Google

رمضان و روزہ : فضائل ، اصل مفہوم اور کرنے کے کام

فضیلہ الشیخ / عبد الرحمن السدیس : حفظہ اللہ

١٣۔٩۔ھ١٤٢٤۔۔٧۔١١۔٢٠٠٣ء

حمد و ثناء کے بعد

اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس بات کو خوب سمجھ لو کہ تقوی ہی بہترین سواری اور طریق نجات ہے اور اسے پا لینا ہی ابرار و صالحین کے نزدیک ایک پرخواہش تمنا ہے ، یہی روح کا زاد راہ اور دلوں کی غذاء ہے اسی کے ذریعے مرغوب و من پسند انجام حاصل کیا جا سکتا ہے ، اسی کی بدولت ناپسندیدہ و خوفناک چیز ( جہنم ) سے بچا جا سکتا ہے اور خطرات کو بھی اس کے ساتھ دور کیا جا سکتا ہے اور یہ وہ بہترین چیز و عمل ہے جس کے بل پوتے پر بندہ رب کی رضاء حاصل کرنے میں کامیاب ھو سکتا ہے ۔

موسم عبادات
مسلمانو ! مادہ پرستی کا دور دورہ ہے ، شکوک و شبہات کا باھم امتزاج و کثرت ہے ۔ ان حالات میں نفوس انسانیہ اللہ کی طرف اور دارآخرت کی طرف سفر کرنے پر آمادہ ھونے لگیں تو فتور و تساہل اور قصور و کوتاہی آڑے آنے لگتی ہے ، اور ایک عظیم حکمت کے تحت اللہ جلت حکمتہ نے اس امت کواطاعت و عبادت کے مختلف موسموں میں حصول قرب الہی کے زمانے اور خیر و بھلائی کے مواقع و اوقات سے نواز رکھا ہے ، جس نے ان میں اپنی جسمانی سواری کو چلا لیا اس نے اللہ کی طرف سے فوز و فلاح اور سعادت و خوشی حاصل کر لی بلکہ اللہ کی رضاء پا لی اور مزید سعادتیں سمیٹ لیں اور جس نے غفلت شعاری سے کام لیا اور کھیل کود میں ان قیمتی اوقات کو ضایع کر دیا اس کے یقین کی رسی کمزور پڑ گئی بلکہ کٹ ہی گئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگا اور اس سلسلہ میں لوگوں کے دو گروہ ہیں ، ایک گروہ ان اہل تقوی کا ہے جو اللہ کی رحمتوں کے مستحق قرار پا گۓ اور دوسرا گروہ وہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو بدبختی کے نتیجہ میں محرومیوں کے سوا کچھ نہ پا سکے ۔

برادران ایمان ! ان مبارک گھڑیوں اور بابرکت موسموں میں سے ہی یہ موسم بھی ہے جو اللہ کے فضل و کرم سے تم پر سايہ فگن ھو چکا ہے اور آپ اس کی خیرات و برکات میں صاف و شکاف زندگی و پرامن حیات کے مزے لوٹ رہے ۔ یہ ماہ قرآن و عھد فرقان ہے ۔ یہ روزوں اور قیام اللیل ( قیام رمضان ) کا مہینہ ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے

[ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قران نازل کیا گیا جو کہ لوگوں کے لۓ ھدایت ہے اور اس میں ھدایت کی نشانیاں اور ( حق و باطل میں ) فرق کرنے کا سامان موجود ہے ] ۔
( البقرہ ۔١٨٥)

آجکل آپ اس کے معطر دنوں میں اس کی خوشبووں سے مشام جان کو معطر کر رہے ہیں ۔ اس کی روشن و مبارک راتوں کو اپنی عبادتوں سے معمور کر رہے ہیں ۔ یہ انتہائی برکتوں کی ضیاء باریوں کا مہینہ ہے ۔ یہ خیر و برکت سے بھرا ھوا ایک لہلہاتا و گنگناتا گلستان ہے اور یہ بر و نیکی کمانے اور ھدایت پانے کا موقع ہے اور اللہ کی نعمتوں اور اس کے کرم و احسانات سے بھر پور ہے ۔

ماہ توبہ و استغفار
ماہ رمضان میں بندوں کے دل رحم و کرم کرنے اور معفرت و بخشش فرمانے والے رب کی طرف مانوس ھوتے ہیں ۔ توبہ و استغفار کرتے ہیں اور تلاوت قرآن و تسبیح و تعریف باری تعالی سے سعادتیں سمیٹتے ہیں اور تہجد و تروایح سے لطف اندوز ھوتے ہیں ۔ وہ خشوع و خضوع اپناتے ہیں اور اپنی کمی و کوتاہی پر اشک ندامت بہاتے ہیں ۔ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی اطاعت و عبادت کے طور پر اور اس کی رضاء و خوشنودی حاصل کرنے کے لۓ ھوتا ہے ۔

اہل توفیق اس ماہ رمضان میں اور دوسرے مواقع پر اطاعت و عبادت کی حلاوت و شیرینی سے بہرہ مند ھوتے ہیں اور وہ اپنے تمام اوقات و حالات میں اللہ کے خوف اور اس کے کرم کی رغبت کی فضاؤں میں محو پرواز رہتے ہیں ۔

ناقابل احاطہ فضائل و برکات
اس ماہ مبارک کی صحیح قدر و قیمت صرف وہی جانتا ہے اور اس کے اسرار اور بھیدوں سے صرف وہی شخص واقفیت حاصل کر سکتا ہے جس کی بصیرت کو اللہ نے منور کر رکھا ھو ، اس کے احساس کو بیدار کر رکھا ھو اور اس کے نفس کا تزکیہ و تطہیر کر دی ھوئي ھو ۔ کیا کوئی فصیح و بلیغ شخص اس صاحب کرم و برکت مہمان ( ماہ رمضان ) کی تعریف کا حق ادا کر سکتا ہے یا اس کی خیرات و برکات اور افضال و احسانات کو کوئی بیان کر سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔

مدرسۂ خیر و بر اور حلم و صبر
مسلمانو ! یہ ماہ رمضان خیر و برکت اور بر و نیکی کا درس دینے والی ایک عظیم یونیورسٹی ہے ۔ یہ حلم و بردباری اور صبر و شکر کی تعلیم دینے والا مدرسہ ہے اور ایمان و تقوی کا مینار ہے ۔ اس طرح یہ مہینہ اس امت کے لۓ باھمی الفت محبت اور اتفاق و اتحاد کی ایک سیڑھی ہے ، یہ ماہ روحوں کا تزکیہ و تھذیب کرتا اور انھیں خوشیوں کی فضاؤں اور فرحتوں کے علاقوں کی طرف اڑا لے جاتا ہے ، یہ مہینہ دلوں کے امراض اور نفسوں کی بیماریوں کو باھر نکال پھینکتا ہے اور کمزور ارادوں میں قوت و حزم اور عزیمت و تصمیم پیدا کرتا ہے اور یہ اس طرح کہ یہ انھیں شہوت کی غلامی سے آزادی دلاتا ہے اور دنیوی لذتوں میں غرق رہنے سے باھر نکال لاتا ہے ۔ اور آیت صوم کے آخر میں اللہ تعالی کی کتاب کے انتہائی بدیع اسلوب بیان یہی حکمت اور روزے کا یہی فلسفہ بیان ھوا ہے کہ یہ روزے اس لۓ فرض کۓ گۓ ہیں ، تاکہ تم متقی و پرہیزگار بن جاؤ ] ۔ ( البقرہ ۔١٨٣)

معنی یہ کہ بھوک اور آنتوں کی پیاس برداشت کرنے کا ثمر تقوی ہے اور یہ بہترین و مضبوط آہنی سہارا ہے ۔

روزے کا اصل مفہوم و آداب
اے روزے دار بھائیو ! بعض روزے دار لوگ ۔۔ اللہ انھیں ھدایت عطا فرماۓ ۔۔۔ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور روزے کا وہ معنی لۓ بیٹھے ہیں جو کہ روزے کی اصل حکمت و فلسفہ کے مخالف اور اسکی مشروعیت کے اصل سبب سے بہت ہی دور ہے اور یہ ان کا اس دینی فریضہ کو سمجھنے میں قصور فہم ہے ۔ وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شائد صرف کھانے پینے اور حسی طور پر روزہ توڑنے والی چیزوں سے رکے رہنے کا نام ہی روزہ ہے ۔ اور اسی کی بناء پر وہ گناھوں کے ارتکاب میں لگے رہتے ہیں ، غیبت و چغلی ، بغاوت و سرکشی ، بہتان طرازی و تہمت تراشی کرنے ، افواہیں پھیلانے اور گناہ و نافرمانی کرنے میں غلطاں و پیچان رہتے ہیں ، جو شخص ایسے اوقات میں بھی گناھوں میں اتنا لت پت رہے جن میں کہ نفوس روحانی تزکیہ و طہارت اور نفسیاتی صفائی و پاکیزگی کے انتہائی محتاج ھوتے ہیں ۔ اور انھیں دار آخرت کے لۓ زاد راہ جمع کر لینے کی سخت ضرورت ھوتی ہے ، ایسے اگر کوئي ان چیزوں کا اہتمام نہیں کرتا محض کھانے پینے سے ہی رکا رہتا ہے تو پھر ایسے شخص کے کھانا پینا چھوڑ بیٹھنے کی اللہ کو کوئي ضرورت نہیں ہے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں نبئ خیر البشر صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک صحیح حدیث میں یہ بات ثابت ہے ۔

سنبھل اے غافل !
اے روزے دارو ! ماہ رمضان کا عشرہء اولی تو پلک جھکپنے میں گزر گیا ہے اور یہ دوسرا عشرہ شروع ھو گیا ہے جو کہ مغفرت و بخشش کا عشرہ ہے جبکہ افراد امت کے گروہ در گروہ خواب غفلت میں پڑے ھوۓ ہیں اور خیرات و برکات سمیٹنے کی جلدی نہیں کر رہے اور نہ ہی قرب الہی کے حصول میں پورے طور پر کوشاں ہیں ۔ اللہ والو ! یہ ماہ مبارک تو آدھا گزرنے کو آیا ہے اور بہت سارے لوگ اپنے آپ کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہے ۔ دل پارہ پارہ ھو جاتا ہے خصوصا دیکھا جاتا ہے کہ نسل حاضر کے نوجوان لڑکے اور جوان دوشیزائیں اپنے دن بوجھل آنکھوں سے سوۓ ھوۓ گزارے چلے جا رہے ہیں اور راتیں گلی کوچوں اور سڑکوں بازاروں میں آوارہ گردی کرتے برباد کۓ چلے جا رہے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ اشیاء پر کان لگاۓ اور نگاہیں جماۓ رہتے ہیں ۔ ان لوگوں پر تعجب ہے روزے کے ظاھری و باطنی آثار کہاں ہیں ؟ خاندانی نگرانی اور مادرانہ و پدرانہ اہتمام کہاں ہیں ؟

کیا غافل دلوں کے لۓ ابھی بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اسی ماہ رمضان میں ہی پگھل کر نرم ھو جائیں اور قرآنی تازیانوں پر ہی بیدار ھو جائيں ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

[ کیا ابھی تک مومنوں کے لۓ اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد ( ذکر الہی ) کرنے کے وقت اور ( قرآن ) جو ( اللہ ) بر حق کی طرف سے نازل ھوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ھو جائيں ] ۔

ماہ جہاد و فتوحات
اس ماہ جہاد و فتوحات اور کارناموں کے مہینے میں بھی بعض سیٹلائیٹ چینلز اپنی شرمناک نشریات اور گھٹیا قسم کے پروگرام کۓ جا رہے ہیں اور اس عزت و عفت اور شرافت و کرامت والے شہر کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں اور انھیں کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ بدقسمت ہیں اور ھلاکت کے کنارے پر کھڑے ہیں وہ لوگ جو کہ اس ماہ میں بھی توبہ تائب نہ ھوۓ اور روزے کی حکمتوں کو سمجھنے کی طرف انھوں نے رجوع نہ کیا ، اس ماہ میں تہجد و قیام اور مناجات و دعاء سے دل نہ لگایا تو ان سے بڑھ کر حرمان نصیب اور کون ھو گا ؟ یہ غلامانہ و شکست خوردہ فکر اور غلط سلوک و کردار انھیں ھلاک کر رکھ دیں گے ۔۔۔ واللہ المستعان ۔

اے خیر خواہ ! قدم بڑھا
اے خیر و بھلائی چاہنے والو ! قدم بڑھاؤ ، آ جاؤ اور اے شر مچانے والو ! رک جاؤ اور باز آ جاؤ ۔ گلو بلائزیشن اور نئی تھذیب و تمدن کے نتیجہ میں شرور کا زور ھو چکا ہے ایسے میں دین کے اصولوں اور امتیازات سے گہرے تعلق و تمسک کی اشد ضرورت ہے ۔ ایسے میں ضروری ہے محاسبہ و امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریاں نبھائي جائيں یہ راہ نجات ہے اور اسی میں امن و امان کا راز پوشیدہ ہے جبکہ ملکوں کے ملک اور معاشروں کے معاشرے غموں اور پریشانیوں میں ڈوبے ھوۓ ہیں ۔

ماہ قرآن و فرقان
اے امت قرآن ! اس مغفرت و بخشش کے مہینے کے ثمرات و فضائل میں سے ہی ایک یہ بھی ہے کہ اس ماہ اور قرآن کریم کے مابین ایک گہرا تعلق ہے اور وہ اس طرح کہ اسی ماہ کریم و مبارک کی راتوں میں سے ایک رات ( لیلۃ القدر ) میں قران کریم کا نور اس دنیا پر رونما ھوا تھا ۔ وہ رات بڑی ہی عالی ذکر اور عظیم القدر ہے ، وہ ھزار مہینے سے بہتر و افضل ہے ۔ اسی عظیم المرتبت رات میں نور آسمان کا اس زمین سے تعلق پیدا ھوا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے دل اقدس پر اس معجزہ خالدہ قرآن کریم کو نازل کیا گیا ۔
چنانچہ ارشاد الہی ہے :
[بیشک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے ] ۔ ( المائدہ ۔١٥)

اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :

[ھم نے تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا تذکرہ ہے ، کیا تم نہیں سمجھتے ؟ ] ( الانبیاء ۔١٠)

یہاں تذکرہ سے اصل مراد یہ ہے کہ اس کتاب میں تمھارے فخر و شرف کا ذکر آیا ہے ۔ اور یہ کتاب فتنوں کے دور میں ایک مضبوط قلع کی طرح محفوظ رکھنے والی ہے کہ جس پر عمل کرنے والے ہر فتنے سے بچ سکتے ہیں اور تمام مصائب و مشکلات سے نجات پا سکتے ہیں ۔ اسی قرآن کے ذریعے اللہ تعالی نے سابقہ ادوار میں مری ھوئي امتوں کو تذکرہ کے ذریعے گویا زندہ کر دیا اور ان کے عقائد و اخلاق کو معدوم ھونے سے بچا لیا ۔ عقل انسانی کو توھمات پرستی سے آزاد کروایا اور اسے کائنات میں غور و فکر کرکے نور علم و عبرت پانے کے لۓ کھلا چھوڑ دیا ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے

[ھم عنقریب انھیں اطراف ( عالم ) میں بھی اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی نشانیاں دکھلائیں گے
یہاں تک کہ ان پر ظاھر ھو جاۓ گا کہ یہ ( قرآن ) حق ہے ] ۔ ( حم السجدہ ۔٥٣)

ترقی و عروج کا راز
اللہ والو ! اس میں کوئي تعجب نہیں کہ اسی قرآن کی بدولت یہ امت قرآن اس تاریخ انسانی کی سب سے ترقی یافتہ تھذیب اور بہترین تمدن کی شکل میں اس روۓ زمین پر نمودار ھوئي ۔ وہ تھذیب جو کہ عدل و انصاف ، فضائل و مکارم اخلاق ، صدق و سچائي ، امن و سلامتی اور اعلی اخلاقی قدروں کی حامل تھذیب ہے ، وہ تھذیب اسلامی کی دنیا کی اعلی اور ترقی یافتہ کوئي تھذیب اس وقت تک اس مقام کو پا ہی نہیں سکتی جب تک کہ وہ اس اسلامی تھذیب کے اصولوں کو نہ اپناۓ اور اس کے طریقہ و منہج کے نور کی روشنی میں نہ چلے ۔

تنزلی و ادبار کا سبب
اگر کوئي غیرت مند شخص مسلمانوں کے موجودہ حالات پر نگاہ دوڑاۓ کہ جن میں تنازعات و اختلافات پھوٹ پڑے ہیں اور جو ذلت و رسوائي اور ضعف و کمزوری کے کھڈوں میں گر چکے ہیں ، تو اسے یقینی طور پر معلوم ھو جاۓ گا کہ ان کی اس پتلی حالت کا اصل سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ انھوں نے اس قرآن کریم کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ، اس کے احکام و آداب پر عمل پیرا نہ ھوۓ ، اور اپنے معاملات و تنازعات میں قران کو اپنا فیصلے کرنے والا نہ مانا بلکہ احکام قرآن اور اس قانون الہی کو انھوں نے اپنی زندگیوں سے دور کر دیا جس کا نتیجہ یہ ذلت و رسوائی اور ضعف و کمزوری ہے ۔

عمل بالکتاب
اے امت قرآن ! اللہ سے ڈرواور اس کتاب کو معاشروں اور ملکوں ، نوجوانوں اور بوڑھوں ، مردوں اور عورتوں ، علماء اور عوام ہر سطح پر اپناؤ اور عمل ایسے ھو کہ تلاوت ھو اس کے معانی پر تدبر ھو ، اسے سیکھا جاۓ اس کے مطالب و مفاھیم اور احکام میں نفقہ حاصل کی جاۓ اس کے احکام و آداب پر عمل کیا جاۓ اور اس میں مذکوہ اخلاقیات کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے ۔ اس کے ذریعے انپی بیماریوں کی دوا و شفاء اور علاج و معالجہ کرو ۔ اپنی خواہشات نفس کو لگام دو ، اس کے ان مقامات ھدایت کی واقفیت حاصل کریں اور ان پر عمل پیرا ھوں جن سے تمھارے اسلاف نے ھدایت پائی اور سعادت دارین حاصل کی ، اگر آپ لوگ ایسا کر گزرے تو عظمت رفتہ کو دوبارہ پا لیں گے اور عزت و شرف کو لوٹا لیں گے ۔ اسی طرح ہی آپ باذن اللہ اپنا بیت المقدس بھی یہودیوں سے آزاد کروا لیں گے اور دوسری مسلوبہ زمین اور ملک بھی اسی پر عمل کے ذریعے بازیاب کۓ جا سکتے ہیں ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں ایک حدیث ذکر ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

[اس کتاب ( قرآن کریم ) پر عمل کی بدولت اللہ قوموں کو رفعت و ترقی عطا فرماتا ہے اور اسی کتاب کو پس پشت ڈالنے والی قوموں کو ذلیل و خوار اور روبہ زوال کرتا ہے ] ۔ ( صحیح مسلم )

سلف امت کا طرز عمل
یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین امت نے اس ماہ مبارک میں اس قرآن کریم پر عمل کی بڑی عمدہ مثالیں قائم کی ہیں وہ اسے بکثرت مرتبہ ختم کیا کرتے تھے ۔ امام زھری فرماتے ہیں :

” جب ماہ رمضان داخل ھو جاۓ جو کہ تلاوت قرآن اور مسکینوں کو کھانا کھلانے اور روزہ افطار کروانے کا مہینہ ہے ۔ جب یہ ماہ مبارک آ جاتا تو امام دارالھجرت امام مالک مجالس حدیث و فقہ ترک کر دیتے اور ان کی تعلیم و تدریس کی بجاۓ قرآن کریم کی تلاوت و تدبر پر مکمل توجہ فرماتے ۔

خبردار ! آج سلف صالحین امت کے خلف ان کے منھج و طریقہ پر چلنے کے کتنے ضرورتمند ہیں تاکہ اس طرح ان کا حال اور انجام درست ھو ۔

غزوہءبدر کی فتحمندیوں کا مہینہ
اے امت صیام و قیام ! اللہ آپ کی حفاظت فرماۓ ، ھم آپ کو اس امت کے ایام خالدہ میں سے اس تابناک دن کی یاد تازہ کروانا چاہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو زبردست نصرت الہی اور فتح مبین حاصل ھوئی جس نے تاریخ کے رخ کو موڑ کر رکھ دیا اور وہ دن کہ جس دن دو جماعتوں کی آپس میں مڈ بھیڑ ھوئي جن میں سے ایک جماعت اہل توحید و ایمان کی جماعت تھی اور دوسرا گروہ اہل کفر و اوثان ( بتوں ) کا گروہ تھا اور یہ واقعہ ١٧ رمضان المبارک کو پیش آیا ۔ اس پہلے معرکۂ حق و باطل غزوہءبدر میں مسلمان انتہائي قلیل تعداد میں تھے اس کے باوجود مسلمانوں کو زبردست فتح و نصرت نصیب ھوئی ۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے

[ اور اللہ نے غزوہء بدر میں بھی تمھاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بڑے بے دست و پا ( بے سرو سامان ) تھے ] ۔ ( آل عمران۔١٢٣)

یہ فتح بھی اہل کفر کی زبردست و بے شمار فوج پر حاصل ھوئي تھی ۔ اس تاریخی غزوہ میں عبرت کے کئي مواقع ہیں اور نصیحت پانے والے کے لۓ سامان پند و نصیحت موجود ہے جن پر ھمیں غور و فکر اور بصیرت کے ساتھ توجہ کرنی چاہیۓ ۔ خصوصا آج جبکہ فتنے خوب سر اٹھاۓ ھوۓ اور مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیرے میں لۓ ھوۓ ہیں ۔ اور مصائب و مشکلات کا کوئي شمار ہی نہیں رہا اور انہی کے نتجیے میں ایسی ایسی باغیانہ فکری رویں سامنے آتی ہیں جو کہ ملت مسلمہ اور جماعت اسلام سے ہی خارج کر دینے والی ہے اور اس وقت دنیا کے کج فکر و بد فطرت اور غلیظ لوگ عالمی معاھدات کی کھلی خلاف ورزیاں کرنے والے مسلمانوں پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑے ہیں ۔ اور ان کا ہر سو سے مسلمانوں پر جھپٹ پڑنا ان کے ارض جہاد فلسطین پر غاصبانہ قبضے اور وہاں کے لوگوں کے قتل و خون اور انھیں بے گھر کرنے سے ہی نمایاں ھو رہا ہے ۔ اور اپنی انہی کرتوتوں سے وہ پوری دنیا کو کالے لفظوں اور سیاہ روشنائی سے لکھا ھوا یہ پیغام کھلے طور پر دے رہے ہیں کہ بلااختلاف وہی عالمی سطح کے دھشت گرد ہیں ۔ اور وہی عالمی امن و سلامتی کے دشمن ہیں ۔

عراق بلاد دجلہ و فرات کے حالات بھی اس قبلۂ اول کی زمین اور سید کونین صلی اللہ علیہ و سلم کے اسراء و معراج ، کے نقطۂ وسط والی زمین کے حالات سے کچھ اچھے نہیں ہیں ۔ اور ایسے ہی حالات بعض دوسرے مظلوم ملکوں میں بھی ہیں جہاں امت مسلمہ کے نہتے افراد کافروں کے دیۓ زخموں سے چور چور ہیں ۔

جہد و صبر اور نصرت دین
اے امت اسلام ! عزت و نصرت اور فتح مندیوں کے مواقع میں سے باعث عبرت اور ذریعۂ غور و فکر بات یہ ہے کہ ماہ رمضان ماہ جد و جہد اور ماہ صبر و ھمت اور ماہ فتح و نصرت ہے یہ ماہ قوت ایمانی اور ماہ صحت اعتقاد ہے اور یہ ایمان و عقیدہ تمام افرادی قوتوں اور اسلحہ جات پر فوقیت رکھتا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

[بسااوقات چھوٹی سی جماعت نے اللہ کے حکم سے بہت بڑی جماعت (فوج ) پر فتح حاصل کی ہے ، اور اللہ صبر و استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے ] ۔ ( البقرہ ۔٢٤٩)

اسی طرح یہ بات بھی سابقہ فتح مندیوں سے معلوم ھوتی ہے کہ اللہ کی مدد و نصرت صرف اسی صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے کہ پہلے اس کے دین کی مدد و نصرت کی جاۓ جیسا کہ خود اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

[ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ ( کے دین ) کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا ] ۔ ( محمد ۔٧)

بعض و نفرت اور حسد و عداوت میں جلنے والے
اے امت اسلامیہ ! شریعت اسلامیہ میں اس ماہ مبارک کی حرمت و تقدس طے ہے ۔ یہ ماہ جو کہ وحی و تنزیل اور مغفرت و رحمت کا مہینہ ہے ۔ اس کے باوجود بعض لوگوں کے دل بغض و نفرت اور حسد و عداوت کے لاوے سے ہنڈیا کی طرح ابلتے رہتے ہیں اور بعض لوگوں کی عقلیں دین مستقیم اور رشد و ھدایت سے بھٹک گئی ہیں اور ان میں ایسا انحراف آ گیا ہے کہ غلو و مبالغہ آمیزی اور تشدد و جہالت یا نادانوں کی حرکات کۓ جا رہے ہیں اور اسی ملک کے امن و امان کو تہہ و بالا کرنے پر اترے ھوۓ ہیں اور اس مملکت کے پیارے شہروں اور علاقوں میں جرائم و فساد بر پا کۓ جا رہے ہیں اس طرح انھوں نے زمان و مکان ( بلاد حرمین اور ماہ رمضان ) دونون کی حرمت و تقدس کو پامال کر دیا ہے ، اور ان کے ہاتھوں دھشت گردی ، تشدد اور دھماکوں جیسے کرتوت سرزد ھو رہے ہیں ، وہ جرائم ، فساد و بگاڑ اور تباہی مچا رہے ہیں ۔ ان کی تمام تر کوششیں انہی کے لۓ وبان جان ھونگی اور اللہ کے فضل و کرم سے انہی کا حال خراب ھو گا اور ھو رہا ہے کیونکہ ان کی چالیں اللہ نے انہی کے خلاف کر دی ہیں ، ان کے مکر و فریب کے چال میں خود انھیں ہی پھنسا دیا ہے کیونکہ ملک کے امن و امان کے رکھوالے ان کی تاڑ میں گھات لگاۓ بیٹھے تھے اور ہیں ۔

بلد حرمین شریفین کا امن و امان
اس ماہ مبارک اور اس بلد حرام میں جرائم پیشہ لوگوں کی راہ پر چلنے والوں کو یقین ھونا چاہیۓ کہ اس بلد حرام میں تو اللہ نے پرندوں ، جانوروں ، درختوں ، نباتات اور جمادات کو بھی امن و امان عطا کر رکھا ہے تو اس جگہ کے مسلمانوں کو وہ امن و سلامتی کیسے نہ دے گا ۔اللہ بہرحال ان کی چالوں کو ناکام و ذلیل کرنے والا ہے اور اس مبارک ملک کو غداروں مکاروں کی مکاری و زیادتی کرنے والے حاقدوں کے حقد و حسد سے حفاظت کرنے والا ہے ، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

[جو بھی ظلم کے ساتھ اس ( حرم ) میں الحاد کا ارادہ کرے ، ھم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے ]۔ ( الحج ۔٢٥)

اصلاح کا اوچھا انداز
یہ ھو ہی نہیں سکتا کہ ان کی مذعومہ اصلاح اس طرح شور و شغف ، لاقانونیت و انارکی ، تشدد کی کاروائیوں ، اسلحہ اٹھانے ، امن و امان کو تہہ و بالا کرنے اور بالآخر خود کشی کرنے سے حاصل ھو سکے ۔ اللہ تعالی سے حسن خاتمہ کی دعاء ہے ۔۔ خصوصا بلد حرام اور اس حرمت و فضیلت والے مہینہ میں تو یہ کاروائياں کسی بھی صورت میں ہرگز روا نہیں ہیں ۔ اے اللہ ! اے ھمارے رب ! تیرے رحم و کرم کا سوال ہے ، اے اللہ تجھ سے امن و سلامتی کی دعاء ہے ۔ ھم ھدایت پا جانے کے بعد گمراہی کی ھلاکتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔

نسل نو کی تربیت کا اہتمام
اگر کوئي شخص نوجوانوں کے اس سرکش و نافرمان گروہ کی غلط کاروائیوں کے آثار پر گہری نگاہ ڈالے تو وہ اس بات کی اھمیت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ نسل نو کی تعلیم و تربیت اور ان کے ساتھ خصوصی اہتمام کی سخت ضرورت ہے کہ انھیں اعتدال پسند منھج پر چلنا سکھلایا جاۓ اور یہ ایسی ذمہ داری ہے جو مسجد ، خاندان ، مدرسہ ، یونیورسٹی اور ذرائع ابلاغ میں سے ہر ایک کی مشترکہ ذمہ داری ہے تا کہ ان میں سے ہر ادارہ معاشرے کی تربیت میں اپنا اپنا رول ادا کرے اور اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری سے عہدہ برآء ھو ، اللہ سے دعاء ہے کہ وہ انپے دین کی مدد فرماۓ۔ اپنے کلمے کا بول بالا کرے ۔ ھمیں اور تمام مسلمانوں کو ظاھری و باطنی تمام فتنوں سے محفوظ رکھے ۔ اللہ ہی وہ بہترین ذات ہے جس سے سوال کیا جاۓ اور وہی صاحب جود و کرم ذات ہے جس سے امیدیں وابستہ کی جائیں ۔

فریضۂ زکواہ و صدقات
مسلمانو ! اللہ سے ڈرو اور اللہ آپ پر رحم فرماۓ ۔ یہ بات اچھی طرح سے ذھن نشین کر لو کہ جس نے حقیقی معنوں میں روزے رکھے اور صدق دل سے اللہ کے لۓ قیام کیا ، اس کے دل میں رقت و نرمی پیدا ھو جاتی ہے اوراس کی طبیعت میں رحم و کرم کی صفت پیدا ھو جاتی ہے اور اس کی روح طہارت و پاکیزگی کے اعلی درجات کو پا لیتی ہے ، اس کے احساس و شعور میں تیزی آ جاتی ہے اس کا دل اللہ کی راہ میں خرج کرنے پر آمادہ ھو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ عطا کرنے پر تیار ھو جاتے ہیں

اللہ آپ کو توفیق خیر سے نوازے ۔ اس ماہ کو غنیمت سمجھیں اور اسلام کے تیسرے رکن زکواہ ادا کرنے کے لۓ رضامندی سے تیار ھو جائیں اور یہ زکواہ قران کریم میں نماز کے ساتھی کے طور مذکور ھوئی ہے اور اللہ کی قسم ہے یہ معاشرے میں ھمدری و غمخواری ، رحم و کرم ، اور پیار و تعلق کے قرب و اضافے کا ذریعہ ہے ، کوئي جبر و زبردستی کا سودا نہیں ہے ۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے
[ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیں ۔ اس طرح آپ ان کے اموال اور ( نفوس ) کو پاک کریں گے ] ۔
(التوبہ ۔١٠٣)

اے اہل جود و سخا ، سخاوت و خرچ کریں اور دل کھول کر دو دو ہاتھوں سے اللہ کی راہ میں لٹائيں تا کہ اس طرح آپ قرض داروں (مقروض لوگوں ) کے غم دور کریں ۔ تنگدست لوگوں کی پرشیانی زائل کریں ، محتاجوں کی ضروتیں پوری کریں اور مصائب و مشکلات میں پھنسے لوگوں کی حاجت برآری ھو اور بالآخر اللہ کے انعامات کے مستحق قرار پائيں اور اس کی رضاء و خوشنودی سے مالا مال ھوں ، اللہ تعالی نے اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو بہت ہی زیادہ دینےکا وعدہ دیتے ھوۓ فرمایا ہے

[آپ جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اللہ اسکا ( پورا پورا ) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ] ۔ ( سباء ۔٣٩)

غوغاۓ رقیباں اوراسوہ ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
احباب گرامی ! آج ھماری امت پر اور اس کے خیراتی اعمال و خیر سگالی افعال پر بھی طرح طرح کے بھر پور حملے کۓ جا رہے ہیں ۔ وہ ھمارے عزائم کی راہ کی رکاوٹ نہ بننے پائيں البتہ یہ خیراتی کام قابل اعتماد و ثقہ اداروں اور ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا جمیعتوں کے زیر انتظام ھونا چاہیۓ ۔ خیر و بھلائي کے کاموں میں سبقت لے جانے کے لۓ آپ کے سامنے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بہترین اور ایک عمدہ مثال کے طور پر موجود ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ویسے ہی عام حالات میں بھی انتہائی جود و کرم کے مالک تھے لیکن جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کرتے اور ان کے ساتھ مل کر قرآن کا دور کرتے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم باد بہاری کے تیز جھونکوں سے بھی زیادہ خیرات بانٹنے لگتے تھے ۔ اللہ آپ لوگوں کے مال و اموال میں برکت فرماۓ اور آپ کے رزق میں وسعت فرماۓ اور اسے اور زیادہ کرنے اور ھماری امت اسلامیہ کو اللہ گمراہ کن فتنوں سے محفوظ رکھے اور تمام شرور اور قلق و اضطراب پیدا کرنے والے حادثات سے بچاۓ وہ بڑا ہی جود و کرم کرنے والا ہے ۔

و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزہ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین۔

Leave a Reply

Englishاردو