Google

سورۃ ھود کے سایوں میں

سورۃ ھود کے سایوں میں

فضیلہ الشیخ / سعود الشریم : حفظہ اللہ

15/ 7 / 1424 ھ 12 / 9/ 2003 ء

اللہ کے بندو ! میرے اور آپ کے لۓ ایک ہی وصیت الہی ہے کہ ھم اللہ تعالی کا خوف و تقوی اختیار کریں جو کہ اس دن باعث عزت ھو گا جس دن کہ اس کے بغیر ذلت ہی ذلت ہے ، اور اس روز یہ باعث نجات بنے گا جس روز کہ اس کے بغیر ھلاکت کے سوا کچھ نہیں ۔ جس نے اسے مضبوطی سے تھام لیا وہ کبھی نامراد و ناکام نہ ھو گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ کبھی فلاح و نجات نہیں پا سکتا ۔ ارشاد الہی ہے :

[اے عقل والو ! اللہ سے ڈرو ، تاکہ تم فلاح پا جاؤ ] (المائدہ : 100)

ناگفتہ بہ حالت مسلم :

لوگو ! آج جو شخص بھی مسلمانوں میں سے بکثرت لوگوں کے حالات پر بصیرت والی نظر رکھتا ہے اسے اس بات کا یقین ھو جاتا ہے کہ یہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ اور تکلیف دہ ہیں کیونکہ مسلمانوں کا اپنے رب کی کتاب سے تعلق ہجر و ترک اور نافرمانی پر مشتمل ہے بلکہ معاملہ اس سے بھی کہیں آگے نکل چکا ہے حتی کہ اگر ھم میں سے کوئی یہ کہہ دے کہ سابقہ اقوام کی امراض و علل شعوری یا لا شعوری حالت میں اس امت کے جسم کو سرایت کر چکی ہیں تو اس کی بات دور کی کوڑی اور بے جا نہ ھو گی ۔

زبوں حالی کے اسباب :

1 ۔۔ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرماۓ ، کیا آپ لوگ اللہ تعالی کا وہ ارشاد گرامی نہیں پڑھتے جس میں اس نے فرمایا ہے :

[ ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں کہ جو کتاب کے صرف ظاھری الفاظ ( آرزوئيں تمنائيں کرنے ) کو ہی جانتے ہیں اور وہ صرف گمان و اٹکل پر ہی ہیں ] ۔ ( البقرہ : 78)

معنی یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کی صرف تلاوت و ترتیل ہی کو جانتے ہیں جبکہ اس کا اصل مفہوم و معنی ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا اور نہ ہی وہ ان کے دل پر اثر انداز ھو پاتی ہے ۔ اور اس کا سبب ۔ اللہ والو ! صرف یہ ہے کہ اس کی تلاوت و ترتیل کے وقت ان کا دل غائب ھوتا ہے ، وہ اس کے مفاھیم و معانی سمجھنے اور اس پر تدبر کرنے سے عاجز و درماندہ ھوتے ہیں ۔ ان کے دلوں پر تالے لگے ھوۓ ھوتے ہیں ۔ ( جیسا کہ سورۃ محمد : آیت : 24 میں ہے )

سواۓ ان لوگوں کے جن پر اللہ کا رحم و کرم ہے ۔

2 ۔ اسی طرح قرآن کے مسلمانوں کے دلوں پر اثر انداز نہ ھونے کے اسباب میں سے ہی یہ بھی ہے کہ وہ اس کائنات اور خود اپنی ذات میں اللہ کے قانون اور نشانیوں کو نہیں پہچانتے بلکہ دلائل ذات باری سے دور ہیں ۔

3 ۔۔ اس کائنات کے حسن ترتیب و تدبیر پر غور نہیں کرتے اور نہ ہی نص قرآنی کے منطوق و ظاھر سے اس کے مقاصد و معانی کی رسائی حاصل کرتے ہیں ۔

4 ۔۔ اس کے علاوہ وہ ان غلط مفاھیم و نظریات اور فاسد تاویلات کو بڑا مقدس مانتے ہیں جو کہ مسلمانوں کے تمام طبقات میں مغرب سے آ کر گھر کر چکی ہیں جنھیں وہ باغی و سرکش شعور غذا مہیا کرتا ہے جو لوگوں کو دنیا کی محبت اور آخرت و موت سے نفرت کرنے پر اکساتا رہتا ہے ۔

5 ۔ اے مسلمانو ! یہ تمام اسباب مسلمانوں کی اس زبوں حالی کے پس پردہ ہیں ، اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ علم صحیح کا اٹھ جانا بھی ایک سبب ہے ۔

کتنی عجیب بات ہے کہ علم موجود بھی ہے مگر ھم اسے یوں کھو چکے ہیں جیسے بیابان و جنگل میں ھم پانی کے فقدان کا شکوہ کریں جبکہ وہ خود ھماری اپنی پشت پر لدا ھوا بھی ھو ۔ آج اگرچہ آڈیو ، ویڈیو ( صوتی و مرئی ) کیسٹوں کی ٹیکنالوجی وسائل و ذرائع نشر و اشاعت اور طباعت و پرنٹنگ کے متون میں بے شمار ترقی ھو چکی ہے مگر پھر بھی اصل علم مفقود ہے ۔اس وجہ سے بھی امت مسلمہ کی حالت یوں پتلی ہے ۔

مسند امام احمد و ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی چیز کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرمایا :

[ یہ تب ھو گا جب علم اٹھ جاۓ گا ] ھم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! علم کیسے اٹھ جاۓ گا ؟ جبکہ ھم نے قرآن پڑھا ہے اور ھم اپنے بچوں کو بھی پڑھا رہے ہیں اور ھمارے بچے آگے اپنے بچوں کو قرآن پڑھائيں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

اے ابن لبید ! تیری ماں تجھے گم پاۓ ، میں تو تجھے مدینہ منورہ کا فقیہ و سمجھدار ترین آدمی سمجھتا ھوں ، کیا ان یہودیوں او عیسایوں کے پاس تورات و انجیل نہیں ؟ لیکن اس کے باوجود وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ؟ ۔ ( مسنداحمد ، ترمذی ، ابن ماجہ )

وہ امت جو کہ امت قرآن ہے یہ اس کے شایان شان نہیں کہ وہ مبتلاۓ و حشت ، مجہول الحال اور حواس باختہ ھو اور نداۓ قرآنی اس کے لۓ صدابصراء ثابت ھو یا پھر ایسے ھو جیسے کہ کہیں دور سے کوئی اسے ندائيں دے رہا ہے ، کتاب اللہ کی شان یہ ہے کہ اس میں نہ کوئی کمی کر سکتا ہے اور نہ ہی اضافہ ، اس میں پہلی نبیوں اور امتوں کی کافی حد تک تاریخ اور انکا خلاصہ موجود ہے اور اقوام ماضی کے واقعات و قصص بھی ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

[یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں ( یعنی حضرت ) ابراھیم و موسی (علیھما السلام) کی کتابوں میں ]

( الاعلی : 18 ، 19)

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بوڑھا کرنے والی

مسلمانو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے 63 برس عمر شریف پائي ، تب جا کر کہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر بڑھاپا نمودار ھوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زلفوں میں چاندی کے تار چمکنے لگے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عفت و پاکدامنی اور تقوی و خشیت الہی کی نشانی تھی ۔ اس چاندی کی چمک میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہیبت اور بزرگی کا وقار نمایاں تھا اور اسی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قائدانہ صلاحیتیں اور مہارت و تجربہ جھلک رہا تھا ۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا :

” اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! آپ کو کس چیز نے بوڑھا کر دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

[ مجھے سورت ھود ، الواقعہ ، علم یتسالون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا ہے ] ۔

( ترمذی ، مستدرک حاکم ، مسند ابو یعلی )

مسلمانو ! ھم تو یہ سنتے رہتے ہیں طویل عمری و کبر سنی بڑھاپے کا سبب ھوتی ہے اور زندگی کے دگرگوں حالات اور ذمہ داریاں بندے کو بوڑھا اور مانگ کی زلفوں کو سفید کر دیتی ہیں ۔ اب آپ کا اس شخصیت کے بارے میں کیا خيال ہے جس پر یہ حالات اورذمہ داریاں بھی یکے بعد دیگرے سب گزریں مگر اس کے باوجود بھی وہ بڑھاپے کو اپنے رب کی کتاب کی آيات و سور کی طرف منسوب فرما رہے ہیں جنکی آپ تلاوت کرتے رہتے ہیں اور جن پر تدبر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا شب و روز کا وظیفہ ہے اور ان پر عمل پیرا ھوتے رہتے ہیں ۔

خاص سورۃ ھود ہی کیوں ؟

اے مسلمانو ! خاص سورۃ ھود ہی کیوں بڑھاپے کا سبب قرار دی گئی ؟ یہ کن امور پر مشتمل ہے جو کہ انسانی نفس اور مال میں تغیر و تبدیلی واقع کیوں کر دیتے ہیں ؟ اور یہ اس تغیر کے سوا ہے جو کہ بدن و اعضاء پر واقع ھوتا ہے ، ۔ یہ حدیث ھمیں اس بات پر آمادہ کرتی اور اکساتی ہے کہ ھم اپنے دلوں پرلگے زنگ کو زائل اور ان پر پڑے پردوں کو چاک کر دیں خصوصا جبکہ ھم اس سورت اور اس کے ساتھ ہی مذکورہ دوسری سورتوں کی تلاوت کریں اور غور و فکر سے کریں تو ساتھ ساتھ یہ زنگ اور یہ پردے زائل کرنا ضروری ہے تاکہ ھمیں جلی اور واضح طور پر پتہ چل سکے کہ ان سورتوں نے ھمارے امام و پیشوا اور اسوہ و رھنماء کی زلفوں میں سفیدی کی چاندی کیسے بھر دی تھی ۔

حضرت عبد الرحمن بن ابویعلی کہتے ہیں :

” میں ایک عورت کے پاس گیا جبکہ میں سورت ھود پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا : اے عبد الرحمن تم سورت ھود کو اسطرح پڑھتے ھو ؟ اللہ کی قسم ! میں چھ ماہ سے اسے پڑھنے میں مشغول ھوں اور آج تک اس سے فارغ نہیں ھو پائي ھوں ” ۔

مسلمانو ! اس میں تعجب والی کوئي بات نہیں کہ ایک عورت ایسی بات کہے ۔ اس خاتون سے بھی پہلے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا :

[ قرآن کو شعروں کی طرح جلدی جلدی نہ پڑھو اور نہ ہی کسی نثر پارے کی طرح اس کا مطالعہ کرو بلکہ اس میں مذکورہ عجائب قدرت پر ٹھہرو اور ان سے اپنے دلوں کو بلاؤ اور تم میں سے کسی کا کل مدعا صرف یہی نہ ھو کہ وہ جلد از جلد سورت کے آخرت تک اسے پڑھ جاۓ ] ۔

زمانۂ نزول سورۃ ھود : عام الحزن :

مفسرین کرام میں سے بعض اھل علم نے ذکر کیا ہے کہ یہ سورت ھود ، سورۃ یونس اور سورۃ بنی اسرائیل کے بعد نازل ھوئي تھی اور یہ زمانہ جس میں یہ سورت نازل ھوئي نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کا انتہائي تکلیف دہ اور سخت دور تھا کیونکہ اس زمانہ میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم دو عظیم حادثات فاجعات سے دوچار ھوۓ تھے جس میں سے پہلا حادثہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی وفات تھی ، وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اسلام میں صدق دل سے وزیر تھیں ۔ آپ اپنی ہر طرح کی تکلیف و ضرورت انہی سے بیان کرتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سخت ایام میں دل و جان سے آپ کے ساتھ تھیں ۔ وہ اپنے مال سے آپ کی غمخواری کرتیں اور حوصلہ افزاء کلام سے آپ کی دھارس بندھاتیں ۔

اسی عھد میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچاابوطالب فوت ھوۓ جو کہ آپ کے لۓ ایک ستون ، تحفظ کا قلعہ اور آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کے معاون و مددگار تھے ۔ اس دور میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اسی قسم کے مصائب یکے بعد دیگرے آۓ حتی کہ اس سال کو ” عام الحزن ” غم کا سال ” قرار دیا گیا ۔ ایسے سخت دور میں سورۃ ھود کا نزول آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حوصلہ افزائي و ڈھارس بدھائی اور تسلی و ثابت قدمی کا باعث تھی ۔ اسی طرح یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اھل ایمان اصحاب کے لۓ بھی باعث دلجمعی و استقلال تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ساتھ آپ کے صحابہ کے دلوں میں جو وحشت و تنگی اور اپنے ہی علاقے میں ایک اجنبیت کا سا احساس تھا ، یہ سورت اس کا مداوا بنی ، اپنے علاقے اور معاشرے کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تکذیب و انکار پر جمع ھو گۓ اور صحابہ کرام سمیت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے پنجۂ استبداد میں جکڑ لینے کے درپے ھو گۓ ، یہ سورۃ قصص و امثال کی تاثیر کے ذریعے حوصلہ افزائی و دلجمعی ، عبرت و موعظت ، عزم و ھمت ، صبر کی تلقین اور مجاھدہۂ نفس پر آمادہ کرنے کا وہ سامان رکھتی ہے جو کسی دوسری سورت میں موجود نہیں ہے ۔ ارشاد الہی ہے :

[ اسی طرح ھم آپ کے لۓ سابقہ لوگوں کے واقعات بیان کرتے ہیں ] ۔ ( طہ : 99)

[ رسولوں کے سب احوال ھم کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لۓ بیان کر رہے ہیں ] ( ھود : 120)

احوال انبیاء :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ یہ ساری کی ساری سورت ہی حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم ، حضرت ھود علیہ السلام اور انکی قوم ، حضرت صالح علیہ السلام اور انکی قوم ، حضرت ابراھیم علیہ السلام اور ان کی قوم ، حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم ، حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم ، اور پھر حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کے واقعات و قصص بیان کر رہی ہے اور ان میں سے تین تو اولو العزم رسول ( حضرت نوح ، ابراھیم ، موسی علیھم السلام ) ہیں ۔ ان میں سے ہر آنے والا نبی اپنی قوم سے اسی ناروا سلوک کو پاتا ہے جو اس سے پہلے گزرے ، یہاں تک کہ جب رسول ناامید ھونے لگے اور وہ ( قوم کے لوگ ) خیال کرنے لگے کہ انھیں جھوٹ کہا گیا تو فورا ہی ھماری مدد ان ( رسولوں ) کے پاس آ پہنچی ۔جسے ھم نے چاہا اسے نجات دی گئی ۔ اور ھمارا عذاب گناہگاروں سے واپس نہیں کیا جاتا ] ۔ ( یوسف : 110)

مرحلۂ مایوسی :

یہاں اللہ تعالی اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ مایوسی و ناامیدی کا مرحلہ تب آتا ہے جب رسولوں کی قوموں کے جاھل لوگوں کی طرف سے پے درپے چوٹیں لگیں ، ان کی طرف سے گالی گلوچ اور تکذیب و جھٹلانے کا زور ھو جاۓ اور وہ لوگ انبیاء کے خلاف سازشوں اور یورشیوں میں یکجا ھو جائيں ۔ ان کا ناک میں دم کیا گیا اور پھر وہ بار بار موت کے منہ میں جاتے ( اور اللہ کے فضل سے بچتے ) رہے ۔ یہ سب ھوتا رہا اور ھوتا رہے گا کیونکہ اللہ کا نظام بدلنے والا نہیں ہے جبکہ انبیاء و رسل علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے شایان شان یہی ہے کہ وہ صبر و استقلال سے کام لیں اور جمے رہیں یہاں تک کہ اللہ ان کے لۓ کشائش فرما دے ۔

آغاز سورت اور تعلیم توحید :

اللہ تعالی نے سورت ھود کا افتتاح یوں فرمایا ہے :

” اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، الف ، لام ، را ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم ( پختہ ) کی گئی ہیں ۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ، ایک حکیم باخبر کی طرف سے ، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو ، میں تمھیں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ھوں ] ۔ ھود : 1۔ 2 )

دعوت توحید : دعوت الانبیاء : یہ کتاب جس کی آيات محکم و پختہ کی گئی ہیں اس کے مضمون کی تفسیر یہ بیان کی گئي ہے کہ زمین میں صرف ایک اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جاۓ اور یہ عبادت الہی اور اس کی طرف دعوت ، کوئي نئ دعوت نہیں اور نہ ہی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ہی نازل کی گئي ہے بلکہ اول تا آخر تمام انبیاء کرام اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دیتے آۓ ہیں چنانچہ انبیاء کی اس دعوت کو اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا :

[ اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے ] ( الاعراف : 59)

اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائيں ، اللہ کے سوا کسی سے مدد و تعاون طلب نہ کریں ، اس کے سوا کسی پر توکل نہ کر یں ، اللہ ہی سے خوف و رھبت اور اسی سے محبت و رغبت رکھیں اور اس کی شریعت کے سوا کسی دوسرے خود ساختہ قانون سے فیصلہ نہ کروائیں ۔

حضرت نوح علیہ السلام کی تحقیر :

سورت ھود کی اس آیت ( 1 ۔۔ 2 ) کے بعد قصوں اور واقعات کا ذکر شروع ھو جاتا ہے ۔ پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے مکالمات و مذاکرات آتے ہیں اور ان کی قوم انھیں کہتی ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم بتاتا ہے۔

[ ھم تمھیں اپنے ہی جیسا ایک آدمی ( بشر) دیکھتے ہیں ، اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیروکار وہ لوگ ھوۓ ہیں جو ھم میں سے ادنی درجے کے ہیں اور وہ بھی راۓ ظاھر سے ، ( نہ کہ تعمق و غور سے ) اور ھم تم میں اپنے اوپر کوئي فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں ] ۔

( ھود : 27)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تحقیر :

اسی طرح ھمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی قوم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے وہی کہا جو کہ حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے کہا تھا ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

[ اس وقت منافقین اور جن لوگوں ( کفار ) کے دلوں میں مرض تھا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں ( نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) کو انکے دین نے مغرور کر رکھا ہے ] ۔ ( الانفال : 49)

یہ وہ تحقیر آمیز رویہ اور ذلت آمیز انداز ہے جو کہ ان کے حقد و حسد اور بعض و تکبر سے بھرے ھوۓ خبیث نفوس سے سرزد ھوتا ہے اور یہی ہے حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر و کمتر سمجھنا ۔ ان کا یہ تحقیر آمیز رویہ مقام نبوت و منصب رسالت سے سرفراز شخصیت اور الوالعزم پیغمبر سے تھا ۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ اور مخلص ساتھیوں کے ساتھ بھی ذلت آمیز انداز سے ہی پیش آۓ اور یہ حق کی اتباع کرنے اور جادہءحق پر چلنے والی کی تحقیر و تذلیل تھی صرف عار دلانا نہ تھا ۔

حق کی قوت و صحت :

حق فی نفسہ ( بذاتہ ) صحیح ہے اور اس سے کوئي فرق نہیں پڑتا کہ اس کی پیروی کرنے والے لوگ بڑے خاندانوں کے ہیں یا نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ عليہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

” بلکہ یہ حق ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں کہ اھل شرف و کرامت وہی لوگ ہیں جنھوں نے حق کی پیروی کی ، اگرچہ وہ مالی طور پر غریب و نادار ہی کیوں نہ ھوں ۔ اور جو لوگ حق کو اختیار کرنے سے انکار کرتے ہیں رذیل و ذیل اور حقیر تو دراصل وہی ہیں ۔ وہ چاہے مالی اعتبار سے بڑے مالدار و غنی اور اونچے خاندانوں کے ہی کیوں نہ ھوں ” ۔

جب روم کے بادشاہ ہرقل نے ابوسفیان سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صفات کے بارے میں پوچھا تو ایک سوال یہ بھی کیا کہ اس ( پیغمبر) کی اتباع و پیروی کرنے والے لوگ بڑے خاندانوں والے ، مالدار لوگ یا کہ لوگوں میں سے کمزور طبقہ والے ہیں ؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ :

” وہ لوگوں میں سے کمزور طبقہ کے لوگ ہیں “۔ ۔ ۔ اس پر ہرقل نے کہا تھا :

” یہ غریب و کمزور لوگ ہی رسولوں کے پیروکار ھوا کرتے ہیں ” ۔

بناء عزت و شرف :

مسلمانو ! اگر بڑے خاندانی معیار کی بناء پر شرف کا حصول ممکن ھوتا تو اسلام حضرت سلمان

فارسی رضی اللہ عنہ کا مقام اتنا بلند نہ کرتا اور نہ ہی شرف کی بناء پر ابولھب جیسے بدبخت کو قعر ذلت میں گراتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو ایک صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا ہے :

[ کئی پراگندہ حال اور خاک آلودہ لوگ ، بوسیدہ و پرانے کپڑوں میں ملبوس وہ بھی ہیں کہ ( جن کی کوئي پرواہ نہیں کی جاتی ) بلکہ جنھیں اپنے دروازے سے دھکیل دیا جاتا ہے لیکن ( اللہ کے ہاں ان کی اتنی عزت و قدر ھوتی ہے کہ ) اگر وہ اللہ کو کسی کام کی قسم دے دیں تو وہ ان کی قسم کو پورا کر دے ] ۔ ( دیکیھۓ : مختصر صحیح مسلم : 1972، مسند احمد ، بزار ، صحیح الجامع : 3474، 3487 ، )

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کھجور پر چڑھتے دیکھا کہ ان کی ٹانگیں بہت پتلی سی ہیں اور انھیں تو تیز ھوا ہی ادھر ادھر لے پھر رہی ہے تو یہ دیکھ کر وہ ہنسے ۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

[ تم ان کی پتلی پتلی پنڈلیوں کو دیکھ کر تعجب کر رہے ھو ، یہ تو میزان میں جبل احد سے بھی زیادہ بھاری ہیں]

ان ہستیوں جسے لوگ جنھیں معمولی سمجھا جاتا ہے اور بعض متکبر و ناک منہ چڑھانے والے مغرور اھل حسب و نسب انھیں حقیر سمجھتے ہیں ۔ انھیں ان کے ایمان باللہ اور توکل علی اللہ کی وجہ سے وہ رفعتیں اور عظمتیں حاصل ھو جاتی ہیں کہ ان کے کیا ہی کہنے ہیں حالانکہ قوت کے اعتبار سے وہ بڑے کمزور ضعیف ھوتے ہیں اور اس دنیا والوں میں سے ان کا کوئي حامی و مدد گار بھی نہیں ھوتا اور وہ لوگ استقامت و پامرادی اور طہارت و پاکیزگی کی راہ کے دلدادہ ھو جاتے ہیں ۔ اور وہ آدمی جو کہ بے مروت و غیر ذمہ دار ہے ، اس میں ذاتی قوت نہیں ھوتی ، وہ چاہے جتنے بھی درندوں کی کھالوں کے لباس زیب تن کر لے اور مسلح جنگوں والی زرہیں پہن لے یا پھر وہ چاہے دنیا داروں میں سے بڑی شان و شوکت کی چال چلتا پھرے ، اس میں کوئی بھی حقیقی قوت نہ ھو گي ، اور یہ بہت ہی اھم سبق اور نصیحت ہے ۔

ایک زبردست ملجا و ماوی :

اللہ تعالی نے ھمارے لۓ ایک مثال بیان کی ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا :

{ کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ھوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا حاصل کر پاتا ]

( ھود : 80)

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں ھوں ، وہ ایک زبردست آسرے کی پناہ لیا کرتے تھے یعنی اللہ رب العزت و جل ان کا ملجا و ماوی تھا ] ۔

مغرور و متکبر لوگوں کا انجام :

اللہ کے سوا کوئي معبود بر حق نہیں ہے ۔ اللہ والوں کو حقیر سمجھنے والوں میں سے کتنے ہی وہ ھونگے جنھیں اس وقت سخت غم و پریشانیاں لاحق ھو گی جب حقائق کھلیں گے ، امور روز روشن کی طرح واضح ھو کر سامنے آ جائیں گے : اور اھل جہنم کو جہنم میں داخل کر دیا جائیگا ۔ اس وقت وہ بزبان قرآن کہیں گے :

[ کیا بات ہے کہ وہ لوگ ھمیں دکھائي نہیں دیتے جنھیں ھم برے لوگوں میں سے شمار کیا کرتے تھے ۔ کیا ھم ہیں کہ ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ھماری نگاہیں ان سے ھٹ گئی تھیں ] ۔

( ص : 62 ، 63)

اللہ آپ کی حفاظت فرماۓ ۔ ان کے اس سوال کا جواب بزبان الہی یہ ہے :

[ اور اھل جنت اھل جہنم کو پکاریں گے کہ ھم سے ھمارے رب نے جو وعدہ فرمایا تھا ھم نے اسے واقعہ کے مطابق پایا اور تم سے جو تمھارے رب نے وعدہ فرمایا تھا۔ کیا تم نے بھی نے اسے واقعہ کے مطابق پایا ؟ وہ کہیں گے : ہاں ۔ پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت و مار ھو ان ظالموں پر ]۔ ( الاعراف : 44)

مخلصانہ محبت کر نے والے :

سورت ھود میں وہ قصے اور واقعات بھی مذکور ہیں جو انتہائی اھیمت کے مالک ہیں اور ان سے صدق مدعی ، ان کے دل کی صفائی و ستھرائي اور ان کی جعل سازی و دھوکہ دھی سے پاک اپنے دینی بھائیوں اور قومی و ملی ساتھیوں سے مخلصانہ محبت واضح ھو جاتی ہے ۔کیونکہ وہ ان کے لۓ وہی چیز پسند کرتے ہیں جو اپنے لۓ پسند کرتے ہیں اور اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر کسی باطل معاملے پر ان کی مدد کی گئی تو یہ بات باری تعالی کے نزدیک کتنی بری ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد کا اثر بھی جانتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

[ اپنے بھائي کی مدد کرو ، چاہے وہ ظالم ھو یا مظلوم ]۔

اور اس کے مظلوم ھونے کی شکل میں اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے بچایا جاۓ ( اور وہ ظالم ھو تو اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جاۓ ) ۔ اور مسلمان یہ بھی جانتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

[ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے ترک کرتا ہے " ۔

یعنی وہ نہ تو اپنے کسی مسلمان بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی حق کے کسی معاملے میں اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے ( بلکہ اس کی مدد کرتا ہے ) اور نہ ہی اسے اس کی نفسیانی خواہشات کے حوالے کرتا اور اسے شیطان کے نرغے میں چھوڑتا ہے کہ یہ خواہشات نفس اور شیطانی بہکاوے اسے کہیں جادہء حق و صراط مستقیم سے دور نہ ہٹا دے ۔

بنیادی اصول و اخلاقیات :

ان تمام بنیادی اصول و اخلاقیات کو تمام مسلمانوں کا خوب یاد کر لینا ضروری ہے کہ اپنے دینی بھائیوں کے لۓ یہ ضرور ہی اختیار کۓ جائيں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ماننے والے مومنوں کے سلسلہ میں یہی رویہ و اخلاق اختیار فرمایا جبکہ انھوں اپنی قوم سے مخاطب ھو کر فرمایا :

[ اور اے قوم ! میں اس پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا ۔ میرا ثواب تو صرف اللہ تعالی کے ہاں ہے نہ میں ایمان داروں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ھوں ، انھیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ھوں کہ تم لوگ جہالت و نادانی کر رہے ھو ، اور برادران ملت ! اگر میں انھیں نکال دوں تو اللہ ( کے عذاب ) سے بچانے کے لۓ کون میری مدد کر سکتا ہے ، تم غور کیوں نہیں کرتے ] ۔

( ھود : 29 ، 30)

امام بن کثیر رحمہ اللہ عليہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

” گویا ان لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ مومنوں کو اپنے پاس سے دھتکار دیں اور یہ انھوں نے محض اس لۓ کیا کہ وہ ( مغرور و متکبر ) لوگ ان کے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنا اپنی شان و شوکت کے منافی سمجھتے اور اسے کسرشان شمار کرتے تھے ۔ انھی جیسے لوگوں نے ایسا ہی مطالبہ نبی اخرالزماں صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی مجلس سے ان کمزور و غریب لوگوں کو نکال دیں تاکہ وہ مجلس خاص ان لوگوں کے لۓ ھو جاۓ ۔ اسی پر اللہ نے یہ ارشاد نازل فرمایا تھا :

[ اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار سے دعائیں کرتے ( اسے پکارتے ) ہیں اور وہ صرف اسی کے ذات ( رضا) کے طلب گار ہیں ۔ انھیں اپنے پاس سے مت نکالیں ۔ ان کے حساب ( اعمال ) کی جوابدہی آپ پر کچھ نہیں اور آپ کے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں ( پس ایسا نہ کرنا ) اگر انھیں نکالیں گے تو ظالموں میں سے ھو جائیں گے ] ۔ ( الانعام : 52)

حقیقی مسلمان کی صفت :

حقیقی مسلمان اپنے آپ کو ایسی تمام باتوں سے دور رکھتا ہے کہ اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچا کر اپنا الو سیدھا کرے ۔ دوسرے سے حسد کرے ، بغض رکھے ، فوری مفادات کو آخروی منافع پر ترجیح دے غلط کاموں میں واقع ھو ۔ یا وہ مشروع نصیحت و خیر و خواہی سے دور بھاگے ، لوگوں کی راہنمائی اور دعوت و تبلیغ سے دست کشی کرے ، انھیں عمل خیر کی ترغیب نہ دلاۓ ، انھیں شر سے متنفر نہ کرے ، یا اپنی ذات و شخصیت کی عمارت کو دوسروں کی ذات کے ملبے پر تعمیر کرے ۔ اور اپنی سعادت کو ان کی شقاوت میں تلاش کرے ۔ ہرگز نہیں وہ قطعا ایسا نہیں ھو سکتا کہ وہ اپنا آغاز ایسا لرزہ براندام کر دینے والے کردار سے کرے ۔ اور اچھے انجام کی تمنا کرے ۔ یہ تو درحقیقت برادران یوسف علیہ السلام والا رویہ ہے کہ انھوں نے کہا تھا :

[ یوسف کو قتل کر دو کسی جگہ میں پھینک آؤ ، یوں پھر تمھارے ابا کی توجہ صرف تمھاری طرف رہ جاۓ گی اور پھر اس کے بعد تم نیک و صالح قوم کے افراد بن جانا ] ۔ ( یوسف : 9)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے سچ ہی فرمایا ہے :

[ جو شخص کسی مسلمان کی بدگوئی کرکے کھانا کماۓ اور اس میں سے کھاۓ تو اسے اللہ تعالی اتنا ہی جہنم کا کھانا کھلاۓ گا یا ایسا کرکے وہ کوئي کپڑا پہنے تو اسے ویسا ہی جہنم سے کپڑا پہناۓ گا اور جو شخص کسی مسلمان کو ( جو نیک نہ ھو ) نیک ظاھر کر کے اسے شہرت و ریاء کے مقام تک پہچا دے ۔ تو اللہ اسے قیامت کے دن شہرت و ریاء کے مقام پر کھڑا کر دے گا ] ۔

( ابوداؤد ، مستدرک حاکم ، مسند احمد ، صحیح الجامع : 6083 ، الصحیحۃ : 934)

ھمارے لۓ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں کہ ھم بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح یہ دعاء کریں ۔

[ اے اللہ ! ھم بھوک سے تیری پناہ مانگتے ہیں کیونکہ یہ بہت ہی برا بچھونا ہے اور خیانت سےبھی تیری پناہ مانگتے ہیں کیونکہ یہ بہت ہی بری خصلت ہے ] ۔

قدوہ و اسوہء حسنہ کی اھمیت :

اے لوگو ! سورہ ھود کے واقعات و قصص میں سے بعض دوسرے واقعات وہ ہیں جن کے حوالے سے نیک و صالح قدوہ و نمونہ کی اھمیت بیان کی گئي ہے اور بتایا گیا ہے ۔ کہ معاشروں کی تعمیر و ترقی اور انھیں بلندیوں سے آشنا کرنے کے لۓ اس کی کتنی ضرورت و اھمیت اور تاثیر ہے ۔ خصوصا جبکہ نیک و صالح نمونہ کے مالک لوگ بڑی بڑی شخصیات والے ھوں جیسے حکام و سلاطین ، امراء و علماء اور لوگوں میں سے بڑی حیثیت کے مالک لوگ ۔ اور اس چیز کی قوت و اھمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب وہ نیک نمونہ اور قدوہ صالحہ ، مصلحین و مبلغین اور ان لوگوں میں ھو جو کہ اصلاح احوال کے کام میں مشغول ہیں کیونکہ انکا ایک ایک قدم و عمل کڑی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے افعال باعث رغبت و دلچسپی ھوتے ہیں اور ان کے ظاھری قول و عمل پر لوگوں کی گہری نظریں ھوتی ہیں ۔ کتنا ہی برا ھوتا ہے جب وہ کسی چیز سے دوسروں کو تو روکتا ہے اور پھر لوگ دیکھتے ہیں کہ خود وہ اسکام کا ارتکاب کرتا ہے ۔ یا پھر وہ کسی بدعت سے لوگوں کو منع کرتا ہے مگر اسی جیسی کسی بدعت میں وہ خود مبتلا ھوتا ہے ۔ اس طرح اسکی ھیبت اور شان و شوکت کم پڑ جاتی ہے اور اس کی اقتداء کرنے والوں میں کمی واقع ھو جاتی ہے ۔ اور عوام الناس اس کے حق و باطل افعال اور اس کے اچھے و برے اعمال کو باھم خلط و ملط کر بیٹھتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا کہ اس کے ساتھ لوگوں کے حالات و تعلقات کچھ اس طرح ھو جاتے ہیں کہ :

“جب میں اھل یمن میں سے کسی سے ملتا ھوں تو میں یمنی بن جاتا ھوں ، اور جب میں قبیلہ بنی عدنان سے ملتا ھوں میں عدنانی ھو جاتا ھوں ” ۔

ایسے لوگوں کو دیکھ کر لوگ رخصتیں تلاش کرنے کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ ان کی غلطیوں اور لرزشوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں ۔

قول و عمل میں یکسانیت :

اللہ کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام کی شخصیت میں ایسے دورخے کردار سے دور رہنے کی بہترین مثال موجود ہے چنانچہ قرآن میں ہے کہ وہ فرماتے ہیں :

[ اور میں نہیں جاہتا کہ جس امر سے میں تمھیں منع کروں خود اسے ہی کرنے لگوں میں تو جہاں تک مجھ سے ھو سکے ( تمھارے معاملات کی ) اصلاح چاہتا ھوں اور ( اس کے بارے میں ) مجھے توفیق کا ملنا اللہ ہی ( کے فضل ) سے ہے ۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ھوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ھوں ] ( ھود : 88)

تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت کا نچوڑ :

اس سورت ھود میں یکے بعد دیگرے واقعات و قصص چلے آتے ہیں اور ان سب کا تذکرہ اور اس

چشمۂ شیریں سے بخوبی سیر ھونا اس مختصر سے خطبہ میں ناممکن ہے ورنہ بات بہت طول پکڑ جاۓ گی البتہ مناسب لگتا ہے کہ ھم اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کریں کہ تمام کے تمام انبیاء و رسل علیھم السلام نے اپنی اپنی قوم کو اللہ کی طرف ہی دعوت دی اور جب ان کی قوموں نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو ان پر طرح طرح کے عذاب نازل ھوۓ ۔ ان میں سے بعض کی قوم پر اللہ نے پتھروں کی بارش برسائي اور بعض کو چنگاڑ نے آ پکڑا اور کچھ ایسے تھے کہ جنھیں اللہ تعالی نے زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو اللہ نے پانی میں غرق کر دیا ] ۔ ( العنکبوت : 40)

Leave a Reply

Englishاردو