Google

رد ھم

ردھم

ردھم ایک مسلسل “ لے “ کا نام ہے۔یوں جانئے کہ ایک مسلسل چلنے والی آواز یا ایک ہی انداز سے چلنے والی چیز کو ہم ردھم کا نام دیتے ہیں۔طبلہ کی ایک مسلسل “ لے “ کو اگر ہم سنیں تو ایک عجیب سا سرور محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح بانسری کا مدھر پن اس کے ردھم میں مخصوص ہے جو لوگ اس کے شیدائی ہیں وہ اس کو سنتے ہی مدہوش ہو جاتے ہیں۔
انسان کا دماغ بھی اک عجیب شے ہے اگر آپ ایک چیز یا خیال کو سوچ رہے ہوتے ہیں تو دوسری چیزوں کے بارے میں خیالات آپ کے ذہن میں موجود رہتے ہیں۔اور انہیں سب خیالات کا تانا بانا بنتے رہنا ایک نارمل انسان کی نشانی ہوا کرتی ہے۔
اگر ایک دنیاوی خیال چاہے وہ کسی نوعیت کا بھی کیوں نہ ہو اسی کو ہی سوچتے رہنا ، ایک “ لے “ میں ایک ردھم میں تو وہ ڈپریشن کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے اور اگر اسی خیال پر ہی انسان کا ذہن مرتکز ہو کر رہ جائے تو وہ پاگل پن کی نشانی ہوتی ہے۔اگر یہی سوچ ایک ردھم کی صورت میں انسان کے ذہن میں جم جائے تو جانئے اس کا ٹھکانہ اب پاگل خانہ ہے۔
یہ کیوں ہوتا ہے اس لئے کہ ہم انسان اپنی اصل کو بھولے ہوئے ہیں۔ہماری سوچوں کی یہ ردھم صرف دنیا کے ہنگاموں کے لئے مخصوص ہو کر رہ گئی ہے اور اگر ان سوچوں کی ردھم کو ہم نے اپنے اصل کی طرف نہیں موڑا تو یقین جانئے ہمارا ٹھکانہ پاگل خانہ ہے۔

پردیسی

Leave a Reply

Englishاردو