Google

سورۃ البقرہ ؛ ٢٣٧ تا ٢٣٩


اللہ کے نام سے جو بہت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

٢٣٧۔ اور اگر طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھرا چکے تھے تم ان کے لئے مہر تو لازم ہو آدھا اس کا کہ تم مقرر کر چکے تھے مگر یہ کہ درگزر کریں عورتیں یا درگزر کرے وہ شخص کہ اس کے اختیار میں ہے گرہ نکاح کی یعنی خاوند ، اور تم مرد درگزر کرو تو قریب ہے پرہیزگاری سے ، اور نہ بھلا دو احسان کرنا آپس میں ، بے شک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھتا ہے ۔

٢٣٨۔ خبردار رہو سب نمازوں سے اور بیچ والی نماز سے اور کھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے ۔

٢٣٩۔ پھر اگر تم کو ڈر ہو کسی کا تو پیادہ پڑھ لو یا سوار ، پھر جس وقت تم امن پائو تو یاد کرو اللہ کو جس طرح کہ تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہ جانتے تھے ۔

تفسیر ۔

اگر نکاح کے وقت مہر مقرر ہو چکا تھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی تو آدھا مہر دینا لازم ہے مگر عورت یا مرد کہ جس کے اختیار میں ہے نکاح کا قایم رکھنا اور توڑنا اپنے حق سے درگذر کریں تو بہتر ہے عورت کی تو درگذر یہ کہ آدھا بھی معاف کر دے اور مرد کی درگذر یہ کہ جو مہر مقرر ہوا تھا حوالہ کر دے یا تمام مہر ادا کر چکا تھا تو آدھا نہ لوٹاوے بلکہ سب مہر چھوڑ دے پھر فرمایا کہ مرد درگذر کرے تو تقوےٰ کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اللہ نے اُس کو بڑائی دی اور مختار کیا نکاح باقی رکھنے کا اور طلاق دینے کااور نفس نکاح سے تمام مہر لازم ہو جاتا ہے اور بدون ہاتھ لگائے طلاق دے کر زوج نصف مہر کو اپنے ذمہ سے ٹلاتا ہے یہ تقویٰ کے مناسب نہیں اور زوجہ کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی جو کچھ کیا زوج نے کیا ان وجوہ سے زوج کو زیادہ مناسب ہے کہ درگذر کرے۔
طلاق کی مہر اور وطی کے لحاظ سے چار صورتیں ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ نہ مہر ہو نہ وطی۔ دوسری یہ کہ مہر تو مقرر ہو مگر وطی کی نوبت نہ آئے ان دونوں صورتوں کا حکم دونوں آیتوں میں معلوم ہو چکا ہے۔ تیسری یہ مہر مقرر ہو اور وطی کی نوبت آوے اس میں جو مہر مقرر کیا ہے پورا دینا ہو گا یہ صورت کلام اللہ میں دوسرے موقع پر مذکو ر ہے۔ چوتھی یہ کہ مہر نہ ٹھہرایا تھا اور ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی اس میں مہر مثل پورا دینا پڑیگا۔ یعنی جو اُس عورت کی قوم میں رواج ہے اور یہی چاروں صورتیں موت زوج میں نکلیں گی مگر موت کا حکم طلاق کے حکم سے جُدا ہے اگر مہر مقرر نہ کیا تھا اور ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا کہ زوج مر گیا یا ہاتھ لگانے کے بعد مرا ان دونوں صورتوں میں مہر مثل پورا لازم ہو گا، اگر مہر مقرر کیا اور ہاتھ لگایا یا ہاتھ نہ لگایا تو ان دونوں صورتوں میں جو مہرمقرر ہو ا تھا وہ پورا دینا ہو گا۔

بیچ والی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے کہ دن اور رات کے بیچ میں ہے اس کی تاکید زیادہ فرمائی کہ اس وقت دنیا کا مشغلہ زیادہ ہوتا ہے اور فرمایا کھڑے رہو ادب سے یعنی نماز میں ایسی حرکت نہ کرو کہ جس سے معلوم ہو جائے کہ نماز نہیں پڑھتے ایسی باتوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے جیسے کھانا پینا یا کسی سے بات کرنا یا ہنسنا۔
 طلاق کے حکموں میں نماز کے حکم کو بیان فرمانے کی یا یہ وجہ ہے کہ دینا کے معاملات اور باہمی نزاعات میں پڑ کر کہیں خدا کی عبادت کہ نہ بُھلا دو اور یا یہ وجہ ہے کہ ہوا وہوس کے بندوں کو بوجہ غلبئہ حرص و بخل عدل کو پورا کرنا اور انصاف سے کام لینا اور وہ بھی رنج اور طلاق کی حالت میں بہت دشوار ہے پھر  وَاَنْ تَعْفُوْا اور لَاتَنْسَوُا الْفَضْلَ  پر اور اس حالت میں اُن سے عمل کرنے کی توقع بیشک مستبعد نظر آتی تھی سو اس کا علاج فرما دیا گیا کہ نماز کی مخالفت اور اس کی پابندی اور اُس کے حقوق کی رعایت عمدہ علاج ہے کہ نماز کو ازالہٴ رذائل اور تحصیل فواضل میں بڑا اثر ہے۔
یعنی لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو ناچاری کو سواری پر اور پیادہ بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طرف بھی مُنہ نہ ہوا۔

Leave a Reply

Englishاردو