سورہ مائدہ ۔ ٩٤ تا ١٠٠
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو اللہ تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے ۔٩٤ مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ اللہ نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے ۔٩٥ تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور اللہ سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو ۔٩٦ اللہ نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ سب کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے ۔٩٧ جان رکھو کہ اللہ سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ اللہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ۔٩٨ پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام اللہ کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو اللہ کو سب معلوم ہے ۔٩٩ کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو ۔١٠٠