Google

اک حقیقت

مسلمان والدین کی ذمہ داری
حالات کا بغور جائز ہ لیا جائےتو یہ بات سو فیصد صحیح ہو گی کہ ہماری اولاد کی زندگیوں میں زبردست انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ان کی زندگی کےہر شعبےکی کایا پلٹ چکی ہے۔ ان کےافکار و خیالات ،سوچنےسمجھنےکا انداز،معاملاتِ زندگی معاشرت ،طور و طریق ، رہن و سہن، باہمی تعلقات ، غرض یہ کہ ہر شعبےمیںایک ایسا انقلاب برپا ہوا ہےکہ جس کےتصور سےہی روح گھبراتی ہےاور راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔
کہنےوالےصحیح کہتےہیں کہ جن گھرانوں سےکبھی تلاوتِ قرآن کی آواز آتی تھی آج وہاں فلمی نغمےاس قدر بلند آواز سےبجائےجارہےہیں کہ پڑوسی پریشان ہیں ، جہاں کبھی قرآن وحدیث کےمضامین و مسائل بیان ہوتےتھے، نماز،روزہ،حج، زکوٰۃ، وضو ، غسل کی باتیں ہوتی تھیں ،آج وہاں فلم ، فلمی ڈائیلاگ، ٹی وی فلموں پر تبصر ےوبحث جاری ہے، جہاں کبھی غیر
مرد وں اور عورتوں کی تصاویر تک کا داخلہ ممنوع اور نا ممکن تھا آج انہی گھرانوں میں اور ہرکمرےمیں اور کمرےکی ہر دیوار پر فلمی ایکٹرو ایکٹرس کی نیم عریاں تصاویر سجی ہوئی ہیں ۔
جن گھرانوں میں بچوں کےناچ کود پرسخت نگرانی کی جاتی تھی آج وہی والدین اپنےبچوں کےناچنےپر نہ صرف خوش ہو کر تالیاں بجاتےہیں بلکہ اسےنچوانےکی تعلیم پر بھی مصر ہیں ۔
جہاں کبھی ولادت کےموقع پر انبیاءکرام علیھم السلام ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیاءعظّام کےناموں کا انتخاب ہوتا تھا آج وہاں فلمی شعبدہ بازوں کےناموں کی تلاش جاری ہے۔
جہاں ہماری مائیں بہنیں کبھی برقع پہن کر بھی محلےمیں آنےجانےسےہچکچاتی تھیں آج وہی صنفِ نازک دوپٹہ کی قید سےآزاد ہو گئی ہے۔الغرض اسلامی شعائر و احکام ، اسلامی تہذیب و تمدن سےعملی اعراض کا سیلاب اس زور سےآرہا ہےکہ ہر شخص اپنےمستقبل کا تصور کر کےکانپ اٹھتا ہے
جہاں تک ہمارےنوجوان اور نئی نسل کا تعلق ہےانہوںنےاس انقلاب کا زبردست خیر مقدم کرتےہوئےاسےسینےسےلگا لیا ہے۔وہ سمجھتےہیں کہ دور حاضر میں یہی طریقہ مفیدنافع اور پُر مسرت ہے،پرانی روایات طور طریقےزیر زمین کر دیئےجائیں ، اس مادر پدر آزاد ملک میں پرانی روایات کیلئےکوئی جگہ نہیں ۔
صورتِ حال اس قدر بدل چکی ہےکہ پرانی روایات کو دقیانوسی اور جہالت سےتعبیر کر کےاس کا بر سر عام مذاق اڑایا جاتاہے۔اس نوجوان کا خیال ہےکہ زمانہ بہت بدل چکا ہے، دنیا نےبڑی ترقی کر لی ہے، مال ودولت کی کوئی کمی نہیں ، زندگی کےنئےراستےمتعین ہیں ، احباب کاجمع غفیر موجود ہے، تو پھر ہم اپنی صبح قرآن و حدیث سےہی کیوں کریں ؟ کیوں نہ فلمی گانوں سےنئی صبح کا استقبال کیا جائے، گھر کےبڑےبزرگوں کو دیکھتےہی سلام کیوں کریں کیوں نہ انہیں Good Morning کہہ کر اور ہائےڈیڈی ہائےممی ہائےگرینڈ ڈیڈ کہہ کر ان کا استقبال کیا جائے۔
یہ باتیں کسی دور میں کہی جاتیں تو اسےنادر خیال کیا جاتا تھا لیکن آج گھر گھر اس طوفان بد تمیز ی کا شکار ہو چکا ہےاور یہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے،جس سےانکار کی گنجائش باقی نہیں ۔
یہ حقائق ہیں تماشے، لبِ بام نہیں
ہم جانتےہیں کہ دنیا نےبڑی ترقی کی ہے،دیار غیر میں رہنےوالےمسلمانوں نےبھی اس ملک میں برق رفتاری کےساتھ کامیابی پائی انہیں ہر وہ سہولت ملی جس کےوہ آرزو مند تھےلیکن کیا کبھی کسی نےٹھنڈےدل سےیہ سوچنےکی زحمت گوارا کی کہ ہماری یہ تیز رفتاری، دولت کی یہ فراوانی، بڑی ترقی ، صحیح رخ پر بھی ہے؟ کیا یہ قافلہ اپنی منزل کی جانب ہے؟ غور کیجئےتو حقیقت پکار اٹھےگی ۔
تیز رفتاری ہےلیکن جانبِ منزل نہیں
جب جانبِ منزل ہی نہیں تو یہ دولت کی فروانی کس لئے؟ سارےدن کی تگ و دو کا کیا مقصد؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ترقی و تیز رفتاری کےبہانےہمیں ہماری منزل سےالگ کر دیا گیا ہو ؟ مالی دولت دےکر روحانی دولت چھین لی گئی ہو ۔ظاہری سکون دےکر باطنی اور قلبی سکون سےمحروم کر دیا گیا ہو ؟ جب ہمارا قافلہ صحیح سمت پر ہی نہیں تواس کیلئےیہ محنت یہ لگن آخر کیوں ؟

مجذوب کی کتاب کا ایک پیج

One Response to “اک حقیقت”

  1. باذوق Says:

    سوچنے کے لیے ، غور و فکر کے لیے اگر وقت نکالا جائے تو کچھ وقت عمل اور تبلیغ کے لیے دینا بھی ضروری ہے
    عمل وہ ۔۔۔ جو ہم اپنے خاندان میں لاگو کریں ۔۔۔ اپنے بچوں کی تربیت ، بچوں کی ماں کو نصیحت
    اور تبلیغ وہ ۔۔۔ جو ہم اپنے دوست احباب کو، روزمرہ کی عام گفتگو میں ، لاشعوری طور پر ان کے اذہان میں ، اس تعلق سے فکرمندی اور عمل کی ترغیب کو داخل کریں

Leave a Reply

Englishاردو