Google

شعیب کا بلاگ اور اس کے نظریات

محترم دوستو!
ابھی ابھی اپنے ایڈیٹر پر میں نے شعیب کی طرف سے کی گئی ایک پرانی خبر کا حوالہ،جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انتہائی گستاخی میں شامل ہے۔کو تحریر ہوئے دیکھا ہے۔جو کہ شعیب نے جان بوجھ کر تحریر کیا ہے۔شعیب کے اسلام کے متعلق خیالات اور افکار انتہائی گستاخانہ ہیں۔اس کے بلاگ پر جا بجا اس کا ثبوت موجود ہے۔
میں اپنے تمام محترم دوستوں سے یہ گذارش کرتا ہوں کہ شعیب کو اردو کی محفل سے نکال دیا جائے اور اس کی اردو سیارہ پر تحریروں کو آنے سے روک دیا جائے۔
احقر
پردیسی

15 Responses to “شعیب کا بلاگ اور اس کے نظریات”

  1. دانیال Says:

    میں آپ کی تجویز سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شعیب نے اپنی پوسٹ میں کوئی گستاخی نہیں کی بلکہ ایک خبر سنائی ہے۔ دوسری بات اردو پلانٹ اور اردو سیارہ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا توہین رسالت کا قانون نافذ نہیں ہوتا۔ آپ کو ایسی فرمائشی کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہئیے کیونکہ اردو ویب ابھی نیا ہے اور ہم شروع میں ہی ایسے لوگ نہیں دیکھنا چاہیں گے جو آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی باتیں کرتے ہوں۔ اگر آپ کو اپنے نیک خیالات کے اظہار کی آزادی ہے تو شعیب کو بھی اپنے افکار و خیالات کے اظہار کی پوری آزادی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپکی یہ شرمناک پوسٹ پڑھی اور اس سے بھی زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ مجھے اس پوسٹ پر کمنٹ بھی کرنا پڑا۔

  2. پردیسی Says:

    محترم دانیال صاحب
    آپ کا شکریہ کہ آپ نے میری تحریر کے جواب میں لکھا۔ایسی آزادی کا اظہار ہم مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا۔اور اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو بھی زیب نہیں دینا چاہئیے۔آزادی اظہار کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔اگر کوئی کافر ہو تو اس کو زیب نہیں دیتا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے۔اور اگر کوئی مسلمان ہے تو اسے بھی اپنے معاملات میں محتاط رہنا چاہئیے۔آزادی اظہار کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں ہے جو جی میں آئے کہہ دیا جائے۔اس میں بھی تہذیب کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔

  3. Jawwad Says:

    میرے خیال میں اگر اس طرح کی خبر کہیں چھپی بھی تھی تو ہم کو اسے مزید پھیلانے کی ظرورت نہی

  4. Jawwad Says:

    آپ کی بلاگ پر پہل دفع کلک کیا آج اور دیکھ کر اچھا لگا دین کے کام عمدگی سے کر رہے ہیں

  5. ميرا پاکستان Says:

    ميں پرديسي کي بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ آزادئ تحرير کا يہ مطلب نہيں کہ جو جي ميں آۓ آپ کہتے جائيں۔ ہم لوگوں نے بہيں ديکھاہے کہ امريکہ يا کينيڈا ميں کسي نے حضرت عيسي کي شان ميں گستاخي کي ہو ۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ شعيب صاحب نے کبھي اپني ماں کے خلاف نہيں لکھا بلکہ ہميشہ ان کي عزت کي ہے۔ اسي لۓ ساري دنيا ميں قوانين بنے ہوۓ ہيں اور ان کي پابندي ان کے شہريوں کيلۓ ضروري ہے۔
    شعيب صاحب کو آزادي ہے کہ وہ جو چاہيں عقيدہ رکھيں مگر کسي کي دل آزاري نہ کريں۔ جس طرح وہ اپنے والدين کي عزت کرتے ہيں اسي طرح وہ اگر دوسرے انسانوں کي عزت کريں گے تو پھر بگاڑ پيدا نہيں ہو گا۔
    اسلام ميں دوسرے مزاہب کے لوگوں کو سارے حقوق ديۓ ہيں اور کسي مزہب کي تزليل نہيں کي۔
    ويسے آپ کي اطلاع کيلۓ عرض ہے کہ مرتد کي سزا اسلام ميں موت ہے۔

  6. دانیال Says:

    شعیب کی پوسٹ میں بدتہزیبی کا کوئی پہلو نہیں۔ اور ضروری نہیں ہر مسلمان آزادی اظہار کے آپکے اصولوں پر عمل کرے۔ آپکے جذبات مجروح ہونے والی کیا بات ہے شعیب کی پوسٹس میں سوائے اس کے کہ وہ مذہب سے بیزار ہے؟ اگر یہ اآپکو ناگوار گزرتا ہے تو شعیب کی پوسٹس نہ پڑھا کریں۔

  7. خاور كهوكهر Says:

    شيب كى پوسٹ جيسى بهى هے ـ يه ٹهيكـ هے ـ يه شيب كے ذاتى خيالات هيں ـ اس پر كوئى قدغن نهيں لگايا جا سكتا ـ
    جس كسى كو شعب سے اختلاف هے وه دليل سے اس كا مقابله كرے ـ
    هميں اسلام پر تنقيد سننے كا حوصله بهى ركهنا چاهئے ـ
    شيب اگر اللّه اور نبى صعلم كى ذات پر تنقيد نهيں كرتا مگر اسلام پر تنقيد اس كو كرنى چاهئے كه اس طرح مسلمان خود كو ٹهيكـ كر سكيں ـ
    خاور كهوكهر

  8. دانیال Says:

    میرا پاکستان اگر آپکے پاکستان کی یہ سوچ ہے تو یقین جانئیے آپ فضول ہی اپنے بلاگ پر پوسٹس لکھتے ہیں۔ آپ کی سوچ پاکستان کے جرنیلوں، جاگیرداروں اور ملاؤں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ مرتد کی سزا اسلام میں موت ہے تو یہ سزا نامنظور کی جاتی ہے۔ اگر کسی عیسائی کو کنورٹ ہوکر مسلمان ہونے کو ایپریشیٹ کیا جاتا ہے تو کسی مسلمان کے مرتد ہونے کو بھی تحمل سے برداشت کرنا چاہئیے۔

    جس پاکستان میں لوگ آزادی اظہار پر یقین ہی نہیں رکھتے اس پاکستان سے کسی بھی قسم کی امید فضول ہے۔

  9. منیراحمدطاہر Says:

    تھوڑی سے سمجھ آدمی کو دہریت کی طرف لے جاتی ہے، بہت زیادہ سمجھ اسے مذہب کی طرف راغب کرتی ہے اور جب انسان اس سے بھی آگے گزر جائے تو اللہ کے نزدیک ہو جاتا ہے۔

  10. منیراحمدطاہر Says:

    باقی ساری باتیں اپنی جگہ مگر شعیب کو تصویر شائع نہیں کرنی چاہیے تھی کسی کے جذبات سے کھیلنا ایک گری ہوئی حرکت ہے، اسی لئے میں مذہب پر لکھنے سے ہمیشہ کتراتا ہوں کیونکہ یہ ایک نہایت نازک اور حساس مسلہ ہے اور ہمیں اپنی کم علمی کی وجہ اس حد تک نہیں جانا چاہیے، اختلاف رائے یا آزادی اظہار اور چیز ہے لیکن اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ لکھنا یا کسی اور ذریعے سے لکھنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے ۔ بہرحال میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہے اردو بلاگرز کو ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

  11. پردیسی Says:

    سبہان اللہ
    طاہر صاحب اللہ سبہانہ و تعالی آپ کو ہمیشہ خوش اور اور زیادہ دین کی سمجھ عطا فرماے آمین۔
    سمجھ یعنی صیح عقل صرف اللہ سبہانہ و تعالی کی عطا سے ہی ممکن ہے۔خود انسان کی عقل محدود ہے اور محدود چیزیں صرف اپنے مدار میں ہی گھومتی ہیں۔آپکی تحریر صرف الفاظ کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ آپکی اچھی اور نیک سوچ کی عکاس بھی ہے
    خوش رہیں

  12. دانیال Says:

    شعیب کو یہ کرنا چاہئیے تھا یا نہیں یہ آپ کا اپنا نقطہ نظر ہے جس کے اظہار کے لئیے آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ لیکن اس بنیاد پر شعیب کو پلانٹ سے نکالنا غلط اور بلاجواز ہے۔

  13. منیراحمدطاہر Says:

    شعیب کو نکالنے کا میں نے کہا ہی نہیں دانیال صاحب ! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شعیب کو نکالنا انتہائی غلط اقدام ہو گا، میرے کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایسی باتیں آئندہ نہیں ہونی چاہیں آپ خود بتائیں کیا ایسی باتیں مناسب ہیں نہیں بلکل نہیں شعیب کو کم از کم اپنے اس اقدام پر معافی مانگنی چاہیے، مذہب سے دروری اور بات ہے مگر اللہ اور نبی کی ذات پر تنقید چاہے وہ کسی بھی حوالے سے انتہائی گھٹیا فعل ہے اور پھر دنیا کا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا، اس بات پر اردو بلاگرز خاموش کیسے رہ سکتے ہیں۔

  14. M Shakir Aziz Says:

    صرف اتنا یاد رکھیے گا کہ وہ دیکھ رہا ہے جس نے پیدا کیا ہے ۔ اب اور کیا کہوں اور ہم کونسا مسلمان ہیں مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانا اور مسلمانوں جیسا نام رکھ لینا اس سے کوئی مسلمان نہیں بن جاتا۔ مذہب سے کیسی بیزاری اسلام تو ایسا دین ہے کہ اس سے بیزار ہونے کو دل ہی نہیں کرتا ہاں اس کے کرتا دھرتا اس کا حلیہ بگاڑتے ہیں۔
    چھوٹا منہ بڑی بات کہہ دی ہے پر ایک بار پھر یاد دلا رہا ہوں وہ دیکھ رہا ہے جس نے پیدا کیا ہے اور یہ مت سوچیے گا کہ اس نے رسی دراز کر دی ہے تو من مانی کر لیں گے پکڑمیں تو آئیں گے نا کبھی تو محتاط رہیں۔ اللہ توفیق دے

  15. HAKIM KHALID Says:

    پاک ٹی ہاؤس لاہور میں اکثر ایم اے اسلامیات افراد دہرئیے ہو کر اصل ضابطہ حیات سے دور ہوگئے ان لوگوں کے خیالات شعیب، دانیال اور ان سے متفق لوگوں سے ملتے جلتے تھے۔جب انسان اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھنا شروع کردے توبقول حضرت اقبال(رح)عقل کی انتہا پاگل پنے کی ابتدابن جاتی ہے اور یہ بات بعض اوقات پسرِ اقبال پر بھی صادر آجاتی ہے۔اور اگر یہ سمجھ آجائے کہ یہ عقل اللہ تعالٰی کی ودیعت کردہ ہے تو مقصد حیات کےتمام رموز آشکار ہوجاتے ہیں اور انسان اپنے اللہ اور پیارے نبی(ص)کا تابع فرمان بن جاتا ہےاور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اللہ اور پیارے نبی(ص)سے محبت کرنے لگتا ہے۔اور کوئی ایسا فعل نہ خود کرتا ہے نہ کسی کو کرنے دیتا ہے جس سے اللہ اور پیارے نبی(ص)کی شان میں رتی بھر بھی گستاخی ہوتی ہو۔یہ انتہائی ادنٰی مسلمان کی پہچان ہے ۔بعض لوگ مادیت پرستی کے راستے پر چلتے ہوئےگمراہی کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ یہاں پر پردیسی بھائی،منیر احمد طاہر،بھائی اورشاکر عزیز
    بھائی جیسے خیالات رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ پردیسی بھائی سمیت ہم سب کو ہمت عطا فرمائے۔کہ ہم شعائر اسلام کے تحفظ کے حوالے سے اپنی مقدور بھر کوشش کرتے رہیں(آمین)اے اللہ زندہ رکھ تو ہدایت پر،موت عطا فرما تو ایمان پر(آمین)

Leave a Reply

Englishاردو