دوسروں کا مال نا حق کھانا اور اسکا انجام
حمد و ثناء کے بعد
صحت و عافیت کی دولت :
مسلمانو ! اللہ تعالی کی عطاؤں اور نوازشوں میں سے بہترین عطا دولت ایمان و تقوی ھے ۔ اور اہل تقوی کو دولت و سرمایہ بھی مل جاۓ تو مضایقہ نہیں لیکن صحت و تندرستی اہل تقوی کے لیے دولت و سرمایہ داری سے بہتر ھوتی ھے ۔ تھوڑی دولت اور امراض و گناھوں سے عافیت رہے تو یہ اس بکثرت پونجی سے ہزار درجہ بہتر ھے جسکے نتیجے میں آدمی غافل ھو جاۓ اور ظلم و گناہگار کو اسکا مال و دولت ( اور اولاد ) کوئی کام نہ دیں گے ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ھے :
” اور جب وہ ( جہنم کے گڑھے میں ) گرے گا تو اسکا مال اسکے کچھ بھی کام نہیں آۓ گا ۔” (اللیل ۔١١ )
قناعت و تونگری نفس :
دولت مندی و سرمایہ داری کوئی دنیا کے مال و متاع کی کثرت کا نام نہیں ھے بلکہ اصل دولت مندی اور حقیقی سرمایہ داری تو نفس کی تونگری ھے ۔ جس میں طمع و لالچ شدید ھوگیا اسکی گردن کا ٹوٹنا قریب آ گیا ۔ جس نے اس چيز کی طرف اپنی آنکھیں لگائيں جو کہ اسکے اپنے ہاتھ میں نہیں وہ جلد ہی خائب و خاسر اور مایوس و نامراد ھو گا اور اس پر حزن و ملال چھا جاۓ گا ۔۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ھے :
” جو شخص مسلمان ھو گیا اور اسے حسب حاجت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ عطا فرمایا اس پر قناعت کرنے کی توفیق دے دی وہ فوز و فلاح پا گیا ۔” ( صحیح مسلم )
لین دین کے قواعد و ضوابط :
مسلمانو ! لین دین اور معاملات کے قواعد و ضوابط اور تبادلوں کا بیع و شراء یا خرید و فروخت کے ارکان جن پر اکثر احکام کی بنیاد ھے اور انہی پر تمام فیصلہ کرنے والوں کا اعتماد ھے ، ان میں سے ایک قاعدہ و ضابطہ اور رکن سب سے زیادہ جاننے والے بادشاہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ھے :
” اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھاؤ ، ہاں آپس کی رضاءمندی سے تجارت کا لین دین ھو ( تو جائز ھے ) اور اپنے آپ کو قتل و ہلاک نہ کرو بےشک اللہ تعالی تم پر بہت ہی مہربان ھے ۔” ( النسآء ۔٢٩ )
اسی سلسلہ میں دوسرا ارشاد الہی یہ ہے :
” اور ایک دوسرے کا مال ناحق و باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ اسے (بطور رشوت) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور ( اسے) تم جانتے ھو۔”(البقرہ:۔١٨٨ )
آبرو ، مال اور خون مسلم کی حرمت :
مسلمان کے بھائی ( دوسرے مسلمان ) کی حرمت بھی خود اسکے اپنے نفس جیسی ہی ھے ۔ اس کے لیے یہ ہر گز جائز نہیں کہ شرعا حرام کیۓ گۓ طریقے سے اسکا مال کھایا جاۓ یا کسی ایسے باطل طریقے سے اسکا مال اینٹھ لے جس میں اسکا کوئی فائدہ نہ ھو ۔ کیونکہ دینی اخوت و بھائی چارگی کا یہی مطالبہ اور انسانی شفقت و محبت کا یہی تقاضا ھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
“تمہارے خون ، اموال اور آبروئيں ایک دوسرے کے لیے حرام ہیں ۔” ( متفق علیہ )
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
مسلمان کا خون ، اسکی آبرو اور اسکا مال دوسرے مسلمان کے لیے حرام ھے ۔” ( صحیح مسلم )
نہ دھوکہ دہی نہ دغابازی :
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عداء نامی طویل العمر صحابی رضی اللہ عنہ کےہاتھوں جب کوئی غلام یا کنیز بیچی تو اسے یہ تحریرلکھ کر دی :
” عداء بن خالد بن ھوذہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم ) سے غلام یا کنیز خریدی ھے اور یہ ایسی ہی بیع و شراء ( خرید و فروخت ) ھے جو دو مسلمانوں کی آپس میں ھوتی ھے ۔ اس غلام میں کوئی عیب و بیماری ،دھوکہ دہی و دغابازی اور حرام فروشی نہیں ھے ۔” ( صحیح بخاری ، تعلیقا اور ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ موصولا )
اس غلام میں کوئی عیب و بیماری نہیں ھے ، اس میں کوئی دھوکہ دہی و دغا بازی نہیں ھے اور نہ ہی اس میں کوئی حرام فروشی و ضرر ھے ۔ اس میں کوئی ایسا عیب نہیں جسے چھپایا گیا ھو نہ ہی فجور و دغابازی ھے اور نہ ہی کوئی حیلہ سازی کہ جس سے خرید کا مال تلف ھو جاۓ نہ ہی اس میں دھوکہ دہی کا کوئی شائبہ پایا جاتا ھے ۔ اور نہ ہی میٹھی و نرم گفتگو سے دل موہ کر خریدار کو بیوقوف بنایا یا پھنسایا گیا ھے بلکہ ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے ساتھ خرید و فروخت ھے جس میں عدل و انصاف کے وجود کا شعور و احساس ھوتا اور لین دین میں کمی بیشی سے پہلو تہی کی جاتی ھے ۔
طمع و لالچ کے مارے ھوۓ لوگ :
مسلمانو ! طمع کے مارے ھوۓ لالچی لوگوں نے دوسرے کمزور لوگوں کے مال و متاع پر قبضہ جمانے کے لیے مکر و فریب ، غدر و خیانت اور دھوکہ و دغا پر مشتمل کئ طریقے اختیارکر رکھے ہیں ۔انہی طریقوں سے وہ فقراء و مساکین کے حقوق غصب کرتے ہیں اور گڈریوں چرواھوں اور سادہ لوح سیدھے سادے لوگوں کے اموال بھی چٹ کر جاتے ہیں جو کہ ضرورت و مجبوری کے ہاتھوں ذلیل و پست ھو چکے ہیں اور بھوک و فاقہ کشی نے انہیں لاچار کر رکھا ھے ۔ ان نادار و فقر لوگوں نے انکے بارے میں حسن ظن سے کام لیا اور ان چالاک و چابکدست لوگوں سے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نان جویں کی خواہش کی مگر وہ انکے بچھاۓ ھوۓ جال میں پھنس گۓ ۔ لیکن جب برتن کے منہ سے ڈھکنا اٹھا اور بھید سے پردہ اٹھا تو غدر و خیانت اور دھوکہ و فریب کاری کی علامتیں نظر آگئيں ۔ ان لوگوں کو ایسے طمع و حرص نے ہلاک کر رکھا ھے جنکی موجودگی میں عفت و پاکدامنی اختیار ہی نہیں کرسکتے ۔ اللہ کے خوف سے بے خطر ھو کر وہ مال و دولت کی رغبت میں لگے ھوۓ ہیں عقود و معاہدات توڑے جاتے ہیں ، عہد شکنی کی جاتی ھے ۔ مال پیش کرنے اور مارکیٹنگ کرنے میں دھوکہ دہی سے بچنے کا سوچا بھی نہیں جاتا اور نہ ہی جعلسازی و فریب کاری سے احتراز کیا جاتا ھے ۔ انکے انداز انتہائی مکارانہ اور انکے طریقے سراسر فاجرانہ ھوتے ہیں ۔ وہ انداز و طریقے جو کہ تلف و ضیاع والے اور ایسا مکر و فریب جو کہ مہلک و تباہ کن ھو ، شیئرز ، تجارت ، ریئلی اسٹپسٹ ، انویسٹمنٹ و سرمایہ کاری بچت سکیم اور محفوظ ذخائر کے ہر آب و تاب سے چھینا چھپٹی اور سلب و نہب یا چوری و ڈاکہ زنی کی جاتی ھے ۔ کسی لئیم و ملعون شخص سے ہلاکت و برائی کے سوا توقع ہی کیا کی جا سکتی ھے ۔ رسول ہدایت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ھے :
” لوگوں پر ایسا وقت ضرور آۓ گا کہ جس میں آدمی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے جو مال حاصل کیا ھے یہ حلال طریقے سے اسے ملا ھے یا حرام سے ۔” ( صحیح بخاری )
لالچ و طمع کی ہلاکتیں :
مال کی حرص و لالچ اور طمع اپنے اندر بہت سارے خطرات ، ہلاکتیں اور پرخار راہیں رکھتا ھے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” وہ دو بھیریۓ جو بھوکے ھوں اور انہیں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جاۓ وہ اتنی تباہی و بربادی نہیں کرتے جتنی اپنے دین کی تباہی وہ آدمی کرتا ھے جو مال و منصب کے طمع و لالچ میں مبتلا ھو ۔” ( ترمذی ، مسند احمد )
بروز قیامت غدار کا جھنڈا :
اے وہ شخص جس نے مٹھی بھر مال کی خاطر اپنے دین کو بیچ دیا ! اے وہ شحص جس نے ناحق وباطل طریقے سے ، مکروفریب کے ساتھ اور حیلہ سازی و دھوکہ دہی سے لوگوں کا مال کھایا ! اس ھولناک دن کو یاد رکھو جسے بڑی پیشی کا دن کہا جاتا ھے اللہ کبیر و عالی مقام کے حضور دست بستہ کھڑے ھونے کو یاد کرو ۔ اس دن کو یاد کرو جب خرید و فروخت اور دولت و تجارت کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے ۔ اس دن کو یاد رکھو جب بیڑیوں میں باندھ کر پابند سلاسل کر دیا جاۓ گا۔ حدیث میں صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ھے :
” قیامت کے دن ہر غدار کا جھنڈا ھو گا ۔” اور کہا جاۓ گا کہ یہ جھنڈا فلاں شخص کی غداری کا نشان ھے ۔” (اس حدیث کا جزء اول تو صحیح مسلم ، مسند احمد میں ھے ۔ جبکہ دوسرے حصے کے الفاظ مختلف روایات میں مختلف ہیں ۔ )
حرام ذرائع آمدن :
حسرت و افسوس ھے اس شخص پر جس نے آگ خرید لی اور اس ذات جبار کا غضب و غصہ مول لے لیا اور یہ سب صرف اس دنیا کی معولی پونجی کے عوض جو کہ زائل و ختم ھونے اور جلد ہاتھوں سے نکل جانے والی ھے ۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ھےکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
“جوگوشت اور خون حرام سے پرورش پاۓ گا اسکے لیے جہنم کی آگ ہی اولی ھے۔”(سنن ترمذی)
وہ لوگ اس حدیث سے کہاں جائيں گے جنکے گوشت بڑھ کر انکی ہڈیوں پر جوۓ ( قمار ) کی حرام کمائی سے چڑھتے ہیں ، کہانت کی کمائی ، جادوگری ، ٹیوے لگانے اور شعبدہ بازی کے معاوضہ پر پروان چڑھتے ہیں ، کسبی و فاحشہ عورتوں کی کمائی اور گویہ و رقاصہ عورتوں کی کمائی سے بڑھتا ھے ۔ جن چيزوں کی خرید و فروخت ہی حرام ھے جیسے تمباکو اور اسکی تمام مصنوعات ، شراب و منشیات ، سیٹلائیٹ کی ڈشیں وغیرہ ۔ اس طرح چوری چکاری ۔ غصب ، خردبرد ، دوسروں کی حق تلفی اور اموال تجارت کے عیوب چھپانے کے نتیجہ میں حاصل ھونے والی آمدن بھی ھے۔ مال کی قیمتوں سے کھیل کر پیسہ بنانا ، ملاوٹ و جعلسازی کرنا ، دھوکہ دہی و فریب کاری اور ناپ و تول میں کمی بیشی کرنا بھی انہی ذرائع حرام میں سے ھے ۔ سودی کاروبار کرنا جس میں ظالمانہ حد تک سود اور فحش حد تک اضافہ حاصل کیا جاتا ھے یہ سب بھی سراسر حرام ھے۔ یتیموں کا مال کھانا،اوقاف (وقف) اور وصیت کردہ اموال ہڑپ کر جانااوررشوت ستانی سے مال حاصل کرنا بھی سراسرحرام ھے ۔
اسباب ہلاکت :
آج کی یہ مادی دنیا لالچ و طمع ، مکروفریب اور انانیت و خود پسندی سے بھری ھوئی ھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا :
” مجھے اللہ کی قسم ھے ! میں تم پر فقر و ناداری آ جانے سے نہیں ڈرتا ھوں بلکہ مجھے تو اس بات کا ڈر ھے کہ تمہارے لیے دنیا کے دروازے کھول دیۓ جائيں گے جس طرح کے پہلے لوگوں کے قدموں پر دنیا ڈھیر کر دی گئ تھی اور تم بھی اسے جمع کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے میں لگ جاؤ گے جیسے کہ پہلے لوگ اس میں جٹ گۓ تھے اور یہ تمہیں بھی اس طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کر کے رکھ دیا تھا ۔” ( متفق علیہ )
دعائیں غیر مقبول :
مسلمانو ! حرام کھانے والا اللہ کے دربار سے دھتکارا ھوا ھے اور اسکی دعائيں نامقبول ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے :
” نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ھے ، اسکے بال پراگندہ اور لباس غبار آلود ھے ۔ وہ آسمان کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر یارب یارب کہتا ھے جبکہ اس کا کھانا حرام ھے ، اسکا پینا حرام ھے ، اسکا لباس حرام ھے اور اسے غذاء حرام سے دی گئ ۔ اسکی دعائیں کہاں قبول ھونگی ۔” ( صحیح مسلم )
حقیقی مفلس :
اے وہ لوگو جو کہ حساب و عقاب اور سزاء و عذاب سے بےفکر ھو چکے ھو اور اس جنگل کی دنیا میں پس رہے ھو ۔ تمہارے ہر فعل کے بارے میں قیامت کے دن فیصلہ صادر کیا جاۓ گا ۔ بڑا باریک بینی سے حساب کتاب ھو گا ، جوابدہی اور غضب و عتاب ھو گا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
” کیا تم جانتے ھو کہ مفلس و غریب کون ھے ؟ ” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ہمارے مابین مفلس و فقیر وہ ھے جس کے پاس درہم و دینار اور مال و متاع نہ ھو ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں درحقیقت مفلس وہ ھے جو قیامت کے دن اس حال میں آۓ گا کہ اسکے نامہ اعمال میں نماز ، روزہ اور زکوہ جیسے اعمال تو ھونگے مگر وہ اس طرح آۓ گا کہ اس نے اس آدمی کو گالیاں دی ھونگی ، اس شخص پر بہتان باندھا ھو گا ، اسکا مال ناحق کھایا ھو گا ، اسکا خون بہایا ھو گا اور اسے زد و کوب کیا(مارا) ھو گا ۔ اسکی نیکیوں میں سے کچھ اسے دی جائيں گی اور باقی دوسرے لوگوں کو ۔ اور اگر لوگوں کے حقوق پورے ھونے سے پہلے ہی اسکی نیکیاں ختم ھو گئيں تو ان باقی لوگوں کے گناہ و خطائيں لے کر اسکے حصے ( نامہ اعمال ) میں ڈال دیۓ جائيں گے پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جاۓ گا ۔” ( صحیح مسلم )
جھوٹے دعوے اور جھوٹی قسمیں :
مسلمانو ! حاکم و قاضی کے فیصلے کا دارومدار دو باہم جگھڑنے والوں کے ظاہری کلام اور مدعی و مدعی علیہ کے دلائل و براہین پر ھوتا ھے ۔ اسکا کسی کے باطنی حالات سے کوئی تعلق نہیں ھوتا کیونکہ باطنی و پوشیدہ امور کا اسے کوئی علم نہیں ھو سکتا ۔ لہذا وہ باطن پر اپنا فیصلہ صادر و نافذ نہیں کرتا ۔ کوئی حرام چیز کسی قاضی کے فیصلے یا حاکم کے حکم سے حلال نہیں ھو سکتی ۔ چنانچہ حضرت امہ سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
” تم اپنے جگھڑے میرے پاس فیصلہ کے لیے لاتے ھو اور ھو سکتا ھے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل و ثبوت پیش کرنے میں اپنے مدمقابل سے زیادہ چالاک و تیز ھو اور ( اسکی چرب لسانی کے نتیجہ میں) میں اسکی بات سن کر اسکے مسلمان بھائی کے حق سے کچھ اسے دلا دوں ( تو یہ اسکے لیے حلال نہیں ) اسے چاہیۓ کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ میں نے اسے نار جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ھے ۔” ( متفق علیہ )
ویل و ہلاکت ھے اس شخص کے لیے جس نے جھوٹے دعوؤں اور جعلی دلیلوں کے ذریعے اپنے کسی مسلمان بھائی کا مال کھایا۔ اے وہ شخص جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال اینٹھا ۔ اے سخت دن کی گناہ میں مبتلا کر دینے والی قسمیں کھانے والے ! تم نے اتنی بڑی بڑی اور بھاری قسمیں کھائی ہیں کہ جنکا بوجھ پہاڑ بھی نہ اٹھا سکیں ، وہ قسمیں کہ جنکا بوجھ مردوں کی گردنیں توڑ کر رکھ دے ، جو جان بوجھ کر کھانے والوں کی زندگی کو تباہ اور اسکی عمر کو فنا کرکے رکھ دیں ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” جس نے کسی مسلمان شخص کا حق جھوٹی قسم اٹھا کر چھین لیا ، اس کے لیے اللہ نے نار جہنم واجب کر دی اور اس پر جنت حرام کر دی ۔”
ایک آدمی نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم! اگرچہ وہ چيز معمولی سی ہی کیوں نہ ھو ؟ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی شاخ ( مسواک ) ہی کیوں نہ ھو ۔” ( صحیح مسلم )
جبکہ صحیح بخاری و مسلم میں ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
“جس نے جان بوجھ کر ایسی جھوٹی قسم کھائی جس کے نتیجے میں وہ کسی مسلمان شخص کا مال کاٹ کھاۓ وہ اللہ کو (قیامت کے دن) اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرغضبناک ھوگا۔”(بخاری ومسلم )
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
ایک آدمی ( یمن کے ایک شہر) حضرت موت سے اور دوسرا کندہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت مین حاضر ھوا ۔ حضرمی نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! یہ شخص (کندی ) میری زمین پر غاصبانہ قبضہ کر چکا ھے جو کہ میرے والد کی تھی (اور مجھے وراثت میں ملی) ۔ کندی نے کہا : وہ زمین میرے ہاتھ میں ھے میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ھوں اور اسکا اس میں کوئی حق نہیں ھے ۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حضرمی سے مخاطب ھو کرفرمایا:
” کیا تمہارے پاس ( تمہارے اس دعوے کی صداقت پر ) کوئی دلیل ھے ؟ ” اس نے عرض کیا : نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے اسکی قسم لینا ھے ۔” اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! یہ فاجر و گناہگار آدمی ھے اسے کسی چيز کے لیے قسم کھانے کی کوئی پرواہ نہیں ھے اور نہ ہی یہ کسی چيز کے معاملہ میں ورع و تقوی اختیار کرتا ھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
” اب وہ آدمی قسم کھانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسکے پلٹنے پر فرمایا :
” اگر اس نے اس کے مال کو ناحق کھانے کے لیے قسم اٹھا لی تو یہ قیامت کے دن اللہ تعالی سے یقینا اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے اعراض کرنے والا ھو گا ۔” ( صحیح مسلم )
اے جھوٹی قسمیں کھانے والے ! تجھے ذلت و رسوائی ، ناامیدی و نامرادی ، خسارہ و نقصان اور قلت و تباہی کا سامنا ھے ۔ اے وہ لوگو ! جو جھوٹی گواہی کے ذریعے لوگوں کے حقوق و اموال ضائع کرتے ھو اور تمہاری گواہی کذب و فجور پر مشتمل ھوتی ھے ۔ تمہارے لیے اس دن ویل و ہلاکت ھے جب صور پھونکا جاۓ گا ۔ تمہارے لیے اس دن ویل و ہلاکت ھے جس دن قبروں میں مدفون لوگوں کو اٹھایا جاۓ گا۔اس دن بھی تمہارے لیے ویل و ہلاکت ھو گی جب سبکے سینوں میں مدفون راز اگلو دیۓ جائيں گے ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ھےکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” کیا میں تمہیں کبیرہ گناھوں میں سے بڑے گناھوں کی خبر نہ دوں ؟ ” ہم نے عرض کیااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! ضرور دیحیۓ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ۔” اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم ٹیک لگاۓ ھوۓ تھے اب سیدھے ھو کر بیٹھ گۓ اور فرمایا : ” خبردار ھو جاؤ ! اور جھوٹی بات ( و گواہی ) ۔” نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کو بار بار دہراتے گۓ یہاں تک کہ ہم نے کہا : کاش ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش ھو جائيں ۔” ( متفق علیہ ) ۔
ملازمین اور غلاموں کے حقوق :
اے ملازمین کی تنخواہیں نہ دینے والو ! اے مزدوروں کے حقوق کم کر کے دینے والو ! کیا تمہارے دلوں سے شفقت و ررافت چھین لی گئ ھے ؟ اور تمہارے سینوں سے رحم و کرم کا جذبہ رخصت ھو چکا ھے ؟ حتی کہ تم نےحادثات میں ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں والے شخص اور حسرتوں میں مبتلا آدمی کا حق بھی کھا لیا ۔ مظلوم و فقیر کو بھی معاف نہ کیا اجیر کا حق بھی مار گۓ جبکہ تھکاوٹ و پسینے نے اسکے بدن کو کوٹ کر رکھ دیا ھے ۔ اسکی بیوی چلا رہی ھے ، اسکا بچہ بلبلا رہا ھے اسکا مریض و بیمار سسکیاں لے رہا ھے ۔ اے ظالمو ! تم برباد ھو جاؤ ، اے جور و جفا کرنے والو تم اللہ کی رحمتوں سے دور ھو جاؤ ، اے مکارو فریبی لوگو تمہارے لیے رحمت الہی سے دوری ھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ” تین لوگ ایسے ہیں کہ قیامت کے دن انکے خلاف مدعی میں ھوں گا ۔ ایک وہ شخص جس نے میرے نام سے کسی کے ساتھ عہد و معاہدہ کیا اور پھر غدر و عہدشکنی کی ۔ اور ( دوسرا) وہ شخص جس نے کسی آزاد کو ( غلام بنا کر ) بیچ ڈالا اور اسکی قیمت کھا گیا ، اور ( تیسرا ) وہ شخص جس نے کسی کو اجرت پر کام لگایا اور اس سے پورا کام کروا لیا مگر اسے اسکی اجرت و مزدوری نہ دی ۔” ( صحیح بخاری )
اے اللہ کے بندے ! تو ان لوگوں میں سے مت ھو جو ظلم و ستم اور جود و جفا کرتے ہیں اور حق تلفیاں کرتے اور جھگڑالو ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” اجیر و مزدور کو اسکی اجرت و مزدوری اسکا پسینہ خشک ھونے سے پہلے ادا کر دو ۔” ( ابن ماجہ)
دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
” وہ تمہارے بھائی اور غلام ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں آپ کے زیردست کیا ھے ۔ پس جسکا کوئی بھائی اسکے زیردست ھو اسے چاہیۓ کہ وہ اسے وہی کھلاۓ جوخود کھاۓ اور اسے ویسا ہی کپڑا پہناۓ جیسا کہ خود پہنے اور انہیں انکی طاقت سے زیادہ کام پر مامور نہ کریں اور اگر کسی ایسے کام پر لگا ہی دیں تو خود بھی انکی مدد و تعاون کریں ۔” ( متفق علیہ )
ناحق مطالبہ :
اے اللہ کے بندے ! جب تمہیں معلوم ھے کہ تم کسی معاملہ میں غلط بلکہ ظالم ھو تو وہ معاملہ کورٹ ، کچہری یا منصف کے پاس نہ لے جاؤ اور جب تم جانتے ھو کہ حقیقی دلائل تمہارے خلاف ہیں تو اپنی بودی لبلیں کیوں دیتے ھو اور جب کسی چيز پر تمہارا حق نہیں ھے تو تم اسکا مطالبہ ہی نہ کرو۔ ایسے ذرائع سے حاصل شدہ کمائیاں حرام ھوتی ہیں ۔ انکی بنیادیں خبیث و ناپاک ھوتی ہیں اور وہ خير و برکت سے سراسر خالی ھوتی ہیں ۔ ایسے مال سے حاصل شدہ ہر لقمہ حرام ، سدا کے لیے گلے کی پھانسی اور ہمیشہ کے لیےحسرت انجام ھوتا ھے ۔
برکات حلال اور ثمرات صبر :
اسکے برعکس تھوڑا سا بھی مال حلال ھوا تو وہ ایسا ذخیرہ ھے جو کبھی ختم ھونے والا نہیں ھے، اسکی برکت بڑھتی چلی جاتی ھے اور اس میں اضافہ ھوتا جاتا ھے ۔ اے اپنے مال کے ذریعے آزماۓ جانے والے ! اپنے اجر و ثواب کو برباد نہ ھونے دو اور نہ ہی اپنے رب کا غصہ و ناراضگی مول لو ۔ مصیبت پر صبر کرو اور عطیہ نعمت پر شکر بجا لاؤ۔مصیبت دورھو جاۓگی اور صبر کا پھل تمہیں مل جاۓ گا اورکوئی بلاء وامتحان سخت ھوا تو وہ صبر وہمت کا فائدہ دےگا ارشاد الہی ہے :
” اور ہم کسی قدر خوف و بھوک دے کر ، اور جان و مال اور پھلوں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ آپ صبر کرنے والوں کو ( رضاء الہی کے حصول کی ) بشارت دے دیں ۔ ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ھوتی ھے تو کہتے ہیں : (( انا للہ وانا الیہ راجعون )) ” ہم اللہ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔” یہی لوگ ہیں جن پر انکے رب کی مہربانی اور رحمت ھے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں ۔”( البقرہ ۔١٥٥ ، ١٥٧ )
مسلمانو ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اسے اپنے ہر قول و فعل کا نگران مانو ، اسکی اطاعت کیا کرو اور اسکی نافرمانی نہ کرو ۔ ارشاد الہی ہے :
” اے ایمان والو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو ۔” ( التوبہ ۔١١٩ )
قرض : دخول جنت میں رکاوٹ :
مسلمانو ! لوگوں سے قرضہ لینے سے خبردار رھو الا یہ کہ کوئی واقعی ضرورت اور سخت حاجت ھو اور یہ بات آپ کے علم میں رہنی چاہیۓ کہ مقروض و مدیون شخص اپنے قرض کا مرھون اور اپنے ذہن تلے دبا رہتا ھے جب تک کہ وہ اسے ادا نہ کر لے ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
” ایک آدمی کھڑا ھوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! کیا فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کہ اگر میں اللہ کی راہ میں لڑتا ھوا شہید ھو جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ معاف ھو جائيں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ” ہاں ! بشرطیکہ تم صبر کرنے والے اور اللہ سے اجر و ثواب کی نیت رکھتے ھوں ، دشمن سے سامنا کرتے وقت شہادت پائيں نہ کہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ھوۓ مارے جائيں البتہ قرض معاف نہ ھو گا ۔ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتائی ھے ۔” ( صحیح مسلم )
ایک اور حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
” مومن کی جان اسکے قرض کے ساتھ لٹکتی رہتی ھے ( وہ جنت میں نہیں جا سکتا ) جب تک کہ اسکی طرف سے اس کا قرض ادا نہ کر دیا جاۓ ۔” ( ترمذی )
مقروض و تنگدست کو ڈھیل دینا :
مسلمانو ! جس نے کسی تنگدست کو ڈھیل اور مقروض و مدیون کو مہلت دی یا اسکا قرض معاف کر دیا یا کچھ کم کر دیا تو ملاقات کے دن ( بروز قیامت ) وہ شخص عرش الہی کے ساۓ میں ھو گا ۔ چنانچہ حضرت ابو یسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ان دو آنکھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ھے اور یہ کہتے ھوۓ انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی دونوں آنکھوں پر رکھیں اور میرے ان دو کانوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ھے اور میرے اس دل نے اسے یاد کر لیا ھے اور یہ کہتے ھوۓ انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ھے : ” جس نے کسی تنگ دست کو مہلت و ڈھیل دی یا اسے قرض معاف کر دیا اسے اللہ اپنے عرش کے ساۓ تلے جگہ دے گا ۔” ( صحیح مسلم )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
“ایک آدمی لوگوں کو ادھار دیا کرتا تھا اور وہ اپنے غلام سے کہا کرتا تھا :جب تم کسی تنگدست کے پاس تقاضاۓ قرض کے لیے آؤ تو اسے معاف کر دیا کرو شائد اسکے نتیجہ میں اللہ ہمیں بھی معاف فرما دے۔وہ آدمی ( وفات پانے کے بعد) اللہ سے ملا تو اللہ نے بھی اسے معاف کر دیا ۔” ( صحیح مسلم )
مسکین و ضعیف اور ضعیف و کمزور پر ترس کھایا کرو ۔ اللہ تعالی رحمان و لطیف ( رحم و کرم کرنے والا اور باریک بین ) آپ پر ترس کھاۓ گا اور معاف کر دے گا ۔
وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین