایام تشریق ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذوالحج ) کو تکبیریں پڑھتے ھوۓ تلبیہ کہتے ھوۓ اور ذکر و دعا کرتے ھوۓ کرتا ہے تاکہ دل صرف اللہ کے لۓ اور صرف اسی کی طرف لگا رہے اور مخلوقات کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے ہٹ کر صرف اللہ سے امیدیں وابستہ کر لے ۔
رمئی جمرات اور دشمن سے خبردار :
جمرات کی رمی میں مسلمانوں کو ان کے گھات لگاۓ بیٹھے ازلی دشمن ابلیس کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے جو کہ انھیں جہنم کی طرف بلاتا ہے ۔ ارشاد الہی ہے :
” بیشک شیطان تمھارا دشمن ہے لھذا تم اسے دشمن ہی سمجھو ، وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ بھی اہل جہنم سے ھو جائیں “۔ ( الفاطر ۔٦ ) ۔
قیمتی لمحات اور بیش بہا گھڑیاں :
اے مسلمان ! کسی بھی واجب کی ادائیگی میں کوتاہی سے بچیں ، اور ہر قسم کی نافرمانی سے خوب دامن بچا کر رکھیں یہ تو آپ کو ھلاکتوں میں مبتلا کر دیں گی اور اسبات کو ذھن نشین کر لیں کہ حج کے لمحات بڑے ہی قیمتی اور اس کی گھڑیاں بے پناہ مہنگی و بیش بہا ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
” گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو “۔ ( البقرہ ۔٢٠٣ ) ۔
ان اوقات اور گھڑیوں میں ہر خیر و بھلائی ، ہر باعث تقرب الہی اور ہر نیکی کمانے کی بھرپور کوشش کریں وہ ذکر و اذکار کی شکل میں ھو توبہ و استغفار کی صورت میں ھو ، تکبیر و تہلیل یا تلاوت قرآن ھو ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
” جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعرالحرام ( جبل مزدلفہ ) کے پاس اللہ کا بکثرت ذکر کرو اور اس کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح کرنے کی تمھیں ھدایت دی گئی ہے “۔ ( البقرہ ۔١٩٨ ) ۔
اور جب مناسک حج پورے ھو جائيں تو اس ھدایت پر اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں اور اس عبادت کی انجام دہی پر اس کا شکر بجا لائيں ۔ ارشاد الہی ہے :
” جب تم اپنے مناسک حج پورے کر لو تو اللہ کا اتنا ذکر کرو جتنا کہ تم اپنے اباء و اجداد کا کیا کرتے ھو بلکہ اللہ کا ذکر اس سے بھی بہت زیادہ کرو “۔ ( البقرہ ۔٢٠٠) ۔
مناسک حج کی ادائیگی کے دوران بھی توبہ و استغفار کرتے رہیں ۔ اور اللہ کی طرف رجوع کۓ رہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
” پھر تم بھی وہیں ( عرفات ) سے ھو کر لوٹو جہاں ھو کر لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے توبہ و استغفار ( طلب مغفرت و بخشش ) کرو ، بیشک اللہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے “۔
( البقرہ ۔١٩٩ ) ۔
سب سے بڑی نیکی : توبہ و استغفار :
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ عليہ لکھتے ہیں :
” توبہ و استغفار کرنا تمام نیکیوں سے بڑا عمل ہے اور اس کا دروازہ بہت ہی وسیع ہے ۔ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کے قول و عمل میں تقصیر و کوتاہی آ گئی ہے ۔ اس کی حالت تنگ ھو رہی ہے اس کا رزق کم ھو رہا ہے یا اس کا دل ٹھکانے پر نہیں رہتا بلکہ پھرتا رہتا ہے ۔ اسے اللہ کی توحید اپنانی اور توبہ و استغفار کرنا چاہیۓ ، انہی دونون کاموں میں اس کی شفاء ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان دونوں کاموں کو پورے صدق دل اور خلوص کے ساتھ سر انجام دے “۔
دنیا و آخرت کےلۓ دعائیں کرنا :
حج میں لوگوں کو اجر و ثواب ان میں سے ہر کسی کی ھمت و محنت کے حساب سے دیا جاتا ہے ۔ ان میں سے کوئی تو صرف اس دنیا کی فوری و عارضی راحتوں کا سوال کرتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آخرت کی نعمتیں اور اللہ تعالی کی رضاء و خوشنودی طلب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
” لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں : اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھلائی دے دے ۔ ایسے شخص کا آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔اور ان میں سے ہی وہ بھی ہے جو کہتا ہے : اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھی نعمتیں عطا کر اور آخرت میں بھی نعمتوں سے نوازنا اور ھمیں نارجہنم کے عذاب سے بچانا ، یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ان کے اعمال کا اعلی بدلہ ملے گا اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے “۔ البقرہ ۔٢٠٠ ، ٢٠٢ )
اہل توفیق حجاج :
اہل توفیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے نیک خالص نیت اور صدق دل سے فریضۂ حج ادا کیا ۔ اپنے مال حلال سے خرچ کیا اور اپنی زبان کو ذکر الہی سے معطر رکھا اور اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ لوگوں سے حسن سلوک کیا اور انہیں نفع پہنچانے میں کوشاں رہا ۔ آپ لوگ اسی طرح ہی حج ادا کریں اور اپنے دین و عبادت کو اللہ تعالی کے لۓ خالص کر دیں ، نیک صالح اعمال کی انجام دہی میں جد و جہد کریں اور اپنے رب کی جنتوں کی طرف لپکیں ۔ ارشاد الہی ہے :
” حج کے مہینے معلوم و معروف ہیں ۔ جس نے ان میں حج ادا کرنے کی نیت کر لی اسے اس دوران عورتوں سے اختلاط نہیں رکھنا چاہیۓ نہ ہی فسق و گناہ کا ارتکاب کریں اور نہ ہی لڑائی جھگڑا کریں اور تم جو بھی خیر و بھلائی ( نیکی ) کرتے ھو اللہ اسے جانتا ہے اور زاد راہ لے کر چلو ۔ بیشک بہترین زاد راہ اللہ کا تقوی ( لوگوں سے سوال کرنے سے بچنا ) ہے اور اے عقلمندو ! مجھ سے ڈرتے رہا کرو “۔ ( البقرہ ۔١٩٧ ) ۔
فضائل عشرہ ذوالحج :
آپ عشرہ ذوالحج کے ایام مبارکہ سایہ فگن ھو چکے ہیں ۔ ان میں کۓ گۓ اعمال کی بہت ہی زیادہ فضیلت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” ایسے کوئی دن نہیں جن میں کیا گیا عمل اللہ کو ان دنوں میں کۓ گۓ عمل سے زیادہ محبوب ھو ” ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :
” اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ۔ سواۓ اس آدمی کے جو اپنا مال لیکر اور ہتھیلی پر جان رکھ کر میدان جہاد میں جا اترا اور ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی واپس نہ لایا ” ۔ ( بخاری )
اعمال عشرہ ذوالحج :
ان دنوں میں بکثرت تکبیریں کہیں اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، صلہ رحمی اور صدقہ و خیرات کریں ، اپنے والدین سے صلہ رحمی اور نیکی و حسن سلوک کریں ، لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں ان کی مدد کریں ان کی ضروریات کو پورا کریں اور ہر قسم کی عبادت و اطاعت کو سرانجام دیں ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کہتے ہیں :
” عشرہ ذوالحج کے دن ماہ رمضان کے آخری عشرہ کے دنوں سے افضل ہیں اور ماہ رمضان کے آخر عشرہ کی راتیں اس عشرہ ذوالحج کی راتوں سے افضل ہیں “۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عشرہ میں لوگوں کے مابین تکبیر کی سنت کو زندہ کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحج میں بازار میں نکلتے اور ( بآواو بلند ) تکبیریں کہتے اور لوگ بھی ان دونوں کی دیکھا دیکھی تکبیریں کہنا شروع کر دیتے تھے” ( بخاری )
قربانیاں :
اس عشرہ ذوالحج میں خیر و نیکی کے مواقع یکے بعد دیگرے چلے آتے ہیں ۔ عید الاضحی کے دن اور اس کے بعد واے ایام تشریق کے تین دنوں ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذوالحج ) میں قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کی نیکی ہے ۔ حدیث میں ہے :
” نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو خوبصورت اور سینگوں والے (موٹے تازے ) مینڈھے قربانی دیۓ ان پر آپ نے بسم اللہ اکبر ( تکبیر ) پڑھی اور انہیں اپنے دست مبارک سے ذبح کر دیا “۔ ( متفق علیہ )
افضل قربانی :
افضل قربانی وہ ہے جو زیادہ قیمتی ھو اور گھر والوں کے نزدیک زیادہ نفیس ھو ۔ قربانی میں ایک بکری ایک شخص اور اس کے تمام گھو والوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے ۔ اور جو قربانی کرنا چاہے اس کے لۓ ناجائز ہے کہ وہ ذوالحج کا چاند طلوع ھو جانے سے لیکر اپنے جانور کو ذبح کرنے تک اپنے ناخن بال یا جلد و چمڑے میں سے کچھ کاٹے ۔ خوش دلی سے قربانی دیں اور اس کا گوشت خود بھی کھائیں دوسروں کو بھی کھلائیں اور صدقہ بھی کریں اور اپنے صدقات و خیرات کے لۓ اپنے فقراء کو تلاش کر لیا کریں کیونکہ ان میں سے کوئی آپ کا قرابت دار و عزیز ھو گا اور کوئی ہمسایہ ۔
یوم عرفہ کا روزہ :
اپنی عیدوں کو ہر اس فعل سے پاک رکھیں جو کہ اللہ تعالی کو غضبناک کرنے والا ہے ۔ حجاج کے ساتھ ان کی دعاؤں تہلیل ( لا الہ الا اللہ ) اور تکبیروں میں شامل ھو جائيں جو شخص اپنے ہی گھر میں رہے اور حجاج اس سے سبقت لے جائيں اور مشاعر مقدسہ میں جا پہنچیں تو ایسے لوگوں کے لۓ یہ سنت ہے کہ وہ یوم عرفہ ( ٩ ذوالحج ) کا روزہ رکھیں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
“یوم عرفہ کا روزہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ آئندہ و گزشتہ دو سالوں کے گناھوں کو مٹا دیتا ہے “۔ ( صحیح مسلم )
لھذا موقع ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے پہلے اسے غنیمت سمجھیں ۔ یہ زندگی غنیمت ہی ہے ۔ اس کے دن بہت تھوڑے ہیں اور عمریں بہت ہی چھوٹی چھوٹی ہیں ۔
وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔