Google

چند محاسن اسلام ، امرا ض قلوب کا علاج

چند محاسن اسلام ، امرا ض قلوب کا علاج

فضیلۃ الشیخ / محمد صالح آل طالب حفظہ اللہ

3/ 6 / 1424 ھ 1 / 8 / 2003 ء

حمد و ثناء کے بعد

مسلمانو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو ، ایسا تقوی جیسا کہ اس کا حق ہے ارو اس کے مضبوط آہنی کنڈے کو پکڑے رھو ۔ ارشاد الہی ہے :

[ اے ایمان والو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو ( اس سے ڈرو ) اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لاؤ وہ تمھیں اپنی رحمت سے دو گنا اجر عطا فرماۓ گا اور تمھارے لۓ روشنی کر دے گا ، جس میں تم چلو گے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ] ( الحدید 28)

اس بات کو ذھن نشین کر لو کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین راستہ ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ) کی شریعت ہے اور برے امور وہ ہیں جو کہ دین میں نۓ پیدا کۓ گۓ ھوں اور دین میں پیدا کیا گیا ایسا ہر امر محدث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے __ اللہ تعالی ھمیں اور آپ سب کو اس جہنم سے محفوظ رکھے ۔

کامل و مکمل شریعت :

اے امت اسلامیہ ! ماضی قدیم و بعید یا ماضی قریب میں شریعت اسلامیہ سے زیادہ کامل و مکمل اور شامل کوئی شریعت یا نظام کبھی نہیں آیا ۔ شریعت اسلامیہ نے مادی و روحانی ہر طرح کے تمام مسائل کو حل کیا ہے ، اور گہرے توازن کے ساتھ دین و دنیا کی صلاحیتیں مہیا کی ہیں ۔ اور یہ سب اس لۓ ہے کہ شارع سبحانہ و تعالی انسان کا خالق ہے ، اور ان کے حالات و ضروریات اور مصالح و مفادات سے بخوبی واقف ہے ۔

مادی تھذیب میں روحانی تشنگی :

موجودہ تھذیب جدید مادی ترقی کے جس مقام تک اب پہنچ گئی ہے اس سے پہلے کبھی یہاں تک نہ آئی تھی لیکن تمام تر ترقیوں کے باوجود اس تھذیب نے بنی نوع انسان کی روحانی جانب سے غفلت برتی ہے اور ایک مثالی معاشرے اور شریف شہری کی تعمیر سے عاجز رہ گئی ہے ۔ بلکہ موجودہ حالات و واقعات سے ثابت کر دیا ہے کہ اس مادی تھذیب میں جو جتنا آگے بڑھا ھوا ہے وہ اخلاقی بلکہ انسانی تھذیب میں اتنا گرا ھوا اور ذلیل ہے اور یہ صرف اس لۓ کہ تھذیب جدید کے بچاری عموما ایمان سے تہی دست ھوتے ہیں ۔

مسلمانو ! یہ تھذیب جدید اس بات کو بھی بھول گئی کہ انسان چاہے کتنا بھی مادی کیوں نہ ھو جاۓ ، تمام ترترقیوں اور ٹیکنالوجی کی دی ھوئی تمام آسائشوں کے باوجود ( وہ بہرحال ایک گوشت پوست کا انسان ہے ) اور انسان بہر صورت انسان ہی رہتا ہے ۔ اس کی کچھ خواہشات و تمنائیں ھوتی ہیں ، کچھ جذبے اور امیدیں ھوتی ہیں ، وہ پیار کرتے اور نفرتیں پالتے ہیں ، ولاء و براء کرتے اور دشمنی نبھاتے ہیں ، باھم ایک دوسرے سے سبقت لیجانے میں کوشاں رہتے اور غیرت کھاتے ہیں ۔ انسانی نفس کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے لۓ خیر و بھلائي اور نفع سے محبت کرتا ہے ، اسی طرح اسے غلبہ و ملکیت سے بھی پیار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کہ جو کچھ وہ چاہے اسے وہ ملے ، اور اسلام نے اپنے کمال و شمول اور جلال و جمال کے ساتھ ہی انسانی طبیعت کی تھذیب و تربیت بھی کی ہے ، اور احکام و قواعد شرعیہ کے ذریعے انسانی طبائع کو بلندیوں سے رو شناس بھی کروا دیا ہے ۔ ھدایات ربانیہ اور ارشادات نبویہ میں ایسی باتیں موجود ہیں جو تھذیب نفس و اخلاق کا کام کرنے والی ہیں اور اس راہ کی طرف ھدایت و راھنمائی کرتی ہیں جو کہ انتھائی سیدھی ، احسن و اکمل اور افضل ترین ہے ۔

محاسن اسلام :

اللہ تعالی نے ھمیں صلہ رحمی کرنے ، والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے ، مسکین پر ترس کھانے ،

محتاج و ضررتمند کی مدد کرنے ، ظلم سے باز رہنے کسی سے نقصان و ضرر کو دور کرنے ، خیرات بانٹنے ، اذیت پہنچانے سے باز رہنے ، نیکی کا حکم دینے ، ( برائی سے روکنے ) اسلام کو پھیلانے اور مسلمانوں کے مابین محبتیں بانٹنے بکھیرنے کا حکم دیا ہے ، اسی طرح اللہ تعالی نے دھوکہ دہی ، جعل سازی و ملاوٹ ، حسد و غیبت ، چغلی ، برے اخلاق و کردار اور دوسروں کے مال و جان ، عقل و فکر ، دین اور عزت و آبرو پر دست درازی کرنے سے سختی کے ساتھ روکا و منع کیا ہے ۔

غرض اسلام میں ہر وہ حکم موجود ہے جو معاشرے کے افراد میں باھمی ربط و تعلق کا تحفظ کرے اور افراد معاشرے کے حقوق کی ضمانت دے ۔ اسلام ایک پاکیزہ اور متفق و متحد افراد کا ایسا معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے جو انانیت و خود غرضی اور جرائم سے پاک ھو تاکہ وہ ایسی امت بن کر سامنے آئیں جو کہ صاف دل اور پاکیزہ سینوں والی ایک فاضل امت ھو جن کے دل پاک اور جذبات انتہائی مھذب ھوں ۔ جیسے کہ اسلام کے ہراول دستہ کے لوگ صحیح منھج ، پاکیزہ سیرت و کردار اور قلب و ضمیر کے پاکباز لوگ تھے ۔

جوامع الکلم سے ایک شہ پارہ :

۔۔ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرماۓ _ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعض وہ کلمات بیش خدمت ہیں جو کہ انتہائی مختصر مگر بڑے ہی جامع و مانع ہیں اور اس لائق ہیں کہ انھیں امت مسلمہ کا منھاج و طرز زندگی بنایا جاۓ ، چنانچہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ باھم حسد نہ کرو ، اور نہ ہی کسی چیز کا محض ریٹ ( قیمت بڑھانے کے لۓ بولی لگاؤ ) ( یعنی بیع نجش نہ کرو ) ایک دوسرے کے خلاف بغض و کینہ نہ رکھو ، اور ایک دوسرے کی طرف پیٹھ بھی نہ پھیرو ( ایک دوسرے سے اعراض نہ کرو ) اور ایک مسلمان کی بیع پر دوسرا مسلمان بیع نہ کرے ( جب تک کہ پہلا مسلمان اس چیز سے اپنا ہاتھ اٹھا نہ لے ) اور اللہ کے بندے اور باھم بھائی بھائی بن کر رھو ] ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے اور نہ ہی وہ اسے جھوٹا کرتا ہے اور نہ ہی وہ اس کی تحقیر و توھین کرتا ہے ۔ تقوی یہاں ہے ۔ یہ کہتے ھوۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپن دل ( سینے ) کی طرف اشارہ کیا اور ان کلمات کو تین مرتبہ دھرایا ۔۔۔ کسی آدمی کے لۓ یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔ ہر مسلمان کا خون ، مال اور غیرت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے ] ( صحیح مسلم ، مسند احمد ، صحیح الجامع : 7242)

معانی کا جہاں اور کوزے میں دریا :

سبحان اللہ ! ان چند کلمات میں معانی و مفاھیم اور فصاحت کے کتنے جہاں سمٹ آۓ ہیں ۔ اور بہت بڑی بڑی ھدایات کے دریاؤں کو گویا کوزے میں بند کر کے پیش کر دیا گیا ہے ۔

1 ۔ حسد کی مذمت و ممانعت :

چند کلمات کی اس حدیث میں جن جن بیماریوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ان میں سے سب سے پہلی بیماری حسد ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ یہ تمنا کرے کہ دوسروں سے نعمتیں زائل ھو جائیں جبکہ یہ حسد کرنا حرام ہے اور کتاب و سنت دونوں میں اس کی سخت مذمت آئی ہے ۔ یہی وہ سب سے پہلا گناہ ہے جس کی بناء پر اللہ تعالی کی نافرمانی کی گئی تھی جبکہ ابلیس لعین نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقام و مرتبہ سے حسد کرتے ھوۓ اس کی نافرمانی کی تھی اور اتنی دیر تک ان کے پیچھے لگا رہا جب تک کہ انھیں جنت سے نکلوا نہ دیا ، اور اس حسد کی وجہ سے ہی ابلیس لعین قرار پایا اور اسے رادہء درگاہ شیطان بنا دیا گیا ۔

یہ حسد یہیودیوں اور مشرکین کی عادات قبیحہ میں سے ہے ۔ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی عداوت کی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت و نبوت کا انکار کیا جبکہ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ یہ رسالت و نبوت برحق ہے مگر وہ اپنے حسد و بغض کے ہاتھوں ایسے کرتے رہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

[ بہت سے اھل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تمھیں پھر کافر بنا دیں ،

حالانکہ ان پر حق ظاھر و واضح ھو چکا ہے ، تم معاف کر دو ، اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ

اپنا ( دوسرا ) حکم بھیجے بیشک اللہ ہر بات پر قادر ہے ] ( البقرہ : 109)

حاسد شخص اللہ کی قضاء و قدر پر اعتراض کرنے والا ھوتا ہے کیونکہ وہ اللہ نے جو دوسروں کے لۓ اس کے لۓ تقسیم کیا ہے اس پر راضی نہیں ھوتا اور یہ اس کے خبث نفس اور سوء طبع کی دلیل ہے ارشاد الہی ہے :

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ؟ تب تو وہ لوگوں کو تل کے برابر بھی نہ دینگے ، یا جو اللہ نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے ، اس کا حسد کرتے ہیں ۔ ھم نے خاندان ابراھیم (علیہ السلام ) کو کتاب اور حکمت و دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی] (النساء :53)

ھنڈیا ابلے گی تو اپنے ہی کنارے چلاۓ گی :

حاسد اپنے حسد کی وجہ سے ایک لامتناہی غم میں ، ایک ایسی مصیبت میں جس پر کوئی اجر نہیں اور ایسی مذمت میں مبتلا رہتا ہے جس پر اسکی کوئی تعریف نہیں کی جاتی ، اس پر اس کا رب ناراض ھوتا ہے اور اپنی توفیق کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیتا ہے ۔

رشک و حسد میں فرق :

مسلمانو ! غیرت انسانی طبیعت میں مرکوز و ودیعت کی گئی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جو شخص بھی خیر کو دیکھتا ہے وہ اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ خیر اسے بھی ملے یہ رشک قابل مذمت بات نہیں البتہ قابل مذمت و ملامت بات یہ ہے کہ بندہ حسد میں بغاوت کا رویہ اپناۓ اور حسد یہ ہے کہ اس شخص کو حاصل شدہ نعمت کو اس کے لۓ ناپسند کیا جاۓ یا اس کے اس سے زائل ھو جانے کی تمنا جاۓ ۔ اور اس حسد کا گناہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب اس کے ساتھ ہی اس شخص کی غیبت و چغلی ، اس کے خلاف ناجائز شکوہ و شکایت کی جاۓ اور اس کے پاس سے اس نعمت کے زوال کی سعی نامشکور بھی کی جاۓ ۔

مسلمانو ! حسد نیکیوں کو یوں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔ اسی طرح یہ حسد دل کو بھی کھا جاتا ہے اور حکمت و دانائی کی معروف باتوں میں سے ہی یہ بھی ہے کہ

حاسد اپنے آپ کو خود سزا میں مبتلا کر دیتا ہے ۔

لوگوں میں سے بعض وہ بھی ھوتے ہیں کہ جب کسی پر اللہ کی کسی نعمت کو دیکھتے ہیں تو اپنے دل ہی دل میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اس کے اپنے فضل و احسان کو یاد کرتے ہیں ، اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع و پیروی کرتے ھوۓ اس کے لۓ خیر و برکت کی دعاء کرتے ہیں اور اللہ کریم سے اس کا فضل طلب کرتے ہیں اور اپنے لۓ بھی ایسی نعمت کا سوال و دعاء کرتے ہیں ۔ یوں وہ اپنے دل کی تھذیب و تربیت کر لیتے ہیں ، اپنے دل کی اصلاح کرتے ، اپنی طبیعت کو سدھارتے اور اپنے آپ کو راحت مہیا کرتے ہیں ، ایسا کرنے پر اللہ اسے اجر و ثواب سے بھی نوازتا ہے اور اپنی نعمتیں بھی عطا فرماتا ہے ۔

جبکہ بعض لوگ وہ ہیں کہ شیطان ایسے موقع پر انھیں بہکا دیتا ہے اور انھیں اتنا بے یار و مدد گار کر دیتا ہے کہ وہ اسی شیطان کی خصلتوں سے متصف ھو جاتے ہیں اوراپنے آپ کو حسد کی آگ میں جلاتے ہیں اور اپنے ہی غصے میں مرتے رہتے ہیں اور نہ کسی اجر و ثواب کو پاتے ہیں اور نہ ہی کسی دنیوی عزت و جاہ میں سے انھیں کچھ ہاتھ آتا ہے ۔

حسد کی بیماری میں مبتلا شخص ! یہ سب کیوں کر رہے ھو کیا تم اس بات کو بھول بیٹھے ھو کہ تم مسلمان ھو اور اس بات پر تمھارا ایمان ہے کہ لوگوں میں رزق و نعمت کی تقسیم خود اللہ تعالی نے کی ہے ۔ ان میں سے کسی کو اس نے کھلی نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور کسی پر تنگ رزق ، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

[ اور ھم نے ان میں معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کر دیا ہے اور ایک دوسرے پر درجات بلند کۓ ہیں تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمھارے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے ] ( الزخرف : 32 )

یہ اللہ کی مخلوق میں اس کی سنت و قانون ہے ۔ جسے اپنے دین کی سلامتی ، دل کا اطمینان و سکون اور اپنے رب کی رضاء و خوشنودی درکار ھوں چاہیۓ کہ اپنا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے دل کو اس مرض سے پاک کرے اور اللہ کی تقسیم پر رضامند رہے ، اللہ سے فضل مانگتا رہے ، اللہ سبحانہ و تعالی ہی سب کو دیتا ہے اور جس سے چاہے روکتا ہے ، وہ رفعت و بلندی عطا کرتا اور وہی پستی و ذلت و رسوائی میں مبتلا کرتا ہے وہ جسے چاہتا ہے عزت و شرف سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت و رسوا کرتا ہے ، اس کے خزانے بھر ے ھوۓ ہیں اور اس کی رحمت و عطائیں بہت ہی وسیع ہیں ۔

2 ۔ حسد اور بغض و کینہ کے دروازے :

برادران اسلام ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جس طرح حسد سے منع فرمایا ہے اسی طرح ہی ہر اس چیز سے بھی روکا ہے جو کسی کو کسی کے لۓ دل میں بغض و کینہ رکھنے پر اکساۓ اور وہ دوسروں کو اذیت دے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع نجش سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے :

[ اور بیع نجش کا معاملہ بھی نہ کرو ]

اور نجش یہ ہے کہ کسی چیز کو محض قیمت بڑھانے کے لۓ بولی دینا جبکہ اصلا اسے خریدنے کا کوئی ارادہ نہ ھو ۔ یہ اس لۓ منع ہے کہ اس میں خریداروں سے دھوکہ دہی اور انھیں زیادہ قیمت ادا کرنے پر اکسایا جاتا ہے ، جبکہ نجش کا معنی اس سے بھی زیادہ وسیع اور عام ہے ، اس کی اصل یہ ہے کہ کسی کو کسی چیز پر مکر و حیلہ اور دھوکہ سے بھڑکایا یا اکسایا جاۓ یوں اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دھوکہ دہی سے کام نہ لو اور تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے مسلمان بھائی کو بے یار و مدد گار کرنے کے لۓ مکر و فریب اور دھوکہ نہ کرے ۔ کیونکہ اس میں مسلمانوں کو ضرر و نقصان پہنچانا اور انھیں دھوکہ دینا پایا جاتا ہے ۔ جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ جس نے ھم ( مسلمانوں ) سے دھوکہ دہی کی وہ ھم میں سے نہیں ہے اور مکر و فریب اور دھوکہ و جعل سازی ( کرنے والے ) جہنم میں جائیں گے ] ( معجم طبرانی کبیر ، بسند صحیح )

3 ۔ ایک دوسرے سے اعراض و روگردانی :

اسی حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دوسرے سے نفرت کرنے اور باھم بغض و اعراض سے بھی منع فرمایا ہے ۔ خصوصا جب خواہشات نفس کی پیروی کرتے ھوۓ ایساکیا جاۓ ، کیونکہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو باھم دوستی و محبت کرنے والے بھائی بھائی بنایا ہے اور اس باھمی محبت و اخوت کو ایمان کی دلیل قرار دیا ہے ۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ھو سکتے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ اور اس وقت تک ایماندار نہیں ھو سکتے جب تک ایک دوسرے سے باھم محبت نہ کرنے لگو ۔ خبردار ! میں تمھیں اس چیز کا پتہ نہ دوں جسے اختیار کرنے سے تم باھم محبت کرنے لگو ؟ اپنے مابین سلام کو عام کرو ]( صحیح مسلم )

اسلام نے ہر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے جو باھمی نفرت کا باعث بنے اور بغض و عداوت پیدا کرے ، اسلام نے شراب ، جواء ، غیبت ، چغلی ، مسلمان کی بیع پر بیع کرنا اور اس کے پیغام نکاح پر دوسرے کا پیغام نکاح دینا ، سب حرام کۓ ہیں ۔ اسی طرح اسلام نے ظلم ، جھوٹ اور دوسروں کو حقیر و کمتر سمجھنا بھی حرام کیا ہے اور بندوں پر اپنا احسان جتلاتے ھوۓ فرمایا ہے :

[ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی ارو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ھو گۓ ] ( آل عمران : 103)

اور اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے مابین لڑائی جھگڑے اور باھمی صلح و صفائی کر لینے کا حکم دیتے ھوۓ فرمایا ہے :

[ ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں ( سرگوشیاں ) اچھی نہیں ، ہاں ( اس کی مشورت اچھی ھو سکتی

ہے ) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو شخص ایسے کام اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لۓ کرے گا تو ھم اسے اجر عظیم عطا کریں گے ] ( النساء : 114)

امراض قلوب : قاتل امم :

مسلمانو ! نفرت و بغض و کینہ ، حقد و حسد اور عداوتیں یہ سب دل کی تباہ کن بیماریاں ہیں اور یہ ایسی ھلاکت انگیز امراض ہیں کہ جب امت میں پھیل جائيں تو اسے بگاڑ اور تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں اور افراد معاشرہ کے باھمی لین دین کے معاملات میں قسوت و سنگدلی اور عناد داخل کر دیتی ہیں اور وہ ان چیزوں کو توڑنے پر اتر آتے ہیں جنھیں اللہ نے جوڑنے کا حکم فرمایا ہے ، اور وہ زمین میں فساد و بگاڑ پیدا کرنے لگتے ہیں ۔ ان بیماریوں کو گندی سیاست ، تسلط و ظلم ، طمع و لالچ اور حسد و کینہ سے بھرے لوگ تو شائد سراہیں کیونکہ یہ سب چیزیں پیدا ہی ایمان کے فقدان والی فضاؤں میں ھوتی ہیں جبکہ یہ تمام امور اس اسلامی اخوت و بھائی چارگی کے منافی ہیں جنکی تعلیم دین نے دی ہے ، البتہ یہ چیزین شیطان مردود کی خواہشات کے موافق و مطابق ضرور ہیں ۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ شیطان اس بات سے تو مایوس ھو چکا ہے کہ اس جزیرہ عربیہ میں نمازی لوگ اس کی پوجا کرینگے ، البتہ وہ صرف یہی کر سکے گا کہ لوگوں میں لڑائی جھگڑے پیدا کرنے کے لۓ انھیں ایک دوسرے کے خلاف ابھارے ]۔ ( صحیح مسلم )

سلامتی صدور اور صفائی قلوب :

اللہ کے بندو ! سینوں کی سلامتی اور دلوں کی صفائی نفس کے سکون و اطمینان ، زندگی کی سعادت و خوشحالی اور خوشگواری ، من کی راحت اور جنت کی راہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک انصاری صحابی کے لۓ تین مرتبہ اھل جنت میں سے ھونے کی گواہی دی ( بشارت ) دی ۔ اور جب حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اس صحابی سے پوچھا( کہ وہ کیا کیا عمل کرتے ہیں؟) تو اس صحابی نے فرمایا :

[یہی جو آپ نے دیکھا ہے ۔ سواۓ اس کے کہ میں اپنے دل میں مسلمانوں میں سے کسی کے خلاف کوئی نفرت و غصہ نہیں رکھتا اور نہ ہی اللہ کی دی ھوئی نعمتوں پر کسی سے میں حسد کرتا ھوں ] حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” تیری یہی صفات و اعمال ہیں جو تمھیں اس درجے تک پہنچا گئی ہیں ۔

دلوں کی صفائی و سلامتی کا اس درجے کو پا لینا ہی تھا کہ صحابہ کرام انصار و مھاجرین کے بعد آنے والے ابرار و صالح مومنوں کی صفات اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یہ بیان فرمائی ہیں :

[ اور وہ لوگ جو ان ( صحابہ ) کے بعد آۓ ، وہ کہتے ( دعائيں کرتے ) ہیں کہ اے ھمارے رب ! ھمیں مغفرت سے نواز دے اور ھمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ھم سے پہلے ایمان لاۓ ( اور سبقت لے گۓ ) ۔ اور مومنوں کی طرف سے ھمارے دلوں میں کینہ و حسد پیدا نہ ھونے دے ۔ اے ھمارے رب ! تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے ] ( الحشر : 10)

وہ شخص مسلمان و مومن کیسے ھو سکتا ہے جو علماء دین ، امت کے صالحین ، دعا‏ﺓ و مبلغین اور مصلحین ہی نہیں بلکہ اپنے تمام مسلمان بھائی کے خلاف اپنے دل میں بغض و نفرت رکھتا ہے ، اور وہ شخص کیسے مومن ھو سکتا ہے جو صحابہ کرام ، اس کے امت بہترین لوگوں اور سلف صالحین سے نفرت کرتا ہے ۔

4 ۔ اخوت اسلامی :

اللہ والو ! ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث مذکورہ کے آخر میں فرمایا ہے :

[تم اپنے رب کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ ] جی ہاں ! یہ امت مسلمہ اس وقت تک غالب و مضبوط نہیں ھو سکتی جب تک کہ اسکے تمام افراد میں گہرا دینی ربط و تعلق نہ ھو اور ان میں اسلامی اخوت و بھائی چارگی کاجذبہ موجزن نہ ھو جو کہ عھد جاھلیت کے نعروں اور قبائلی و جماعتی تعصب سے حاصل نہیں ھو سکتا اور نہ ہی وہ محض دنیوی مفادات زائلہ کی بنیاد پر ممکن ھو گا بلکہ وہ اسلام کے اعلی مبادیات و اصولوں کی بنیاد پر ہی حاصل ھو سکتا ہے ۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ان میں مختلف قبائل و خاندان اور الگ الگ مراکز ھونے کے باوجود برادری و بھائی چارگی پیدا کی اور دلوں کو باھم متحد کر دیا اس طرح انھوں نے عزت پائی اور ان کی نفسیاتی کیفیت طبقاتی اصولوں سے بہت بالا ھو گئی اور انکی ھمتیں ان زمینی و جغرافیائی فرقوں سے بہت اونچی نکل گئیں ۔ اور انکے یہاں کام کرنے والے معیار و پیمانے بہت ہی اونچے ھو گۓ ، ان کے دلوں میں محبت صرف اس کے لۓ تھی جو دین اسلام کا ماننے والا ہے اور وہ اس سے محبت رکھتے اور اس کی مدد و نصرت کرتے جو اللہ رب العالمین کے سامنے جھک جاتا ۔ طمع و لالچ جاتا رہا اور باھمی ایثار و قربانی کے جذبات غالب آ گۓ اور ہر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لۓ وہی چاہنے لگا جو وہ خود اپنے لۓ پسند کرتا تھا اور اسی اصول کے تحت وہ اپنے مسلمان و مومن بھائیوں سے ہر قسم کا معاملہ و لین دین کرتا ۔

یہ اسلامی اخوت و بھائی چارگی ہی ہے کہ جس کی بنیاد پر ایک مسلمان دنیا بھر کے مسلمانوں کی خوشیوں اور غموں میں شریک ھوتا ہے ، اور ان کے دکھ درد اور امیدوں تمناؤں کو بانٹتا ہے ۔ اخوت کی وجہ سے ہی مسلمانوں میں شیرازہ بندی ھوتی ہے ، اسی سے ان کی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا ھوتا اور ان میں باھمی ربط و تعلق مضبوط ھوتا ہے اور امت کی اخوت و عزت ہی باقی رہنے والی ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے باھمی اخوت و بھائی چارگی کا حکم فرمایا ، اس کے اسباب و ذرا‏ئع کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا حکم فرمایا کہ تمام مسلمانوں کے حقوق کی ادائيگی کرو ۔ انھیں کسی قسم کی اذیت نہ پہنچاؤ یہ چیز اسلام کے محاسن اور اس کی خوبیوں میں سے ہے کہ سلام کہنے والوں کا جواب دیا جاۓ ، چھینک مار کر الحمد للہ کہنے والے کے لۓ رحمت کی دعاء کی جاۓ اور یرحمک اللہ کہا جاۓ ، بیمار کی عیادت و مزاج پرسی کی جاۓ ، کسی دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کیا جاۓ ، باھم ھمدری کی جاۓ ۔ ایک دوسرے کو تحفہ و ھدیہ دیا جاۓ ، محتاج و ضرورتمند کی مدد کی جاۓ اور اسلام کی یہ تعلیم بھی کہ آپ کااپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا بھی صدقہ و ثواب ہے اور اسلام چغلی و غیبت اور بدظنی سے باز رہنے کا حکم فرماتا ہے : غرض ارشاد الہی ہے : [ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ، تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رھو ، تاکہ تم پر رحم کیا جاۓ ] ۔ ( الحجرات : 10)

5 ۔ ظلم و تعدی سے اجتناب :

سابقہ مذکورہ حدیث جو کہ انتہائی عظیم الفوائد اور جامع و مانع ہے ، اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے صادر ھونے والی ھدایات میں سے ہی یہ بھی ہے کہ ان تمام عادات قبیحہ و اخلاق رذیلہ سے باز رھو جو کہ مسلمانوں میں اختلاف و افتراق اور نفرت پیدا کرتے ہیں اور اخوت و بھائی چارگی کے بھی منافی ہیں ، چنانچہ اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ظلم ، جھوٹ اور دوسروں کو حقیر و کمتر سمجھنے سے روک رہے ہیں کیونکہ ظلم تو قیامت کے اندھیروں اور ظلمتوں میں سے ہے ، اللہ تعالی نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کیا ھوا ہے اور اپنے بندوں میں ایک دوسرے پر ظلم کرنے کو بھی حرام قرار دے رکھا ہے ، مظلوم کی بدعاء کی فوری قبولیت کا اس نے وعدہ فرما رکھا ہے ، اور ظالم کے عقاب و عذاب کی وعید و دھمکی بھی دی ھوئی ہے ۔ لوگوں نے ظالموں کے انجام بد کے کتنے ہی واقعات دیکھے ، ( پڑھے اور سنے ) ہیں جو انتہائی باعث تعجب ہیں اور ان کے انجام میں کتنی ہی عبرتیں اور نصیحتیں پائی جاتی ہیں اور اس میں بھی کوئی فرق نہیں کہ وہ ظلم حکومت کی طرف سے ھو یا حکام و امراء اور اھل مناصب و مراتب کی طرف ، یا پھر عوام الناس میں سے ہی لوگوں کا ایک دوسرے پر ظلم ھو ، جن لوگوں کو اللہ تعالی نے کمزورں ، نوکروں ، چاکروں ، مزدوروں یا یتیموں کے معاملات سونپ رکھے ہیں ، انھیں چاہیے کہ وہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈریں اور ان پر ترس کھائیں ، کیونکہ اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور پھر جب پکڑتا ہے تو اس سے بچ کر کوئی کہیں بھاگ نہیں سکتا ۔ ظلم و زیادتی ، حقوق سلب کر لینا اور عزت و آبرو کو خاک میں ملا دینا یہ ایسے گناہ و جرا‏ئم ہیں جو شقاوت و بدبختی لاتے اور فتنوں کو جنم دیتے ہیں ، جب کسی معاشرے میں ظلم کا دور دورہ ھو جاۓ تو سمجھ لیں کہ وہ اس کے سقوط و زوال کا آغاز ہے یا پھر دوسری جابر قومیں اس پر تسلط و غلبہ پا لیں گی اور انھیں غلامی کی تلخی اور ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیں گی جو کہ زوال اور مکمل خاتمے کی تلخی سے بھی زیادہ تلخ و سخت سزا ہے ۔

6 ۔ دروغ گو‏ئی یا کذب بیانی و جھوٹ :

اللہ کے بندو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث مبارک میں جھوٹ سے بھی منع کیا گیا ہے اور جھوٹ وہ بیماری ہے کہ جو اس میں مبتلا ھو گیا وہ اللہ کے یہاں حقیر و ذلیل اور لوگوں کی نظروں میں کمتر و گھٹیا ھو جاتا ہے ، یہ ایسی برائی ہے کہ اس سے اللہ بڑی نفرت کرتا ہے اور یہ ایمان کے منافی بھی ہے ارشاد الہی ہے :

[جھوٹ و افتراء پردازی تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ] ( النحل : 105)

جبکہ مومن صادق تو کریم الطبع شریف النفس ، بے ضرر اور محبت و شفقت کا پیکر ھوتا ہے ، کہ جسے دیکھتے ملتے رہنے سے نہ آنکھیں تھکتی ہیں نہ دل تنگ ھوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے صدق مقال اور راست گو لوگوں کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ھوۓ فرمایا ہے ۔

[ اے ایمان والو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رھو ] ۔ ( التوبہ : 9 ؟؟ )

صدق و راستی ، بر و تقوی اور نیکی جنت کی طرف راھنمائی کرتی ہے اور عمل پیرا ھونے والے کو انبیاء و صالحین کے ساتھ والے درجہ صدیقین تک پہنچا دیتی ہے ۔

7 ۔ تحقیر مسلم :

رہا مسلمانوں کو حقیر و کمتر سمجھنے کا مرض تو یہ نفس کمینگی اور دل کے تکبر کا نتیجہ ہے ، اور صحیح مسلم میں ارشاد نبوی ہے :

[ تکبر یہ ہے کہ حق کو قبول نہ کیا جاۓ اور لوگوں کو حقیر سمجھا جاۓ ] ( صحیح مسلم )

یہ تکبر شیطانی فعل و وصف ہے اور یہ ھدایت کی راہ میں مانع ہے ۔ ارشاد الہی ہے :

[جو لوگ زمین میں ناحق غرور و تکبر کرتے ہیں ، میں انھیں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا اگر یہ سب

نشانیاں بھی دیکھ لیں ، تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر رشد و ھدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں ( نہ اپنائیں ) اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیں ( اختیار کر لیں ) یہ اس لۓ کہ انھوں نے ھماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتتے رہے ] ۔ ( الاعراف : 146)

یہ تکبر وہ برائی ہے کہ بندے کو ہر برے فعل و عادت کی طرف کھینچ لے جاتی ہے ۔

پراگندہ حال مسکین :

اللہ والو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ تواضع و فروتنی اور انکساری سے پیش آؤ

اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کون تقوی والا ہے ، کوئی ضعیف و کمزور ایسا بھی ھو سکتا کہ وہ بظاھر انتہائی خاک نشین حالت والا اور پراگندہ حال ھو ، اور دو پھٹے پرانے کپڑوں میں لپٹا ھوا جسے لوگ اپنے دروازے سے دھتکار دیں لیکن درحقیقت اللہ کے یہاں اس کی اتنی قدر و منزلت ہے کہ اگر وہ اللہ کو بھی قسم دے دے تو اللہ اس کی قسم کو سچ کر دکھاتا ہے ۔ لھذا کسی بھی مسلمان کو حقیر و کمتر نہ سمجھیں وہ چاہے کتنا ہی معمولی انسان کیوں نہ ھو ، صحیح مسلم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے :

[کسی شخص کے لۓ یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ]

(صحیح مسلم) اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

[ اے ایمان والو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ، ( مذاق نہ اڑاۓ ) ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ھوں ، اور نہ عورتیں عورتوں سے ( تمسخر کریں ) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ھوں ]

( الحجرات : 11)

معیار شرف :

غرض اللہ تعالی کے یہاں عزت و شرف اور مقام و مرتبہ کا معیار مال و دولت یا جاہ و منصب نہیں بلکہ

تقوی اور دینداری ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

[ تم میں سے زیادہ عزت و تکریم والا وہ ہے جو زیادہ تقوی والا ہے ] ( الحجرات : 13)

اور تقوی محض دعوی کا نام نہیں ہے نہ ہی بناوٹ و تصنع اور ریاکاری ہے بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تین مرتبہ اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ ہی فرمایا :

[ تقوی یہاں ( سینے میں ) ہے ]

اور جب کسی کے دل میں تقوی موجود ھو گا تو اس کے اثرات اس کے اعمال اور اعضاء پر ظاھر ھو جائيں گے ۔

8 ۔ مال و جان اور آبرو کی حرمت :

آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ارشاد گرامی کو اسلامی قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ پر ختم فرمایا اور ارشاد فرمایا :

[ ہر مسلمان کا خون ، مال اور آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے ] نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کا یہ ٹکڑا اپنی فصاحت و بلاغت کی انتہاء کو پہنچا ھوا ہے ۔ اللہ کے یہاں مومن کی عزت و حرمت بہت ہی زیادہ ہے اور اس پر ظلم و زیادتی کرنے کی سزا بھی بڑی ہی سخت ہے ۔ کوئی مومن و مسلمان چاہے کونسی خطا کرے یا اس سے کوئی تقصیر و کوتاہی ھو جاۓ اور وہ اس نے جان بوجھ کر لی ھو یا اس نے کسی تاویل کا سہارا لیا ھو بہرحال اس کا خون و جان ، اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہیں ، یہ سب چیزیں معصوم و محفوظ ہیں سواۓ اس کے کہ اللہ کی کتاب کا کوئی فیصلہ ( حق ) اس کی عصمت و حرمت کے آڑے آۓ اور اسے حلال کر دے ۔ اسی معاملہ میں سستی برتنا یا بلاوجہ و بلا علم اس میں اجتھاد کرنا شر و فتنہ اور بلاء و مصیبت کا دروازہ کھولنے والی بات ہے ۔ اللہ تعالی ھمیں اور آپ سب کو اپنی حفظ و امان اور عافیت میں رکھیں ۔

و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین

سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین

و الحمد للہ رب العالمین

Comments are closed.