Google

رمضان اور تراویح

رمضان کی ایک اہم فضیلت کا اندازہ اس سےلگائیےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا،
جس شخص نےایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سےرمضان کا قیام کیا(یعنی رات کو تراویح پڑھیں) اس کےپچھلےگناہ معاف کردئیےجاتےہیں۔
(بحوالہ بخاری و مسلم)

رمضان کا تعلق قرآن سےایسا ہی ہےجیسےجسم سےروح کا ہےیعنی رمضان کی روح قرآن ہے۔ رمضان کا مہینہ قرآن کو پڑھنےاور سمجھنےکا ہے، اس مہینےمیں خصوصیت سےقرآن کی تلاو ت کی جاتی ہے،راتوں میں تراویح کی صورت میں قرآن کو ادب کےساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے،یہ مہینہ اس مقصد کےلیےخاص ہےکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی سب سےبڑی نعمت کا سب سےزیادہ تذکرہ کیا جائے۔ نزول قرآن کےمہینےمیں قرآن کو پڑھتےاور سنتےہوئےآ دمی کو وہ لمحہ یاد آجاتا ہےجب کہ آسمان اور زمین کےدرمیان نورانی رابطہ قائم ہوا اور اس کو یاد کرکےبندہ پکار اٹھتا ہےکہ اےمولیٰ ! تو میرےسینےکو بھی اپنی تجلیات سےروشن کردے۔ قیام رمضان یعنی تراویح کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔نماز تراویح کی پابندی سےکم از کم اتنا ضرور حاصل ہوتا ہےکہ بندہ پورا قرآن ایک بارسن لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کےحضور کھڑےہوکر اللہ کا کلام سننےکا بہت بڑا روحانی فائدہ ہے،اس مہینہ میں قرآن کریم کا ختم کرنا اس وجہ سےمسنون ہےکہ قرآن کریم کا نزول اسی مہینہ میں ہوا ہے۔

رمضان کا مہینہ چونکہ قرآن کا مہینہ ہےاس لیےہر شخص کو چاہیےکہ وہ اس مہینےمیں کم از کم ایک مرتبہ ضرور قرآن ختم کرے یہی وجہ ہےکہ تراویح میں قرآن کا کم از کم ایک بار ختم کرنا سنت قرار دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرئیل علیہ السلام کی یہ مستقل سنت رہی ہےکہ ماہ رمضان میں روزانہ رات کو دونوں ایک دوسرے سےقرآن کو سنتےاور سناتےتھے۔ کاش ! کہ ہماری مسجد یں اور ہمارےگھر بالخصوص اس مہینہ قرآن پاک کی تلاوت سےآباد ہوجائیں۔

علماءامت نےہمیشہ اس ضرورت کو محسوس کیا ہےاور بڑےغور و فکر کےبعد اس نتیجہ پر پہنچےکہ امت مسلمہ کےزوال کی حقیقی وجہ قرآن سےدوری ہے۔ قرآن سےمضبوط تعلق ہی کےذریعہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتےہیں۔ لہذا دنیا و آخرت کی نجات و فلاح کےلیےاس امر کی ضرورت ہےکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد پاک کےمطابق قرآن مجید کی طرف رجوع کیا جائے۔ خاص طور پر اس ماہ میں ہمت کریں آگےبڑھیں قرآن مجید کےروشن اوراق ادب سےکھولیں، اس کا ترجمہ پڑھیں، غور و فکر سےاس کےمعنی و معارف کو سمجھیں اور اس کےاوامر اور اس کےنواہی، اس کی باتوں اور احکامات کو مانیں اور صدق دل سےعمل کریں تو پھر اسلام کی نشاۃ ثانیہ دور نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ اور بالخصوص اس ماہ مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتےہوئےقرآن سےخاص تعلق قائم کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Englishاردو