Google

وہی ہے

گلاب کا پھول سرخ اور چنبیلی سفید کیوں ہوتی ہے؟ کھجور میٹھی اور اندرائن کڑوا کیوں ہوتا ہے؟ ایک ہی زمین میں ایک ہی آب و ہوامیں مختلف فصلیں کاشت کر لیںپر جو چیز زمین سے نشونما پائےگی وہ اپنےمکمل خواص کےساتھ ہی ہوگی یہ کبھی نہیں ہوتا کہ گاجر میں مولی کا ذائقہ آجائےکیوں ؟نہ ہی امرود کےدرخت سےکبھی آم نےآنا ہے۔درخت تو دور کی بات ہےموسمبی کےموسم میں کبھی آم بھی نہیں آتا ہے۔۔اور اگر ان کی فصلیں ساتھ ساتھ بھی ہوں تب بھی ان کی خوشبو تک ایک دوسرےمیں نہیں سما سکتی۔سیب میں سےآپ کو سیب کی ہی خوشبو آئےگی کبھی کیلےکی نہیں۔۔یہ عمل برسوں سےجاری ہےپر اسمیں کبھی ذرا سی بھی تبدیلی نہیں آئی۔یہ سب اپنےاپنےفطری عمل پر مستقل رواں دواں ہیں۔۔ ان کو یہ فطرت کس نےعطاکی ۔۔

اﷲ ۔ وہ ہی خدا ہے۔جو اس ساری کائنات کو تنہاءچلا رہا ہے

مرغی بھی انڈےدیتی ہےاور بطخ بھی۔۔ پر مرغی کا بچہ انڈےنکلتےہی دانہ چنتا ہےاور زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ اور بطخ کا بچہ انڈےسےنکل کر پانی میں تیرنےلگتا ہے۔۔یہ شعور انہیں کس نےعطا کیا ؟ حیوانات کےبچےپیدا ہوتےہی اپنی ماں کےتھن میں منہ لگا دیتےہیں۔۔یہ پہچان انہیں کہاں سےملی ؟ہرن کا بچہ گو اس نےزندگی میں پہلی بار ہی شیر کو دیکھا ہو مگر وہ سےدیکھ کر بھاگےگا ہی۔بلی کو دیکھ کر دنیا کہ ہر خطےمیں چوہا بھاگتا ہی ہے۔اور تو اور آپ غور کریں ان کی جسامت بھی ایسی عطا کی گئی ہےکہ بےاختیار انسان کہہ ٹھےسبحان اﷲ۔۔۔ مثلاً گائےبکری یا گھانس کھانےوالےتمام جانوروں کےدانتوں کا جائزہ لیں ذرا سا ۔۔ان کےدانت نوکیلےنہیں ہوتےچپٹےہوتےہیں کہ ان کو چبانےمیں آسانی ہو۔۔ اسی طرح آپ شیر چیتا یا اس قسم کےتمام جانوروں کو دیکھیں جو گوشت خور ہیں تو ان کےدانت نوکیلےنظر آئیں گے۔تاکہ ان کو نوچنےمیں آسانی ہو۔ اسی طرح انسانوں کےاپنےدانتوں میں آپ کو نوکیلےاور چپٹےدونوں دانت ملیں گےکہ انسان گوشت خور بھی ہےاور سبزیاں بھی کھاتا ہی۔۔ سبحان اﷲ۔۔
اونٹ طویل سفر کےاستعمال میں آتا ہےدیکھیں اسےکوہان عطا کیا گیا۔
شیر کےسامنےگھانس پڑی رہےپر وہ بھوک ہونےپر بھی سےنہیں کھائےگا۔گائےکےسامنےگوشت کا ڈھیر لگا دیں وہ بھی سےمنہ نہیں لگائےگی
یہ فطری عمل ہی رواں دواں ہے۔ ان کو یہ فطرت کس نےعطاکی۔۔

اﷲ ۔ وہ ہی خدا ہے۔جو اس ساری کائنات کو تنہاءچلا رہا ہے

کوا اور کوئل ہم رنگ ہیں پر ان کی آوازیں جدا جدا۔۔کوئےکی آواز سےسب نےہی بھاگنا ہےاور کوئل کی مدھر آواز سےسب ہی گھایل ہوتےہیں۔۔۔ کوا کبھی کوئل کی طرح نہیں بول سکتا اور نہ ہی کبھی کوئل۔۔حتی کہ کوئےکبھی کوئل کےجھنڈ میں نہیں بیٹھتے۔۔ یہ سمجھ انہیں کس نےعطا کی۔
چیل باز اور شاہین ان کو دیکھیں تو کافی حد تم ان میں مماثلت ہےپر فطرت جدا جدا۔۔ برسوں ان کو ساتھ رکھ کر دیکھ لیںپر چیل کی فطرت جو ہےوہ ہی رہےگی اور باز کی فطرت باز کی ہی رہنی ہے۔۔یہ سچائی یہ اپنی پہچان انہیں کس نےعطا کی ؟

اﷲ ۔ وہ ہی خدا ہے۔جو اس ساری کائنات کو تنہاءچلا رہا ہے

زمین آسمان کو دیکھیں تو ان گنت ایسےکمالات نظر آتےہیں کہ جنہیں دیکھ کر انسان کہہ ٹھتا ہےکہ ہاں وہ ہی اﷲ ہے۔۔ جو اس خوبصورتی سےکائنات کو چلا رہا ہے۔۔ جس میں ہر چیز اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی حد میں جو اﷲ نےمقرر کر رکھی ہےس میں رواں دواں ہے۔۔چاند کبھی سورج کی مانند نہیں چمکا۔
اور نہ ہی کبھی سورج چاند کےوقت نکلا۔زمین کی گردش اپنی جگہ جاری ہے، مگر ہمیں س کا احساس تک نہیں۔کہیں سبزہ ہےتو کہیں پتھریلی زمین۔۔اور قدرت بھی دیکھیں آپ جہاں پتھریلی زمین ہوتی ہےوہیں سےمعدنیات بھی برآمد ہو رہی ہیں۔۔۔ کہیں صحرا ہےتو دیکھیں صحرا جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں ہوتا۔۔ وہیں کسی نخلستان کا وجود ضرور ہوتا ہے۔۔ اور اسی نخلستان میں نارئل کےدرخت۔۔وہ زمین جس میں پانی حدِ نظر تک نظر نہیں آتا اسی زمین کےایک حصےمیں ایک درخت کےپھل میں سےپانی نکل رہا ہے۔۔ سبحان اﷲ۔۔۔۔۔
سمندر، دریا جھیل ان کی بھی اپنی ایک دنیا ہے۔۔کچھ لوگوں کےسامنےاب آچکی ہے۔۔ دریا کا پانی میٹھا ہوتا ہی۔۔ پر یہ ہی میٹھا پانی سمندر میں جا کر کھارا ہو جاتا ہی۔۔ میٹھےپانی کی مچھلی کا ذائقہ کھارےپانی کی مچھلی سےمختلف ہی ہوتا ہے۔۔ ۔۔ ٹرائوٹ مچھلی جس پانی میں پائی جاتی ہی۔۔ اس میں چند لمحوں سےزیادہ ہم ہاتھ رکھ نہیں سکتے۔۔ اور وہ اس پانی میں ہی پائی جاتی ہے۔۔۔۔سبحان اﷲ۔۔اس بہتےپانی کو دیکھ کر سوچ آتی ہےکہ یہ مچھلی یہاں قیام کیسےکرتی ہوگی۔۔ اپنا رزق کیسےحاصل کرتی ہوگی۔۔پر۔

اﷲ ۔ وہ ہی خدا ہے۔جو اس ساری کائنات کو تنہاءچلا رہا ہے

اس سارئےمشاہدات میں ایک بات مشترک بھی ہےاور وہ یہ کہ یہ سب اپنےاپنےراستےپر رواں دواں ہیں۔۔ قدرت نےجو فطرت انہیں بخشی ہےیہ اس پر قائم ہیں۔۔ شیر شہروں میں قیام نہیں کرتےان کا جنگل میں بسیرا ہےتو وہ وہیں مقیم رہتےہیں۔۔سورج رات میں نہیں نکلتا کہ س کا نکلنا دن میں طےہے۔۔۔۔پانی کی مخلوق پانی میں ہی قیام کرتی ہےاور وہیں اپنا رزق حاصل کرتی ہی۔۔۔ پھل دینےوالےپھل ہمیشہ اپنےموسم میں پھل دیتےہیں۔۔۔ان کی جو مدت طےہےاس مدت تک۔۔
سب اپنی اپنی فطرت پر قائم ہیں۔۔اپنی اپنی حد میں جو کہ مقرر کر دی گئی ہے

اﷲ ۔ وہ ہی خدا ہے۔جو اس ساری کائنات کو تنہاءچلا رہا ہے

یہ مضمون میرے ایک محترم دوست آئی کے عرفان کا تحریر کردہ ہے جو انہوں نے ابھی حال ہی میں تحریر کیا ہے۔میں ان کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے اس کو میرے بلاگ کی زینت بنایا اور دعا گو ہوں کہ اللہ سبہانہ و تعالیٰ انہیں اور زیادہ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

3 Responses to “وہی ہے”

  1. منیراحمدطاہر Says:

    بہت خوب ۔ اللہ آپ کے دوست کے زورقلم میں اور طاقت دے

  2. Irfan Says:

    Thanks Bhai

  3. افتخار اجمل بھوپال Says:

    اللہ خالق و مصوّر و مالک و رازق اور سب کچھ ہے صرف سمجھنے کے لئے اس عقل کے صحیح استعمال کی ضرورت ہے جو اللہ ہی نے عطا فرمائی ہے ۔
    سبحان اللہ ۔ آپ کے دوست اور آپ کے لئے بھی دعا گو ہوں کہ اتنی خوبصورت تحریر پڑھنے کو دی ہے ۔ میں اسے نقل کر کے اپنے پاس محفوظ کر رہا ہوں ۔ امید ہے آپ اس کی اجازت مرحمت فرما دیں گے ۔

Leave a Reply

Englishاردو