Google
Home | Blogistan | pardese blog | sheikho blog | Urdu News

سورہ الانفال ۔ ١ تا ١٠

January 18th, 2008

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو ۔١

مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔٢

اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں ۔٣

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے ۔٤

ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی ۔٥

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں ۔٦

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے ۔٧

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں ۔٨

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے ۔٩

اور اس مدد کو اللہ نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے ۔١٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ٢٠١ تا ٢٠٦

January 14th, 2008

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں ۔٢٠١

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے ۔٢٠٢

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔٢٠٣

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔٢٠٤

اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا ۔٢٠٥

جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں ۔٢٠٦

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٩١ تا ٢٠٠

January 13th, 2008

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے


أَيُشْرِكُونَ مَا لاَ يَخْلُقُ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ ‌[7-191]

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں ۔١٩١


وَلاَ يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلاَ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ‌[7-192]

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں ۔١٩٢


وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لاَ يَتَّبِعُوكُمْ سَوَاء عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ ‌[7-193]

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو ۔١٩٣


إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ‌[7-194]

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں ۔١٩٤


أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا قُلِ ادْعُواْ شُرَكَاءكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلاَ تُنظِرُونِ ‌[7-195]

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں) ۔١٩٥


إِنَّ وَلِيِّيَ اللّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ‌[7-196]

میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے ۔١٩٦


وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلآ أَنفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ ‌[7-197]

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔١٩٧


وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لاَ يَسْمَعُواْ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لاَ يُبْصِرُونَ ‌[7-198]

اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے ۔١٩٨


خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ ‌[7-199]

(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو ۔١٩٩


وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ‌[7-200]

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔٢٠٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٨١ تا ١٩٠

May 22nd, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اور ان لوگوں میں سےجنہیں ہم نے پیدا کیا ایک جماعت ہے جو سچی راہ بتاتی ہے اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ۔١٨١

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں انہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔١٨٢

اور میں انہیں مہلت دوں گا بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔١٨٣

کیا انہوں نے غور نہیں کیاکہ ان کے ساتھی کو جنوں تو نہیں ہے وہ تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہے ۔١٨٤

اور کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی سلطنت کو نہیں دیکھا اور دوسری چیزوں کو جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور یہ کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی ہو پھرقرآن کے بعد کس بات پر یہ لوگ ایمان لائيں گے ۔١٨٥

جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں حیران پھیر یں ۔١٨٦

قیامت کے متعلق تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس کی آمد کا کونسا وقت ہے کہہ دو اس کی خبر تو میرے رب ہی کے ہاں ہے وہی اس کے وقت پر ظاہر کر دکھائے گا وہ آسمانو ں اور زمین میں بھاری بات ہے وہ تم پر محض اچانک آجائے گی تجھ سے پوچھتے ہیں گویا کہ تو اس کی تلاش میں لگا ہوا ہے کہہ دو اس کی خبر خاص اللہ ہی کے ہاں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔١٨٧

کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں ۔١٨٨

وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ اس سے آرام پائے پھر جب میاں نے بیوی سے ہم بستری کی تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا پھر اسے لیے پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تب دونوں میاں بیوی نے اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کی اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم اولاد دے دی تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔١٨٩

پھر جب اللہ نے انکو صحیح سالم اولاد دی تو اللہ کی دی ہوئی چیزوں میں وہ دونوں اللہ کا شریک بنانے لگے سو اللہ ان کے شرک سے پاک ہے ۔١٩٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٧١ تا ١٨٠

April 10th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اورجب ہم نے ان پر پہاڑ اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ ڈرے کہ ان پر گرے گا ہم نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ ۔١٧١

اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان کی جانوں پر اقرار کرایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں کبھی قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہیں تھی ۔١٧٢

یا کہنے لگو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے شرک کیاتھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد تھے کیاتو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا ۔١٧٣

اور اسی طرح ہم کھول کر آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوٹ آئيں ۔١٧٤

اور انہیں اس شخص کا حال سنا دے جسے ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں پھر وہ ان سے نکل گیا پھر اس کے پیچھے شیطان لگا تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا ۔١٧٥

اور اگر ہم چاہتےتو ان کی آیتو ں کی برکت سے اس کا رتبہ بلند کرتے لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا اس کا تو ایسا حال ہے جیسے کتا اس پر تو سختی کرے تو بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تو بھی ہانپے یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو یہ حالات بیان کر دے شاید کہ وہ فکر کریں ۔١٧٦

جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی بری مثال ہے اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے ۔١٧٧

جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی راہ پاتا ہے اور جسے گمراہ کر دے پس وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔١٧٨

اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی گمراہی میں زیادہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں ۔١٧٩

اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں نامو ں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے نامو ں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے ۔١٨٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

رعنائی یا حسن و زیبائی اور فن

February 26th, 2007

فضیلتہ الشیخ / صالح بن حمید ۔ حفظہ اللہ

حمد و ثناء کے بعد
لوگو ! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تاکید و تلقین کرتا ھوں ۔ اللہ آپ پر رحم فرماۓ اللہ سے ڈرتے رہا کریں ۔

فریب دنیا اور کامیابی :

تعجب ھے اس شخص پر جو اس دنیا اور اسکے انقلابات کو دیکھ سمجھ لے اور پھر بھی اس سے فریب کھا جاۓ ۔ کیا وہ خي و شر اور نافع و خسارہ میں فرق نہیں کر سکتا ؟ لوگوں کے دل انہیں گھمانے والی ذات باری تعالی کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے اور وقت کو نیک اعمال میں صرف کرنے کو غنیمت کیوں نہیں سمجھتے اور دلوں کی بیماریوں سے صحت و عافیت کیوں نہیں پاتے اور امانت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے ۔ اپنی ہمتوں کو خیر و بھلائی کے کاموں کی طرف حرکت دیں اور اپنے عزائم کو جدوجہد پر آمادہ کریں اور فقراء و ناداروں اور مساکین و محتاجوں کی ضروریات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں کیونکہ ارشاد الہی ہے :

” تم اس وقت تک نیکی و ثواب ہر گز نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنی محبوب و پسندیدہ چيز سےخرچ نہ کرو گے ۔” (آل عمران ۔٩٢ )

دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ھے :

” جو اپنے نفس کے بخل سے بچ گۓ وہی فلاح و کامیابی پانے والے ہیں ۔” ( الحشر ۔٩ )

اسلام = دین فطرت و بشریت :

مسلمانو ! اسلام دین فطرت ھے ۔ اس سے ہر زمانے میں اصلاح اور ہر جگہ تعمیر ممکن ھے ۔ یہ دین عقیدہ و شریعت ، دین تہذیب و تربیت ، دین سلوک و کردار ، دین حق و جمال اور دین وراثت و معاصرت ہے ۔ یہ زندگی کے تمام معاملات کو سلجھاتا ہے ۔ یہ کسی بھی زمانے میں توقف نہیں کرتا بلکہ اس میں جدت پیدا ھوتی رہتی ہے تاکہ یہ ہر زمانے کے حالات کو سدھار ے اور ہر معاملہ میں فتوی و فیصلہ دے ۔ یہی وجہ ہے اسلام ایسا دین نہیں کہ وہ بشری نفوس کی خواہشات و جذبات سے چشم پوشی کر ے یا اس کی جبلت و فطرت کے مختلف حالات مثلا اہتمام و اقبال ، ادبار و فرار ، جد و جہد ، سستی و کاہلی ، کد و کاوش کے لۓ نشاط و تازگی ، پژمردگی ، انشراح صدر اور تنگدلی کو مدنظر نہ رکھے ۔
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٦١ تا ١٧٠

February 26th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اور جب انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی میں جا کر رہو اور وہاں جہاں سے تم چاہو کھاؤ اور زباں سے یہ کہتے جاؤ توبہ ہے اور دروازہ میں جھک کر داخل ہو ہم تمہاری غلطیاں معاف کر دیں گے اور نیکو کاروں کو اور زیادہ اجر دیں گے ۔١٦١

سو ان میں سے ظالموں نے دوسرا لفظ اس کے سوا بدل دیا جو ان سے کہا گیا تھا پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ وہ ظلم کرتے تھے ۔١٦٢

اور ان سے اس بستی کا حال پوچھ جو دریا کے کنارے پر تھی جب ہفتہ کے معاملہ میں حد سے بڑھنے لگے جب ان کے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر آنے لگیں اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں ہم نے انہیں اس طرح آزمایا اس لیے کہ وہ نافرمان تھے ۔١٦٣

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے انہیں سخت عذاب دینے والا ہے انہوں نے کہا تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور شاید کہ یہ ڈر جائیں ۔١٦٤

پھر جب وہ بھول گئے اس چیز کو جو انہیں سمجھائی گئی تھی توہم نے انہیں نجات دی جو برے کام سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کے باعث برے عذاب میں پکڑا ۔١٦٥

پھر جب وہ اس کام میں حد سے آگے بڑھ گئے جس سے روکے گئے تھے تو ہم نے حکم دیا کہ ذلیل ہونے والے بندر ہو جاؤ ۔١٦٦

اور یاد کر جب تیرے رب نے خبر دی تھی کہ یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو ضرور بھیجتا رہے گا جو انہیں براعذاب دیتا رہے بے شک تیرا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور تحقیق وہ بحشنے والا مہربان ہے ۔١٦٧

اورہم نے انہیں ملک میں مختلف جماعتوں میں متفرق کر دیا بعضے ان میں سے نیک ہیں اور بعضے اور طرح کے اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایاتاکہ وہ لوٹ آئيں ۔١٦٨

پھر ان کے بعد ان کے ایسے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے اس ادنیٰ زندگی کا مال و متاع لےلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر ایسا ہی مال ان کے سامنے پھر آئے تو اسے لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لے لیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا سچ کے اور کچھ نہ کہیں اور انہوں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے پڑھا ہے اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں ۔١٦٩

اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں بے شک ہم نیکی کرنے والوں کا ثواب ضائع نہیں کریں گے ۔١٧٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٥١ تا ١٦٠

February 15th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر اور تو سب سے زيادہ رحم کرنے والا ہے ۔١٥١

بے شک جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا انہیں ان کے رب کی طرف سے غضب اور دنیا کی زندگی میں ذلت پہنچے گی او رہم بہتان باندھنے والوں کو یہی سزا دیتے ہیں ۔١٥٢

اور جنہوں نے برے کام کیے پھراس کے بعد توبہ کی اور ایمان لے آئے تو بے شک تیرا رب توبہ کے بعد البتہ بخشنے والا مہربان ہے ۔١٥٣

اور جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے تختیوں کو اٹھایا اور جو ان میں لکھا ہو ا تھا اس میں ان کے واسطے ہدایت اور رحمت تھی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔١٥٤

اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدہ گاہ پر لانے کے لیے چن لیے پھر جب انہیں زلزلہ نے پکڑ ا تو کہا اے میرے رب اگر تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں ہلاک کر دیتا کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو ہماری قوموں کے بیوقوفوں نے کیا یہ سب تیری آزمائش ہے جسے تو چاہے اس سے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھا رکھے تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے ۔١٥٥

او رہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ ہم نے تیری طرف رجوع کیا فرمایا میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں کرتا ہوں اور میری رحمت سب چیزوں سے وسیع ہے پس وہ رحمت ان کے لیے لکھوں گا جو ڈرتے ہیں اور جو زکواہ دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔١٥٦

وہ لوگ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں اور جو نبی امی ہے جسے اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے اوران کے لیے سب پاک چیزیں حلا ل کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اسے مدد دی اور اس کے نور کے تابع ہو ئے جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے یہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔١٥٧

کہہ دو اے لوگو تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے پس اللہ پر ایمان لاؤ اوراس کے رسول نبی امی پر جو کہ اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ ۔١٥٨

اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو حق کی راہ بتاتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ۔١٥٩

اور ہم نے انہیں جدا جدا کر دیا بارہ دادوں کی اولاد جو بڑی بڑی جماعتیں تھیں اور موسیٰ کو ہم نے حکم بھیجا جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر قبیلہ نے اپنے گھاٹ پہچان لیا اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا اور ہم نے من و سلویٰ اتارا ہم نے جو ستھری چیزیں تمہیں دی ہیں وہ کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے ١٦٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

سورہ الاعرَاف ۔ ١٤١ تا ١٥٠

February 7th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اور یا د کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو مار ڈال دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا احسان تھا ۔١٤١

اور موسیٰ سے ہم نے تیس رات کا وعدہ کیا اور انہیں اور دس سے پورا کیا پھر تیرے رب کی مدت چالیس راتیں پوری ہو گئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میرا جانشین رہ اور اصلاح کرتے رہو اور مفسدوں کی راہ پر مت چل ۔١٤٢

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا کہ تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا لیکن تو پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کی کہ تیری ذات پاک ہے میں تیری جانب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا یقین لانے والا ہوں ۔١٤٣

فرمایا اے موسیٰ میں نے پیغمبری اور ہم کلامی سے دوسرے لوگوں پر تجھے امتیاز دیا ہے جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا ہے اسے لے لو اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ ۔١٤٤

اور ہم نے اسے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی سو انہیں مضبوطی سے پکڑ لے او ر اپنی قوم کو حکم کر کہ اس کی بہتر باتوں پر عمل کریں عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا ٹھکانہ دکھاؤں گا ۔١٤٥

پھر میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں نا حق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ ساری نشانیاں بھی دیکھ لیں تو بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا راہ نہیں بنائیں گے یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتو ں کو جھٹلایا اور ان سے بے خبر رہے ۔١٤٦

اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہو گئے انہیں وہی سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ۔١٤٧

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے بچھڑا بنا لیا ایک جسم تھا جس میں گائے کی آواز تھی کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں راہ بتاتا ہے اسے معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے ۔١٤٨

اور جب نادم ہوئے اور معلوم کیا کہ بیشک وہ گمراہ ہوگئے تھےتو کہنے لگے اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو بے شک ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوں گے ۔١٤٩

اور جب موسیٰ اپنی قو م کےی طرف غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے واپس آئے تو فرمایا تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کر لی اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ ا اسے اپنی طرف کھینچنے لگا اس نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھے مار ڈالیں سو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے گناہگار لوگو ں میں نہ ملا ۔١٥٠

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

فلسفۂ عطاء و انکار اور زینت دنیا

February 7th, 2007

فضیلۃ الشیخ / اسامہ الخیاط : حفظہ اللہ

حمد و ٹناء کے بعد

اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا ہے ۔

[ آپ کو یہ دنیا کی زندگی کہیں فریفتہ نہ کر دے اور نہ ہی فریب دینے والا ( شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح فریب دے ] ۔ ( فاطر ۔٥ و لقمان ۔٣٣)

انسان کی بلاوجہ پریشانی :

مسلمانو! اپنی من پسند کی چیزوں کو پا لینے ۔ امیدوں تک پہنچ جانے اور مرغوب چیزوں کو حاصل کر لینے کی کوششوں کے دوران بندوں کا ایک گروہ تو بھول جاتا ہے یا پھر عمدا بھلا دیتا ہے کہ ان کی ان کوششوں کا انجام ھمیشہ ان کی خواہش و امید کے مطابق ہی رونما نہیں ھو گا ، لھذا جب کبھی انھیں انکی بعض محبوب چیزوں سے محرومی ھوتی ہے اور ان کے اور انکی من چاہی اشیاء کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ھو جاۓ تو تمام تر وسعتوں کے باوجود یہ زمین اس پر تنگ ھو جاتی ہے حتی کہ خود وہ اپنے آپ سے تنگ آیا ھوا ھوتا ہے اور اس کی عقل اس کا ساتھ نہیں دے رہی ھوتی حتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کے انکار پر اتر آتا ہے اور اس کے سابقہ تمام احسانات کو بھلا بیٹھتا ہے اوردن رات غمزدہ و پریشان رہنے لگتا ہے ، اس کا دل شدید قلق و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے نہ اسے جینے میں کوئی مزہ آتا ہے اور نہ اپنی حالت میں اسے کوئی سکون نصیب ھوتا ہے ۔

فلسفۂ عطاء و انکار :

برادران گرامی ! اس کا سبب در اصل صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عطاؤں کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی وہ اللہ کے کوئی نعمت دینے کے انکار کے فلسفے کی معرفت حاصل کر سکا ہے ۔ اور وہ یہ تصور کر بیٹھا ہے کہ عطاء اور انکار دو ضدیں ہیں جو کہ یکجا نہیں ھو سکتیں یا پھر وہ ندی کے دو کناروں کی طرح انھیں ایسی چيزیں سمجھ بیٹھا ہے کہ جو کبھی باھم مل نہیں سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعص سلف صالحین امت نے بیان حق اور صحیح و صواب کی طرف ھدایت و راہنمائی کے لۓ بڑے مضبوط موقف اختیار کۓ ہیں ۔ چنانچہ امام سفیان ثوری نے بعض سلف امت کا یہ قول نقل کیا ہے :

” اللہ کا بندے کو اس کی بعض محبوب چیزوں سے منع و محروم کر دینا بھی در اصل اس کی ایک عطاء و نوازش ہی ہے کیونکہ اللہ نے اس سے وہ چیز کسی بخل کی وجہ سے نہیں روکی بلکہ اس پر لطف و کرم کرتے ھوۓ روکی ہے ” ۔
مکمل مضمون پڑھیں »

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page