سورۃ البقرہ ؛ ٢٣٥ تا ٢٣٦
اللہ کا نام سے جو بہت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ٢٣٥۔ اور کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ اشارہ میں کہو پیغام نکاح ان عورتوں کا یا پوشیدہ رکھو اپنے دل میں ، اللہ کو معلوم ہے کہ تم البتہ ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کر رکھو چھپ کر مگر یہی کہ کہدو کوئی بات رواج شریعت کے موافق اور نہ ارادہ کرو نکاح کا یہاں تک کہ پہنچ جاوے عدت مقررہ اپنی انتہا کو ، اور جان رکھو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تمہارے دل میں ہے سو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور تحمل کرنے والا ہے ۔ ٢٣٦۔ کچھ گناہ نہیں تم پر اگر طلاق دو تم عورتوں کو اس وقت کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور نہ مقرر کیا ہو ان کے لئے کچھ مہر ، اور ان کو کچھ خرچ دو ، مقدور والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے لازم ہے نیکی کرنے والوں پر ۔ تفسیر ۔ خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ عورت خاوند کے نکاح سے جُدا ہوئی تو جب تک عدّت میں ہے تو کسی دوسری کو جائز نہیں کہ اس سے نکاح کر لے یا صاف وعدہ کرا لے یا صاف پیام بھیجے لیکن اگر دل میں نیت رکھے کہ بعد عدّت اس سے نکاح کروں گا یا اشارہ اپنے مطلب کو اُسے سُنا دے تاکہ کوئی دوسرا اس سے پہلے پیام نہ دے بیٹھے مثلاً عورت کو سنا دے کہ تجھ کو ہر کوئی عزیز رکھے گا یا کہے کہ میرا ارادہ کہیں نکاح کرنے کا ہے تو کچھ گناہ نہیں مگر صاف پیام ہر گز نہ دے۔ اگر نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ آیا اور بلا مہر ہی نکاح کر لیا تو بھی نکاح درست ہے مہر بعد میں مقرر ہو رہے گا لیکن اس صورت میں اگر ہاتھ لگانے سے پہلے یعنی مجامعت اور خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دے دی تو مہر کچھ لازم نہ ہوگا لیکن زوج کو لازم ہے کہ اپنے پاس سے عورت کو کچھ دے دے کم سے کم یہی کہ تین کپڑے کرتہ، سربند، چادر اپنی حالت کے موافق اور خوشی سے دے دے۔
یعنی حق تعالیٰ تمہارے جی کی باتیں جانتا ہے سو ناجائز ارادہ سے بچتے رہو اور ناجائز ارادہ ہو گیا تو اس سے توبہ کرو، اللہ بخشنے والا ہے اور گنہگار پر عذاب نہ ہوا تو اس سے مطمئن نہ ہو جائے کیونکہ وہ حلیم ہے عقوبت میں جلدی نہیں فرماتا۔