رمضان اور قرآن
رمضان کا مہینہ خاص طور پر روزوں کےلیےاس لیےمنتخب فرمایاگیا ہےکہ یہی وہ مبارک مہینہ ہےجس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔نزول قرآن کےمقاصد اور روزہ میں بڑی مناسبت پائی جاتی ہی۔ قرآن جن مقاصد کےتحت نازل ہوا ہےان کےحصول میں روزہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔
رمضان المبارک کےساتھ جس طرح روزہ اور قرآن کریم کو خصوصی تعلق ہےاسی طرح آپس میں بھی ان دونوں عبادتوں کا ایک دوسرےکےساتھ بہت گہر ا تعلق اور مناسبت ہی۔سال کےبارہ مہینوں میں نزول قرآن کےلیےاسی ماہ کا انتخاب کیا گیا۔ رمضان کی قرآن سےغیر معمولی ربط کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قرآن کی تلاوت کا خاص اہتمام کیا کرتےتھے۔
رمضان بڑی عظمتوں والا مہینہ ہےلیکن اس کی عظمت اور فضیلت کا راز کیا ہے؟عموماََ یہ سمجھا جاتا ہےکہ رمضان کی فضیلت کا راز روزہ کی عبادت ہےیا قیام لیل،تراویح اور اعتکاف و شب قدر جیسی عظیم عبادتیں ہیں لیکن قرآن کےانداز بیان سےمعلوم ہوتا ہےکہ رمضان کی عظمت کا راز قرآن مجید کا نزول ہے،چنانچہ قرآن مجید میں رمضان کی عظمت کےسبب کو ظاہر کرتےہوئےاللہ تعالیٰ نےیوں ارشاد فرمایا۔
شَھرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنزِلَ فِیہِ القُرآنَ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِنَ الھُدٰی وَ الفُرقَاِن
(البقرہ: ٥٨١)
رمضان کا مہینہ وہ ہےجس میں قرآن نازل کیا گیا،جو لوگوں کےلیےہدایت ہےاور ہدایت کےدلائل اور حق وباطل کےدرمیان تمیز کرنےوالا ہے۔
اس ارشاد ربانی سےصاف ظاہر ہےکہ قرآن کےنزول کی وجہ سےرمضان کو دیگر مہینوں پر فضیلت عطا کی گئی ہے۔
قرآن مجید کا امتیازی وصف یہ ہےکہ وہ انسانوں کےلیےہدایت ہےلیکن قرآن ہی کےبیان کےمطابق اس سرچشمہ ہدایت سےہر شخص سیراب نہیں ہوسکتا۔ کس قسم کےلوگ اس کتاب ہدایت سےاستفادہ کر سکیں گے؟
قرآن اس کی وضاحت کرتےہوئےکہتا ہے۔
ذٰلِکَ الکِتَابُ لا رَیبَ فِیہ ھُدًی لِّلمُتَّقِین
(البقرہ: ٢)
یہ کتاب ہے،جس میں کوئی شبہ نہیں ہے،ہدایت کا ذریعہ ہے پرہیز گاروں کےلیے۔
یعنی قرآن سےاستفادہ کی بنیادی شرط تقویٰ ہے،دوسری طرف قرآن مجید میں روزوں کی فرضیت کا مقصد بتاتےہوئےکہا گیا۔
یٰایُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُو کُتِب عَلَیکُمُ الصِّیَامَ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبلِکُم لَعَلَّکُم تَتَّقُون
(البقرہ: ٣٨١)
اےایمان والو ! تم پر روزے فرض کردئیےگئےجس طرح تم سےپہلےلوگوں پر فرض کیےگئےتھی، تاکہ تم پرہیز گار بن جائو۔
اس طرح رمضان اورقرآن میں بڑی گہری مناسبت پائی جاتی ہے۔جس مہینہ میں قرآن نازل کیا گیا،اسی مہینہ کو روزےکےلیےمنتخب کیا گیا،پھر اسی مہینہ میں قیام لیل،اعتکاف اور دیگر عبادات بھی ضروری ٹھہرائی گئیں تاکہ روزوں اور دیگر اعمال رمضان کےذریعےبندوں کےاندر ”تقویٰ“ پیدا ہو،جو قرآن سےاستفادہ کی بنیادی شرط ہے۔ گویا نزول قرآن کےمہینےمیں ہر سال روزوں اور دیگر عبادت کےذریعہ بندوں کو قرآن سےاستفادہ کرنےکےقابل بنانےکی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں تو ہر وقت انسان کےذہن میں قرآن کی عظمت تازہ رہنی چاہیےلیکن سال بھر میں اگر کوئی مہینہ قرآنی تذکرہ اور قرآن سےاپنےتعلق کا جائزہ لینےکےلیےموزوں ہوسکتا ہےتو وہ رمضان کا مہینہ ہےجو دراصل قرآن کا مہینہ ہے۔
اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن کا خصوصی اہتمام کیجیے۔ اس مہینےکو قرآن پاک سےخصوصی مناسبت ہے،جیسا کہ معلوم ہوا کہ قرآن پاک اسی مہینےمیں نازل ہوا اور دوسری آسمانی کتابیں بھی اسی مہینےمیں نازل ہوئیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی مہینےکی پہلی یا تیسری تاریخ کو صحیفےعطا کیےگئے۔
حضرت دائود علیہ السلام کو اسی مہینےکی ١٢ یا ١٨ کو زبور دی گئی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اسی مبارک مہینےکی ٦ تاریخ کو تورات نازل ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اسی مہینےکی ١٢ یا ١٣ تاریخ کو انجیل دی گئی اس لیےاس مہینےمیں زیادہ سےزیادہ قرآن پاک پڑھنےکی کوشش کیجیے۔
ہدایت کےصحیفےسب کےسب اس ماہ میں اترے
اسی ماہ مبارک میں کلاموں کا امام آیا
حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا قرآن سناتےاور سنتےتھےاور آخری سال آپ نےدوبار رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ دور فرمایا۔
(بحوالہ بخاری و مسلم)
حدیث پاک میں آتا ہےکہ روزہ اور قرآن دونوں بندےکی سفارش کریں گے۔روزہ عرض کرےگا، اےمیرےپروردگار ! میں نےاس بندےکو کھانےپینےاور نفس کی خواہش پورا کرنےسےروکےرکھا تھا،آج میری سفارش اس کےحق میں قبول فرما،اور قرآن کہےگاکہ، میں نےاس کو رات کےسونےاور آرام کرنےسےروکےرکھا تھا،اللہ، آج اس کےحق میں میری سفارش قبول فرما۔ چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندہ کےحق میں قبول فرمائی جائےگی۔
(بحوالہ بیہقی