حب دنیا و ترک دنیا صحیح مفہوم ، غلط فہمی ، مذمت
فضیلہ الشیخ / عبد الباری الثبیتی حفظہ اللہ
حمد و ثناء کے بعد
دنیا : دار ابتلاء و امتحان :
یہ دنیا امتحان گاہ اور آزمائش کی جگہ ہے ، لھذا یہ آخرت کی کھیتی ہے اس میں لوگ آج بوتے ہیں تاکہ کل روز آخرت میں اپنی بوئی فصل کاٹیں چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :
[ وہ ( اللہ ہی ) ہے جس نے موت و حیات کی تخلیق فرمائی تا کہ وہ تمھیں آزماۓ کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون بنتا ہے اور وہ غالب مغفرت کرنے والا ہے ] ۔ ( الملک ۔٢)
اور یہ دنیا مسلسل فناء و زوال کی طرف رواں دواں ہے ، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
[ جو کوئی اس ( زمین ) پر ہے سب کو فنا ھونا ہے اور آپ کے رب کی ذات ( بابرکات ) جو صاحب جلال و عظمت ہے ، وہ باقی رہے گا ] ۔ ( الرحمن ۔٢٦ ،٢٧ )
دنیا کی بے وقعتی :
آخرت کے مقابلے میں اس دنیا کی عمر بہت ہی تھوڑی ہے ۔
چنانچہ ارشاد ربانی ہے :
[ وہ ( کافر ) اس دنیا کی زندگی پر خوش ھو رہے ہیں اور دنیا کی یہ زندگی آخرت ( کے مقابلے ) میں معمولی سی متاع ہے ] ۔ ( الرعد ۔٢٦)
حضرت مستورد بن شداد بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
[ اس دنیا کی قیمت و قدر آخرت کے مقابلے میں صرف اتنی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوۓ تو وہ کیا لاۓ (اور سمندر سے کیا کم کرے ) ] ۔ ( ترمذی )
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک چٹائی پر لیٹے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ( پہلو ) جسم اطہر پر نشان بنا گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ ھم آپ کے لۓ کوئی ایسی چیز ( بستر ) نہ بنا دیں جو آپ کے لۓ ( آرام دہ اور ) اس تکلیف سے بچانے کا ذریعہ بنے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : میرا اس دنیا سے کیا ناطۂ ؟ میری اور اس دنیا کی مثال تو ایسے ہے جیسے کوئی مسافر ( راستے کے ) کسی درخت کے نیچے سايہ کے لۓ بیٹھا اور پھر اٹھا اور اس درخت کی چھاؤں کو چھوڑ کر چل دیا ] ( بخاری )
یہ دنیا جاۓ قرار نہیں بلکہ یہ تو ایک راھداری ( راستہ ) ہے ۔ جب سے بندے کے پاؤں اس راہ ( دنیا ) پر پڑتے ہیں تب سے لیکر یہ اپنے رب کی طرف سفر میں رواں دواں ھوتا ہے اور اس کے سفر کی مدت اس کی عمر ہے جو کہ اس کے مقدر میں لکھی ھوئي ہے تو گویا انسان کی عمر اس کے اس سفر کی مدت کا دوسرا نام ہے اور پھر یہ شب و روز ( دن رات ) اس کے اس سفر کے مرحلے ہیں ۔ ہر دن اور رات اس کے مراحل حیات میں سے ایک مرحلہ ھوتے ہیں ۔ اور ایک ایک کر کے یہ مرحلے طے ھوتے جاتے ہیں حتی کہ سفر ختم ھو جاتا ہے ۔ عاقل و صاحب بصیرت شخص وہ ہے جو ان تمام مراحل میں سے ایک ایک مرحلہ کو اپنا نصب العین بناۓ رکھے اور ہر مرحلے کو صحیح و سالم پاتا کماتا ھوا کاٹتا جاۓ جب ایک مرحلے کو طے کر لے تو دوسرے کو اپنا نصب العین بنا لے ۔
خوش ذالقہ و خوش منظر سفر :
دنیا کے بارے میں یہ حقائق اسے یہ درجۂ دیتے ہیں کہ زمین کی جاذبیت اور دنیا کی رونق دل کو اس کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرنے سے ہی روک دیتے ہیں ۔ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
[ بیشک یہ دنیا بڑی میٹھی اور سر سبز و شاداب ( خوش منظر ہے ) ] ۔ یعنی اس کا ذائقہ بڑا مزے دار اور اس کی شکل بڑی خوش منظر و جاذب نظر ہے اور کوئی چیز جتنی میٹھی اور خوش منظر ھو وہ اتنا ہی انسان کو فتنے میں مبتلا کرنے والی ھوتی ہے ۔ اسی طرح یہ دنیا بھی بڑی ہی میٹھی اور شاداب و خوش رو ہے ، اسی حدیث میں آگے ارشاد نبوی ہے :
[ اور اللہ تعالی اس دنیا میں تمھیں حکومت و اقتدار دینے والا ہے تا کہ اس طرح وہ دیکھے کہ تم کیا عمل کرتے ھو ] ۔ ( صحیح مسلم )
یعنی اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کہ تم دنیا کو اولیت دیتے ھو یا آخرت کو مقدم رکھتے ھو ۔
یہ دنیا : ایک پر فریب پھول :
قرآن کریم نے اس دنیا کو ایک پھول قرار دیا ہے جو کہ حسن و جمال دکھاتا ہے ، عقلوں پر جادو جگاتا ہے اور اپنے حسن منظر کے ساتھ دلوں کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور پھر چند لمحوں کے بعد وہ مر جھا جاتا ہے اس کا وہ حسن و جمال مٹ جاتا ہے اور ھوا کا تیز جھونکا اس کی ہستی کو مٹا کر رکھ دیتا ہے ۔ دنیا کی بھی یہی مثال ہے ۔ یہ بھی ایک فتنہ انگیز پھول ہے دھوکے میں ڈالتی ہے اور فریب میں مبتلا کرتی ہے ۔ جب دل اس سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں اور عقلیں راہ و رسم استوار کر لیتی ہیں اور اس کے دن گزر جاتے ہیں ۔ اس کا حسن و جمال اور چمک دمک سب مٹ جاتی ہے ۔ اور یہ دنیا محض دھوکے کی گندگی بن کر رہ جا جاتی ہے ۔ سامان فریب کے سوا کچھ اس کی قدر نہیں ھوتی ۔ اللہ تعالی نے سچ ہی فرمایا ہے :
[ اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر دیں ( وہ ایسی ہے ) جیسے پانی جسے ھم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کو روئیدگی و شادابی مل گئی اور پھر وہ چورا چورا ھو گئی جسے کہ ھوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ مال اور بیٹے تو دنیا کی زینت ( و رونق ) ہیں اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمھارے رب کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں ] ۔ ( الکہف ۔٤٥ ، ٤٦ )
دینا کی یہ بلیغ تصویر میزان اسلام میں دنیا کی حقیقت کو آشکارا کر دیتی ہے تا کہ لوگ اس کے غلام بن کر نہ بیٹھ جائيں کہ اس کی خوبصورتی و جمال کی کشش انھیں اپنے اندر جذب کر لے اور وہ آخرت کی نعمتوں پر کہیں دنیا کو ترجیح نہ دینے لگیں اور یہ کہاں کی عقلمندی اور محکم راۓ و فیصلہ ہے کہ بندہ اپنی دنیا کے بدلے دین کو بیچ دے تا کہ حرام کی کثرت جمع کر لے اور اس دنیا کا مال و اسباب اکٹھا کر لے ۔
دنیا جمع کرنے کی دوڑ :
لوگ دنیا کی تلاش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لۓ سرپٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں اور انھیں ڈر لگا رہتا ہے کہ دنیا کہیں ھمارے ہاتھوں سے چھوٹ نہ جاۓ اور اپنے پاس موجود متاع دنیا میں مزید اضافے کی لالچ میں تلے ھوۓ ہیں اور اس سلسلہ میں اپنے قیمتی اوقات کو صرف کرتے چلے جاتے ہیں ، اور مشقتیں اٹھاتے ہیں اور اس راہ میں نمازوں میں کوتا بیان کرتے ہیں اور جماعت کے ساتھ ادائیگی سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اطاعت و عبادت میں تساہل و سستی کرتے اور تلاوت قرآن میں کمی کوتاہی کرتے ہیں ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بات آۓ تو کچھ دینے کے لۓ خیرات کرنے کی بجاۓ ڈھیر ھو جانے ہیں ۔
اس دنیوی زندگی میں چاہے کتنی بھی نعمتیں اور آسائشیں مہیا ھو جائيں ، یہ سب مل کر بھی جنت کی نعمتوں کے مقابلے میں ریت کے ایک ذرے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ آخرت کے نقمتوں کے مقابلے میں دنیا کی بڑی بڑی مصیبتیں اور مشکلات بے حیثیت ھو جاتی ہیں اور یہ جہنم کے عذاب کے ایک شرارے کے برابر بھی سختی نہیں رکھتیں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا خوف :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امتی کے متعلق اس چیز سے ڈرتے تھے کہ ان پر دنیا کے دروازے نہ کھل جائيں اور وہ کہیں اس کے فتنے میں نہ مبتلا کر دیۓ جائيں ۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بحرین کا مال آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار سے مخاطب ھو کر فرمایا :
[ خوش ھو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تمھیں خوش کر دے گی ، اللہ کی قسم ! میں تمھارے بارے میں فقر و غربت سے نہیں ڈرتا ھوں بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ھوں کہ تم پر کہیں دنیا کے دروازے اس طرح نہ کھول دیۓ جائیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں کے لۓ کھولے گۓ تھے اور تم بھی کہیں اسی طرح اسے جمع کرنے کی دوڑ میں نہ لگ جاؤ جیسے وہ لگ گۓ تھے اور تم بھی کہیں اس کے ہاتھوں انھیں کی طرح ھلاک نہ کر دیۓ جاؤ ] ۔ ( صحیح بخاری )
صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
[ جب تمھارے سامنے روم و فارس کے دروازے کھول دیۓ گۓ تو تم لوگ کس قسم کا رویہ اپناؤ گۓ ؟ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں : ھم وہی کریں گے جس کا حکم ھمیں اللہ تعالی نے دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
[ کہیں دوسری راہ نہ اپنا لینا کہ تم دنیا جمع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی دوڑ میں لگ جاؤ ۔ پھر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو ، پھر ایک دوسرے سے رخ پھیر لو اور پھر ایک دوسرے سے بغض و نفرت کرنے لگو ] ۔
حب دنیا کے بعض آثار :
یہ دنیا جمع ھو جانے کے بعض آثار ہیں کہ پہلے اسے جمع کرنے کی دوڑ لگتی ہے پھر باھم حسد شروع ھو جاتا ہے ، پھر لڑائیاں در آتی ہيں اور خون ریزیاں شروع ھو جاتی ہیں ۔
دنیا جمع ھو جانے کے آثار میں سے ہی یہ بھی ہے کہ بندہ ناز و نعمت میں ڈوب جاتا ہے ، اللہ اور روز آخرت کو بھول جاتا ہے اور وہ گناھوں میں گھر جاتا ہے ، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں :
[ اللہ ان بندوں پر رحم فرماۓ جنھوں نے متاع دنیا کو اپنے پاس امانت سمجھا اور پھر وہ امانت انھیں لوٹا دی جنھوں نے انھیں اس کا امین بنایا تھا اور اس دنیا سے سکبدوش ھو کر پاکباز روانہ ھو گۓ ]
حضرت مالک بن دینا رحمہ اللہ عليہ فرماتے ہیں :
[ جس قدر تم دنیا کے غم میں پگھلو گے اتنا ہی آخرت کا خوف تمھارے دل سے نکل جاۓ گا اور جس قدد تم آخرت کا غم کھاؤ گے اسی قدر تمھارے دل سے اس دنیا کی فکر ختم ھو جاۓ گی]
بعض لوگوں کے دلوں پر حب دنیا نے حملہ کر دیا اور انھیں اس کی چکا چوند نے مغلوب کر لیا ۔ ان کی فکر اسی میں لگی رہی ہے اور ان کی ساری قوتیں اسے ہی جمع کرنے میں صرف ھو جاتی ہیں ۔ انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اس دنیا کی عبادت و پرستش شروع کر دی اور آخرت کی نعمتوں پر انھوں نے اس دنیا کی عیش و عشرت کو ترجیح دی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
[درھم و دینا کا پجاری ھلاک ھو گیا اور رنگیں دھاری دار چادر و کپڑے کی پرستش کرنے والا بھی تباہ ھو گیا ۔ اسے اگر دیا جاۓ تو راضی ھوتا ہے اور اگر اسے کچھ نہ دیا جاۓ تو وہ ناراض ھوتا ہے ] ۔ ( بخاری )
ترک دنیا کی تفریط و کوتاہی :
کچھ لوگ وہ بھی ہیں جنھوں نے فقر و مسکینی کی چادر اوڑھ لی ہے وہ ہر وقت بڑی ذلیل سی حالت میں رہتے ہیں اور اس دنیا کی طیب و پاکیزہ نعمتوں کو استعمال کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ ان کی خواہش یہ ھوتی ہے کہ وہ عبادت گاھوں کے کونوں میں گستے رہیں اور بزعم خود عبادت میں مصروف رہنا چاہتے ہیں اور اس دنیا کی بجاۓ وہ آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ، پھر اچانک ان پر سستی کا حملہ ھوتا ہے اور وہ راحت پسند ھو جاتے ہیں اور انھیں لوگوں کے عطیات و نذرانوں اور کھانے پینے ھدیوں کے لالچ کی بیماری لگ جاتی ہے اور یوں اس دنیا کی تعمیر کے فریضے کو ادا کرنے سے رہ جاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ارباب شر اس زمین پر اپنی من مانی کرتے پھرتے ہیں اور گمراہی پھیلانے والے جو جی میں آۓ کرتے ہیں اور دین و دنیا کے امور میں توازن کے فقدان نے امت کو کمزور کر رکھا ہے اور اسی وجہ سے یہ امت دوسری امتوں کی قیادت کرنے سے پیچھے رہ گئی ہے ۔
دنیا و آخرت کی نعمتیں : اہل ایمان کے لۓ :
اسلام حلال و پاکیزہ چیزوں کو حرام نہیں کرتا اور نہ ہی فوائد و منافع ، کھانے پینے کی چیزوں اور مال و دولت کی مذمت کرتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :
[ پوچھیں تو کہہ جو زینت ( و آرائش ) اور کھانے ( پینے ) کی پاکیزہ چیزیں اللہ نے اپنے بندوں کے لۓ پیدا کی ہیں ، انھیں حرام کس نے کیا ہے ؟ کہہ دیں کہ یہ چیزیں اپنے بندوں کے لۓ پیدا کی ہیں ، انھیں حرام کس نے کیا ہے ؟ کہہ دیں کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لۓ ہیں اور قیامت کے دن خاص انہی کا حصہ ھونگی ، اسی طرح اللہ اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لۓ کھول کھول کر بیان فرماتا ہے ] ۔ ( الاعراف ۔٣٢)
غلط فہمی کا ازالہ :
ھماری ذکر کردہ سابقہ تفصیل جس میں حب دنیا اور درھم و دینار کی غلامی کی مذمت کی گئی ہے اس سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہیۓ کہ شائد دنیا کی تعمیر و ترقی اور تھذیبی آبادکاری کی کوششیں ترک کر دینی چاہییں اور اس دنیا کی خیرات و برکات سے استفادہ نہیں کرنا چاہیۓ ۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اس دنیا سے صرف اسی قدر حاصل کرے جو کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر اندر ( اور جائز طریقوں سے ) ھو اور یہ بھی نہ ھو کہ دنیا اس کے لۓ غرور و فریب کا سامان بن جاۓ اور وہ دنیا کے مال و متاع کو تمام دینی و اخلاقی قدروں سے بھی بالا تر قرار دے لے اور نہ یہ ھو کہ انسان ھوش ہی کھو بیٹھے اور اپنے دین و اخلاق کو برباد کر بیٹھے ۔
اسلام جس دنیا کی مذمت کرتا ہے وہ شہوتوں اور غافل کن لذتوں کی دنیا ہے جس کے نتیجہ میں حقوق و واجبات ضایع ھوں حرام اشیاء و امور میں وقوع کا تساہل و سستی پیدا ھو ۔ وہ دنیا مذموم ہے ، جو غفلت کا سبب بنے ۔ وہ دنیا اسلام میں ناپسندیدہ ہے جو کہ بندے کو اللہ سے پھیر دے اور آخرت سے غافل کر دے ۔ اللہ تعالی تو یہ چاہتا ہے کہ یہ دنیا ھمارے ہاتھوں کی باندی ھو مگر کچھ ایسے کم ھمت لوگ آۓ انھوں نے اسے اپنے ہاتھ کی باندی بنانے کی بجاۓ وہ خود اس دنیا کے غلام بن گۓ ۔
مثالی و معتدل درجہ :
حب دنیا اور ترک دنیا دونوں میں افراط و تفریط ہے جبکہ اس سلسلہ میں بہترین درجہ یہ ہے کہ دین و دنیا دونوں کو یکجا جمع کر دیا جاۓ ۔ صبر و فقر کو جمع کیا جاۓ اور تقوی و تونگری کو یکجا کیا جاۓ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :
[ اچھا و پاکیزہ مال و دولت تو نیک و صالح شخص کے لۓ ہے ] ۔ ( بخاری )
ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب سے یہ دعاء فرمایا کرتے تھے :
[ اے اللہ ! میرے لۓ میری دنیا درست کر دے جس میں کہ میرا معاش و روزی ہے ۔
اے اللہ ! میرے لۓ میری آخرت درست کر دے جس کی طرف مجھے لو ٹ جانا ہے ، اور ہر خیر و بھلائی کے لۓ عمر میں زیادتی فرما دے اور ہر شر و برائی سے بچانے کے لے موت کو میرے لۓ ذریعۂ راحت بنا دے ] ۔ (مسلم)
دین و دنیا میں جدائی :
دین و دنیا کے معاملات میں تفریق و جدائی ہی وہ بنیادی سبب ہے جس نے امت کو تنزل و پستی میں مبتلا کر دیا اور اس امت کی حالت اتنی پتلی کر دی کہ اسے اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے سے بھی روک دیا ۔
لوگوں نے جب دنیا کی مذمت سے یہ غلط مفہوم اخذ کر لیا کہ دنیا کو ہی لاپرواہی سے چھوڑ دیا جاۓ ، اس کی آباکاری سے ہاتھ اٹھا لیا جاۓ اس کی اصلاح و ترقی کے لے کوشش ترک کر کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں نیکی کا حکم دینے اور برائی کو روکنے سے دست کش ھو جائیں تو ان امور کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں ایک سخت مکروہ ناپسندیدہ سلبی کیفیت پیدا ھو گئی ۔ ان میں عزلت گزینی نے جنم لے لیا اور وہ ضعف و کمزوری در آئی جسے قبول کرنے سے ھمارا دین اسلام قطعی طور انکار کرتا ہے ۔ اللہ نے تو فرمایا ہے :
[ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ یہ ( دعاء کرتے ہیں ) اے ھمارے رب ! ھمیں دنیا میں بھی نعمت عطا فرمایا اور آخرت میں بھی نعمت بخشن اور ھمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھنا ] ۔
( البقرہ ۔٢٠١)
دنیا و آخرت میں بھلائی :
دنیا کی حسنہ و نعمت ہر مطلوب و مرغوب چيز کو شامل ہے جیسے صحت و عافیت ، بڑا وسیع گھر ، وسیع رزق ، نفع بخش کام ، نیک صالح عمل ، آرام دہ سواری ، اچھی تعریف ، اور آخرت کی حسنات و نعمتوں کی سردار نعمت دخول جنت ہے اور پھر اس کے تابع دوسرے امور مثلا بڑے خوف و گھبراہٹ سے امن و تحفظ اور حساب و کتاب میں آسانی ۔
صحابہ کرام : فہم اسلام کا بہترین نمونہ :
اسلام کو سمجھنے کے لۓ بہترین نمونہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں وہ کمائی کے لۓ تجارت و زراعت جیسے اسباب کو اختیار فرمایا کرتے تھے ۔
علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ، اللہ کی راہ میں اپنے اوقات ، اپنی جانیں اور اپنے اموال خرچ کرتے تھے ، ان میں ایسے اغنیاء و مالدار بھی تھے جو کہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتے تھے ۔ ان میں ہی ایسے فقیر بھی تھے جو کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے ۔ وہ دنیا کے لۓ ھلاکتوں میں واقع ھونے والی کیفیت سے بہت دور رہنے والے تھے ۔ انھوں نے ملکوں کے ملک فتح کیۓ ، شہروں کے شہر تعمیر و آباد کۓ اور حکومتیں قائم ہیں اور اسلام کی خوب نشر و اشاعت کی ۔
صحابہ اکرم رضی اللہ عنہم میں سے بعض کبار صحابہ رضی اللہ عنہم بڑے بڑے مالدار تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان میں سے کسی کو بھی کارو بار تجارت اور مال و دولت کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیا ۔ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں :
” یہ حب دنیا نہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اس سے وہ چیز حاصل کرے جو آپ کی اصلاح کر دے ” ۔
سعید بن مسیب فرماتے ہیں :
” اس شخص میں بھی کوئي خیر و بھلائي نہیں جو مال طلب نہیں کرتا تاکہ وہ اپنا قرض چکاۓ اور اس کے ذریعے اپنی آبرو کا تحفظ کرے اور وہ مر جاۓ تو اسے وہ اپنے وارثوں کے لۓ بطور ترکہ چھوڑ جاۓ ” ۔
دنیا کا صحیح اسلام مفہوم :
صحیح اسلامی مفہوم میں دنیا مقاصد شریعت کے حصول کا ایک وسیلہ و ذریعہ ہے اور یہ آخرت تک پہنچنے کے لۓ ایک سواری ہے ، اگر یہ فاسد و خراب ھو جاۓ تو کبھی کبھی اس کی خرابی دین کی خرابی و فساد کا باعث بن جایا کرتی ہے ۔
اور اس میں کیا شک ہے کہ جب اہل اسلام اس حالت میں مبتلا ھو جائيں کہ امن و امان کا قحط پڑ جاۓ ۔ رزق کی قلت ھو جاۓ قتل و غارت گری بڑھ جاۓ تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔ یہ بات ہرگز قبول نہ کی جاۓ کہ کوئي مسلمان یہ کہے کہ مین اپنا دین محفوظ کرتا ھوں اور اس کے لۓ دنیا کو چھوڑ رہا ھوں ، ایسا کرنے سے تو اہل شر و فساد اس دنیا سے کھیلیں گے اور اس میں فساد و بگاڑ پیدا کر دیں گے ، کیونکہ جس کی دینی حالت بہتر ھو گئی مگر اس دنیا بگڑ گئی اور اس کے معاملات و امور میں خلل و اقع ھو گیا اس سے بعید نہیں کہ اس کی دینی حالت بھی بگڑ جاۓ اور اس میں خلل رونما ھو جاۓ ۔ اور جس کی دینی حالت بگڑ گئی مگر دنیا سنور گئی اور اس کے تمام امور منظم طریقہ سے چلتے رہے وہ اس دینوی صلاح و سنوار کی کوئي لذت نہیں پا سکے گا اور نہ ہی اپنی دینوی زندگی کے سدھرنے کا کوئی اثر محسوس کرے گا ، کیونکہ انسان خود اپنی دنیا ہے ۔ ارشاد الہی ہے :
[ اور جو ( مال ) آپ کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت ( کی بھلائی ) طلب کریں اور دنیا سے بھی اپنا حصہ لینا نہ بھلائيں اور جیسی اللہ نے آپ سے بھلائي کی ہے ( ویسی ) آپ بھی ( لوگوں سے ) بھلائی کریں اور دنیا میں طالب فساد نہ ھوں کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ] ۔( القصص ۔٧٧)
دنیا کا ظاھر و باطن :
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ایک جگہ فرمایا ہے :
[یہ تو دنیا کی ظاھری زندگی کو ہی جانتے ہیں اور آخرت (کی طرف ) سے غافل ہیں ] ۔ ( الروم ۔٧ )
قرآن کریم ایسی قوموں کا واقعہ بیان کر رہا ہے جن کی نظر اس زندگی کے بارے میں انتہائي محدود و تنگ ہے اور ان کی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف اس کے ظاھر ، اس کی لذتوں ، اس کے کھیل تماشیوں ، اس کی دولتوں کمائیوں ، دینوی امور و معاملات ، اس کی تعمیر و آبادی ، اس کی عمارات و رہائشوں ، اس کی شہوت خيز چیزوں اور خواہشات نفس کے مطابق اشیاء کو ہی جانتے ہیں ۔ وہ اس کے باطل ، اس کے مضرات و نقصانات ، اس کی مشکلات و مصائب اور اس کے زائل و فانی ھونے کی حقیقت سے ناآشنا ہیں ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
[ یہ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئي گھر نہ ھو ، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ھو اور اس دنیا کے لۓ مال و دولت وہی جمع کرتا ہے جس میں عقل نہ ھو ] ۔ ( مسند احمد )
یہ لوگ جو کہ دنیا کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ھوۓ اور اسی سے دل لگاۓ بیٹھے ہیں انھیں ان دینوی لذتوں سے کچھ فائدہ حاصل نہ ھو گا ، اگر چہ وہ ساری دنیا کی دولتیں اور خزانے بھی کیوں نہ جمع کر لیں اور انھیں مسلسل نفسیاتی پیاس اور مادی خواہش گھیرے رکھیں گی ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
[ لو اگر ھم چاہتے تو ان آیتوں سے اس ( کے درجات ) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ھو گیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ھو گئي کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونیی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے ۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ھماری آيتوں کو جھٹلایا ۔ ۔ ] ( الاعراف ۔١٧٦)
و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین