دوستی
دوستی وہ ہےجو خدا تعالیٰ تک اور آخرت کی کامیابیوں تک پہنچائےلیکن اگر کسی کی دوستی اللہ تعالیٰ سےدور اور خیر سےغافل کرےتو ایسی دوستی چولہےمیں ڈالنےکےقابل ہے
دوست بنانےکا مقصد یہ ہےکہ آپ لاشعوری طور پر اس کےرنگ میں رنگ جائیں ، اس کےاخلاق و عادات آپ پر اثر اندازہوں ۔ اس لئےدوست بنانےسےپہلےاس کو پرکھیں ، اس کےدین و عمل کا اندازہ کر یں ۔ اگر وہ نیک ، مخلص ہو تو اس کی دوستی فائدہ بخش ہو گی ورنہ یہ دوستی نقصانِ عظیم کا باعث ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہےکہ انسان اپنےدوست کےمذہب پر ہو تا ہےاس لئےتم میں سےہر شخص کو یہ دیکھ لینا چاہئےکہ وہ کس سےدوستی کررہا ہے۔
اگر کسی دوست میں کوئی خامی، کمی یا بےاعتدالی ہو تو اس کا علاج یہ نہیں کہ آپ اس سےکنارہ کشی اختیار کر لیں بلکہ اس کا علاج یہ ہےکہ آپ اسےنرمی،محبت اور اخلاص سےسمجھائیںاس کی خامی دور کرنےکی کوشش کریں یہ آپ کا فرض اور اس کا حق ہے۔ ہاں اگر کسی صورت میں اس کی اصلاح نہ ہو سکےتو پھر اس کا علاج یہ ہےکہ اس سےکنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔
November 2nd, 2005 at 10:42 am
آپ کے کتنے مخلص دوست ہیں ؟ میرا تجربہ تو بہت تلخ ہے ۔
November 2nd, 2005 at 6:54 pm
دوستی، آپ بہترین باتوں سے لکھنے کی شروعات کر رہے ہیں ـ اردو بلاگز میں نئے بلاگ کا اضافہ، خوش آمدید
November 2nd, 2005 at 11:34 pm
محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب
بہت سے ہیں۔اور پھر جب تک زندگی میں تجربات نہ ہو ں تو وہ زندگی کیسی۔۔تلخیوں کے بعد راحت ضرور ملتی ہے چاہے راحت کا عرصہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔
خوش رہیں ہمیشہ
شکریہ شعیب صاحب آپکی راے میرے لے محبت کا درجہ رکھتی ہے
خوش رہیں