مشق کا مذاکرہ
میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر گزار ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور مسلمانوں کے گھر پیداکیا۔اور دعوت و تبلیغ کے کام سے جوڑا جتنابھی شکر کریں کم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے اپنے دین کی محنت کرنے والوں کی خدمت لے لے یہ ہماری خوش قسمتی ہے اس کتاب سے پہلے ہم نے دعوت الی اللہ شائع کی جو بہت مقبول ہوئی اس کے بعد اعمال مسجد اس کے بعد رائیونڈ کا عشرہ شائع کی جو الحمد للہ آج تک چھپ رہی ہے اور اب الحمد للہ ہم مشق کا مذاکرہ شائع کر رہے ہیں جس کو جناب مولانا عبد الباسط صاحب نے بڑی محنت سے جمع کیا ہے ہم پور ی کوشش کی ہے اس میں کوئی غلطی نہ رہے لیکن پھر بھی انسان خطاکار ہے غلطی رہ سکتی ہے اس پر ادراہ پیشگی معذرت چاہتا ہے اور جو غلطی وہ اس سے ادارہ کو آگاہ کریں تاکہ آئندہ اڈیشن میںدرست کر دی جائے اللہ تعالیٰ ہمای کاوشوں کو قبول فرمائے آمین ثم آمین فقط قاری محمد عبد الباسط دعوت نیابت اللہ رب العزت چیزوں اور حالات کے خالق ہیں ۔اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اپنی نمائندگی کے لئے چنا ہے ۔اللہ رب العزت نے ساری کی ساری امت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کیلئے چنا ہے اور قرآن کی وراثت کیلئے چنا ہے ان اعلی نسبتوں کی وجہ سے پورے کے پور دین کو زندہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ سب سے پہلاکام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم والے غم و فکر اور کڑھن اور درد کے ساتھ نیابت والی محنت کوخود کرنا ہے اور پوری امت کو اس دردوغم والی محنت پر تیار کرنا ہے اپنے دل کے یقین کو درست کرنا ہے اور سارے کے سارے لوگوں کے دلوں کے یقینوں کو درست کرنا ہے خود بھی حضور کے اخلاق حسنہ کو زندہ کرنا ہے اور ساری امت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کو زندہ کرنے والا بنانا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو خود بھی سیکھنا ہے اور ساری امت کو علم کے سیکھنے کیلئے تیار کرنا ہے۔ اب یہ مقاصد کیسے حاصل ہوں گے ۔ہر محنت کے کچھ نہ کچھ اعمال ہوتے ہیں نیابت والی محنت کے اعمال میں سے دعوت الی اللہ سب سے پہلا عمل ہے (لو گوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے) اللہ کی عظمت اللہ کی کبریائی اللہ کی حمدو ثنا کے بولوں کوخود بھی بولنا ہے اور پوری امت سے بلوانا ہے۔ نیابت والی محنت کے اعمال میں سے دوسرا عمل تعلیم و تعلم ہے یعنی(خود بھی سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اور لوگوں کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنے کیلے تیار کرنا ہے) نیابت والی محنت کے اعمال میں سے تیسرا عمل۔ذکرو عبادت کہ ہماری چوبیس گھنٹے کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اللہ رب العزت سے جڑا ہوا ہو۔ نیاوت والی محنت کے اعمال میں سے چوتھا عمل اخلاق حسنہ یعنی (حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ سے ساری کی ساری امت کے ساتھ پیش آنا ہے ہم ان اعمال کو روزانہ اپنا وقت فارغ کر کے ان کی مشق کریں گے اور ان کی مشق کروائیں گے۔) نسبت نیابت کیا ہے حضور کے جی میں جو تھا وہ ہمارے جیویوں میں آجائے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راتیں اور دن گزرتے تھے اسی طرح ہماری راتیں اور دن گزریں ۔ لوگوں کے پیچھے مارے مارے پھرنا اور ان کی کڑوی کسیلی برداشت کرنا یہ نسبت نیابت ہے۔ ١۔ نکلنے کا مقصد کیا ہے حیثیت کو بدلنا ہے۔حیثیت پر زندگی لگنا آسان ہو جاتا ہے۔ہم تاجر نہیں۔زمیندار نہیں۔ملازم نہیں۔کارخانہ دار نہیں۔اللہ کے خلیفہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب قرآن کے وارث ہیں۔ابھی تک ہم نے خلافت ،نیابت۔وراثت کی حیثیت نہیں سمجھی ۔یہ ظلم کیا ہے۔اس پر ہم خود بھی اور جہاں جائیں اور سے بھی استغفار کرائیں۔ظالم کی مدد نہیں ہوتی اور ہدایت بھی نہیں ملتی ۔ ٢۔ نائب کا کام پورا دین پوری دنیا کے انسانوں میں زندہ ہو جائے۔پور دین پر ہو چلے گا جس کے دل کے اندر کلمے والا یقین اتر جائے۔یعنی اللہ سے ہوتاہے ۔مخلوق سے نہیں ہوتا ۔دویقینوں کی نفی اور اثبات کے ساتھ دعوت دینا ضروری ہے۔ اللہ پاک خالق ہے چیزوں کا اور حالات کا ،زمین ،آسمان ، سورج، چاند ،ستارے،دریا،پہاڑ وغیرہ سب اللہ نے بنائے ہیں ۔اللہ کے سوا ان کا بنانے والا کوئی نہیں۔ عزت،ذلت،خوشی،کامیابی،ناکامی یہ حالات سب کے سب اللہ نے پیدا کئے ہیں ۔اللہ کے سوا کوئی ان کے بنانے والا نہیں ہے۔ اللہ نے ہر کامیابی کو حکم پوراکرنے کے لئے سنت طریقہ اختیار کرنے کے ساتھ جوڑا ہے۔ہر ناکامی کو حکم توڑنے اور سنت طریقہ چھوڑنے کے ساتھ جوڑا ہے۔یہ یقین ہمارے دلوں میں اور ساری دنیا کے انسانوں کے دلوں میں اتر جائے اس کے لئے حضور کا طریقہ محنت ہے۔اعمال کو چھ صفات کے ساتھ کرنا ہے ۔اس کے لئے روزانہ وقت فارغ کرنا اور اللہ کے راستے میں نکلنا ضروری ہے۔ ٣۔ نائب کے فائدے کچھ فائدے دنیا میں اور کچھ فائدے آخرت میں ملیں گے۔ ٩۔ نائب کی ترتیب سارے صحابہ نائب نبی تھے ۔ان کی تین ترتیبیں تھیں۔ دعوت الی اللہ (اللہ کی بڑائی) اللہ پاک کی ذات خالق ہے پیدا کرنے والی ہے چیزوں کے اور حالات کے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور معبود ہے جو اس کا دل سے یقین اور زبان سے اقرار کرے گا اللہ پاک براہ رات اپنے قدر ت سے پالیگا زمین کا پیدا کرنے والا اللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں ۔آسمان سورج چاند کا پیدا کرنے والا اللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا ہیں۔تمام کائنات کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والااللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اس طرح تمام چیزیں ۔ حالات تمام حالات کا پیدا کرنے والا اللہ ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔اللہ صحت دیتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی صحت دینے والا نہیں۔اللہ پاک خوشی دیتا ہے ۔اللہ پاک کے علاوہ کوئی خوشی دینے والا نہیں اللہ پا ک ہی بھوک دیتے ہیں۔اللہ پاک کے علاوہ کوئی بھوک دینے والا نہیں اللہ پاک ہی پیاس دیتا ہے اللہ پاک کے علاوہ کوئی پاس دینے والا نہیں درد،غم،خوشی،راحت ،لانے والا اللہ پاک ہے اللہ کے علاوہ کوئی لانے والا نہیں ۔اس طرح تمام حالات ۔ ۔ ۔ جو پیدا ہوتے ہیں وہ تمام کی تمام مخلوق ہیں ان سے کچھ نہیں ہوتا پیدا کرنے والا خالق ہے اس سے سب کچھ ہو تا ہے۔(اللہ پاک کے خزانے) حق تعالیٰ شانہ کے پاس چیزوں کے اور حالات لامحدود اور بیشمارخزانے ہیں اور کسی کے پاس نہیں آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اور قیامت تک جتنا پانی ہے اس کو جمع کیا جائے تو ایک جنتی کو جو پانی ملے گا اس کے مقابلہ میں ایک قطرہ نہیں تمام جنتیوں کا پانی جمع کیا جائے تو اللہ پاک کے خزانوں کے مقابلہ کوئی حیثیت نہیں لا الہ الا اللہ۔اللہ کی ذات بڑی اللہ کے خزانے بڑے حدیث قدسی ہے۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جنات سب ایک کھلے میدان میں جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہری ایک کو اس کے سوال کے مطابق عطاکردوں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی کمی سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں بھی سب کو دے دینے سے کچھ کمی نہیں آتی۔ اللہ کے اوصاف اللہ کے خزانے ہیں صفت علیم ایک زبردست خزانہ ہے۔صفت حفیظ ایک زبردست خزانہ ہے۔ اللہ کی ذات لا محدود اللہ کی صفات لا محدود:حق تعالیٰ شانہ اپنے خزانوں سے چیزیں نازل فرماتے ہیں اس کا مقدر اللہ ہی جانتے ہیں اللہ پاک اپنے خزانوں سے حالات نازل فرماتے ہیں اس کی مقدار اللہ ہی جانتے ہیں ۔بیماری کی مقدار کا علم اللہ کو ہے اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ہر ہر حال کی مقدار کا علم صرف اللہ کو ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ۔جو کچھ کائنات میں ہے یہ کچھ نہیں۔سات آسمان اور سات زمین اللہ پاک کے خزانے کے مقابلہ میں کچھ نہیں۔یہ یقین ہمارے دلوں میں آجائے ۔ اللہ پاک کے خزانوں سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ اللہ پاک کے احکامات ہیں (اللہ کی ذات حقیقی ذات ہے اللہ کی صفات حقیق صفات ہیں)تمام چیزوں کی صفات اثرات خاصیات حقیقی نہیں عارضی ہیں ذاتی نہیں۔اللہ پاک کی عطا کردہ ہیں ان کی ذاتی نہیں سورج میں روشنی ذاتی نہیں اللہ نے پیدا کی ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں آنکھ میں دیکھنے کی صلاحیت اللہ نے پید ا کی ہے اللہ کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اس طرح زبان ہاتھ پاؤں پانی آگ لوہا سانپ کی خاصیات اثرات صفات ذاتی نہیں اللہ پاک کی عطا کردہ ہیں۔ اللہ کا قبضہ اور تصرف تمام چیزوں کی تمام صفات اثرات خاصیات پر اللہ پاک کا قبضہ اور تصرف تمام چیزوں اوت تمام حالات پر ۔آسمانوں پر اللہ پاک کا قبضہ ہے زمینوں پر اللہ پاک کا قبضہ ہے اور تصرف ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کا نہیں اسی طرح تمام چیزوں پانی آگ پہاڑوں پر اللہ کا قبضہ تصر ف ہے۔ تمام چیزوں پر اللہ کا قبضہ کوئی چیز اللہ کے قبضہ سے باہر نہیں۔ اللہ پاک چاہے تو شکل ختم کردے اللہ پا ک چاہے تو شکل کو بدل دے ۔جیسے قوم فرعون کے لئے پانی کو خون بنادیا یا جنگ خندق کے موقعہ ٹھنڈی ہو ا صحابہ کے لئے گرم کفا ر کے لئے۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹہنی دی وہ تلوار بن گئی ۔ایک آدمی صبح اٹھ کر بیوی سے کہتا ہے بلب لگاؤ وہ کہنے لگی سورج بھی نکلا ہے جب آنکھ پر ہاتھ لگایا تو بینائی ختم بنی اسرائیل کی ایک نافرمان قوم کو اللہ نے بندر بنا دیا۔ تو چیزوں کو دیکھ کر نہیں چلیں گے بلکہ جس کا چیزوں اور حالات پر قبضہ ہے اس کے حکم پر چلیں گے۔ موجودات حاضرہ اللہ کے اوامر ہیں اللہ پاک جو امر بنا دے وہ بن جائے اللہ پاک اگر چیونٹی کو امر بنا دے وہ چٹان بن جائے جب چائے زبان کو گونگا بنا دے۔جب چاہئے ضد پیدا کر دے اللہ قدر والا ہے طاقت والا ہے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والا بنایا۔ آج زبان بول رہی ہے قیامت کے دن ہاتھ رن پاؤں اعضاء بولیں گے۔چیزوں کو دیکھ کر چیزوں میں گم ہونا جہالت ہے کرنے والی ذات اللہ پاک ہے جو غیب میں ہے۔ اللہ پاک کی ذات صمد ہے اللہ پاک سب کے بغیر سب کچھ کر سکتا ہے اور کسی کا کوئی کام اس کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اللہ پا ک چاہئے بغیر زمینوں کو غلہ عطا کر دے غلہ دینے میں زمینوں کا محتاج نہیں،اللہ پاک چاہے بغیر دوائی کے صحت دے ،اللہ پاک چاہئے بغیر درخت کے پھل دے دے، اللہ پاک چاہئے بغیر کھانے کے بھوک ختم کر دے۔اللہ پاک چاہئے بغیر والدین کے بچہ پیدا کر دیگ اللہ پا ک کے ارادے کے بغیر زمین غلہ نہیں دے سکتی۔ اللہ پاک کے ارادے کے بغیر دوئی سے صحت نہیں مل سکتی اس طرح تما م چیزوں سے بذات خود کچھ نہیں ہو تا اللہ سے بذات خود سب کچھ ہوتا ہے۔بذات خود زمین غلہ نہیں دیتی بذات دوائی صحت نہیں دیتا،بذات خود کوئی کچھ نہی کر سکتا جہاں سے جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری آنکھوں کا دھوکہ ہے کرنے والی ذات اللہ پاک ہے جو نظر نہیں آتی ۔ کھیت سے کچھ حاصل نہیں ہو تا۔مادی اسباب کچھ سے نہیں ہو تا اللہ کی ذات سے ہو تا ہے۔سارے انسان سارے اسباب اور اللہ پاک کے درمیان پردہ ہے اس پردہ میں سوراخ کر کے اللہ کے نور کا مشاہدہ کرنا ہے جیسے آگے سمندر پیچھے فوج لیکن موسیٰ علیہ السلام متاثر نہیں ہوئے فرمایا اللہ میرے ساتھ ہیں۔ اللہ پاک نے دو موتوں کے درمیان راستہ دے دیا یہ صفات ہیں۔ اب اللہ کی ذات اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان سات زمینوں کو پیدا کیا اللہ وہ نے جس نے سور ج چاند ستاروں کو پیدا کیا۔ اللہ وہ جس کے پاس تما چیزوں اور تمام حالات کے لا محدود خزانے ہیں،اللہ وہ ہے جس کی ذات حقیقی ذات جس کی صفات حقیقی صفات ہیں، اللہ وہ ہے جس کا تمام چیزوں اور چیزوں ک صفات پر قبضہ اور تصرف ہے اللہ وہ صمد ہے ۔اللہ وہ ہے جس نے جنت کو پیدا کیا اللہ وہ ہے جس نے جہنم کو بنایااللہ وہ ہے جس نے دریاؤں کو چلایا ہے اللہ وہ ہے جس نے آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا، اللہ وہ ہے جس نے حوا علیہا السلام کو بغیر ماں کے پیدا کر دیا اللہ وہ ہے جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو پتھر سے پیدا کیا،اللہ وہ ہے جو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرتا ہے،اللہ وہ ہے جو زندگی سے موت اور موت سے زندہ کو نکالتا ہے ،اللہ وہ جس کے ارادے سے ہر چیز کی تخلیق ہو رہی ہے اس اللہ پاک کے ارادے اور فیصلہ کے بغیر نہ ہماری دنیا ء کی زندگی بنے گی اور نہ ہماری آخرت کی زندگی بنے گی۔ دنیا اور آخرت کی عزت دنیاء اور آخرت کی کامیابی دنیا اور آخرت کا چین او ر امن کے لئے اللہ کو راضی کرنا ضروری ہے دونوں جہانوں میں کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت حکومت مادی اسباب نہیں دی بلکہ دونوں جہانوں کی کامیابی کیلئے احکامات نازل فرمائیں ہیں کامیابی کا ذریعہ مادی اسبا نہیں کامیابی کا ذریعہ اللہ پاک کے احکامات ہیں اللہ کی ذات پر یقین کر تے ہوئے (کہ اللہ سے ہو تا ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا)اللہ کے حکموں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے پورا کرنا۔ آج دل نا پاک ہے دماغ ناپاک ،روح ناپاک ہے غیر کا تاثر چھایا ہوا ہے دل و دماغ اور روح سے غیر کا یقین نکال کر پاک کرنا ہے۔ مادی چیزوں کی نفی ١۔ ساری مادی چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ٢۔ ساری مادی چیزوں پرا للہ پا ک قبضہ اور تصرف اور کنٹرول ہے۔ ٣۔ اللہ پاک چاہئے تو ساری مادی چیزوں سے زندگی بنا دے۔ ٤۔ اللہ پاک چاہئے ساری مادی چیزوں سے زندگی بگاڑ دے۔ ٥۔ اللہ پاک چاہئے تو چھوٹی چیزوں سے بڑا فائدہ دے۔ ٦۔ اللہ پاک چاہئے تو بڑی چیزوں سے چھوٹا فائدہ پہنچائے۔ ٧۔ اللہ پاک چاہئے تو چیزوں کے وجود کو ختم کر یں۔ ٨۔ اللہ پا ک چاہئے تو بغیر چیزوں کے زندگی بنا دے۔ چیزوں کا تاثر بڑی مہلک بیماری ہے خود اپنے اندر سے اس تاثر کو نکالنا اورامت کے ایک ایک فرد کو اس کے تاثر سے بچانا ہمارے ذمہ ہے ۔غلط یقین کی بد بو اگر ظاہر ہو جائے تو تعفن سے انسان مرجائے اللہ سے ہونے کا تاثر خوشبو ہی خوشبو نور ہی نور ہے اور یہ نور قیامت کے دن چہرے پر آجائے گا۔ ساری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اللہ پاک نے پیدا کیا ہے۔یہ کائنات قیمتی نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قیمتی ہے اور کائنات سے نکلنے والی چیزوں قیمتی نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے نکلے ہوئے اعمال قیمتی ہیں کائنات کی چیزوں کو حاصل کرنے سے انسان قیمتی نہیں بنتا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو اپنانے سے انسان قیمتی بنتا ہے۔ کائنات کی چیزوں سے دنیا اور آخرت کی زندگی نہیں بنے گی ایک سنت میں وہ کامیابی ہے جو ساری کائنات کی چیزوں میں نہیں کائنات کی چیزوں سے متاثر ہو کر زندگی نہیں گزاریں گے بلکہ اللہ کے حکم سے متاثر ہو کر زندگی گذاریں گے۔ حدیث۔١ حدیث٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قیمتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال قیمتی ہیں تو اپنے دل میں اعمال کی اہمیت پیداکرنے کی غرض سے دعوت دے تو دل میں اعمال کی اہمیت پیدا ہو گی اور چیزوں کا تاثر دل سے نکلے گا۔ جو اللہ پا ک کی ذات عالی پر بھروسہ کر کے زندگی گزارے گا تو اللہ پاک اپنی قدرت سے ان کی زندگی بنائیں گے جو مادی چیزوں پر بھروسہ کر کے زندگی گزارے گا تو اللہ پاک اپنی قدرت سے ان کی زندگی بگاڑے گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے بغیر مادی چیزوں سے کامیا بی نہیں ملتی اور بغیر مادی چیزوں کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کامیابی ملے گی۔ ضابطہ: اللہ پا ک کے ہاں کامیابی کے ضابطے اور ناکامی کے ضابطے مقرر ہیں جو بدلتے نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لا ینظر والی صورت واموالکم والا کن ینظر الی قلوبکم واعمالکم (حدیث) مادی چیزوں کو دیکھ کر اللہ پاک کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ ایمان اور اعمال کو دیکھ کر اللہ کامیابی ناکامی کے فیصلے کرتے ہیں تو کامیابی ناکامی کے لئے ضابطہ مال اسباب نہیں بلکہ ایمان اور اعمال ہیں۔
١۔ دنیا میں اللہ کے ساتھ نائب ہو جاتا ہے۔
٢۔ اللہ نائب کی حفاظت بھی کرتے ہیں ۔اور تربیت بھی کرتے ہیں۔
٣۔ کائنات ان کے تابع کردیتے ہیں۔
٤۔ نائب کے ہر عمل کا اثر پوری دنیا کے انسانوں بلکہ آخرت تک آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔
٥۔ آخرت میں نائب کے چہرے پر انبیاء جیسا نور ہو گا۔
٦۔ ان کا حشر انبیاء کے ساتھ ہو گا۔
٧۔ شفاعت کا حق دیا جائے گا۔
٨۔ نائب کی جنت انبیاء سے ایک درجہ نیچے ہو گی۔
١۔ پوری زندگی پورا مال
٢۔آدھی زندگی آدھا مال
٣۔تہائی زندگی تہائی مال چار ماہ باہر اور ٨ ماہ مقام پر یہ آدھا دن اس کے لئے آدھا دن کاروبار کے لیے۔آدھی رات آرام کے لئے آدھی رات نفل ،تلاوت،ذکر دعا کے لئے باہر تشکیل میں ہو یا مقام پر چار کام کرنے ہیں۔نیابت والا مجموعہ تیار کرنا۔ہر مسجد ٢٤ گھنٹے آباد کرنا ہر گھر کو مسجد کی شاخ بنانا۔ہر گھر سے ایک ساتھی دور اور دیر کے لئے اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنا۔چاروں کام وجود میں آئیں۔اس لئے ہر بستی کا کا ہر بالغ مرد کو مسجد میں لا کر دعوت کے حلقے میں بٹھانا ضروری ہے بار بار تکرار سے کلمے کا یقین کرانا ہے۔پھر اوروں کو لا کر تکرار سے یقین کی بات یاد کرانا۔دعوت کی مشق کے بعد تعلیم کی مشق کرائی جائے۔پھر سیکھنے سکھانے وضو،نماز کے فرائض واجبات کو سکھایا جائے۔اس کے بعد ذکر کی مشق کرائی جائے۔تسبیحات اپنے سامنے یاد کروائی جائیں پھر چھ صفات کے ساتھ نماز پڑھنے کی مشق کرائی جائے۔
اگر پوری دنیا کی مچھر کے پر کے برابر کوئی حیثیت ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی کا نہ ملتا ۔
جب میری امت دنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اسلام کی وقعت ان کے قلوب سے نکل جائے گی۔